ملازمت چھوڑ ڈیئری کی تجارت میں رکھا قدم... راہ تھی مشکل، حوصلہ تھا ہمسفر

0

کچھ لوگ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں۔ سنتوش ڈی سنگھ بھی ان میں سے ایک ہیں۔ جنہوں بنگلورسے پوسٹ گریجویشن کرنے کے بعد ابتدائی دس سال انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت میں کم کیا۔ اس دوران انہونے ڈیل اور امریکہ آن لائن کے لئے کام کیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کافی چلن تھا۔ انھیں کام کے سلسلے میں دنیا گھمنے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے یہ جانا کہ پیسہ کمانے کے لئے اور بھی ذریعے ہیں جں میں سے صنعتکاری بھی ایک ہے- یہیں سے ان کے دل میں خیال آیا ڈیئری صنعت کا۔

اپنے فیصلے کے بارے میں افراد خاندان کو بتانے کے بعد سنتوش کارپوریٹ ورلڈ سے ناطہ توڑ اپنے ارادے کو ٹھوس شکل دینے میں لگ گئے۔ اس دوران انہوں نے پروجیکٹ مینجمنٹ، کاروبار کی سمجھ، تجزیہ، اور وسائل کے انتظام پر توجہ دینا شروع کیا، جو انہوں نے کارپوریٹ ورلڈ میں برسوں کی محنت کے دوران سیکھا تھا۔ سنتوش دیکھا کہ ڈیئری فارمنگ میں استحکام کے ساتھ ساتھ فائدہ بھی ہے۔ یہ ایک ایسا کام تھا جس کے لئے ان کو نہ صرف ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر تھا بلکہ ان کے لئے یہ ایک حوصلہ افزا تجربہ تھا۔

سنتوش کے پاس ڈیئری فارمنگ سے منسلک کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اسلئے انہوں نے قومی ڈیئری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں تربیت کے لئے اپنا اندراج کروا لیا۔ تعلیم کے حصے کے طور پر سنتوش ڈیئری فارمنگ کے رابطے میں آئے۔ کئی تجربے حاصل کئے۔ اس دوران انہوں نےگائے پالن سیکھا۔ یھاں انہونے احساس ہوا کہ وہ اس کام کو طویل وقت تک کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کو یہ کاروبار بڑا دلچسپ لگا ۔

تقریبا تین سال پہلے سنتوش نے اپنے کام کی شروعات کی۔ شروع میں انہوں نے اپنی تین ایکڑ زمین میں تین گائیں پالی۔ اس دوران انہوں نے دودھ کی پیداوار کا کام شروع کیا ساتھ ہی گائیوں کی دیکھ بھال، انہیں نهلانا، دودھ نکالنا اور صفائی کا کام خود ہی کیا۔ اگرچہ شروع میں انہوں نے 20 گائیوں سے اپنا کام شروع کرنے کا من بنایا تھا اور اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا تھا، لیکن این ڈی آرآئی کے ایک ٹرینرنے، جن سے سنتوش نے تربیت حاصل کی تھی، ان کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے میں تکنیکی مدد کے لئے نا بارڈ سے معلومات حاصل کریں۔ سنتوش نے جب نابارڈ میں اس سلسلے میں بات چیت کی تو ان کو پتہ چلا کہ وسائل کے صحیح استعمال سے انہیں فائدہ ہو سکتا ہے- کام کو وسعتدیتے ہوئے مویشیوں کی تعداد 100 تک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ہر روز ڈیڑھ ہزار لیٹر دودھ ملے گا اور ایک اندازے کے مطابق ان کا سالانہ کاروبار 1 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

گزشتہ 5 سالوں کے دوران دودھ کی مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں ہیں اوراس کاروبار میں مارجن بہت اچھا ہے۔ سنتوش کا اعتماد اس وقت اور بڑھا جب نابارڈ نے ان ڈیئری فارمنگ کے لئے سلورمیڈل سے نوازا۔ جس کے بعد اسٹیٹ بینک آف میسور ان کے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہو گیا۔ اس سرمایہ کاری سے ان کے کام میں تیزی آ گئی اور انہوں نے 100 گائیوں کو رکھنے کے لئے بنیادی ڈھانچے پر کام کرنا شروع کر دیا۔

گزشتہ 18 مہینوں سے بے موسم بارش ہو رہی تھی اس کی وجہ سے ارد گرد کے علاقے میں فصلیں خراب ہو گئیں تھیں۔ اس سبز چارے کی قیمت دس گنا بڑھ گئی۔ روزمرہ پیداوار بھی گرنے لگی۔

حالات اتنے خراب ہو گئے کہ ان کو اپنی بچت کا پیسہ بھی اس کام میں لگانا پڑا- اسکے باوجود انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس دوران انہوں نے ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدامات ڈھونڈنے شروع کر دیے۔ جس کے بعد انہوں نے فیصلہ لیا کہ ان هائڈروپھونكس کے ذریعے سبز چارہ اگانا چاہئے۔ جسکے لئے اخراجات بھی پیشہ ورانہ طور پر کم لگتے ہیں۔ اب جب اس سال بارش بھی اچھی ہوئی ہے ایسے میں سنتوش دودھ کی پیداوار بڑھانے کے قابل ہو گئے ہیں۔ سنتوش اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لئے اور پیسہ لگانا چاہتے ہیں اس کے لئے انہوں نے بینک کے علاوہ دوسرے متبادل ڈھونڈنے شروع کر دیے ہیں تاکہ اس کام کو اورآگےبڑھایا جا سکیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem