سجيت اور شفيق کا انوکھا اسٹارٹپ' فیشن گلی'... جہاں ملتے ہیں كسٹمائزڈ جوتے

0

لیٹیسٹ فیشن اور برانڈیڈ کپڑے، یہ کچھ ایسے پیمانے ہیں جو ہماری طرز زندگی، ہمارے اسٹیٹس اور ہمارے سوشل سرکل کی شناخت بنتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر مڈل کلاس کے لئے تو جیسے نامی برانڈز کی چیزوں کا استعمال کرنا ان کی سب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے۔ بھیڑ سے الگ کھڑے ہونے کی چاہ میں آج کل کی نوجوان نسل، کمائی کا بیشتر حصہ، مہنگی برانڈز پر خرچ کرنے میں ذرا بھی نہیں هچكچاتی۔ لیکن لباس پر موٹی رقم خرچ کرنے کے بعد برانڈیڈ جوتے کی خریداری میں کچھ کنجوسی کرنی ہی پڑتی ہے۔ جو اس کے دلدادہ ہوتے ہیں وہ اس میں بھی نہیں ہچکچاتے، لیکن زیادہ تر جوتوں کے معاملے میں کنجوسی کر ہی جاتے ہیں۔ جوتوں کا معاملہ تھوڑا ہے بھی دلچسپ، شاندار اور كمفرٹیبل جوتے سستے نہیں ہوتے۔ اور جب آپ سستا ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو پھر اسٹائل اور آرام سے سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ سجيت کے ارد گرد بھی ایسے دوست تھے جو کچھ مختلف پہننے اور مختلف نظر آنے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے۔ امیٹی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد سجيت نے ایکسینچر میں بطور بزنس اینالسٹ کام کرنا شروع کیا۔ ایک دن يونہی آفس میں کسی کے جوتے بحث کا موضوع بن گئے۔

سجيت کہتے ہیں،

"ہم سب اپنے روزمرہ کے کام میں مصروف تھے تبھی کوئی چللاياواه كيا شاندار جوتے ہیں۔ میں نے بھی جا کر ان جوتوں کو دیکھا اور ان سے کافی متاثر ہو گیا۔ میں نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کے میرے ایک دوست نے اپنے جوتوں پر کارٹون كےركٹرس بنوانے کے لئے پورے 4000 روپے خرچ کئے ہیں۔ میں پوری رات سو نہیں پایا اور اس دوست کے بارے میں سوچتا رہا جسے روپے خرچ کرنے کا کوئی ملال نہیں تھا اور اس کے چہرے کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔ میں مکمل رات اس كانسیپٹ کے بارے میں پڑھتا رہا اور میری بے چینی اور بڑھتی گئی۔ "

سجيت نے اس كانسیپٹ پر کام کرنا شروع کیا اور انہوں نے ایسے جوتوں کو افورڈبل بنانے کے ارادے سے تقریباً 500 لوگوں سے بات کی اور سروے کیا جس خاندان کے لوگ اور دوسرے دوست بھی شامل تھے۔ سروے سے جو بات نکل کر سامنے آئی وہ یہ تھی کی قریب 95 فیصد لوگوں نے پلک جھپکتے ہی بتا دیا کہ انہوں نے کون سے برانڈ کے کپڑے پہنے ہیں، لیکن جب جوتوں کی باری آئی تو زیادہ تر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور وہ اس کی مختلف وجوہات بتانے لگے۔ سجيت نے مڈل کلاس صارفین پر توجہ مرکوز کی جن کی دلچسپی انٹرنیشنل برانڈز کے جوتوں میں تو رہتی ہے، لیکن زیادہ قیمت ہونے کی وجہ سے وہ انہیں افورڈ نہیں کر پاتے۔ دوسری طرف دیسی برانڈز میں صارفین کے پاس وہی پورانے ڈيذان والے جوتوں کو خریدنے کے علاوہ زیادہ اختیارات نہیں ہیں۔ ایسے صارفین جوتوں کو بس ضرورت کے لئے خریدتے ہیں اور کسی خاص برانڈ کو ہی خریدنے کی ان کی نہ تو منشا ہوتی ہے اور نہ شوق۔ سجيت نے اسے ہی بنیاد بنا کر کام شروع کییFGali جہاں ایف کا مطلب تھا فیشن۔

سجيت
سجيت

ایک طرف جہاں سجيت کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات سے 'ایف گلی' کا کام شروع ہوا، وہیں کوئی اور بھی تھا جس کا دماغ سجيت کی ہی طرح ٹھیک انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہا تھا۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ دو الگ الگ جگہوں پر رہنے والے دو مختلف لوگ ایک ہی بات سوچ رہے تھے، لیکن دونوں کی ایسا سوچنے کی بس وجوہات مختلف تھیں۔ کالج کے دنوں سے ہی شفیق کو بھی ہمیشہ اچھا پہننے اور بھیڑ سے الگ رہنے کا شوق تھا۔ شفیق پڑھائی مکمل کرکے اینڈرائیڈ ڈیویلپر بن گئے اور اکثر کام سے بور ہونے پر وہ بیچ بیچ میں فیس بک چیک کر لیا کرتے تھے۔

شفیق کہتے ہیں،

'ایک دن یوں ہی فیس بک چیک کرتے ہوئے میں نے جوتوں پر کی گئی کلاکاری دیکھی اور اس آرٹسٹ کی تخلیق سے حیران رہ گیا۔ جب میں نے اور معلومات جٹائی تو پتہ چلا کہ میں انہیں نہیں افورڈ کر سکتا۔ لیکن ایسے بہت سے تھے جنہیں ان جوتوں کے لئے ڈھائی ہزار خرچ کرنے میں کوئی اعتراض نہیں تھا اور روپے دینے کے بعد بھی وہ ان کے حاصل کرنے کے لئے 15 دن انتظار کر سکتے تھے۔ میں نے آن لائن بھی آرٹسٹ ڈيزائنڈ جوتے ڈھونڈے لیکن زیادہ متبادل نہیں ملے۔ تبھی مجھے لگا کہ میرے جیسے اور بھی ہوں گے جو ایسے جوتوں کے شوقین ہوں گے اور جنہیں کم قیمت میں یہ جوتے آن لائن نہیں ملتےہوں گے۔'
شفیق
شفیق

ڈیمانڈ اور سپلائی کے اسی فرق کے بارے میں سوچتے سوچتے شفيق کو بھی لگا کہ اگر مصنوعات اور صارفین کے درمیان اس لنک کو پورا کر دیا جائے تو اس میں بزنس کے اچھے موقع ملیں گے اور انہوں نے شروعات کی 'يوت' کی۔ دو سال الگ الگ کام کرنے کے بعد شفیق اور سجيت کو لگا کہ ایک جیسی سوچ اور ایک جیسے کام کو ساتھ ملکر کرنا چاہئے۔ سال 2014 میں دونوں نے اپنی كمپنيج کو ضم کر دیا اور Fgali نام کے ساتھ ہی آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

سجيت بتاتے ہیں ۔۔

انگلش کے فیشن اسٹریٹ کو ہی ہندی میں ہم نے FGali کر دیا۔ ویسے بھی فیشن، فٹ ويئر، فكی اور فین آرٹ، یہ سارے لفظ بھی ایف کی طرف سے ہی شروع ہوتے ہیں۔ شروع شروع میں ہماری کوشش تھی کی ہم ممبئی کے فنکاروں کے ہی ڈيزانڈ جوتوں کے لئے بازار مہیا کروائیں اور ترسیل کے لئے سازگار ماحول تیار کریں۔ لیکن اب ہم جوتے خود بناتے ہیں۔ ہم ایک خاص جوتے کے اٹلان کی بنیاد پر ملک بھر کے فنکاروں سے ڈيزائن منگواتے ہیں۔ پھر گاہکوں کی مانگ کو ذہن میں رکھ کر سب سے اچھے ڈيزائن کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔ اس آرٹسٹ کو ادائیگی کے بعد ہم اس خاص جوتے بناتے ہیں۔ سلپ کریں پر، لیس اپ سے شروع کرتے ہوئے آج ہم بیليز، ہیلس اور ویجیس بھی بناتے ہیں۔

ایک طرف جہاں شفیق کو آن لائن فٹ ويئر برانڈ تجربہ تھا وہیں سجيت نے آف لائن اسپیس میں کام کرتے ہوئے FGali کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آپ FGali کے جوتے ان اسٹور سے خرید سکتے ہیں یا FGali.com سے آن لائن آرڈر بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اچھی بات یہ ہے کے ہر جوتے کے باکس میں اس ڈيزان کرنے والے آرٹسٹ کی آپ کو پوری کہانی ملے گی۔ سجيت کے مطابق ان کے برانڈ کے ذریعے بہت سے فنکاروں کو اپنے فن کے اظہار کا موقع مل رہا ہے۔ سجيت بتاتے ہیں کی ایک ایسی ہی آرٹسٹ تھی جو زندگی میں ناکامی کی وجہ سے ڈپریشن میں چلی گئی تھی۔ لیکن آج وہ ان کے اہم ڈیزائنرز میں سے ایک ہے اور آرٹ نے ڈپریشن سے نکلنے میں ان کی مدد کی۔

پیشے سے اسٹائلسٹ آکانکشا بھی FGali کی ٹیم میں شامل ہو گئی ہیں اور وہ مصنوعات کی کوالٹی، ڈيزائن اور اپگریڈیشن کام دیکھ رہی ہیں۔ اس سے پہلے وہ فلمی شخصیات کے لئے بطور اسٹائلسٹ کام کر چکی ہیں۔ FGali کی ٹیم میں ارشد بھی ہیں جو اس سے پہلے شاپر اسٹاپ اور سرمئی جیسی کمپنیز کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اپنے دس سال کے تجربے کے ساتھ ارشد ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا کام سنبھالتے ہیں۔

سجيت کہتے ہیں،

'شروع شروع میں ہمیں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خوردہ یا مینوفیکچرنگ بیک گراؤنڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مارکیٹ کو سمجھنے میں کافی وقت لگا۔ صارفین کی پسند اور معیار کو ذہن میں رکھتے ہوئے مصنوعات بنانے پھر انہیں فروخت کرنے کے لئے صحیح مرچنڈائذر کی تلاش اور آخر میں اسے صارف کے ہاتھوں میں پہنچانا، ان سب میں بہت سی دقتیں ہوتی ہیں۔ پرائس اور ڈيذان میں كمپيٹ کرتے ہوئے ایک اچھا كنزيومر بیس بنانا بھی انتہائی مشکل ہے اور یہ بہت جلد ہی ہماری سمجھ میں آ گیا تھا۔ لیکن واجب دام میں اچھی مصنوعات لوگوں تک پہنچانا ہی ہماری يوایس پی ہے اور ہمیں امید ہے کی اچھی کوالٹی اور مائوتھ مارکیٹنگ کے ذریعہ ہم مستقبل میں اپنے برانڈز کے لئے لائل کسٹمر بیس بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ فی الحال فنڈنگ کے لئے ہماری بات چیت چل رہی ہے۔'

ایف گلی کی کلوکنگ ریونیو ریٹ فی الحال 40 لاکھ ہے اور یہ ہر ماہ 15 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ اگر ہندوستانی فٹ ويئر بازار پر نظر ڈالیں تو یہ تقریبا 38700 کروڑ کا ہے اور سالانہ 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ایف گلی کو مستقبل سے کافی امیدیں ہیں۔ ایف گلی کے جوتے نوجوانوں، اسٹائلسٹ، مڈلس، فیشن بلوگرس اور ٹی وی فنکاروں کے درمیان کافی مقبول ہیں۔ FGali اس سے پہلے بوليوڈ کرکٹ لیگ میں لکھنؤ نوابس کے لئے جوتے ڈیزائن کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ بگ باس سیزن 8 اور فیشن شوز میں بھی اپنے جوتوں کی نمائش کر چکا ہے۔ FGali ایک ایسی جگہ ہے جہاں صرف من پسند جوتے نہیں بلکہ ایسے جوتے ملتے ہیں جو صرف آپ کے لئے ہی بنے ہیں اور آپ جب چاہے اسے کسی کو ان کے پسندیدہ ڈیزائن کے ساتھ گفٹ کر سکتے ہیں۔

تحریر شکھا گوئل

ترجمہ -ایف ایم سلیم

Related Stories