یوتی نے دل کی بات سنی اور کامیابی کی طرف بڑھائے قدم

یوتی نےگرافک ڈیزائنر کے طور پراپنا کیریئرشروع کرکے 'اُڑ' جیسے ادارے کا قیام کیا۔ فطرت کے نظاروں نے ترغیب و تحریک ملی۔ پہلے کاغذ پر ڈیزائن پھر ساڑی، دپپٹے، لهنگا وغیرہ پر بھی فنکارانہ ڈیزائن میں رنگ بھرے۔

0

يوتی شاہ بچپن سے ہی کافی آزاد موحول میں رہیں۔ وہ ہمیشہ سے کوئی تخلیقی کام کرنا چاہتی تھیں تاکہ اپنی سوچ کو اپنے کام کے ذریعے اظہار نیا روپ دے سکیں اور اسی کے چلتے یوتی نے ممبئی کے ریفیل ڈیزائن انٹرنیشنل سے بصری كميونكیشن کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہیں ایک ایکسچینج پروگرام میں حصہ لینے کے لئے منتخب کیا گیا اور وہ پیرس چلی گئیں۔ جب دو ماہ بعد یوتی ہندوستان لوٹیں تو انہوں نے خود میں کافی تبدیلی محسوس کی۔ اس سفر نے یوتی کی سوچ اور ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو ایک نئی راہ مل گئی۔ اب وہ ڈزائننگ سے ہر چیز میں تجربہ کرنے لگیں۔ ہر چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ان ڈزائننگ کی گنجائش نظر آنے لگی۔ انہیں لگنے لگا کہ ڈزائننگ صرف کاغذ، کتاب یا پھر کارڈ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ہر چیز میں اس کا اثر نظر آنا چاہئے۔

یوتی نے اپنا کیریئر بطور گریفك ڈیزائنر شروع کیا۔ انہیں اپنا کام بہت پسند تھا لیکن بھیڑ بھری ٹرین میں آفس جانا۔ دیر تک آفس میں کام کرنا یوتی کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔

یوتی کے لئے سب سے بہترین چیز یہ تھی کہ ان کے شوہر کا ٹیسٹ بھی ان کی طرح ہی تھا۔ وہ دونوں اکثر چھٹیوں میں کسی دیہی علاقے میں چلے جاتے اور وہیں اپنی چھٹیاں گزارتے۔ یوتی اپنے ساتھ اکثر ایک نوٹ بک لے جاتی جس میں وہ نیچر کے مختلف رنگوں اور ٹیكسچر کو اتارنے کی کوشش کرتی۔ نیچر کے قریب رہنا دونوں کو ہی بہت پسند تھا۔ ایسے ہی ایک سفر میں جب ان کے شوہر اتل ایڈروڈ نے ان کے اسكیچس کو غورسے دیکھا تو انہوں نے یوتی کو کچھ اپنا ہی کام شروع کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کیوں نہ تم اپنی اس تخلیقی اسکل کو لوگوں کے سامنے کسی بھی ذریعے سے پیش کرو ۔ خیال یوتی کو بھی بہت بھا گیا اور یوتی نے اپنی ڈیزائنر کی جاب اچانک چھوڑ دی۔ اور اپنی مکمل توجہ اپنے پہلے آرٹ شو کی تیاری میں لگا دی۔ اسی سوچ کے ساتھ بنیادیں پڑی ان کی برانڈ 'اُڑ' کی۔

یوتی اپنےاورجنل آرٹ ورک صرف کاغذ پر ہی نہیں بلکہ اب ساڑی، دوپٹہ، اسکارف، لهنگا وغیرہ میں اتارنے لگیں۔ اپنے دو کامیاب شو کرنے کے بعد یوتی اور اتل نے سوچا کس طرح وہ اپنی رسائی کو اور توسیع دیں۔ اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنے کام کو پہنچائیں۔ چونکہ یوتی گریفك ڈیزائنر تھیں اور دل سے ایک فنکار تھیں اس لئے ان کے ڈذائنس میں ایک نیاپن تھا۔ یہ ڈیزائن اچھے تو تھے ہی ساتھ ہی بہت تخلیقی اور جدید بھی تھے۔ جس وجہ سے انہیں لوگوں سے بہت مثبت ردعمل بھی مل رہی تھیں۔ ان اسكچنگ میں دیہی ثقافت کے ساتھ ساتھ فطرت کا بھی واضح تاثر تھا جس میں اپنے ملک کی خوشبو تھی۔ جس سے ان کے گاہکوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ وہ اپنی ڈذانگ میں اورجنل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتیں۔ اس کے علاوہ یوتی کی کلر اسکیم بھی بہت مختلف رنگ لئے ہوئے تھی۔

جیسا کہ ہر بزنس میں ہوتا ہے یوتی اور اتل کو بھی شروع میں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان چیلنجوں نے انہیں اور محنت سے کام کرنے کا حوصلہ دیا۔ یوتی بتاتی ہیں کہ ان کی مصنوعات کو پسند کرنے والے افراد ایک خاص کلاس سے مختلف مزاج رکھنے والے یہں۔ جو آرٹ کی اچھی سمجھ رکھتےہیں۔

یوتی اور اتل کا مقصد محض پیسہ کمانا ہی نہیں ہے۔ بلکہ وہ اچھے کام کے ذریعے اپنا نام اور پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہر بزنس میں پیسوں کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے ویسی ہی ضرورت یوتی اور اتل کو بھی ہے تاکہ وہ ان کے کام کو اور توسیع دے سکیں۔ اب یوتی اور اتل کو ایک ایسے بزنس پارٹنر کی ضرورت ہے جو صرف پیسہ کمانے کے مقصد سے ان کے ساتھ نہ جڑے بلکہ ایک اچھے کام کو آگے بڑھانے کی سوچ رکھتا ہو اور اسے ڈزائننگ کی اچھی سمجھ بھی ہو۔

چونکہ اس شعبہ پرآج بھی مردوں کا غلبہ ہے اس وجہ سے جب یوتی شروع میں کاریگروں سے ملتی تھیں تو کاریگر سمجھتے تھے کہ یوتی بس شوقیہ طور پر یہ کام کر رہی ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ جب وہ كاریگرو سے باقاعدہ ملنے لگیں اور کاریگروں نے یوتی کام کے تئیں جذبہ دیکھا تو انہیں بھی یہ محسوس ہوا کہ یوتی واقعی میں آپ کے کام کو لے کر بہت وقف ہیں اس کے بعد کاریگروں نے بھی یوتی کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا۔ یوتی بتاتی ہیں کہ میرے اس کام میں میرے شوہر نے بھی میرا خوب ہاتھ بٹايا۔ اپنا مکمل تعاون دیا۔ آج ہم اور ہمارے بنکر سب ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔

میاں بیوی کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک بزنس پارٹنر کے طور پر یوتی اور اتل بہت مل جل کر کام کرتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے نیچر سے واقف ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے کی طاقت بھی معلوم ہے اس لئے دونوں کے درمیان بہت اچھا كورڈنیشن رہتا ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے کام بانٹے ہوئے ہیں۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر ان کے کام کو خوب لائكس بھی مل رہے ہیں۔ ان کے باقاعدہ گاہکوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اپنے کام کے تئیں محبت اور لگاؤ ہی ان دونوں کی کامیابی کا عقیدہ ہے۔

تحریر-بنجل شاہ

ترجمہ ایف ایم سلیم

Related Stories