دس لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کی زندگی میں خوشحالی لا رہے ہیں كاشف خان اور ان كا'مائی راحت سینٹر'

میرا راحت ڈاٹ کام ایک ایسا ماڈل ہے، جو لوگوں کو وہ خصوصیات فراہم کرتا ہے، جن کی انہیں تلاش ہے۔ میرا راحت نے جموں اور کشمیر کی وزارت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور ان کی سی ایس سی یا سروس سروس سینٹر کام حکومت ہند کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ اس کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ اس سروس کا بنیادی مقصد لوگوں کے دروازے تک الیکٹرانک سروس کو پہنچانا ہے۔ مائی راحت نے ایک فرنچائز ماڈل کے تحت اس میں اپنی موجودگی درج کی۔

0

کسی بھی معیشت کو کامیاب بنانے کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اسے دور دراز تک پھیلایا جائے۔ ایسا اس لئے کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے، جہاں بھارت کی زیادہ تر آبادی رہتی ہے۔ ایسے میں صحت، تعلیم، اور مالیاتی شمولیت کے طور پر یہ بے حد ضروری ہو جاتا ہے کہ معاشرے کا سب سے نچلا طبقہ ان کا حصہ بن سکے۔ جموں کشمیر جیسی ریاست میں، جہاں فزیکل کنکشن ایک بڑی رکاوٹ ہے، وہاں بازار کے لئے مستقل ماحول کیسے بنایا جائے، ایک ایسا نظام جو دیہی عوام کو زندگی میں وسیع تبدیلی کے لئے حوصلہ افزائی کر سکے یہ اپنے آپ میں ایک انتہائی پیچیدہ سوال ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب کوئی ای کامرس کے ادارے جیسے Flipkart، ایمیزون پاکر اور انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی سےترغیب حاصل لے کر کچھ ایسا کر سکے جس سے معاشرے کو فائدہ ہو۔

كاشف خان، عابد رشید اور ظہیر حسین
كاشف خان، عابد رشید اور ظہیر حسین

اس طرح جب كاشف خان نے لوکل کشمیری لوگوں کے مفاد میں سوچا، تب اس وقت انہیں پتہ تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ كاشف کہتے ہیں، "دیہی آبادی کو سماجی و اقتصادی طور پر با اختیار بنانےکا کام تبھی پورا ہوگا جب ان کے پاس معلومات ہوگی۔ لہذا معلومات اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مشن کا آغاز"

2012 میں كاشف اور ان کے دو دوستوں عابد رشید اور ظہیر حسن نے ایک آن لائن پورٹل مائی راهت ڈاٹ کوم متعارف کرایا۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جہاں ایک صارف کو ایک ہی جگہ پر کئی ساری چیزیں دستیاب کرائی جاتی ہیں۔

خوشحالی کے لئے وادی تک كاشف کا سفر

كاشف کاروبار کے میدان میں نئے نہیں ہیں۔ کشمیر میں پلے بڑھے بڑے كاشف جموں یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں گریجویشن ڈگری رکھتے ہیں اور اسی دوران انہوں نے کاروبار میں قدم رکھا۔ کاروبار میں ان کے سفر کا آغاز 2008 میں ہوا جہاں انہونے اپنی انجینئرنگ کے بعد ایک چپ ڈیولپمنٹ کمپنی قائم کی جو یونیورسٹیوں اور کمپنیوں میں چپ ڈیزائنرز کو تربیت دینے کا کام کرتی تھی۔ ان کا یہ کاروبار دو سال تک بہت اچھا چلا، مگر بعد میں کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر ان کو اسے بند کرنا پڑا۔ اس کے بعد كاشف نے ایک دوسرے ادارے مرسی کورپس کو جوائن کیا اور وہاں اپنی خدمات دیں۔ یہاں ان کا کام کشمیری کاروبار کو فروغ دینا تھا۔ جس وقت كاشف یہاں کام کر رہے تھے، تب ان کے دل میں آیا کہ کچھ ایسا کیا جائے جو ان کا اپنا ہو۔ کچھ ایسا جس سے لوکل کشمیری لوگوں کو فائدہ ملے۔ اس خیال کے بعد كاشف نے 8 ماہ میں مرسی کورپس کو چھوڑ دیا اور اپنے ایک دوست محیط معراج کے ساتھ مل کر ای کامرس پورٹل کشمیر باکس متعارف کرایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مائی راح ڈاٹ کوم کی بھی بنیاد رکھی۔ کشمیر باکس کو بڑھانے میں انہیں دو سال لگے اور 2004 میں انہوں نے مائی راحت  کے لیے ایک نئے سرے سے شروع کیا۔

اپنے سابقہ تجربات پر کام کرتے ہوئے شروع میں انہوں نے کشمیر کے دیہی علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں کی چیزوں کو سمجھا۔ كاشف کہتے ہیں کہ "آغاز میں ہم نے ایک سروے کیا اور پتہ لگایا کہ گیس کنکشن، ویٹرنری، تعلیم سمیت کئی ایسی ضرورتیں ہیں جو کشمیریوں کو نہیں ملی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایسی 15 ضرورتوں کویکجا کیا جو مقامی لوگوں کے لئے انتہائی اہم تھی۔

مائی راحت ڈاٹ کوم - کس طرح پہنچا لوگوں کے گھر - گھر

مائی راحت ڈاٹ کوم ایک ایسا ماڈل ہے، جو لوگوں کو وہ خصوصیات فراہم کرتا ہے، جن کی انہیں تلاش ہے۔ مائی راحت نے جموں اور کشمیر کی وزارت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور ان کی سی ایس سی یا سروس سروس سینٹر کام حکومت ہند کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ اس کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ اس سروس کا بنیادی مقصد لوگوں کے دروازے تک الیکٹرانک سروس کو پہنچانا ہے۔ مائی راحت نے ایک فرنچائز ماڈل کے تحت اس میں اپنی موجودگی درج کی۔

آج مائی راحت 8 اہم شعبوں تعلیم، صحت، زراعت، خبریں اور میڈیا، افادیت، مصنوعات، ای گورننس، اور سفر جیسے شعبوں میں اپنی سروس دیتا ہے۔ اس کے علاوہ آج اس پورٹل نے کئی سماجی کاروباری اداروں کے ساتھ تعلق قائم کیا ہے اور اس سے بھی لوگوں کو کافی مدد مل رہی ہے۔

كاشف کے مطابق اس پورٹل کے تین مقاصد ہیں۔ لوگوں کے دروازے پر لا کر کمپنیوں اور کاروباری اداروں کو کھڑا کرنا، حکومت کے لئے ایک پلیٹ فارم تیار کرنا، جس سے وہ جموں کشمیر کے ہر کونے تک آئیں اور تیسرا اور سب سے اہم کشمیری نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا۔

كاشف مانتے ہیں کہ مائی راحت  کاروباریوں کی تعمیر کرتا ہے۔ جہاں ایک عام کاروباری ہائی اسکول پاس ہے اور کمپیوٹر کو سمجھتا ہے اور جو 75000 روپے تک کی سرمایہ کاری کر سکتا ہے اور یہ آمدنی 1 سال سے بھی کم وقت میں حاصل ہو جاتی ہیں۔ ریاست میں اب تک کمپنی اس طرح کے 1500 کاوراباریوں کو تیار کر چکی ہے جہاں ہر شخص ہر ماہ 20000 سے 60000 کے درمیان کمائی کر لیتا ہے۔

كاشف بتاتے ہیں کہ بازار میں موجود دیگر خدمات کے علاوہ ایک گاہک کو مائی راحت اپنی نوعیت کی کئی منفرد سروس بھی دیتا ہے۔ کلاس 12 تک پڑھنے کے بعد زیادہ تر طالب علم فطری طور پر انجینئرنگ یا طب کے میدان کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں یہ فائدہ نہیں لے پاتے لہذا ہم نے اپنے پورٹل میں ایسے لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کی جو اس پورٹل میں ایسا مواد دیں، جس سے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مدد مل سکے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سروس کے لئے ایک گاہک کو 300 سے 500 روپے کے درمیان خرچ کرنے ہوتے ہیں اور آج اس پورٹل کے پاس ایسے 1500 گاہک ہیں۔

اپنی سروس کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے كاشف کہتے ہیں کہ آج بہت سے سماجی اداروے حیرت انگیز، معیار کی مصنوعات کی تعمیر کر رہے ہیں؛ لیکن رابطہ جو کہ ایک اہم نقطہ ہے آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ فی الحال انہوں نے 30 اداروں کے ساتھ اشتراک کا قرار کیا ہے جس میں بہت سی نامی گرامی كمپنياں شامل ہیں، اور یہ بے حد کم اور مناسب قیمتوں پر ریاست کے دیہی لوگوں کو وہ ساری خصوصیات دے رہی ہیں، جن کی انہیں تلاش ہے۔

اس کے علاوہ ای گورننس کے علاقے میں کام کرتے ہوئے مائی راحت  ڈاٹ کوم نے 2000 کے آس پاس دستاویزات کو ڈیجیٹل شکل دی ہے۔ ان میں آر ٹی ایپلی کیشنز، موبائل، گیس اور بجلی کے کنکشن شامل ہیں، جہاں ان کا پرنٹ نکال کے براہ راست کسٹمر کو دیا جاتا ہے۔

اس کے فوائد پر كاشف کا کہنا ہے کہ کسی بھی سروس کا فائدہ اٹھانے کے لئے ایک آدمی کو سفر میں کافی پیسہ اور وقت برباد کرنا پڑتا ہے اور ہماری سہولت شخص کو ان تمام اخراجات سے چھٹکارا ملتا ہے۔

کیا ہیں مستقبل کے منصوبے؟

فی الحال مائی  راحت  کے 70 فیصد سینٹر کشمیر کے دیہی علاقوں میں ہی ہیں جہاں ان سودھو کا فائدہ روزانہ 1000 لوگ اٹھاتے ہیں اور 4 سال کی محنت کے بعد اب حال ہی میں انہوں نے 1 ملین کے اعداد و شمار کو چھو لیا ہے۔ اگر بات کمپنی کی آمدنی کے معاملے پر ہو تو یہ 100 ملین کا ہندسہ پار کر چکے ہیں۔

آج صرف کشمیر میں ہی مائی راحت کے 1،500 انسداد ہیں مگر كاشف کا ہدف بڑا ہے۔ كاشف کے مطابق ان کا ہدف 6،000 سینٹر کھولنے کا ہے اس کے علاوہ وہ یہ دیگر پڑوسی ریاستوں جیسے پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں بھی لے جانا چاہتے ہیں۔ كاشف یہ بھی مانتے ہیں کہ ہم نے دیہی علاقوں کی معیشت کو درست کیا ہے اور گاؤں کے لوگوں کو روزگار دلانے میں مدد کری ہے جو آج وقت کی ضرورت ہے۔

كاشف کا یہ کوشش کشمیر کی وادیوں میں سے ایک بہترین خبر ہے۔ مائی راحت ڈاٹ کوم نے وہاں کے مقامی لوگوں کی زندگی میں بے حد اہم تبدیلی کر انہیں ٹھیک ٹھیک ادیمیوں میں جگہ دی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مائی اراحت ڈاٹ کوم کا کمال ہی ہے جس کی وجہ سے آج مقامی لوگ صحت، تعلیم اور زراعت کے میدان میں ایک بڑی تبدیلی لا چکے ہیں۔ آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ كاشف نے اپنے کام سے یہ درشا دیا کہ کسی بھی شخص کی زندگی میں ملا تجربہ اسے ایک دن کامیاب ضرور بناتا ہے۔

 تحریر---شویتا وٹا

ترجمہ -ایف ایم سلیم

Related Stories