کشمیر میں ہزاروں یتیموں اور بے سہاروں کا سخی... سخاوت سنٹر

0

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

وادیٔ کشمیر جہاں مختلف سروے کے مطابق سوا دو لاکھ بچے یتیم، پچاس ہزار عورتیں بیوہ اور ایک لاکھ سے زائد افراد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں، میں زیادہ سے زیادہ فلاحی اداروں کی ضرورت ہے تاکہ یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری ہو اور ذہنی طور پر بیمار لوگوں میں اپنانیت کا احساس پیدا کیا جاسکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ 25 برسوں کے دوران ادی کشمیر میں مسلح شورش اور بدترین تشدد دیکھا گیا، اس میں یتیموں، بیواؤں اور ذہنی بیماریوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ درج کیا گیا ہے اور ایسے افراد کو راحت پہنچانے کا سب سے موثر اور کارگر ذریعہ صرف زیادہ سے زیادہ فلاحی اداروں کا قیام ہے۔ وادی میں یوں تو بہت سے فلاحی ادارے یتیموں ، بیواؤں ، ذہنی بیماروں، بے سہاروں اور ناداروں کی مدد کررہے ہیں لیکن اس فلاحی کام کے حوالے سے سخاوت سنٹر جموں وکشمیر کا رول انتہائی قابل تحسین ہے۔ اس فلاحی ادارے کا قیام جون 2005 میں اقبال میموریل ٹرسٹ سری نگر کی ایک اکائی کی حیثیت سے عمل میں لایا گیا تھا اور فروری 2013 میں اسے ایک علیحدہ ادارے کی حیثیت سے رجسٹر کیا گیا ۔

اس ادارے نے اپنے دس سالہ سفر کے دوران جہاں ہزاروں یتیموں ، بے سہارا اور نادار افراد کی مالی معاونت کی وہیں گذشتہ دس سال کے دوران اس ادارے کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس کی بدولت ہزاروں یتیم ، غریب اور نادار بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکے اور سینکڑوں خواتین مختلف دستکاریوں میں تربیت کے بعد مہارت حاصل کرکے خود کفیل بنیں۔ اس عرصہ کے دوران اس ادارے سے ناگہانی آفات جیسے سیلاب، زلزلے، آتش زدگی اور حالات سے مجبور ہوکر اپنا گھر بار چھوڑنے والے ستم رسیدہ مہاجرین کی بھرپور اعانت بھی کی جاتی رہی۔ یوور سٹوری کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سخاوت سنٹر کے سکریٹری میر محمد اشرف نے بتایا '2005 میں جب ہم نے سخاوت سنٹر کو قائم کیا تو اُسی سال اکتوبر کے مہینے میں شمالی کشمیر میں تباہ کن زلزلہ آیا۔ اُس زلزلے کے نتیجے میں وہاں قریب دو سو قیمتی جانیں ضائع ہوئیںاور املاک کو بھاری نقصان ہوا ۔ ہم نے تب شمالی کشمیر کے متاثرہ علاقوں خاص طور پر اوڑی اور ٹنگڈار میں جن کے گھر زمین بوس ہوگئے تھے کے لئے نئے گھر تعمیر کئے'۔

میر محمد اشرف کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں چونکہ سیاسی انتشار کی کیفیت موجود ہے اور ناگہانی آفتیں آتی رہتی ہیں، اس لئے یہاں سخاوت سنٹر جیسے فلاحی اداروں کی ضرورت اور بھی زیادہ ہے۔ 'گذشتہ سال کے ستمبر میں تباہ کن سیلاب آیا، لوگوں کو آج بھی مسائل اور مشکلات درپیش ہیں، اُن کے پاس کھانا نہیں ہے، پہننے کے لئے کپڑے نہیں ہیں۔ اس پس منظر میں ہمارا کام اور بھی زیادہ ضروری بن گیا ہے اور ہماری حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایسے متاثرہ لوگوں کے کام آسکے'۔تباہ کن سیلاب کے بعد سخاوت سنٹر کی جانب سے متاثرین کو مد د بہم پہنچانے کی غرض سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں میر اشرف کہتے ہیں 'ہم نے سیلاب متاثرین کی بازآبادی کے لئے دو پروگرام ہاتھ میں لئے تھے جو آج بھی جاری ہیں۔ ان میں پہلا رہائشی مکانوں کی تعمیر نو اور دوسرا اقتصادی احیاء ہے۔ ان پروگراموں کے تحت ہم نے کم از کم 250 رہائشی مکانات کی مرمت کے لئے متاثرہ کنبوں کی مالی مدد کی۔ اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ 300 ایسے کاروباری نوجوانوں کی مالی مدد کی جنہیں سیلاب کے دوران معاشی نقصان سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ سیلاب کے دوران جو مساجد شہید ہوئی تھیں وہ سر نو تعمیر کرائیں۔'

سخاوت سنٹر جموں وکشمیر کا سب سے نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ اس کی بدولتہزاروں یتیم ، غریب اور نادار بچوں کو اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا موقع ملا ہے۔ میر محمد اشرف کہتے ہیں ' یتیم، غریب اور نادار بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو، اس کے لئے ہمارے پاس کئی پروگرام ہیں۔ ہمارے پا س تعلیمی امدادی پروگرام ہے جس کا مقصد غریب اور نادار طبقوں کے قابل و ذہین طلباء کے لئے تعلیمی وظائف فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہم ایسے غریب و نادار طبقوں کے قابل و ذہین طلباء کو ایک سال کے لئے چھ ہزار روپے دیتے ہیں جو پہلی جماعت سے لیکر بارہویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں۔ اس کے لئے ہر سال پورے جموں وکشمیر میں ایک ہی دن ایک امتحان کا انعقاد کرتے ہیں جس میں ہزاروں بچے شرکت کرتے ہیں جن میں سے پہلی ایک ہزار پوزیشنوں پر آنے والے طلباء کو اس پروگرام کے دائرے میں لاکر انہیں چھ ہزار روپے کا وظیفہ دیتے ہیں۔'

غریب اور نادار طبقوں کے طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے سخاوت سنٹر کا 'دائرہ کار' محدود نہیں بلکہ بہت ہی وسیع ہے۔ پہلی جماعت سے لیکر بارہویں جماعت میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے علاوہ پیشہ ورانہ کورسز میں داخلہ کے خواہش مند غریب اور نادار طبقوں کے طلباء کی بھی مدد کی جاتی ہے۔ سخاوت سنٹر کے سکریٹری کا کہنا ہے 'ہم غریب اور نادار طبقوں کے قابل و ذہین طلباء جو پیشہ ورانہ کورسز میں داخلہ لینا چاہتے ہیں کو اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کی وساطت سے وظائف دیتے ہیں۔ کوئی بچہ ایم بی بی ایس کرنا چاہتا ہے مگر اس کے پاس اس کورس میں داخلہ لینے کے لئے پیسے نہیں ہیں، ایسے طالب علموں کی ہم اسلامک ڈیولپمنٹ بینک کے ذریعے مالی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے خواب کو پورا کرسکیں۔ اس وقت پیشہ ورانہ کورسز خاص طور پر ایم بی بی ایس، ایم ٹیک اور بی ٹیک میں ایسے 39 طلباء ہیں جن کا خرچہ اسلامک ڈیولپمنٹ بینک برداشت کرتا ہے۔'

چونکہ وادی کشمیر میں یتیم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جن کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا، سہارا دینا اور مکمل کفالت کرنا ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے، سخاوت سنٹر جموں وکشمیر کی اس جانب ایک خاص توجہ مرکوز ہے۔ میر محمد اشرف کہتے ہیں'ہمارے پاس ترقیاتی پروگرام برائے یتامیٰ ہے جس کا مقصد یتیموں کی تعلیم، اخلاقی و طبی نگہداشت کرنا اور ان کی مجموعی شخصیت کی تعمیر کے ذریعے ان میں شفقت و اپنایت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اس پروگرام کے لئے صاحب ثروت افراد ہمیں سالانہ دس ہزار روپے دیتے ہیں جو ہم قسطوں میں ان بچوں کو دے دیتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر یتیم بچے وہ ہوتے ہیں جو وادی میں جاری نامساعد حالات کی وجہ سے یتیم ہوگئے ہیں۔ ہم انہیں وظائف دیتے ہیں تاکہ وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکیں۔'

ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست میں کام کررہے 'سخاوت سنٹر' کے تعلق سے یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ اس کی جانب سے ضرورتمندوں کی بلالحاظ مذہب ، رنگ اور نسل خدمت کی جارہی ہے۔میر اشرف کا اس حوالے سے کہنا ہے 'ہم رنگ، نسل اورمذہب سے بالاتر ہوکر ضرورتمندوں کی مدد کرتے ہیں۔ ہم نے چھٹی سنگھ پورہ سانحہ میں یتیم ہونے والے سکھ بچوں کے لئے سری نگر کے گردوارہ چھٹی بادشاہی میں ایک تقریب منعقد کی جس میں 28 بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کے لئے وظیفہ دیا'۔ قابل ذکر ہے کہ 21 مارچ 2000 کو اُس وقت جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے چھٹی سنگھ پورہ میں نامعلوم بندوق برداروں نے 35 سکھوں کا قتل عام انجام دیا تھاجب اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔

یہ فلاحی ادارہ جموں وکشمیر کے رہنے والے ضروتمندوں کے علاوہ باہر سے یہاں آنے والے مہاجرین کی بھی سخاوت کرتا آیا ہے۔ کچھ برس قبل برما سے سینکڑوں مہاجرین جموں آئے تھے اور اس ادارے نے ان کے بچوں کے لئے نہ صرف اسکول قائم کئے بلکہ عورتوں کے لئے کپڑوں کی سلائی کے سنٹر بھی کھولے۔ سخاوت سنٹر کے سکریٹری کے مطابق 'برما سے جو مہاجرین جموں آئے ہیںجنہیں وہاں سے مجبوراًہجرت کرنا پڑی ہے، کے لئے ہم نے چار اسکول قائم کئے ہیں جن میں اس وقت ان کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ ان تین اسکولوں میں کم از کم دو سو بچے زیر تعلیم ہیں۔ ان برمیوں میں اب جو بیوائیں ہیں ان کے لئے ہم نے چار سلائی کے سنٹر قائم کئے ہیں جن کی مدد سے وہ کچھ پیسے کمانے کے قابل بن جاتی ہیں۔ ان برمیوں کے لئے ہم میڈیل کیمپوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں جس دوران ہمیں سب سے بڑا تعاون غیرمسلم رضاکاروں کا حاصل رہتا ہے۔'

میر محمد اشرف کے مطابق 'سخاوت سنٹر' کے پروگراموں کی فہرست میں نئے نئے پروگراموں کو شامل کرنے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور سال 2015 میں ایک نئے پروگرام کے تحت عورتوں کو خود کفیل بنانے کے لئے کئی کرافٹ سنٹروں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 'اس سال ہم نے عورتوں کے لئے کرافٹ سنٹرس قائم کرنے شروع کردیے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ہم نے شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور اور جنوبی کشمیر کے شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں کرافٹ سنٹرس کھولے ہیں اور مستقل قریب میں ہم وسطی کشمیر کے ضلع سری نگر اور گاندربل میں بھی کھولیں گے۔ ان کرافٹ سنٹرس میں عورتوں کو سوزن کاری، کھلونے بنانا اور کپڑوں کی سلائی کا کام سکھایا جاتا ہے۔ تربیت مکمل ہونے پر ہم انہیں متعلقہ کرافٹ سے جڑے رہنے کے لئے مشینیں بھی فراہم کرتے ہیں۔ تربیت کے دوران ہم ٹرینر کو مشاہرہ جبکہ ٹرینیوں کو سنٹر تک آنے جانے کا خرچہ ادا کرتے ہیں۔'

میر اشرف ادارہ کے دیگر فلاحی پروگرام کے بارے میں کہتے ہیں 'ہمار ے پاس شادی امدادی پروگرام کے نام سے ایک پروگرام موجود ہے جس کا مقصد غریب لڑکیوں کے لئے شادی کے مناسب اخراجات مہیا کرنا ہے۔ غریب و نادار کنبوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں اور بیواؤں کی لڑکیوں کو اس پروگرام کے تحت تھوڑی بہت مدد کرتے ہیں۔ ایسی لڑکیوں کو ہم دس ہزار روپے دیتے ہیں جس سے وہ دولہے کے لئے چائے پانی کا انتظام کرنے کے علاوہ اپنے لئے شادی کے ایک دو سوٹ اور سونی کی انگوٹھی یا بالیاں خرید لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ طبی امداد کا بھی ایک پروگرام ہے جس کے تحت موذی مرض میں مبتلا بیماریوں کو علاج و معالجہ کے لئے پانچ سے پندرہ ہزار روپے دیتے ہیں۔'

مذکورہ ادارے کی جانب سے دیہی علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے بھی کام کیا جاتا ہے جس کے بارے میں میر اشرف کچھ یوں کہتے ہیں 'کشمیر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہائش پزیر ہے جہاں انہیں پینے کے لئے صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ اسکول موجود نہیں ہیں۔ ہماری یہ حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ ایسے علاقوں میں لوگوں کو ہر ممکن مدد کی جائے۔ وادی کے کئی دوردراز علاقے ایسے بھی ہیں جہاں عورتوں کو گھریلوں استعمال کے لئے پانی حاصل کرنے کے لئے ایک سے دو کلو میٹر دور جانا پڑتا ہے۔ ایسے علاقوں میں ہم ٹیوب ویلز کھود کر پینے کے صاف پانی کا انتظام کرتے ہیں۔'