ایک ڈرائیور کے انجینئر بیٹے عزیز الرحمن نے سنبھالا غریب بچوں کو مفت تعلیم دینے کا محاذ

0

معاشی بدحالی کے رہتے جو لڑکا  اپنی ابتدائی تعلیم مشکل سے  جاری رکھ سکا وہ آج انجینئر نگ  تک پہنچ چکا ہے- لیکن ان مشکلات نے اسے وہ سکھا دیا، جو  بڑی بڑی سے بڑی دولت خرچ کر کے سیکھا نہِیں جا سکتا۔ اس نے اپنی ہی طرح کے لوگوں کا حال جانا، ان کی مجبوری سمجھی، آج وہ اپنے ساتھی طلباء کا تعلیمی نقصان نہ ہو اسی لئے انہیں پڑھانے کا کام شروع کیا - یہ تعلیمی سلسلہ مسلسل چلتا رہا- اب وہ سیکڑوں اسکولی بچوں کو مفت تعلیم دے رہا ہے -

ان کا ایک سنگھٹن ہے جس کا نام ہے جگیا سا ایجوکیشن ٹرسٹ۔ اس کی مدد سے عزیز الرحمن اپنا محاذ سنبھالے ہوئے ہیں- وہ  بہار کے گیا ضلع کے حمزہ پور گاوں کے رہنے والے ہیں - ان کے والد ایک ڈرائیور ہیں- رحمن بچپن سے ہی تعلیمی لحاظ سے کافی ذہین تھے - جب وہ نویں دسویں جماعت کے طالب علم تھے ان کا تعلیمی رزلٹ بہترین ہوا کرنا تھا،  جس کی بناء پر ان کے والد اور ان کے بھائی نے سوچا کہ انہیں اعلی تعلیم دی جائے تب انہیں پٹنہ روانہ کیا گیا -

بارہویں جماعت کے بعد ان کا انتخاب انجینئرنگ کےلیے پونہ کے ایم آئی ٹی کالج میں ہوگیا - پونہ آنے کے بعد جب عزیز الرحمن اپنی انجینئرنگ کی پڑھائی کررہے تھے ، تب انہوں نے دیکھا کہ کوئی بھی ساتھی طالب علم اگر کسی مضمون میں کمزور رہ جاتا ہے تو اس کا پورا سال خراب ہوجاتا ہے - رحمن کو ریاضی مضمون پر عبوریت حاصل تھی اسی لیے انہوں نےریاضی میں کمزوراپنے ساتھی طلباء کو   پڑھانا شروع کیا - فرسٹ ایئر سے سیکنڈ ایئر تک کام چلتا رہا -

وقت کے ساتھ ساتھ عزیز الرحمن کو احساس ہوا کہ وہ ا چھا پڑھا سکتے ہیں -یہی بات کالج کے مینجمنٹ کو معلوم ہوئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کالج میں بھی انجینئرنگ کے طلباء کو پڑھانے کی اجازت مل گئی - نہوں نے خود کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسرے طلباء کو بھی ریاضی پڑھانا شروع کیا - دھیرے دھیرے انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے اس کام کو وسعت دی جائے اور اسکول میں پڑھنے والے بچوں کو بھی تعلیم دی  جو بچے غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں - کیوں کہ  وہ معاشی بدحالی سے واقف تھے- انہیں اس بات کا علم تھا کہ کیسے حالات سے ایک غریب ہونہار طالب علم متاثر ہوتا ہے - اسی لئے انہوں نے غریب طلباء کو پڑھانے کا فیصلہ کیا -

رحمن کہتے ہیں ،

'' سارے غریب بچے میری طرح خوش قسمت نہیں ہوتے کیوں کہ اگر مجھے والد اور بھائیوں کی رہنمائی نہ ملی ہوتی تو میں بھی کچھ کر نہیں پاتا-''

  رحمٰن اس کے لئے  خود سرکاری اسکول گیے وہاں پرنسپل سے سب بچوں کو مفت میں تعلیم دینے کی خواہش ظاہر کی انہیں اجازت بھی مل گئی  انہوں نے اس کام کےلیے کئی طلباء کو شریک کیا جنہیں وہ پہلے پڑھا چکے تھے - عزیز الرحمن نے دوہزار چودہ میں جگیاسا ایجوکیشن ٹرسٹ کی بنیاد رکھی - ٹرسٹ کا مقصد غریب اور سلم ائیریا سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا - تاکہ وہ بچے بھی دوسرے بچوں کی طرح ڈاکٹر  وانجینئر بن سکے- شروع میں انہوں نے پونہ سے پچیس کلو میٹر دور آلندی گاوں کے دو اسکول اور کلیان گاوں کے ایک اسکول کو اس کےلیے منتخب کیا -

وہاں پروہ اور ان کے ٹیم ممبرز ریاضی ، انگریزی ، کمپیوٹر پڑھایا کرتے- یہ بچے پرائمری اسکولوں جماعت اول تا ہشتم سے تعلق رکھتے تھے - سنچر اتوار ان کو پڑھانے کا وقت طے تھا - وہ کتابیں ، بیاضیں بچوں کو خود کی طرف سے مہیا کردیتے تھے - دھیرے دھیرے سبھی لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ رحمن جگیاسا ٹرسٹ چلارہے ہیں - وہ اپنے کام کو وسعت دینا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نےاڑتالیس لوگوں کو اس کام کےلیے تیار کیا اور انہیں ٹریننگ بھی دی -اسی طرح ایم آئی ٹی کے کچھ نئے طلباء بھی ان کے ساتھ شریک ہوئے - جگیاسا ایجوکیشن ٹرسٹ کے ساتھ دوسرے کالجوں سے بیانوے طلباء شریک ہوئے - جو انجینئرنگ شعبے سے تعلق رکھتے تھے - جگیاسا ایجوکیشن ٹرسٹ غریب یتیم و یسیر بچوں ، اپاہج بچوں کو تعلیم دینے کا کام انجم دیتا ہے -

رحمن کی خواہش ہے کہ یہ ٹرسٹ پونے کے علاوہ بھی اور علاقوں میں کام کرے- پڑھائی کے دوران وہ بات کا خیال رکھتے ہیں کہ طلباء کو پڑھائی کے دوران آنے والی مشکلات کو حل کرسکے - جو سلم ائیریا کے بچے اسکول نہیں جاتے ان کا اسکول میں داخلہ کرواتے ہیں -ان کی ٹیم ہفتہ میں کسی ایک دن اپاہج ودیگر بچوں کو پڑھانے کا کام کرتی ہے-

 پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ان کی مہارتوں میں بھی نکھار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ طلبہ کے درمیان گروپ ڈسکشن ڈیبیٹ جزل نالج کے ساتھ ساتھ کھیل کی معلومات بھی فراہم کرتے ہیں رحمن کا گروپ ان بچوں کےلیے وقت وقت پر ایک ورکشاپ بھی منعقد کرتے ہیں -

 رحمٰن کے اس کام میں ان کے کالج کے ساتھ ساتھ تین گرلز کالیجیز بھی شامل ہوگئے ہیں - رحمن چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مشن کا حصہ بنے کیوں کہ ایک اکیلا انسان کچھ نہیں کرسکتا - رحمن یہ سارا کام خود اپنے خرچ سے کرتے ہیں یا سال بھر میں کچھ ممبران کا ڈونیشن ملتا ہے جو جگیاسا ایجوکیشن کے ٹرسٹی ہیں - وہ ہر ممبر سالانہ ہزار روپیہ ڈونیٹ کرتا ہے -اور کچھ پچیس لوگ جو اس کام میں شامل ہیں ان کی بھی امداد شامل ہیں - زائد کچھ روپیہ رحمن جو کوچنگ لیتے ہیں اس میں سے بھی خرچ کرتے ہیں - عزیز الرحمن کا اپنے مستقبل کے بارے میں خیال ہے کہ وہ انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ اس کام کو بھی مکمل کرے اور انہیں مقصد میں کامیابی حاصل ہو- جگیاسا کی بدولت ہر بچے کو علمی فائدہ حاصل ہو۔

تحریر: گیتا بشٹ

مترجم : ہاجرہ نور زریابؔ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مولانا جہانگیرعالم قاسمی کاادارہ...جدوجہد کااستعارہ

معصوم بٹیا کے ساتھ رات کو گشت کرنے والی خاتون پولیس افسر کی کہانی

خواتین اور معذور بچوں کی جہدکار عائشہ روبینہ