جدید تعلیمی انقلاب کے بانی ڈاکٹر شانتا رام بلونت مجمدار

0


'گیان دلیانے گیان واڈھتے تيا گیاناچے مندرھے ... ستیہ شِواهون سندرھے' ( علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ اسی علم کا یہ مندر ہے۔ ستہ ہی شیو سے ذیادہ خوبصورت ہے۔) جگدیش (نانا) كھیبوڈكر کے مراٹھی گیت کی یہ بول دل ہی دل میں گنگناتے ہوئے میں 'سمبايوسس' کی سڑھيا اتر رہی تھی۔ مہاراشٹر کی تعلیمی روایت میں مہاتما پھلے، مہرشی شندے، گوکھلے، اگرکر جیسی باصلاحیت شخصیات کے کام کو اکیسویں صدی میں آج آگے بڑھانے والے تعلیم کے علمبردار کے درشن کر ان کے ساتھ یور اسٹوری کے قارئین کے لئے بات چیت کرنے کا موقع مجھے ملا اس بات کی خوشی میرے ذہن میں نہیں سما پا رہی تھی۔ ہندوستانی تعلیم کے طریقہ کار کے سچے حامی اور بین الاقوامی تعلیمی ادارے سمبايوسس کے سربراہ ڈاکٹر ایس بی مجمدار سے مل کر 'ودیا ونيین شوبھتے' تعلیم نرمی کے ساتحھ ہی سجاور ہوتی ہے)اس سنسکرت کہاوت کے جیتی جاگتی مثال کا احساس مجھے ہو رہا تھا۔ سمبايوسس کے قیام کے ساتھ انی کی کہانی قارئین کے لئے پیش ہے۔

انگریزوں نے اس ملک کی جدید تعلیم کے طریقہ کار کا خاکہ کھینچا تھا۔ حالانکہ اس سے کئی صدیوں پہلے بھی اس ملک میں نالندہ جیسے تعلیم ادارے کا قیام ہو چکا تھا۔ اس ملک میں روحانی تعلیم کی روایت صدیوں پرانی ہے اور جدید سائنس ٹیکنالوجی کی وراثت بھی۔ انگریزوں کے دور حکومت میں غلامی کی وجہ سے صرف تعلیم کے شعبے ہی نہیں، بلکہ ذہنی اور فکری میدان پر بھی غلامی کا اثر رہا۔

ملک آزاد ہونے کے کئی سالوں بعد آج بھی ہم اس غلامی کی زنجیروں سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو پائے ہیں۔ اس بات کو محسوس کر ملک میں اس کا اپنے تعلیمی نظام لاگو کرکے خود کی الگ پہچان بنانے سمبايوسس نے کامیاب کوشش کی۔ آكسفورڈ، كیمبرج، اور ہاورڈ جیسے غیر ملکی تعلیمی اداروں كے قائم مقام ساخت بنا کرمعیاری تعلیم کے طریقہ کار کا ہندوستانی نظریہ پیش کرنے کا کام سمبایوسس نے کیا۔ زیادہ سے زیادہ غریب و باصلاحیت طلباء و طالبات کے لئے تعلیم فراہم کرنے والی سمبايوسس نے بین الاقوامی سطح کی تعلیم دینے کا کام ہندوستان کے اس جدید ادارے نے کیا ہے۔ ڈاکٹر مجمدار سے سمبايوسس کے ان کے دفتر میں یور اسٹوری کے ساتھ انٹرویو کے دوران کی متاثرکن اور قابل احترام شخصیت کا بھی تعارف ہوا۔ 81 سال کے ڈاکٹر مجمدار نے کم سے کم وقت میں مناسب الفاظ میں اپنی ذاتی معلومات سے لے کر سمبايوسس کے قیام تک کے سفر کی کہانی ہمارے سامنے رکھی۔


کولہاپور کے قریب گڈهنگلج گاؤں میں 31 جلائی 1935 کو مجمدار کی پیدائش ہوئی۔ ان کے والد وکیل تھے اور قانون داں کے طور پر اس زمانے کی جانی مانی ہستی تھے۔ ڈاکٹر مجومدار کہتے ہیں، "میرے والد نے مجھے ہمت اور اعتماد سے جینا سکھایا، تو ماں نے افکار دیے۔ والد سے ڈھٹائی (ہمت) اور ماں سے گیتائی 'یہی میری زندگی کی بنیاد بن گئے۔"

ڈاکٹر مجمدار کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم گڈهنگلج میں ہی ہوئی۔ ان کی یہ کہانی انهيں كی زبانی سنتے وقت ہمارے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ بتا رہے تھے،

 "تمام ہندوستانی طالب علم دیوالی منانے اپنے گھر لوٹ گئے تھے اس لئے ہاسٹل کا میس بھی بند تھا۔ ہاسٹل کے سربراہ کے ناطے وہاں کی دیکھ بھال کرنے کے دوران میں نے دیکھا کہ اسکرٹ پہننے ایک لڑکی ہر روز ہاسٹل کی کھڑکی سے کھانا کسی کو دے کر چلی جاتی تھی۔ مجھے لگا کچھ چکر ہے۔ میں نے اس کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا، جب دروازہ کھلا تو اندر کا منظر دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ سكھارام نام کا ماریشس سے آیا ہوا طالب علم عرقان سے بیمار تھا۔ اکیلے بے بس پڑے ہوئے اس طالب علم کو کھڑے ہو کر چلنا بھی نہیں آ رہا تھا۔ اس کی بہن اسے کھانا لا کر کھڑکی سے دے جاتی تھی، کیوںکہ لڑکوں کے ہاسٹل میں لڑکیوں کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے کندھے پر سر رکھ کر وہ رونے لگا۔ اس کی حالت دیکھ کر میں اندر تک ہل گیا، مجھے برا لگا، وہی میری زندگی کا ٹرننگ پائنٹ تھا۔ ''

اس کے بعد ڈاکٹر مجمدار نے پونے کے غیر ملکی بے بس اکیلے طالب علموں کے مسائل کی معلوماتحاصل کرنے کی کوشش کی اور انسانیت کے جزبے سے ان کی مدد کرنا شروع کی۔ اس کام کے لئے انہوں نے 'سمبايوسس' نام کے ادارے کا قیام کیا۔

ڈاکٹر مجمدار کا کہنا ہے، "سمبايوسس اس جيولوجی کی ٹجم ہے، جس میں دو مختلف نسلوں کی مخلوق ایک ساتھ جیتے ہیں، اس سبايوسس کہا جاتا ہے۔ بیرون ملک سے ہندوستان میں تعلیم کے لیے آنے والے اکیلے طالب علم بھی یہاں کے ہم جماعت طالب علموں کے ساتھ امن، بھائی چارہ، مساوات اور انسانیت کے دھاگے میں بندھكر رہیں گے تو اپنے گھر سے دور رہ کر بھی انہیں اپنوں کے ساتھ رہنے کا احساس ہوگا۔ سمبايوسس قائم کرنےکا اہم مقصد یہی تھا۔ عید و تہوار میں پروگراموں کا انعقاد کر غیر ملکی طالب علموں کو مقامی طالب علموں اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کا مواقع فراہم کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ مقامی لوگوں کو جوڑ کر غیر ملکی طالب علموں سے تعارف کرانےکی یہ کوشش کچھ وقت کے لئے اچھی ثابت ہوا، لیکن تہوار ختم ہونے کے بعد ان میں واپس وہی تنہائی رہتی تھی۔ اس کے لئے انہیں ہمیشہ کے لئے جوڑے رکھنے کی کوشش کرنے کی سمت میں سمبايوسس کا کام شروع ہوا۔ تعلیم دینے کی کوشش کرتے ہوئے مختلف اداروں کا آغاز کیا گیا، سمبايوسس میں ان مقامی طالب علموں کے ساتھ رہ کر تعلیم دینے کی اور نئے طریقہ کار پر تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دستیاب کرائی گئی۔ اسی کوشش میں 1970 میں کالج اور دیگر اداروں کی تعمیر کی گئی۔ سمبايوسس میں غیر ملکی اور ہندوستانی طالب علموں کو ساتھ رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا انتظام کیا گیا۔''

فرگوسن کالج کی نوکری کی سروس سے ریٹائر ہونے کے لئے سولہ سال باقی تھے۔ محض سمبايوسس کے کام میں توسیع کرنے کے لئے ڈاکٹر مجمدار نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت اپنی پینشن اور بنگلہ بیچ کر ڈاکٹر مجمدار نے سمبايوسس کے کام کے لئے پیسہ اکٹھا کیا۔ جی جان سے اسی کام میں مصروف ہو گئے۔ ان یادوں کو تازہ کرتے ہوئے مجمدار کہتے ہیں،

"میری زندگی کا مقصد سمبايوسس تھا۔ میں نے اسی پر توجہ دینے کا عہد کیا۔ اس وقت سیاست اور دیگر شعبوں میں جانے کا موقع بھی متبادل کے طور میں سامنے تھا، مگر میں نے تعلیم کے کام میں جانا ہی مناسب سمجھا، معیاری تعلیم کے طریقہ کار کی ترقی ہونا چاہیے اور غریب سے غریب طالب علموں کو بھی واجب خرچ پر اچھی تعلیم حاصل ہونی چاہیے۔ اس پر کام کرنے کا عزم کیا۔''

سمبايوسس کے اس تعلیمی انقلاب کو آخر کار کامیابی ملنی ہی تھی اور سن 2001 میں مرکز اور ریاستی حکومت نے اسے ڈمڈ یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ اس کے بعد سمبايوسس کی ترقی میں چار چاند لگ گئے، اپنے خیالات اصولوں کی بنیاد پر تعلیم کے طریقہ کار اور نظام کو بنانے اور اس کو حقیقت میں ڈھالنے کا یہ سنہری موقع تھا۔ مختلف طرح کی تعلیم کے طریقہ کار، آزمائش کے مختلف طور طریقوں اور نصاب تیار کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بینگلور، حیدرآباد، نوئیڈا، ناشك سمیت پانچ ریاستوں کے چالیس شہروں میں ادارے کی توسیع ہوئی۔ آج ملک بھر میں ادارے کی 45 شاخیں ہیں۔ یہاں مقامی غیر ملکی طالب علم بین الاقوامی معیاری تعلیم اور تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

یہ طریقہ کار روایتی اور جدید تعلیم کے طریقہ کار کا ملاپ ہے۔ مقامی تعلیم کے طریقہ کار کا یہ پیٹرن ہندوستانی روایتوں کے ساتھ مغربی تعلیم اور ٹیکنالوجی سے معمور ہے۔ 'وسودھیو كٹومبكم' (سارا عالم ایک خاندان ہے) کے اصول کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا جانے والا یہ تعلیمی طریقہ کار بیرون ملک کی كیمبرج، ہاورڈ اور اكسفورڈ کی برابری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈاکٹر مجمدار کی ان خدمات کے لئے ہندوستانی حکومت نے انہیں 2005 میں پدم شری، 2012 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے بھی پونيہ بھوشن اور فخر مہاراشٹر ایوارڈ سے نوازا ہے۔ 27 جلائی 2015 کو سابق صدر ہند عبد کلام کے نام سے شروع کیا گیا پہلا ڈاکٹر کلام ایوارڈ بھی ڈاکٹر مجمدار کو دیا گیا ہے۔

تعلیمی انقلاب کی اس کامیابی کا راز کیا ہے؟ پوچھے جانے پر ڈاکٹر مجمدار نے کہا، "اخلاقیات کے ساتھ ایمانداری سے کیا گئی کوشش یہی اس کامیابی کا راز ہے، کوالٹی کے ساتھ ہم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، معیاری استاد اور طالب علموں کا انتخاب کرتے وقت ذات پات کا خیال بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ صرف معیار کی بنیاد پر ہی کام کیا جاتا ہے۔ اس لئے ملک کے سب سے اوپر دس تعلیم اداروں میں سمبايوسس کا نام لیا جاتا ہے۔ "

روایتی تعلیم کو فاصلاتی تعلیم کے نظام (Distance Education) کے ساتھ جوڑتے ہوئے سمبايوسس نے ملک کے دور دراز علاقے سے دو لاکھ طالب علموں کے لئے کم اخراجات میں اچھی تعلیم کے مواقع فراہم کرائے۔ اسی سمت میں آگے بڑھتے ہوئے مہارت کی ترقی تربیت کو فروغ دینے کے لئے اندور اور پونے میں تعلیم نصاب تیار کر اپنایا گیا ہے۔ اس کے بارے میں ہوئے ڈاکٹر مجمدار کا کہنا ہے، "روایتی تعلیم کے ساتھ فاصلاتی تعلیم کے طریقہ کار اور مہارت کی ترقی کی تعلیم دینا آج وقت کا مطالبہ ہے، یہ تینوں بھی میں متوازی دھارے مانتا ہو۔"

ڈاکٹر مجمدار 80 سال کی عمر پار کر چکے ہیں، ایسے میں سمبايوسس کے مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں انہوں نے کہا، "میری دو بیٹیاں سواتی اور ودیا سمبايوسس کی ذمہ داری سبھال رہی ہیں، دنیا میں سب سے اونچا مقام بنانے والے تعلیمی اداروں میں سمبايوسس کو جگہ دینے میں وہ کامیاب ہو جائیں گی یہ میرا یقین ہے۔ ڈاکٹر مجمدار کا کہنا ہے، "خدا ہی سب کا کام کرنے کی تحریک دیتا ہے، کسی شخص سے بہتر ہے کہ خدا کا بھروسہ رکھ کر نیک کام کرنا چاہیے، خود کی ترغیب خود ہی کو بنا کے کام کرو گے تو کامیابی ملنا طے ہے، سمبايوسس یہی میرا مقصد رہا ہے، 'ورک از ورشپ' کی جذبے سے میں نے کام کیا یہی میری تحریک و ترغیب تھی۔ اس درمیان بہت سے مسائل سامنے آئے، لیکن بحرانوں سے میں کبھی ہارا نہیں، بلکہ اسی کو موقع سمجھ کر میں نے اپنا راستہ نکال لیا اور یہی میری عادت بن گئی۔ "

سمبايوسس کے مستقبل کے بارے میں ڈاکٹر مجمدار کا کہنا ہے، "آكسفورڈ، كیمبرج اور ہاورڈ ان تعلیم کے طریقہ کار کی تمام تعریف کرتے ہیں، لیکن ہندوستان کی الگ پہچان بنانےوالی تعلیم کے طریقہ کار بنانا کیوں نہیں آتا؟ سمبايوسس ایسا ماڈل دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جو ہندوستانی ہے۔ جہاں روحانیت اور سائنس دونوں کا سنگم ہے، ایک ایسی تعلیم کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے معیار اور جدیدیت سے ترغیب پاکر ہوگی۔ دنیا میں ہارس پاور ہے تو ہمیں آكس پاور کی تعمیر کرنا کیوں نہیں آئے گا؟ جو ہماری الگ پہچان بنے گی۔ ملک میں شروع ہوئی اسٹارٹپ انڈیا، اسٹینڈپ انڈیا مہم کی ڈاکٹر مجمدار تعریف کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "اس کا عملی جامہ تیار کرنا ضروری ہے، ہمارے ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کو اگر اچھی تعلیم اور مہارت کی تربیت دی جائے تو اس ملک واپس سونے کی چڑیا بنانے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ اس کے لئے ملک کا اسکریپ کلچر بھی بہتر بنانا چاہئے۔