اگر آپ مصیبت میں ہیں تو پرسکون رہو، ٹھنڈے دماغ سے نئی راہ نکالی جا سکتی ہے: دیپ کالرا

0

گزشتہ ماہ اسٹارٹپ کی دینا میں  بڑے حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے۔  دو بڑی آن لائن کمپنیاں میک مائی ٹرپ اور گوئی بیبو نے ہاتھ ملانے کا فیصلا کیا۔ اس شمولیت سے اسٹارٹپ کی دینا کو ایک اہم سبق حاصل ہوا۔ اس بارے میں اپنے تجرربات کا ذکر کرتے ہوئے میک مائی ٹرپ کے سی ای او اور صدر دیپ کالرا بتاتے ہیں کی 2012-13 تک ہم ایکسپیڈیا جیسے کامپٹیٹر سے مقابلہ آرائی کرنے میں مصروف تھے۔ 2013 میں گوئی بیبو نے اس میدان میں اہم کھلاڑی کی حیثیت سے اپنا مقام بنایا۔ ان کی ٹیکنالوجی اور دوراندیشی سے ہم متاثر رہے۔

کالرا کے مطابق گوئی بیبو کی ٹیکنالوجی کافی بہتر ہے۔ اس میں اگر کالرا کی کمپنی نے شمولیت حاصل کرنے کا فیصلہ لیا ہے تو اس کے لئے ان کی ٹیکنالوجی بھی ایک اہم وجہ ہے۔ حالانکہ انہوں نے بتایا کہ دونوں کمپنوں کے شمولیت کی کاروائی میں ابھی شیئر ہولڈرس کی اجازت اور کامپٹشن کمشن کی اجازباقی ہے۔

دہلی میں منعقد موبائل اسپارک 2016 میں ایک مباحثے کے دوران دیپ کالرا نے اپنے تجربات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا،'ہمیں روپئے کی اہمیت اور اس کا عروج و زوال پتہ ہے۔ یہ بات بہت ہی غمگین کرنے والی ہو سکتی ہے کہ ایک کمپنی نے ماضی میں خوب پیسہ کمایا اور اب وہ مالی تنگی کا سامنا کر رہی ہے۔

دیکھا جائے تو موجودہ حالات میں آن لائن انڈسٹری لوگوں کو کافی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں۔ اسکے دوسرے پہلو پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےدیپ کالرا نے بتا یا،' ہم نے ایک سال اپنی خدمات بند کیں تو بازار نے ہمیں نظر انداز کرنا شروع کیا۔ اب ہم نے گوئی بیبو کے ساتھ اپنی خدمات کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ 2012 سے پہلیے تقریباً دو سات تک ہیں اچھی آمدنی ہوتی رہی، لیکن جب کنگ فیشر کے حالات خراب ہونے لگے تو اس کا اثر آن لائن ٹراویل کمپنیوں پر بھی پڑا۔ کنگ فیشر اور گوئی بیبو جیسی کمپنیوں کی مقبلا آرائی میں ہماری جیسی کمپنیاں پیچھے ہو گئیں۔'

ہوائی سفر کے لئے آن لائن کمپنیاوں گاہکوں کو اپنی جانب متاثر کرتی ہیں۔ اس میں گاہکوں کو بھی اچھی خدمات ملتی ہیں۔ میک مائی ٹرپ نے جب دیکھا کی ان خدمات میں کچھ سستی آ رہی ہے تو ہوٹل اور دیگر کاروباروں کی جانب اپنا دھیان دیا۔

کسی بھی کاروبار میں ہر وقت نئے نئے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اس سے گزرکر ہی بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان مسائل کا سامنا کیسے کیا جا سکتا ہے، اس سوال کے جوب میں کالرا نے بتایا، 'میں نے اے بی این ایمرو اور جی ای کیپٹل میں کچھ ایسے لوگوں کےساتھ کام کیا جن سے مجھے یہ کیکھنے کو ملا کی جے بھی آپ مصیبت میں ہوں اپنا سکون نہ کھونا۔ کیوں کہ ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے بعد ہی اس مصیبت سے نکلنے کی راہیں دکھائی دیتی ہیں۔

جب کالرا سے سوال کیا گیا کہ جب کسی کا سکون ہی چھن جانے کا موقع آتا ہے تے کیا کیا جائے۔

اس سوال کے جواب میں دیپ کہنے لگے کہ کچھ اوقات زندگی میں ایسے حالات بنتے ہیں کی آدمی مایوس ہو جاتا ہے۔ 'کبھی جب سکون چھن جانے کا احساس ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں نئی غلطیاں کرنے لگا ہوں تو سنبھل جاتا ہوں اور ان غلطیوں کو نہیں دہراتا۔ میں نے دیکھا ہی جب لوگوں پر کسی کی ناراضگی کا سامنا ہوتا ہے تو لوگ اپنی غلطیوں کو دوہراتے رہتے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرسے میں ہم نے دیکھا کہ کچھ کمپنیوں نے اپنے ہدف سے ذیادہ کامیابی حاصل کی ہے، لیکن کالرا اس کو کچھ اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ،'ان حالات کو مجھے عجیب لگتے ہیں۔ کئی بار ان حالات کو بہتر ہونے کے نظر سے دیکھنے کے کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جو کچھ ہم سوچ رہے ہیں وہ کافی اہم ہوتا ہے جبکہ کاغزوں کے جمع خرچ کو بھول کر ہیں اپنی اہمیت کا اور ذیادہ مضبوط کرنے کی جانب دھیان دینا چاہئَے۔ خود میں مقابلے کی طاقت پیدا کرنا کافی اہم ہے۔

تحریر -جے وردھن

Related Stories