ایک مکالمے نے بنا دی زندگی... حیدرآبادی اداکار اکبر بن تبر کی دلچسپ کہانی

0

ایک مکالمے کی بدولت ملی مقبولیت

حیدرآبادی فلموں میں کام کرنے کے لئے کبھی انکار بھی کیا تھا

اداکاری اور اسٹیج شو سے بھی چلتی ہے زندگی

دوستوں کے ساتھ مذاق میں کہا جانے والا کوئی مکالمہ زندگی بنا دے گا۔۔۔ ایسا اس نوجوان نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ نہ ہی کبھی خواب دیکھا تھا کہ فلموں میں کام کرے گا، لیکن اس مکالمے نے اکبر بن تبر کو نہ صرف مقبولیت سے نوازا بلکہ حیدرآبادی اور تلگو فلموں سے ہوتا ہوا ان کا سفر بالی ووڈ تک پہنچ گیا ہے۔ حیدرآبادی فلم سازوں نے ایک نیا تجربہ کرتے ہوئے اکبر کو ایک فلم میں اہم کردار میں لیا ہے۔ یہ فلم 'سب کا دل خوش ہوا' 1 جنوری کو ہی تلنگانہ کے سینما گھروں میں ریلیز ہوچکی ہے۔

گولكنوڈا میں رہنے والے ان کے دوست جانتے ہیں کہ بچپن سے ہی کافی خوشگوار طبیعت اور ہنسنے ہنسانے والی خصوصیات سے اکبر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا کرتے تھے۔ آج وہ نہ صرف فلمی اداکار بلکہ اسٹیج پر اپنے حیدرآبادی مزاحیہ پروگراموں کی وجہ سے بھی مقبول ہیں۔ کئی ممالک کا دورہ کر اسٹینڈپ كامیڑين کے طور پر بھی اپنی صلاحیت کا تعارف دے چکے ہیں۔

تقریبا 9 سال پہلے ایک فلم آئی تھی، حیدرآباد نواب اور اس کا ایک ڈائیلاگ کافی مشہور ہوا تھا اور وہ تھا ۔۔۔ میرا نام اکبر بن تبر، کھود ڈالے اچھے اچھوں کی خبر، چھ زخمی اور پانچ مرڈر، پھر بھی یار خاں نڈر ، اکبر بن سوٹے، جاں بولے واں كھروچے، بچ گئے عثمانیہ، مر گئے شمشان، ۔۔۔ بھائی جیلانی، جاں بولے وهاں پاني۔۔چ پانی، اکبر خاں چرپٹے، میاں بھائی دولے والے، گولكونڈے کے رہنے والے، اٹھان گلی، پھگٹ نگر، اداس پورا ، حیران گلی پریشان روڈ، ۔۔۔ یہ مکالمہ کافی بڑا ہے، اور اس میں دوستوں کے درمیان اپنی شیخی بگھارنے والے ایک لڑکے کی شرارت جھلکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ مکالمہ بچوں میں کافی مشہور ہوا۔ بڑوں نے بھی اسے تفریح کے طور پر کافی پسند کیا۔

اکبر اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی ابتدائی تعلیم گولكنوڈا ہائی اسکول میں ہوئی اور صرف 10 ویں جماعت تک ہی پڑھ سکے۔ اس کے بعد انہیں ایک ہوٹل میں کام کرنا پڑا۔ ملےپلی کی پرنس ہوٹل میں آج سے آٹھ دس سال پہلے کسی نے چائے پی ہو گی یا کھانا کھایا ہوگا تو وہاں كاونٹر پر بیٹھنے والے اکبر بن تببر کو ضرور جانتے ہوگا۔ كاونٹر پر بیٹھكر بھی لوگوں کے ساتھ ہنسنا ہنسانا کافی ہوا کرتا تھا۔ فلموں سے جڑنے کے بارے میں اکبر بتاتے ہیں،

''ایک دن میں گولكنوڈا میں ایک عقيقے کی دعوت میں اسٹیج سے کچھ ہنسی مذاق کر رہا تھا۔ وہاں ایک اور آرٹسٹ عزیزناصر بیٹھے تھے۔ انہوں نے میرا مکالمہ سن کر کافی تعریف کی اور اسی دوران بن رہی حیدرآبادی فلم 'دی انگریز' میں کام کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے لئے اس کے پروڈیوسر ڈائریکٹر نکھل نے بھی ملاقات کی، لیکن مجھے وہ سب مذاق لگا اور فلموں میں کام کرنے کے تئیں اپنے اندر شوق پیدا نہیں کر سکا۔ بعد میں جب دی انگریز کافی مقبول ہوئی تو پھر افسوس ہوا کہ موقع ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ کچھ دن بعد جب حیدرآباد نواب فلم بن رہی تھی، تو آر کے ماما نے اس میں کام کرنے کی تجویز پیش کی۔ حیرت تھی کہ محفلوں میں اور دوستوں کے ساتھ ہنس بولنے کے لئے جو ڈائیلاگ میں بولتا تھا اس اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک ہی ٹیک میں 4.33 منٹ کا یہ ڈائیلاگ اوکے ہو گیا۔ یہ اتنا مقبول ہوا کہ ایک ٹیلی فون کمپنی نے اس رنگ ٹون بنا دیا اور رایلٹی کے طور پر 50 ہزار روپے دیے۔ ''

اکبر کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ وہ صفر سے شروع ہوکر كاميابی کی نئی منزلوں کے سفر کی طرف نکل پڑتی ہے۔ جب انہیں لگا کہ انہیں فلموں میں کام ملنے لگا ہے تو پھر انہوں نے پہلی موٹر سائیکل خریدی اور پھر ایک ایک کرکے گاڑیاں بدلتی رہی اور آج وہ بي ایم ڈبلو میں گھومتے ہیں۔ اکبر کامیابی کے اس سفر کا پورا کریڈٹ اس مکالمے کو ہی دیتے ہیں۔ جس کے لئے انہیں یو ٹيوب سے بھی آمدنی حاصل ہوئی۔

اور جب دبئی جانا ہوا تو حیرت اس بات کی تھی کہ عربوں کے بچوں نے بھی مکالمہ یاد کر لیا تھا۔ اکبر نے اب تک حیدرآبادی، ہندی، تیلگو اور بھوجپوری سمیت 28 فلموں میں کام کیا ہے۔ ہندی فلم 'دعوت عشق 'میں بھی ان کے کردار کو سراہا گیا۔ اکبر کہتے ہیں، `ممبئی سے کافی لوگوں نے آفر دئے، لیکن اس کے لئے ممبئی جاکر رہنا پڑتا ہے۔ مجھے لگتا ہے، ہندی کے بہت سے لوگ جنوب کی فلموں میں کام کرنے کے لئے حیدرآباد آ رہے ہیں، توپھر میں ممبئی کیوں جاؤں۔ یہیں بہت سارا کام پڑا ہے۔ '

اکبر نے فلموں کے ساتھ ساتھ اسٹہج پر سٹینڈپ حیدرآباد كامیڑی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس کے لئے انهوںنے کچھ شعر یاد کئے ہیں اور کچھ اپنی طرف سے تک بندي کر لیتے ہیں۔ لوگوں کو ان کی سٹائل پسند آتی ہے اور اب وہ اپنے بل بوتے پر کوئی بھی پروگرام 2 گھنٹے تک چلا سکتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ اپنی مزاحیہ اور اداکاری کے فن نكھاركر بہترین فلمیں حاصل کریں گے اور ان کا یہ سفر جاری رہے گا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem