کبھی خود بے گھر تھے آج پھٹپاتھی بچوں کی مدد کرنے والے کاروباری اور مصنف امین شیخ

0

پانچ سال کی عمر میں وہ گھر سے بھاگ گئے تھے، اس کے بعد انہوں نے بھیک مانگی، چورياں کی، جوتے پالش کر کسی طرح زندگی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی، لیکن آج وہ خود کفیل ہیں، مصنف ہیں، کاروباری ہیں اور جن بچوں کا بچپن کہیں کھو گیا ہے ان کے لئے کام کر رہے ہیں۔ امین شیخ ممبئی میں 'بامبے ٹو بارسلونا' کیفے سے  سڑک پر رہنے والے بچوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد کر رہے ہیں۔

امین کا بچپن بہت مشکل حالات میں گزرا تھا۔ جب وہ پانچ سال کے تھے تب سے ہی انہوں نے ایک چائے کی دکان پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ جہاں پر ان کو ہر روز دو روپے محنتانہ ملتا تھا۔ ایک دن ان کے ہاتھ سے پھسل کر چائے کا پیالی اور کچھ گلاس زمین پر گر کر ٹوٹ گئے۔ تب انہوں نے سوچا کہ اگر وہ گھر جائیں گے تو ان کے والدین ان کی پٹائی کریں گے اور اگر چائے کے دکاندار کو انہوں نے یہ بات بتائی تو وہ بھی ان کو مارے گا۔ اس لئے انہوں نے سب کچھ چھوڑ فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح وہ ممبئی کے دادر ریلوے اسٹیشن میں آکر رہنے لگے، جہاں پر انہوں نے دیکھا کہ ان کے جیسے کئی گھر سے بھاگے ہوئےبچے بھی وہاں پر رہ رہے ہیں اور بھیک مانگ کر اور گندگی میں پڑے کھانے کو کھا کر زندہ ہیں۔ اس طرح تقریبا تین سالوں تک غربت سہتے ہوئے، چھوٹے بڑے کام کرنے اور پارکوں میں رات گزارنے پر مجبور امین دن کو ایک غیر سرکاری ادارے 'سنیه سدن' کی کارکن سسٹر کی نظر پڑی اور وہ ان کو ان کی بہن کے ساتھ اپنے ادارے میں لے آئی، جہاں پر پہلے سے ہی ایسے کئی سارے بچے رہ رہے تھے جو اپنے گھروں سے بھاگ گئے تھے۔ تب امین کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ اس طرح انہوں نے یہاں رہ کر تعلیم حاصل کی۔

امین کہتے ہیں ، "مجھے پہلی بار احساس ہوا کی گھر کیا ہوتا ہے، گھر والوں سے ملنے والا پیار کیسا ہوتا ہے۔ میں نے سنیه سدن میں رہ کر ہی تعلیم حاصل کی، لیکن میں پڑھائی میں زیادہ اچھا نہیں تھا تو میں صرف ساتویں کلاس تک ہی پڑھ سکا۔ "اس طرح 18 سال کی عمر ہوتے ہی انہوں نے ڈرائیور بننے کا لائسنس لیا جس کے بعد انہوں نے 'سنیه سدن' سے قریبی رہے ایک شخص کے یہاں ڈرائیور کی نوکری شروع کر دی۔

ہمت، محنت اور وفاداری کے ساتھ کئے گئے امین کے کام سے خوش ہوکر ان کے مالک نے ان کے لئے ایک ٹریول کمپنی کھولی اور جس کا نام رکھا 'سنیھ ٹراویل'۔ لیکن ٹراویل' قائم کرنے سے پہلے ہی ان کو بارسلونا جانے کا موقع ملا۔ یہاں پر انہوں نے دیکھا کی کوئی بچہ سڑک پر خستہ حال زندگی نہیں گزارتا اور یہاں کے لوگ کافی جندہ دل ہیں۔ یہ بات ان کو پسند آئی۔ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے وطن لوٹ کر گلی کوچوں میں رہنے والے بچوں کے لئے کچھ کام کریں گے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنی زندگی پر ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے "ممبئی لائف از لائف: آئی بیکاز آف یو".

خاص بات یہ ہے کہ امین نہ صرف اس کتاب کے مصنف ہیں بلکہ پبلیشر بھی ہیں۔ یہ کتاب 8 زبانوں میں چھپ چکی ہے. ان میں اطالوی اور کیاٹالن زبان بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اب تک ان کی کتاب کے 8 ہزار سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں اور یہ کتاب ای بک سٹور پر بھی دستیاب ہے۔ امین بتاتے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف اس کتاب کو لکھا اور چھپوايا بلکہ اسے فروخت کرنے کا کام بھی کیا۔ امین کے مطابق اس کتاب سے ملنے والا پیسہ وہ سڑکوں پر رہنے والے بچوں کی ترقی پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ 'بامبے ٹو بارسلونا' نامی ایک پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ امین کے مطابق یہ ایک کیفے ہاؤس ہے، جہاں پر کام کرنے والے لوگ گلیوں میں رہنے والے بچے ہی ہوں گے جو اب بڑے ہو گئے ہیں۔ جو یہاں رہ کر نہ صرف مالی طور پر مضبوط بنیں گے بلکہ اس کیفے سے ہونے والے منافع کو ان بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا جائے گا، جو کئی وجوہات سے سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ امین چاہتے ہیں کہ سڑکوں پر رہنے پر مجبور بچوں کو نہ صرف محفوظ ماحول ملے بلکہ ان کی تعلیم پر بھی توجہ دئے جانے کی کافی ضرورت ہے۔ امین بڑی ہی صاف گوئی سے بتاتے ہیں کہ انہوں نے صرف ساتویں کلاس تک کی تعلیم حاصل کی ہے، لیکن جتنی اچھی وہ ہندی بولتے ہیں اس سے کہیں زیادہ وہ انگریزی میں بات کرنا پسند کرتے ہیں۔

امین کا کہنا ہے، "سڑکوں پر رہنے والےہر بچے کی قسمت میرے جیسی نہیں ہوتی۔ میں زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنا چاہتا ہوں اس لئے میں کافی محنت کرتا ہوں۔ میں آج بھی گلی میں رہنے والا انسان ہی ہوں اور میں سڑکوں پر رہنے والے بچوں کے لیے کام کر رہا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ ان بچوں کو وہ تکلیف اٹھانی پڑے جو میں نے اپنی زندگی میں اٹھائی ہیں۔ "

امین 'ممبئی ٹو بارسلونا' نام کے منصوب کے تحت اپنے کیفے میں نوجوان فنکاروں کے لئے ایک پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں۔ جہاں پر وہ نہ صرف اپنے فن کا بلکہ اپنی قابلیت کا تعارف دوسرے لوگوں کو کرا سکیں۔ امین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں سوشل میڈیا کا بخوبی استعمال کرنا جانتے ہیں۔ تبھی تو ان کی نہ صرف اپنی ویب سائٹ ہے بلکہ فیس بک، ٹویٹر اور دوسری سوشل میڈیا کی جگہوں پر وہ مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔ 35 سال ہو چکے امین نے اب تک شادی نہیں کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جب تک وہ دوسرے کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں ہو جاتے تب تک وہ شادی نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں اپنی چھوٹی بہن کو پڑھا لکھا کر اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکے۔