اپنے پرانے ملبوسات وغیرہ پھینک کر برباد مت کیجئے،کیاکرناہے ہم بتاتے ہیں

0

ہم سب کی الماری میں جوتے ،ٹاپ ،قمیض ،پینٹ یا دیگر ضروری ملبوسات کا ایک ایک ایسا جوڑاضرور موجودرہتاہے جس کااستعمال شاید ہی کبھی کرتے ہوں ۔ یاتوہم انہیں کسی خصوصی تقریب کے لئے سنبھال کررکھتے ہیں یاپھر یہ کسی دیگر سبب سے دن کی روشنی دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ اوراسی بات کواصل بنیاد بناتے ہوئے ہم میں سے زیادہ تر اپنے پاس موجود تقریبا 50فیصد ملبوسات کو زیب تن کئے بغیر ہی چھوڑدیتے ہیں ،اسپائل (Spoyl)کی بنیاد پڑی۔

اس سال کے آغاز میں 20سالہ بھارگوارنگی نے دیکھاکہ ان کی ایک دوست اپنے بالکل نئے جوتوں کی ایک جوڑی کو فیس بک کے ذریعےفروخت کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس بات نے ان کی توجہ مبذول کرائی کیونکہ فیس بک جیساپلیٹ فارم بہت ہی محدود فلٹراورکیوریشن سے مزین ہے۔ جلد ہی ا نہیں اس بات کا احساس ہواکہ ان کی دوست کی طرحبہت سے لوگ ایسے ہیں جواس پلیٹ فارم کے ذریعہ اپنی مصنوعات فروخت کرنے یاخریدنے کیلئے کوشاں ہیں ۔

کبھی سلی کان ویلی میں رہ کر انٹیواٹ کے ساتھ کام کرنے والے بھارگوکہتے ہیں کہ بس یہی ان کیلئے سب سے بڑالمحہ تھا۔ جارجیاانسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے بایومیڈیکل انجینئر نگ میں ڈائرکٹریٹ کرچکے بھارگوہمیشہ سے ہی مشترکہ معیشت کے تصورکے حامی رہے ہیں ۔ تقریبا 14برسوں تک سلی کان ویلیمیں کام کرکے ہندوستان واپس آنے والے بھارگوکہتے ہیں ،’ ’سلی کان ویلی میں کئی بہترین اسٹارٹ اپ سے روبروہونے کے بعد مجھے لگاکہ ہندوستانی بازار تکنیک سے چلنے والے اورصارفین کیلئے مفید کسی بھی نئی چیز کیلئے زیادہ کھلاہے۔ ‘‘

حالاں کہ ہندوستان لوٹنے کے بعد ان کے ابتدائی ایام بہت اچھے نہیں رہے۔ ہندوستان میں بغیر کسی کاروباری شناخت کی وجہ سے انہیں بالکل صفر سے شروع کرناپڑا۔ ان کے لئے ساتھ کرنے کے واسطے اپنے ہم خیال لوگوں کوتلاش کرنااوراسپائل کے تصور کو آگےلے جاناایک بڑاچیلنج تھا۔

انٹیواٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ایک ٹیم کے رکن رہے بھارگویہ بخوبی جانتے تھے کہ ایک اچھی ٹیم کسی بھی خیال کو ایک کامیاب پیداوار یاکاروبار میں کامیابی سے بدل سکتی ہے۔ بھارگوکہتے ہیں ، ’’چارمہینے پہلے میرے سامنے یہ کام کرنے کے لئے ایک بہترین ٹیم تیارکرنااولین ترجیح تھی۔ میں  نے خود کو حیدرآباد منتقل کیا،نیٹ ورکنگ شروع کی اورکچھ لوگوں کو راغب کرنے میں کامیاب رہا۔ فی الوقت یہ سب لوگ اسپائل کی ریڑھ ہیں ۔ ‘‘

ان میں سے ایک ہیں ان کے پرانے رفیق سمت اگروال، جو ان کے ساتھ معاون بانی کی حیثیت سے وابستہ ہیں ۔ اس کے علاوہ اسپائل کے ساتھ پہلے ملازم کے طورپروابستہ ہونے والےبھاسکرگنجی بھی اس ٹیم کے ایک اہم رکن ہیں ۔ ا س سے قبل بھاسکر آندھراپردیش میں ایک چھوٹی سے کنسلٹینٹ کمپنی میں کام کررہے تھے۔

ماضی میں منترااورہوپلر کے ساتھ ایک گروتھ ہیکر کی حیثیت سے کام کرچکیں ارم رقیہ اس ٹیم کی ایک اوراہم رکن ہیں ۔ بھارگو کہتےہیں کہ انہوں  نے لنکڈ ان پر ان کا اس وقت تک تعاقب کیاجب تک کہ انہوں  نے حامی نہیں بھرلی۔

تقریباً ایک ماہ قبل اس ٹیم نے کچھ بیٹارن کے بعد اپنی اپلی کیشن کے پہلے ایڈیشن کو بازار میں اتارا۔ اسپائل اینڈرائڈ اورآئی او ایس کے لئے دستیاب ہے۔ اس ایپ کو استعمال کرنے والے فروخت کنندہ کو کرناصرف یہ ہوتاہے کہ اسے فروخت کی جانے والی شے کی تصویر کھینچ کر اسے اس کی قیمت اورپوری تفصیل کے ساتھ اپلوڈ کرناہوتاہے۔ ایک بار پروڈکٹ کے منتخب ہونے کے بعد اسپائل کی ٹیم اس کا جائزہ لیتی ہے اورپروڈکٹ کو شائع کرنے سے پہلے فروخت کنندہ سے متعلق تمام معلومات کی تصدیق کرتی ہے۔

ایک بار آرڈر کی توثیق ہونے کے بعد اسپائل کے لاجسٹک حصے دار فروخت کنندہ کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں اورپھر ڈیلیوری کا عمل شروع ہوتاہے۔ اسپائل بازار کے ریونیو کے ایک ماڈل پر عمل کرتے ہیں جس میں وہ لاجسٹکس اورآپریشن کے اخراجات کے علاوہ منافع کمانے کے لئے ہر ایک سودے کا ایک مقررہ فیصد لیتے ہیں ۔

اس کے علاوہ اسپائل اپنے صارفین کیلئے ایک خصوصی سروس بھی فراہم کرتے ہیں جس میں فروخت کنندہ سے اس کے ملبوسات لے کر انہیں صاف ستھرے اورپرکشش طریقے سے صارفین کے سامنے پیش کیاجاتاہے۔ بھارگوبتاتے ہیں ، ’’یہ سروس خاص طورسے ایسے لوگوں کیلئے ہے جو کسی وجہ سے ایسا کرنے میں ناکامیاب رہتے ہیں ‘‘۔ اسپائل اس خدمت کیلئے زائد پیسہ لیتی ہے۔

اب تک اسپائل کو تقریبا 1100ڈائون لوڈ مل چکے ہیں اور800 کے قریب سرگرم استعمال کنندگان اس کا استعمال کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کا دعویٰ ہے کہ اپنے ایپ کے توسط سے انہیں روزانہ اوسطاً 8آرڈرمل رہے ہیں ۔ اس ٹیم کاکہناہے کہ انہوں نے اب تک مارکیٹنگ وغیرہ پر ایک پھوٹی کوڑی بھی خرچ نہیں کی ہے اوران کاساراکام استعمال کنندگان کے ریفرل سے ہی چل رہاہے۔

یہ ٹیم آنے والے کچھ ہفتوں میں بے حد جارحانہ طریقے سے اشیاءسازی اوراستعمال کنندگان کو جوڑنے کاکام شروع کرنے پرغورکررہی ہے۔ ان کا ارادہ دسمبر کےوسط تک 5ہزار سرگرم استعمال کنندگان کے ہندسے کو پارکرتے ہوئے روزانہ 25 آرڈ رپانے کا ہے۔ یہ ٹیم دیگر شہروں  میں اپنی توسیع کرنے سے پہلے کاروبار کیلئے بے حد ضروری لاجسٹسک پرزیادہ توجہمرکز کررہی ہے۔

بھارگوکہتے ہیں ، ’’چوں کہ ابھی اس خلا میں ہماراکوئی دیگر حریف نہیں ہے اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ہماراپروڈکٹ اورہماراطرزعمل نیز اس کے ساتھ ہی مختلف پس منظروں سے آنے والے ٹیم کے اراکین مل کر ہمیں اس شعبے میں اترنے والی کسی بھی دیگر نئی کمپنی سے کہیں آگے رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔ ‘‘

فی الحال اسپائل ٹی لیبس کے ایکسیل ریٹر پروگرام کا ایک حصہ ہے اورٹی لیبس نیز کچھ دیگر سرمایہ کاروں کو ایک لاکھ امریکی ڈالر کاسرمایہ پانے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ مہینے منتراکے سابق سی او او گنیش سبرامنیم ان کے بورڈ میں آفیشیل ایڈوائزر کی حیثیت سے شامل ہوئے۔

قلمکار : سندھوکشیپ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Sindhu Kashyap

Translation By : Mohd.Wasiullah Husaini