چوبیس پچیس سال کے 5 نوجوان، 25 دن کی تحقیق ، 25 دن کا ترجرباتی دور، اور 5 سال میں 250 کروڑ کا کاروبار کرنے کا ہدف

سال 2015 کی بات ہے۔ مئی کا مہینہ تھا۔ چلچلاتی دھوپ اور گرمی سے چنئی کے لوگ پریشان تھے۔ ان دنوں کلیان کارتک سداشونی چنئی میں سلیكھا ڈاٹ ڈاٹ کام کے لئے کام کر رہے تھے۔ قہر برساتی گرمی والے ایک دن وہ اپنی کار سے دفتر کے لئے روانہ ہوئے۔ تھوڑی دور چلتے ہی ان کی کار خراب ہو گئی۔ کار کے انجن نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ کلیان سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ اچانک گاڑی کے خراب ہونے کی کیا وجہ تھی۔ ترومير علاقے میں گاڑی خراب ہوئی تھی۔ کلیان کو آفس جانا ضروری تھا۔ انہوں نے میکینک کی تلاش شروع کر دی۔ کافی دوڑدھوپ کے بعد انہیں میکینک ملا اور پھر گاڑی کو ٹھیک کرنے کا کام شروع ہوا۔ کار ٹھیک کرنے کے لئے کچھ کل پرزوں کی ضرورت تھی جو اس میکینک کے پاس نہیں تھے۔ کلیان اور میکینک؛ دونوں ساتھ میں ان پرزوں کو لانے کے لئے نکل پڑے۔ جن جن دکانوں میں دونوں گئے وہاں پرزے تو تھے، لیکن کلیان کے پاس انہیں خریدنے کے لئے نقد روپے نہیں تھے، ان کی جیب میں صرف بینک کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ہی تھے۔ اور، خریداروں کے پاس کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کی سوائپ مشین نہیں تھی۔ نوٹ لینے کے لئے وہ پاس ہی کے اے ٹی ایم گئے، لیکن مشین خراب تھی۔ وہ دوسرے اے ٹی ایم پر گئے، وہاں مشین میں کیش نہیں تھا۔ کلیان کے لئے چونکانے والی بات یہ تھی کہ اس دن ترومير علاقے میں زیادہ تر اے ٹی ایم مشینیں خراب تھیں یا پھر ان میں نقدی نہیں تھی۔ ایک طرف شدید گرمی کی مار تھی اور دوسری طرف گاڑی کو ٹھیک کرنے کے لئے ضروری پرزے خریدنے کے لئے نقدی نہ ملنے کا درد۔ کلیان بہت پریشان ہوئے۔ جسم پسینے سے تر بتر ہو گیا۔ پریشان حال کلیان نے اپنے دوستوں میں سے کسی ایک کی مدد لینے کی سوچی، اور اپنے ایک دوست کو فون لگایا۔ وہ دوست مدد کرنے کے لیے فوراً راضی ہو گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ دوست نقدی لے کر کلیان کے پاس پہنچا۔ دوست سے نقدی ملنے کے بعد ہی کلیان گاڑی کو ٹھیک کروانے کے لیے ضروری پرزے خرید پائے۔ گاڑی ٹھیک ہونے کےبعد جب آفس پہنچے تو دیر ہو چکی تھی۔ ان کا دل کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ چلچلاتی گرمی میں نقدی کے لئے ایک اے ٹی ایم مشین سے دوسری اے ٹی ایم مشین گھومنے اور پھر بھی نقدی نہ ملنے کی ذہنی درد سے وہ باہر نکل نہیں پائے تھے۔ ان کے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ کئی بار وہ اے ٹی ایم مشین کے خراب ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی پریشانی جھیل چکے تھے۔ اگر اس دن ان کے دوست نے آ کر ان کی مدد نہ کی ہوتی تو اور بھی کئی مشکلات کا سامنا انہیں کرنا پڑتا۔ کلیان کی جیب میں اکثر نقدی کم ہوتی یا پھر نہیں ہوتی، لیکن ان کی جیب میں بینک کے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ ضرور ہوتے۔ کئی بار وہ کسی دکان میں کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کر ضروری چیزیں خریدنا چاہتے ہیں، لیکن دکاندار کے پاس مشین نہیں ہوتی تھی اور وہ نقدی پر ہی اشیاء فروخت کرتے تھے۔ اے ٹی ایم مشینوں کے خراب ہونے اور کئی چھوٹے بڑے دکانداروں کے پاس کریڈٹ / ڈیبٹ کارڈ پر عملدرآمد کرنے والی مشین نہ ہونے سے کلیان کئی بار کئی طرح کی پریشانیاں جھیل چکے تھے۔ كليان نے اپنی انہی مشکلات کے بارے میں اپنے دوستوں کو جب بتایا تو وہ یہ بات جان کر حیران رہ گئے کہ ان کے سارے دوست بھی اسی طرح کی مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں۔ دوستو کے ساتھ بات چیت کے دوران کلیان کے ذہن میں ایک ايڈيا آیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں کو اسٹورز پر نقدی دینے کے مسئلے سے نجات دلانے کے لئے کام کریں گے۔ اسی ايڈيا کی بنیاد پر کئی طرح کے تجربے کا خیال ان کے دماغ میں آنے لگا۔ انہوں نے اپنے بچپن کے ناگیندر بابو کو اپنے انہی خیالات سے آگاہ کرایا۔ کلیان اور ناگیندر بابو کے خیالات ایک جیسے تھے۔ ناگیندر بابو نے گاہکو مسئلہ حل کرنے کے لئے کچھ نئے منصوبے بنانے لگے۔ ان کے چھوٹے بھائی سائ سندیپ نے بھی مجوزہ اسٹارٹپ سے جڑنے کا من بنا لیا۔ دو اور دوست چندر شیکھر ریڈی اور دنیش کمار ریڈی کو بھی اسٹارٹپ کا یہ خیال اتنا پسند آیا کہ انہوں نے بھی کلیان کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

0

اس طرح پانچ دوستوں کی ایک ٹیم بنی کلیان، سائ سندیپ، ناگیندر بابو، چندر شیکھر اور دنیش نے ساتھ مل کر ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ پانچوں دوستوں نے مل کر پہلے مارکیٹ کا حال جانا۔ تحقیق کی، مطالعہ بھی کیا۔ پانچوں نے کسٹمر ریسرچ کے ساتھ ساتھ مارکیٹ ریسرچ کی، تاکہ امکانات کا پتہ لگایا جا سکے۔ - گاہکوں اور دکانداروں / تاجروں - دونوں کے مسئلے کو اچھے سے سمجھنا انکا مقصد تھا۔ تحقیق اور مطالعہ کے لئے پانچوں نوجوان دوستوں نے ٹائیر 1، ٹائیر 2 اور ٹائیر 3 شہروں کو چنا۔ خاص طور سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاستوں کے شہروں کو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پانچوں تیلگو بولنے والے تھے۔ پانچوں دوستوں نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے حیدرآباد، وجئے واڑہ، گنٹور، وئزاك، ورنگل، نظام آباد، کریم نگر، عادل آباد جیسے شہروں میں زمینی حقیقت کا پتہ لگانا شروع کیا۔ یہ تمام ایسے شہر ہیں جہاں پر نقدی کا استعمال کافی زیادہ ہوتا ہے۔

اسٹارٹپ ٹیم کے پانچوں رکن اس سے پہلے بنگلور، چنئی اور دوسرے شہروں میں کام کر چکے تھے اور تمام نقد ادائیگی کے مسئلے سے بھی واقف تھ ۔ اس لئے پانچوں نے مل کر اس مسئلہ کا نہ صرف توڑ نکالا بلکہ اس کو کامیاب بزنس ماڈل بنانے میں جٹ گئے۔

بڑی بات یہ رہی کہ تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ دونوں طرف یعنی کلائنٹ اور تاجر نقدی ادائیگی کے مسئلے سے نجات پانا چاہتے تھے۔ بہت سے گاہک ایسے تھے جو یہ بات سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے دور میں بہت سے تاجروں کی دکانوں میں کریڈٹ یا پھر ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کرنے کے بارے میں سوچ بھی کیوں نہیں رہے تھے۔ نقدی کے ہی ادائیگی پر زور دیے جانے کی وجہ سے تاجروں سے کلائنٹ کے تعلقات بھی خراب تھے۔ چلر کا بھی مسئلہ اکثر دکانوں پردیکھا جاتا تھا۔ نقدی کی ادائیگی پر بچی رقم کے بدلے زیادہ تر دکاندار چاکلیٹ جیسی چھوٹی موٹی چیز کلائنٹ کے ہاتھ میں تھما دیتے تھے۔ تحقی کا نتیجہ صاف تھا - کلائنٹ اور تاجر طبقے، دونوں کوئی ایسا فارمولا چاہتے تھے جس سے نقدی ادائیگی کے سارے مسائل ایک ساتھ حل ہو سکیں۔

جب ان پانچوں دوستوں نے اپنی تحقیق مکمل کر لی تب ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج باہیں پسارے کھڑا تھا۔ یہ تھا تكنيك کا استعمال کر ایک ایپ بنانا، جس سے کلائنٹ اور تاجر درمیان لین دین کا مسئلہ حل ہو سکے۔ اس چیلنج کو پار لگانے کے لئے تحقیق کے بعد فوراً بعد ٹیکنالوجی پر کام شروع ہو۔ کام تیزی سے آگے بڑھا اور نتیجہ یہ رہا کہ ایپ تیار ہو گیا۔ ایپ کی کارکردگی پر بھی کافی تجربے کئے گئے۔ ایپ کی خامیوں کو دور کر اسے پوری طرح سے محفوظ، موثر اور استعمال میں آسان بنا لیا گیا۔ اب اس ایپ کو بازار میں اتارنے کی تیاری شروع ہوئی۔ ایپ کے لئے تلاش شروع ہوئی ایک ایسے نام جو ہر کسی کی زبان پر آسانی سے آ جائے اور اسے کوئی بھولے نہیں۔ اس کے لئے پانچوں یاروں نے بات چیت کے کئی سارے چھوٹے بڑے دور کے بعد 'کلک اینڈ پے' نام کو طے کیا۔ 'کلک اینڈ پے' سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ ایپ کا مطلب ایک کلک پر ہی آپ کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔

'کلک اینڈ پے' کی ٹیم: اس طرح پانچ دوستوں نے مل کر 'کلک اینڈ پے' ایپ بنایا۔ پانچوں نے مل کر 'سوآفس گلوبل ٹیكنولجيز پرائیویٹ لمیٹڈ' کے نام سے کمپنی بنائی اور اپنا کاروبار شروع کیا۔ 'کلک اینڈ پہ' اپنی نوعیت کا خاص ایپ ہے۔ اس ایپ کو کسی بھی اسمارٹ فون میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد آن لائن یا آف لائن اسٹور، ریستوران اور دوسری جگہوں پر ادا کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ اس گاہک کو نقد یا کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ رکھنے سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ یہ ایپ استعمال میں انتہائی آسان اور محفوظ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ہی وقت میں 'کلک اینڈ پہے' کے ساتھ 2 ہزار سے زیادہ مرچنٹ / تاجر / دکاندار جڑ چکے ہیں۔

'کلک اینڈ پے' ایپ کے ڈیزائن تیار کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ گاہکوں کے ساتھ ساتھ دکاندار کو بھی اس سے فائدہ ہو اور دونوں آسانی سے اس کا استعمال کر سکیں۔ 'کلک اینڈ پے' کی یہ خاصیت بھی ہے کہ اس میں ایسے خریداروں کو فائدہ پہنچانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے، جن کی آن لائن موجودگی نہیں ہے۔ پانچوں دوستوں کا دعوی ہے کہ ان کے ایپ کی وجہ سے آن لائن پر آنے پر بھی دکاندار کو زیادہ سے زیادہ گاہک مل سکتے ہیں۔ خریداروں کو اپنے گاہکوں کی خریداری سے منسلک تمام معلومات بھی یہ ایپ مہیا کراتا ہے۔ دکاندار کو اس ایپ کی وجہ سے اپنے گاہکوں کی خریداری کے طور طریقوں کو جاننے سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس ایپ سے جڑنے کے بعد دکاندار کے پاس اس بات کی بھی معلومات ہوتی ہے کہ کس گاہک نے کس وقت کیا سامان خریدا تھا۔ دکاندار کو یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ گاہک نے پہلی اور آخری بار کب اور کیا خریدا تھا۔ صارفین کی دلچسپی اور ان کی ضروریات اور مطالبات کو دکاندار آسانی سے سمجھ سکیں، اس کے لئے اس ایپ میں 'کسٹمر ریلیشن مینجمنٹ ٹولز' کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ یہی 'ٹول' دکاندار کو کلائنٹ سے اپنے تعلقات بڑھانے اور مضبوط بنانے کے لئے ضروری معلومات فراہم کرواتا ہے۔

اگر گاہکوں کی سہولت اور ان کے فوائد کی بات کی جائے تو، 'کلک اینڈ پے' نہ صرف ادائیگی کا ایک ذریعہ ہے بلکہ یہ بہت خاص آفر بھی مہیا کراتا ہے۔ 'کلک اینڈ پے' کے ذریعہ نہ صرف آفر بلکہ مختلف طرح کے مہم کی معلومات کے ساتھ ساتھ ادائیگی کی مکمل معلومات بھی دی جاتی ہے۔

پانچوں دوست یہ بھی جانتے ہیں کہ زیادہ تر ہندوستانی آج بھی اپنے ساتھ نقد لے کر ہی چلتے ہیں۔ وہیں دوسری طرف جن کے پاس کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ ہوتا ہے، ان کو کئی بار پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ ہر کسی دکان میں سوائپ مشین نہیں ہوتی، کہیں تو دکاندار کارڈ لینے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہیں کافی کم ایسے گاہک ہیں، جن کے پاس کریڈٹ یا ڈیبٹ كارڈ ہوتا ہے۔ ایسے میں 'QR کوڈ' نقد یا کارڈ کے مقابلے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتا ہے اور اسی ٹیکنالوجی کا استعمال 'کلک اینڈ پے' کرتا ہے۔ 'QR کوڈ' کے علاوہ وهاٹس ایپ، ایس ایم ایس، ای میل، واؤچر کے ذریعہ بھی ادا کرنے کی سہولت گاہکوں کو'کلک اینڈ پے' کے ذریعہ دی گئی ہے۔ 'کلک اینڈ پہ' کی ٹیم گاہکوں کی سہولت کے لئے 'یونیفائیڈ ادائیگی انٹرفیس' کی مدد سے ادائیگی کے اور بھی طریقوں کو اس ایپ سے جوڑنے کی منصوبہ بندی بنا چکے ہیں۔

کمپنی کے بانیوں یعنی پانچوں دوستوں کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے زیادہ سے زیادہ گاہکوں کو اس ایپ کے بارے میں بتانا اور انہیں اس اپلی کیشن کے استعمال کی عادت ڈالنا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ اسٹور اور ریستوران تک پہنچانا بھی ایک چیلنج ہے۔ ان سب کاموں کو انجام دینے کے لئے بڑا سرمایہ چاہئے، جوکہ ان پانچ نوجوانوں کے پاس ابھی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے 'کلک اینڈ پے' کے بانی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

پانچوں بانی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ ان کے ایپ اور کاروبار کی توسیع کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں کئی گاہک اور دکاندار ایسے ہیں، جنہیں 'کلک اینڈ پے' جیسے موبائل ایپلی کیشنز کی ضرورت ہے۔ پانچوں دوستوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہندوستان میں خوردہ اور آف لائن کی مارکیٹ تقریبا 60 ہزار کروڑ روپے کا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ ظاہر ہے جب مارکیٹ اتنا بڑا ہو گا تو وہاں پر مواقع بھی کافی ہوں گے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پانچوں ساتھی مارکیٹ کے تمام زرایع پر توجہ دے رہے ہیں۔ بات اگر صرف حیدرآباد کی کریں تو یہیں صرف 40 ہزار مختلف اسٹور ہیں۔ ایسے میں ممبئی، بنگلور، پونے میں بڑی مارکیٹ ہے اور وہاں پر پانچوں کو امید ہے کہ ان کا آغاز کافی کامیاب ثابت ہوگا۔

فی الحال پانچوں ساتھیوں کی منصوبہ بندی اس سال کے آخر تک جنوبی ہندوستان کی تمام ریاستوں میں اپنا کاروبار پھیلانے کی ہے۔ ساتھ ہی شمالی ہند کی ریاستوں میں اپنی پہنچ بنانا چاہتے ہیں۔ اس طرح سال 2016 کے آخر تک ان کا ہدف 1 ملین صارفین کے ساتھ 40 ہزار خریداروں اور تاجروں تک اپنی پہنچ بنانا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کلیان، سائ سندیپ، ناگیندر بابو، چندر شیکھر اور دنیش کی ٹیم ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت اپنے آپ کو بڑے کھلاڑی کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں کے دوران ان کی منصوبہ بندی ملک بھر کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اپنی پہنچ بنانے کی ہے۔

'کلک اینڈ پہ' ایک ایسی کمپنی جسے 24-25 سال کے 5 نوجوانوں نے شروع کیا۔ 25 دن تک اپنی تحقیق کی اور بازار میں امکانات کا مطالعہ کیا۔ 25 دن تک اپنے بنائے ایپ پر کام کرکے استعمال کیا اور پھر ایپ کو بازار میں لانچ کر دیا۔ وہ اگلے 5 سالوں میں 250 کروڑ روپے کا کاروبار کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ ان پانچ باصلاحیت اور جوشیلے نوجوانوں کو اپنے اسٹارٹپ ايڈيا پر اتنا اعتماد تھا کہ سب نے تگڑی رقم والی نوکری چھوڑ دی اور اپنا تن من دھن لگا کر اسٹارٹپ کو کامیاب بنانے میں مصروف ہو گئے۔

ان پانچوں کے بلند ارادوں کو حیدرآباد کے ٹی ہب نے پنکھ دیئے ہیں۔ ٹی ہب اسٹارٹپ کمپنیوں کے لئے انكيوبیٹر کا کام کرتا ہے۔ ٹی ہب ملک کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی انكيوبیٹر مانا جانے لگا ہے۔ یہ حیدرآباد کے بین الاقوامی انفارمیشن ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (ايايايٹي) کے احاطے میں واقع ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اسٹارٹپ کے بانی اپنے خیالات سرمایہ کاروں اور انٹرپرائز کے سامنے رکھ سکیں۔ بڑے بڑے ماہرین اور صنعت کی دنیا کی نامور شخصیات سے بھی اسٹارٹپ چلانے والوں کو مشاورت کے مواقع فراہم کراتا ہے ۔

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories