صفائی کے لئے دہلی یونیورسٹی کے طلباءکا خاص مشن

0

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر یعنی دو اکتوبر 2014 کو 'سوچھ بھارت مہم' کی شروعات کی تھی- حفظان صحت کو لے کر اب تک کی سب سے بڑی مہم سے ہر کوئی اپنی طرح سے جڑنے کی کوشش میں رہا ہے- دہلی یونیورسٹی کے بھگت سنگھ کالج میں پڑھنے والے دو طالب علموں ہمادرش سوان اور ہرش پرتاپ نے اس مہم سے جڑنے کے لیے ایک منفرد کوشش کی- ان دونوں طالب علموں نے سب سے پہلے اپنے کالج میں 'صفائی ئے کیمپس' کا آغاز کیا- ہمادرش سوان سیاسیات کے اور ہرش پرتاپ بی کام کے دوسرے سال کے طالب علم ہیں-

صفائی-اے-کیمپس

ہمادرش کہتے ہیں 'وزیر اعظم نریندر مودی کے سوچھ بھارت مہم کے ساتھ ہی ہم نے اپنے کالج میں صفائی-اے-کیمپس شروع کیا تھا- دیکھتے ہی دیکھتے پورا کالج ہمارے اس مہم سے جڑ گیا اور اس کا اثر پورے کالج کیمپس میں دکھائی دینے لگا- 'جہاں پہلے طالب علم کوڑا ادھر- ادھر ڈال دیا کرتے تھے، اب وہ کچرے کو کوڑے دان میں ہی ڈالنے لگے تھے- طالب علموں کے ساتھ اساتذہ نے بھی ادھر- ادھر تھوکنے جیسی گندی عادات پر قابو پا لیا تھا- اس مہم کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ لوگ اب کسی کو گندگی کرتے دیکھتے تو اسے ٹوک دیتے- ایسا پہلے کوئی نہیں کرتا تھا-

مشن-ئے-صفائی

اس کے بعد میں نے اور ہرش نے سوچا کیوں نہ اپنے اس مہم سے دہلی یونیورسٹی کے دیگر کالجوں کو بھی جوڑا جائے- اسی سوچ کے ساتھ ہمارے مشن-اے-صفائی کی شروعات ہوئی- ہمادرش نے يورسٹوري کو بتایا "شروع میں ہم نے اپنی مہم کو لے کر کچھ کالجوں کے پرنسپل سے بات کی ان کو ہمارا یہ خیال بہت پسند آیا اور اس کے بعد ہم نے ان کالجوں کے طالب علموں کے ساتھ مل کر مشن-ئے-صفائی کی شروعات کی- اس میں ہمیں توقع سے کہیں زیادہ کامیابی ملی"- اس مہم کے تحت مشن-اے-صفائی کی ایک ٹیم کالجوں کا دورہ کرتی اور صفائی مہم کا خاکہ بناتی ہے- اس کے بعد کالج کے طالب علموں کو صفائی کی اہمیت بتانے کے ساتھ انہیں اس مہم میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ مہم زیادہ سے زیادہ کامیاب ہو-

دہلی کے دوسرے یونیورسٹی بھی منسلک

همادرش نے بتایا "دہلی یونیورسٹی کے تمام کالجوں کو اپنی مہم میں شامل کرنے کے بعد ہمیں دہلی کے دیگر یونیورسٹیوں سے بھی اس مہم سے جڑنے کی قرارداد (offer) آنے لگی - ان میں سے بہت سے یونیورسٹیو ں کے وائس چانسلر نے بھی ہمیں خط لکھے- ہمارے ساتھ گرو گووند اندرپرستھ یونیورسٹی، اندرا گاندھی قومی مکت یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، امبیڈکر یونیورسٹی وغیرہ جڑ چکے ہیں- ان یونیورسٹیوں کے جڑنے کے ساتھ ہی یہ طالب علموں کی طرف سے شروع کیا گیا سب سے بڑا مہم بن گیا"-

یونیورسٹی سے باہر بھی مہم

مشن-ئے-صفائی شروع اگرچہ کالج سے ہوا ،لیکن بعد میں یہ کالج اور یونیورسٹیوں کی حدودسے باہر نکل کر عام لوگوں کے درمیان پہنچ گیا ہے- اب مشن-اے-صفائی دہلی میونسپل کارپوریشن، ہندوستانی ریلوے اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر لوگوں کو صفائی کے تئیں بیدار کرنے کا کام کر رہا ہے- همادرش بتاتے ہیں "ہم کارپوریشن کی مدد سے چھٹی والے دن دہلی میں کہیں بھی لوگوں کو صفائی کے تئیں بیدار کرنے کا کام کرتے ہیں- اس کام میں 'دہلی سو رس' نام کا اسکولی طالب علموں کا ایک گروپ ہمارا ساتھ دیتا ہے- 'دہلی سودرس'کے رکن لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے 'نکڑ ناٹک' کرتے ہیں۔"

ملک کے تمام 757 یونیورسٹیوں تک پہنچنے کا ہدف

همادرش کا کہنا ہے 'ہمارا مقصد اس مہم کو ملک کے تمام 757 یونیورسٹیوں تک پہنچانا ہے- اس کی شروعات بھی ہو چکی ہے- اب ہم دہلی سے نکل کر دیگر ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں- مجھے امید ہے کہ ہم جلد ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے- مشن-اے-صفائی شروع کرنے والے همادرش اپنی اس مہم کے لئے ہندوستان کے صدر، وزیر اعظم، ریاستوں کے گورنر، وزیر اعلی، مرکزی حکومت کے وزیر، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر وغیرہ سے تعریف حاصل کر چکے ہیں -

قلمکار- انمول

مترجم - سہیل اختر