ہیلپنگ ہینڈ فاوںڈیشن اور عثمانیہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بچاِئی نوجوان کی جان

0

فیضیاب بنگالی نوجوان نے کیا حیدرآباد میں ہی رہنے کا فیصلہ

ان دنوں سرکاری اسپتالوں کی تصویر کچھ اچھی نہیں ہے، لیکن لاکھوں لوگ انہی ہسپتالوں کے رحم و کرم پر منحصر ہیں۔ کبھی کبھی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں کی مسيحائی سے کسی غریب کی جان بچ گئی تو خوشی ہوتی ہے۔ حیدرآباد کے سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز عثمانیہ ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے بھی ایک ایسا ہی کمال کر دیا۔ جوکھم بھرے سنگین سمجھے جانے والے ایک ٹيومر کو کامیاب آپریشن کے بعد نکال دیا ہے۔ اس طرح مغربی بنگال کے ایک 22 سالہ نوجوان کو کینسر سےآزاد کر دیا۔

حیدرآباد کی اس مہمان نوازی اور احسان سے متاثر بھاسکر مهالانبش کو حیدرآباد سے محبت ہو گئی ہے اور اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ اپنی زندگی حیدرآباد میں ہی گزارےگا۔ اس پورے معاملے میں ایک رضاکارانہ تنظیم ہیلپںگ ہینڈ فاؤنڈیشن نےاہم کردار ادا کیا ہے۔

ہیپلنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کے مجتبی حسن عسکری نے بتایا کہ کوچ بیهار ضلع کا ایک نوجوان بھاسکر مهالانبش میناسسٹنل جیرم سیل ٹيومر کی سے متاثر تھا۔ کوچ بیهار میں اس کا علاج ممکن نہیں تھا۔ اسے کسی طرح حیدرآباد کے ایک خانگی ہسپتال کا پتہ ملا اور وہ یہاں چلا آیا۔ کافی دن سے وہ یہاں علاج کر رہا تھا، لیکن اچانک ٹيومر نے پھیپھڑوں اور دل کے بڑے حصے کو گھیر لیا۔ اس کے لئے اس کےدل کی سرجری لازمی تھی۔ بنجارہ ہلز کے ایک كارپورٹ ہسپتال نے اس علاج کو جوكھم بھرا بتاتے ہوئے 5.5 لاکھ روپے کا خرچ بتایا۔ بھاسکر کے والد ریٹائرڈ ہیں اور ماں موسیقی کی استاد ہے، بڑی مشکل سے انہوں نے اپنی بچت سے ایک چھوٹا سا گھر بنایا تھا۔ اس کو بہت جلدی فروخت آسان بھی نہیں تھا۔ بیٹے کا علاج جلد نہیں کیا گیا تو وہ اسے کھو سکتے تھے۔

ہیلپںگ ہینڈ کے آپریٹر مجتبی حسن عسکری نے بتایا کہ اس معاملے کی معلومات ملنے کے بعد انہوں نے عثمانیہ ہسپتال کے سابق سپرینٹنڈنٹ ڈاکٹر۔ سی۔ جی۔ رگھو رام سے رابطہ کیا۔ انہوں نے صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مریض کو جلد ہی عثمانیہ ہسپتال لانے کے لئے کہا اور پھر اس کےدل کے ا مراض شعبے کے صدر ڈاکٹر جی۔ شری نواس اور دیگر ارکان نے مل کر بھاسکر کا کامیاب آپریشن کیا۔

بھاسکر نے اپنے اس علاج کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ یہیں رہ کر سیاحت کے میدان میں اعلی تعلیم حاصل کرے گا۔ بھاسکر نے بتایا کہ نہ صرف ہیلپںگ ہینڈ اور عثمانیہ ہسپتال کے ڈاکٹر بلکہ یہاں کے عملے نے بھی ان کے ساتھ بہت بہتر سلوک کیا ہے اور اس کے لئے وہ حیدرآباد کا شکر گزار ہے اور اسے حیدرآباد سے محبت ہو گئی ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem