کروڑہا لوگوں کو متاثر کرنے والی ایرانی خاتون،جس نے ایک چھوٹے ٹاؤن سے لے کر خلا تک سفر کیا

بچپن میں ہر کوئی بڑا خواب دیکھتا ہے لیکن اسے شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے عزم و حوصلہ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی ہی خصوصیات کی حامل انوشہہ انصاری کی کہانی پڑھئے ۔۔۔

0

انوشہہ انصاری خود کے فنڈ سے خلا کا سفر کرنے والے محض چار خلابازوں میں سے ہے۔ وہ صرف 16 برس کی تھی جب اُن کو ایران میں اُس وقت کے سیاسی بھونچال کی وجہ سے امریکہ کو منتقل ہونا پڑا تھا۔ جب وہ امریکہ پہنچی تو اُن کو انگریزی کا کچھ علم نہ تھا۔ فیملی میں سب سے بڑی ہونے کے ناطے انھیں پڑھائی کے لئے زیادہ وقت لگانا پڑا، تاکہ وہ اپنی فیملی کی مدد کے لئے کوئی نوکری حاصل کرسکے۔ وہ کمپیوٹر سائنس اور الکٹریکل انجینئرنگ گرائجویٹ بن گئی، جس نے اُن کو ٹیلیکام کنسلٹنگ میں کام کرنے کے قابل بنایا۔ اس کے بعد سب کچھ تاریخ بن گیا کیونکہ انھوں نے 1993ءمیں ٹیلیکام ٹکنالوجیز انکارپوریشن کی بنیاد ڈالی اور اس کمپنی کو لگ بھگ 750 ملین ڈالرز کے عوض Sonus Networks کو فروخت کردیا۔ انھوں نے اس رقم کا بہت اچھا استعمال کیا۔

انوشہہ نے ایک آئی او ٹی کمپنی Prodea Systems کی بنیاد ڈالی، اور XPrize فا¶نڈیشن بھی قائم کی جس نے ایسی باتوں اور تجاویز کو پروان چڑھایا جو خلائی سفر کو ممکن بنا سکیں۔ وہ اب ہندوستان آئی ہیں تاکہ Internet over ordinary TV کو پیش کرسکیں، جس اس طریقہ کار کو بدلنے والا ہے جس طرح حکومتی خدمات دیہی اور شہری غریب علاقوں کو بہم پہنچائی جاتی ہیں۔ اُن کا پہلا پروجکٹ جو راجستھان میں گزشتہ سال شروع ہوا، اس کا مقصد Prodea ڈیوائس کو 1,00,000 دیہی ٹی ویز تک پہنچانا اور انٹرنٹ کے ذریعے تبدیلی لانا ہے۔ سماجی حیثیت سے کااعتبار سے کچھ بھی نہ ہونے سے لے کر خلاباز بننے تک اُن کی تحریک بخش زندگی کے بارے میں YourStory کے ساتھ ’سینڈباکس ڈیولپمنٹ ڈائیلاگ‘ کے موقع پر منعقدہ انٹرویو کے اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں :

وائی ایس : راجستھان میں آپ کے پروجکٹ کے بارے میں بتائیے؟

انوشہہ : ہمیں تین اضلاع اور 1,00,000 گھروں تک رسائی حاصل ہونے کی امید ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کم لاگتی ٹیلی ویژن عوام تک رسائی حاصل کرنے کا طاقتور طریقہ ہے۔ ہمارا ڈیوائس TV کو کسی 4G نٹ ورک سے جوڑتا ہے اور پھر حکومتی سرویسز نشر کرتا ہے جن سے دیہی شہری استفادہ کرسکتے ہیں۔ میں کئی برسوں سے ہندوستان آتی رہی ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ دیہی عوام کے پاس اپنے گھروں میں ٹی ویز ہیں اور اس کے باوجود وہ نہیں جانتے کہ انھیں کیا سرویسز دستیاب ہیں۔ انٹرنٹ کا رابطہ اصل چیز ہے اور سارا پروجکٹ واجبی ماڈل پر مبنی ہے۔ ایک سال تک مفت سبسکرپشن ہے اور پھر ریاستی حکومت کے ساتھ مشاورت میں اس ماڈل کو رعایتی بنانے یا ہر کسٹمر سے مناسب وصولی کا کوئی طریقہ کار ترتیب دیا جائے گا۔

وائی ایس : جب آپ امریکہ گئیں تو بالکلیہ بدحال تھیں۔ آپ کس طرح اپنا حوصلہ بلند رکھتی ہیں؟

انوشہہ : میں امریکہ تب گئی جب میں 16 سال کی تھی۔ میں نے انقلاب دیکھا ہے جس کا ایران پر ثقافتی اعتبار سے اثر پڑا۔ میں انگریزی نہیں جانتی تھی اور ہم نے زندگی کی ازسرنو شروعات کی۔ میری ماں چاہتی تھیں کہ میں جلد ہی فیملی کی مدد کرنے کی قابل بن جا¶ں اور اس طرح میں نے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ یہ درست فیصلہ ثابت ہوا۔ میرا کریئر ٹیلیکام میں شروع ہوگیا اور مجھے ذاتی کمپنی شروع کرنے کا موقع ملا۔ دراصل میرے شوہر نے مجھے انٹریپرینر بننے کا حوصلہ بخشا۔

1993ءمیں سیلیکان ویلی جیسی کوئی سہولت نہ تھی۔ میں تب ڈلاس میں اپنی کمپنی شروع کررہی تھی اور ہم نے ٹیلیکام آپریٹرز کیلئے کچھ مشاورتی کام کیا تھا۔ پریشان کن چیز یہ تھی کہ یہ بڑی ٹیلیکام کمپنیاں ہمارے لئے حل پیش نہ کرسکیں۔ لہٰذا ہم اپنے طور پر پروڈکٹس تیار کرنے لگے۔ ہمارے سلیوشنس کا تعلق ٹسٹ آٹومیشن، لوکل نمبر پورٹیبلٹی، ڈیٹا نٹ ورکس، اور وائرلس نٹ ورکس سے رہا۔ ہم سافٹ ویئر کی تیاری سافٹ ۔ سوئچ کے ساتھ کی جہاں ہم نے آواز کے لئے IP نٹ ورکس کو استعمال کیا۔ اُس وقت یہ بڑی بات تھی۔

وائی ایس : کیا اُس وقت لوگوں نے آپ کے سلیوشنس پر ہنسی اُڑائی؟

انوشہہ : جب آپ سب سے پہلے کوئی نظریہ پیش کریں تو لوگ آپ پر ہنستے ہیں۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ جوکھم سے خوفزدہ نہ ہوں۔ اگر آپ نے مسئلہ کا اچھی طرح جائزہ لیا اور اپنا کام بخوبی انجام دیا تو پھر سلیوشن ضرور کام کرے گا۔ آپ کو سلیوشن سے کو کسی حد تک بے تعلق رہنا ہوگا، لیکن مسئلہ پر مسلسل نظر رکھنی پڑے گی۔ اس کے لئے ویژن درکار ہوتا ہے۔ میرے شوہر ہمیشہ میرے سرپرست رہے۔ میرے شوہر نے سکھایا کہ رسمی اظہار کس طرح کریں اور عوام سے خطاب کرنا بھی سکھایا۔

ایک کمپنی کو آٹھ سال تک فروغ دینے کے بعد آخرکار ہم نے انٹرنٹ اور ڈاٹ کام کی تیزی کے اختتامی مرحلے میں ہماری کمپنی فروخت کردی۔ جب ہم نے ہماری کمپنی کو ضم کیا تو مذاکرات مشکل رہے۔ اس فروخت نے مجھے میری اولین چاہت یعنی خلائی سفر پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل بنایا۔یہ میرا بچپن سے خواب تھا۔

وائی ایس : خلائی سفر کا منصوبہ کس طرح روبہ عمل لایا گیا؟

انوشہہ : میں چھٹیوں پر ہوائی میں تھی کہ فزیسسٹ اور انجینئر پیٹر ڈائمانڈیز نے مجھے خلائی کھوج کے سلسلے میں کچھ کام کے لئے طلب کیا۔ میں پہلے ہی 1995ءمیں XPrize فا¶نڈیشن قائم کرچکی تھی۔ لیکن یہ 2004ءسے ہوا کہ اس پرائز کو عالمی اختراعی چیزیں ملیں، جو ناسا کو دستیاب کرائی گئیں۔ اُس وقت میں نے خلا میں جانے کے لئے خود فنڈ جٹانے کا فیصلہ کیا۔ مجھے روس میں تربیت لینا پڑا کہ کاسموناٹ کس طرح بنا جائے، اور G-Force کا عملی تجربہ حاصل کیا جائے۔ وہ تین افراد کا چھوٹا سا کیاپسول تھا۔ ہمیں Zero-G اسپیس فلائٹ ٹریننگ سے بھی گزرنا پڑا۔ مجھے روسی زبان سیکھنا پڑا کیوںکہ تمام آلات روسی میں تھے۔ آخرکار میں دو یوم خلائی سفر اور نو یوم خلائی اسٹیشن میں تھی۔

وائی ایس : یہ تجربہ کیسا رہا، کیا آپ بیان کرسکتی ہیں؟

انوشہہ : یہ میرے لئے جذباتی تجربہ رہا۔ اس جذبہ کو بیان کرنا مشکل ہے اور آپ کو زندگی بالکلیہ مختلف دکھائی دیتی ہے کیوں کہ زمین ایک منفرد سیارہ ہے اور اس کے اطراف خلا کا خالی پن گھرا ہے۔ ہم چیزوں کی قدر نہیں کرتے اور اس سیارہ کو برباد کررہے ہیں۔

وائی ایس : خلائی سفر کے ساتھ کیا اختراعی چیزیں اس دنیا کو تبدیل کرسکتے ہیں ؟

انوشہہ : میرا ماننا ہے کہ سولار پیانلس اگر خلا میں نصب کردیئے جائیں تو شمسی توانائی جمع کرسکتے ہیں اور پھر وہ توانائی زمین پر واقع کسی اسٹیشن کو منتقل کرسکتے ہیں۔ ایسی مفت توانائی کا تصور کریں جو سب کو تقسیم کی جاسکتی ہے۔ چاند پر کوئی اڈہ قائم کرنے کے مواقع ہیں اور ہم مریخ کو ضرور جائیں گے۔ خلائی سفر کی لاگت اگلے 30 سال میں گھٹ جائے گی۔

قلمکار : وشال کرشنا

مترجم : عرفان جابری

Writer : Vishal Krishna

Translator : Irfan Jabri

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

ٹووہیلر مکینک کا بیٹا بنا ’لٹل بل گیٹس،3 سال میں سیکھا کمپیوٹر ، 6 میں دیا اینمیشن پر لیکچر ، 11 میں ملی ڈاکٹریٹ کی ڈگری

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... صوفی موسیقی کی ہمسفر سمیتابیلّور

Related Stories