'سلم کرکٹ لیگ' سے پورا ہوتا دہلی کے غریب بچوں کا خواب

0

دہلی کی جھگیوں میں رہنے والے غریب بچوں کو نشے اور جرم کے راستے پر چلنےسے روکنے کے مقصد سے شروع ہوئی لیگ ---


ہندوستان میں کرکٹ کو مذہب کا درجہ حاصل ہے اور ہر کوئی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے- لیکن اس کھیل میں استعمال ہونے والے مہنگے سامان کی وجہ سے صحیح طریقے سے کرکٹ کھیلنا غریبوں کے لئے ایک خواب ہی رہتا ہے- دہلی کی سلم علاقوں میں رہنے والے بچوں کے اس خواب کو 'سلم کرکٹ لیگ' کی شکل میں بی مکمل کیا جا رہا ہے-

دہلی کے آر كےپورم میں مقیم بی ایس پُنڑیر اکثر سلم علاقوں کی بستيوں میں رہنے والے غریب بچوں کو ادھر ادھر کرکٹ کھیلتے دیکھا کرتے تھے- ان بچوں میں کھیلنے کا جوش تھا، لیکن ان کے پاس کھیلنے کی سہولیات نہیں تھیں- ان کے پاس نہ تو ڈھنگ کا بلا ہوتا تھا اور نہ ہی صحیح گیند-حالانکہ ان میں سے بہت سے بچے اچھا کرکٹ کھیلتے تھے- ان کو دیکھ کر پُنڑیر کے ذہن میں خیال آیا کی ان بچوں کے لئے کچھ کیا جائے- غیر سرکاری تنظیم سي اف سی ٹی انڈیا کے صدر بی ایس پُنڑیر نے ایک دن اپنے بیٹے راجیش پُنڑیر سے ان بچوں کو صحیح طرح سے کرکٹ کھیلنے کھلانے کے بارے میں بات چیت کی- راجیش نے بتایا کہ پہلے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ان بچوں کو کرکٹ کٹ ( kit)دے دی جائے- پھر اس سلسلے میں کچھ اور لوگوں سے بات چیت کی گئی جس میں دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈي ڈي سي اے) کے امپائرایم پی نارنگ بھی شامل تھے-غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ صرف کرکٹ کٹ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا- ان بچوں کے لئے ہمیں منظم طور پر کرکٹ کھیلنے کا انتظام کرنا پڑے گا- اس طرح 'سلم کرکٹ لیگ' کی سوچ نے جنم لیا -

راجیش نے بتايا- "سب سے پہلے ہم نے جنوبی دہلی میں موجود سلم علاقوں کا رخ کیا وہاں رہنے والے بچوں اور ان کے والدین کو اپنی بات بتائی- اس کے بعد بچے ہم سے جڑتے چلے گئے- سب سے پہلے ہم نے جنوبی دہلی کے دس جھگیوں میں رہنے والے 120 بچوں کی دس ٹیم بنائیں اور اکتوبر کے وسط میں پہلی 'سلم کرکٹ لیگ' کرائی- اس لیگ میں کھیلنے والے بچے پہلے کبھی مکمل کٹ کے ساتھ اور بڑے میدان میں نہیں کھیلے تھے- سر پر ہیلمیٹ، پیروں پر پیڈ اور ہاتھوں میں گلوس پہن کر ہر بچہ کسی بڑے کریکٹر کی طرح ہی میدان میں اترا- 14 سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے منعقد ہوئی اس لیگ میں کسم پور پہاڑی سلم کی ٹیم موگلی الیون نے مکی ماؤس الیون کو شکست دے کر پہلا مقام حاصل کیا- بچوں کو مین آف دی میچ، بہترین گیند باز اور بلے بازوں کو بھی ایوارڈ دیا گیا- ایم پی نارنگ اس ٹورنامنٹ کے ڈائریکٹر ہیں- آئندہ دسمبر میں شمالی دہلی کی جھگیوں میں رہنے والے بچوں کی لیگ منعقد کرائی جائے گی- اس کے بعد مغرب، مشرق اور وسطی دہلی کے غریب بچوں کی لیگ کرائی جائے گی-

راجیش کے مطابق 'سلم کرکٹ لیگ' کا مقصد جھگیوں میں رہنے والے بچوں کو ایک امید بھری اور بہتر زندگی کا راستہ دکھانا ہے، تاکہ وہ نشے اور جرم کے راستے سے بچ سکیں اور اپنی زندگی کی قیمت کو سمجھ سکیں- بچوں کے ماہرین نفسیات کے مطابق جھگیوں اور بستیوں میں رہنے والے غریب بچے اکثر نشے اور جرم کے راستے پر چل پڑتے ہیں- ایسی صورت میں ان میں خود اعتمادی کی بھی کمی ہو جاتی ہے- اس طرح کے انعقاد کا حصہ بننے سے وہ کچھ بہتر کرنے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں اور انہیں ایک روشن مستقبل نظر آنے لگتا ہے-

اس کے علاوہ جن بچوں نے ان ٹورنامنٹ میں اچھا کھیلا ان کو ہم اپنی 'سلم کرکٹ اکیڈمی' میں لے کر مفت کوچنگ دیں گے- تاکہ وہ اس کھیل میں اپنا کیریئر بنا سکیں- ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اکیڈمی سے کچھ بچے قومی یا بین الاقوامی سطح پر کھیلیں اور اپنی طرح دیگر بچوں کے لئے ایک مثال قائم کریں - لیگ کے دوران بچوں نے بتایا کہ یہاں کھیلنے کے بعد ان کی سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور ان کی سوچ مثبت ہو گئی ہے- ایک بچے نے بتایا کہ وہ اب زندگی میں کچھ بڑا کرنےکی سوچ سکتا ہے اور اسے لگتا ہے معاشرہ اس کے جیسے بچوں کی پرواہ کرتا ہے جبکہ پہلے اسے لگتا تھا غریب بچوں کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے-