ماں کی بسائی فنکارانہ دنیا کو روشن کرنے کے لئے چھوڑ دی لاکھوں کی ملازمت، آرٹ کی دنیا میں کر رہی ہیں نئے تجربے

ماڑرن آرٹ میں حیدرآباد کو نیا مقام دلانے کا مقصد....معاشرے کو فنون کے بارے میں با شعور کرنے کا ارادہ...کھنڈر میں جلائے چراغ...لکشمی نامبیار کی دلچسپ کہانی

0

كيچڑ میں کمل کھلنے کی بات تو سنتے آئے ہیں، لیکن كھنڈر میں چراغ جلتے ہوئے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ آیسا ہوا اور یہ حیدرآباد کے اس محل میں ہوا، جس کی تعمیر نظام کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر نظامت جنگ نے کی تھی اور آج عمارت کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح کے 83 فنکاروں کی حیرت انگیز تخلیقات برسوں سے كھنڈر پڑی اس عمارت ہل فورٹ پیالیس میں سج اٹھیں۔ ہل فورٹ پیالیس نوبت پہاڑ کے قریب 100 سال پہلے یعنی 1915میں تعمیر کیا گیا تھا۔ جسے آج لوگ آدرش شہر کے طور پر جانتے ہیں، کبھی یہ سڑک ہل فورٹ کے ہی نام سے مشہور تھی۔ یہاں مشہور زمانہ رٹز ہوٹل بھی رہی۔ لکشمی نامبیار کی کہانی بھی اب اس ہلفورٹ سے جڑ گئی ہے۔

سرشٹی آرٹ گیلری نے حیدرآباد میں ماڈرن فنکاری خصوصاْ پینٹینگ، مجسمہ نگاری اور دیگر اصناف کی حوصلہ آفزائی کی۔ اس کا قیام رمنی نامبیار نے کیا تھا۔ رمنی کے انتقال کے بٰعد اس گیالری کی ساری زمہ داری ان کی بیٹی لکشمی نامبیارپر آ پڑی ۔لکشمی نے یوئر آسٹوری کو بتایا کہ بوسٹن یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد انہوں نے بیسٹ بنک میرس میں ملازمت کر لی۔ کسی بھی مالی ادارے، صنعت یا کمپنی کو خریدنے اور فروِخت کرنے والوں کو ضروری مشورے اور مالی تعاون فراہم کرنے کے شعبے میں انہوں نے مہارت حاصل کی۔ اسی کام پر آئی اور آوینڑس کیاپٹل میں کام شروع کیا، لیکن 2013میں ماں رمنی کی طبیت اچانک خراب ہو گئی اور انہیں ملازمت چھوڑ کر حیدرآباد آنا پڑا۔ وہ کہتی ہیں،''حالانکہ میں ماں کو بچپن سے دیکھتی تھی کہ انہں مصوری اور اس سے متعلقہ فنون میں کافی دلچسپی ہے، لیکن مجھے یہ شوق 2003 میں ہوا۔ میں نے ملازمت کرتے کرتے مشہور فنکاروں کی نایاب چیزیں جمع کرنے لگی تھی، دماغ کے کسی کونے میں یہ بات تو تھی کہ کسی دن ماں کا کام سنبھالنا ہے اور سوچ رکھا تھا کہ ماں سے آہستہ آہستہ یہ باتیں سیکھنی ہیں، لیکن وہ اتنی جلدی چلی جائیں گی کبھی نہیں سوچا تھا۔ جب وہ چلی گئیں تو پھر ملازم چھوڑ کر اس کو سنبھالنا پڑا۔،

بابو ایشور پرساد
بابو ایشور پرساد

،لکشمی نے دہلی کے ہندو کالج سے ڈگری کرنے کے بعد پونے کے گوکھلے انسٹیٹوٹ میں داخلا لیا اور معاشیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پھر اپنی سافٹ ویئر کمپنی کھولی۔ وہ بتاتی ہیں، ''وہ دن سافٹ ویئر کمپنیوں کے لئے اچھے نہیں تھے، اس لئے کمپنی بند کرنی پڑی۔ اور امریکہ چلی گئی۔ لیکن اب جب لوٹ آئی ہوں تو ماڑرن آرٹ میں حیدرآباد کا نیا مقام دلانے کا مقصد میرے سامنے ہیں۔''

لکشمی نامبیارنے اس سال جب اپنی والدہ کی یاد میں رمنیم پروگرام کرنے کا خاکہ بنانا شروع کیا، انہیں چینئی اور دیگر شہروں میں پرانی عمارتوں میں جشن منانے کے واقعآت ذہن میِں آئے اور پھر ہل فورٹ پیالیس کر قسمت سنور گئی۔ یہ عمارت انہیں 22 روزہ آرٹ نمائش 'ان باکس' مل ہی گئی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس نمائش کا موضوع معاشرے میں تیزی سے پھیلتی 'یوز ائنڈ تھرو' کی تہزیب رکھا گیا ہے۔ فنکاوں نے اس پر بہت ہی خوبصورت فن کے نمونے بنائے ہیں۔

رگھوناندن کے۔
رگھوناندن کے۔

اس کے افتتاحی موقع پر پدم شری جگدیش متل نے کہا کہ ایک تاریخی عمارت کی اہمیت کو نئے طریقے سے لوگوں کے سامنے رکھنے کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ پہلی بار اس طرح کا تجربہ حیدرآباد میں ہوا ہے۔

پینٹر لكشما گوڑ کا خیال تھا کہ حیدارآباد بہت خوبصورت اور تاریخی شہر ہے۔ انہوں نے اپنی جوانی کو یاد کرتے ہوئے کہا، ''میں جوان تھا تو نئے پینٹر کے طور پر کچھ پارٹیوں میں اس ہوٹل میں آتا تھا۔ حالانکہ اب مخدوش عمارت میں تبدیل ہو گیا ہے، لیکن پرانی وراثت کا جاننے کا یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔ یہ جگہ نئی نسل کے بہت سے لوگوں نے دیکھی نہیں تھی۔ یہ ان کے لئے اچھا موقع ہے۔''

آئی ٹی سیکرٹری جئيش رنجن نے کہا کہ ہل فورٹ پیالیس کو ماڑرن آرٹ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ اس نمائش کے دوران کھنڈر اور ویران پڑے اس سائٹ کے تخلیقی طریقے سے استعمال کئے جانے کی بھی انہوں نے تعریف کی۔

پرنسیس پیا
پرنسیس پیا

لکشمی نامبیار کہتی ہیں،'' دورِ جدید میں ہندوستان کے بڑے شہر جیسے ممبائی، دہلی، بینگلور میں آرٹ کی نمائش آور فروخت کا اچھا ماحول ہے، لیکن بڑے فنکار حیدرآباد میں اپنے آرٹ کی نمائش کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ایسا نہیں ہے کہ حیدرآبادیوں میں خریدنے کی سکت نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ مہنگے کپڑے پہنتے ہیں، گھروں کی تعمیر پر بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ مگر چین کے بازاروں سے لائے گئے خراب اشیاء سے اپنے دیواروں کو سجاتے ہیں۔ جبکہ وہ اپنے شہر اور اپنے ملک کے فنکاروں کی حوصلا افزائی کر سکتے ہیں۔ میں اسی کے بارے میں شعور بیدار کرنا چاہتی ہوں۔ ''

لکشمی نے فنکارانہ اشاء کی متاثرکن نمائش کے لئے جارج مارٹن کا تعاون لیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس کام میں بھی پیسہ ہے، لیکن اس سے ذیادہ فن اور فنکاروں کی زینگی میں خشیاں لانے اور معاشرے کو فنون کے بارے میں با شعور کرنے کا مقصد پہلے ہے اور اس کے لئے آْمدنے کے بارے میں بعد میں سوچا جائےگا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem