روایتی ماحول سے آئی رضیہ نے لکھی کامیابی کی نئی کہانی

0

اقلیتی برادری کی ایک لڑکی، بچپن میں ہی جس کے سر سے اپنے والد کا سایا اٹھ گیا ہو، شروع سے ہی جس کو اپنے بھائیوں پر منحصر رہنا پڑا ہو، ان کے لئے سٹیزلا جیسے آن لائن مارکیٹ میں کام کرنا اور بلندیوں کو چھونا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن تمام سماجی بندشوں کو توڑ رضیہ بیگم نے جو کر دکھایا ہے، اس کے بعد وہ سینکڑوں لڑکیوں کے لئے تحریک و ترغیب کی مثال بن گئیں ہیں۔

پرانے روایتی خیالات والے خاندان سے میں پلی بڑھی رضیہ کے لئے بلندی تک کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ خاندان میں اقتصادی تنگدستی کے باوجود ان کے لواحقین انہیں ہمیشہ حوصلہ شکنی کرتے رہے اور ان کے کام کرنے پر بندشیں لگی رہیں۔

رضیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سٹیزلا کی سی ای او روپل یوگیندر کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے اور وہ بتاتی ہیں کہ رضیہ ہماری کمپنی سے شروع سے منسلک ہیں اور ان کا جذبہ، توانائی اور کام کرنے کا طریقہ ہماری کمپنی کے بارے میں بتانے کے لئے کافی ہے۔

روپل بتاتی ہیں کہ رضیہ اوروں سے بالکل مختلف ہیں کیونکہ اس کے اندر کام کے دوران سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجوں سے نپٹنے کا جو جذبہ ہے وہ اسے دوسروں سے کافی آگے لے جاتا ہے اور یہی جذبہ اس کی کامیابی کی اصل وجہ ہے ۔ ''

بیچلر ڈگری کے بعد رضیہ کو خاندان کے دباؤ کے آگے جھکنا پڑا اور انہیں تقریبا 6 ماہ تک گھر پر بیٹھ کر اپنا وقت گزارنا پڑا، لیکن دھن کی پکی رضیہ نے ہار نہیں مانی اور گھر بیٹھ کر بھی وہ ہر رکاوٹ کو پار کر زندگی میں کامیاب ہونے کے بارے میں ہی سوچتی رہیں۔ اسی دوران اس کی بہن نے اسے سٹیزلا کے بارے میں بتایا اور اسنے وہاں آکر انٹرویو دیا اور اسے یہاں نوکری مل گئی۔

چونکہ یہ رضیہ کی پہلی ملازمت تھی اور انہیں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اس لئے شروع میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کام کے ابتدائی دنوں کے بارے میں یاد کرتے ہوئے رضیہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے 2005 میں ملازمت کرنی شروع کی تھی اور اس کے بعد ان کی زندگی کا سفر کافی ہچکولے کھاتا ہوا آگے بڑھا۔ اس دوران انہیں کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور وہ مسلسل کامیابی کی سيڑھياں چڑھتی رہیں۔

رضیہ کے لئے ابتدائی دور میں ان سادہ حساب اور ڈیٹا انٹری جیسا کام بھی کافی مشکل لگتا تھا اور ابتدائی دور میں ہی کئی بار ملازمت چھوڑنے کا خیال بھی ان کے دل میں آیا تھا۔ رضیہ کہتی ہیں کہ آج وہ جو كچھ بھی ہیں اس کے پیچھے روپل کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ اس دور میں وہ روپل ہی تھیں جنہوں نے ان کی ہمت بڑھائی اور انہیں خود پر یقین کرنا سکھایا۔

روپل کے بارے میں بتاتے ہوئے رضیہ کہتی ہیں کہ اس دور میں روپل نے انہیں کام کرتے رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے سمجھایا تھا کہ اگر انہیں زندگی میں کسی مقام کو پانا ہے تو اس کام کو ایک چیلنج کی طرح لینا ہوگا اور انہیں جو بھی سیکھنا ہے وہ کمپنی کے ان کے ساتھی انہیں سکھائیں گے۔

ابتدائی دور میں کام چھوڑنے کے بارے میں سوچنے والی رضیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور آج وہ اس مقام پر ہیں کہ وہ دوسروں کو ٹیم لیڈر بننے کے گر سکھاتی ہیں۔ آج رضیہ سٹیزلا میں ٹیم لیڈر کے طور پر کام کر رہی ہیں اور وہ اپنی ٹیم میں شامل ملازمین کو اپنے مقاصد کو پورا کرنے اور گاہكو سے متعلق مشکلات سے نپٹنے کےطور طریقے سکھا رہی ہیں۔

رضیہ مطابق انہیں اپنے کام سے محبت ہے کام کرنے میں مزہ آتا ہے۔ سامنے آنے والے نئے مسائل کو ہل کرنا اب ان کے لئے دايے ہاتھ کا کھیل ہے اور شاید یہی ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔

آج رضیہ اقتصادی طور پر مضبوط ہے اور اپنے شوہر اور تین سال کے بچے کے ساتھ خوشحال زندگی بسر کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اب بھی اپنی ماں کی مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتی ہیں۔

رضیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک کی زندگی سے یہی سیکھا کہ ہر کسی کو زندگی میں کچھ نہ کچھ کام ضرور کرنا چاہیے کیونکہ اس سے آپ کو خود کفیل ہونے میں مدد ملتی ہے اور آپ اپنی زندگی کو جینے کا نظریہ بدل لیتے ہیں۔