کالج ڈراپ آؤٹ ششانک نے لکھی کامیابی کی نئی کہانی

0

بل گیٹس، سٹیو جابس، مارک زوکربرگ یہ وہ تین شخصیتیں ہیں جو آج دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ شاید ہی کوئی ملک ہو گا، جہاں ان کے نام کی چرچے نہ ہوتے ہون۔ ان تینوں کمپنیوں کے پروڈکٹ اور ان کی ایجاد دنیابھر میں مشہور ہیں۔ ان تینوں نے اپنی زندگی میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ کامیابیاں موجودہ دور کی سب سے بڑی کامیابیوں کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان تینوں کی کامیابی کی کہانی بے مثال ہے۔ ان تینوں کی گنتی دنیا کے سب سے امیر، اور بااثر لوگوں میں ہوتی ہے۔ اتنا ہی نہیں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے مقصد سے ان تینوں کی جدوجہد کی داستاں سنائی-سمجھائی جاتی ہیں۔

ان تینوں میں بہت سے مماثلت ہے، لیکن ایک بڑی اور لوگوں کو حیرت مین ڈالنے والی بات یہ ہے کہ یہ تینوں "کالج ڈراپ آؤٹ" ہیں۔ یعنی ان تینوں نے تعلیم درمیان میں چھوڑ دی اور اپنے اپنے خواب کو پورا کرنے میں پوری طاقت لگا دی ۔

بل گیٹس نے ہارورڈ کو درمیان میں چھوڑ دیا اور آگے چل کر "مائیکروسافٹ" کی شروعات کی۔ سٹیو جابس نے ریڈ کالج کو درمیان میں الوداع کہہ دیا اور "ایپل" قائم کی۔ مارک نے بھی کالج کی تعلیم درمیان میں ہی روکی اور آگے چل کر دنیا کو "فیس بک" دیا۔ "مائیکروسافٹ"، "ایپل" اور "فیس بک" ۔۔۔ یہ وہ نام ہیں جو دنیا کے ہر کونے میں ہر دن بولے سنے اور استعمال کیے جاتے ہیں۔

اگرچہ بل گیٹس، سٹیو جابس اور مارک زوکر برگ "کالج ڈراپ آؤٹ" ہونے کے بعد بھی انتہائی کامیاب ہوئے اور عظیم بنے، لیکن ہندوستان میں "کالج ڈراپ آؤٹ" کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ والدین ہی نہیں بلکہ رشتہ دار، دوست اور دوسرے بھی یہ ماننے لگتے ہیں کہ "کالج ڈراپ آؤٹ" ہونے کا مطلب ترقی اور کامیابی کی راہ سے ہٹ جانا ہے۔ بہت سے لوگوں کی نظر میں اسکول یا پھر کالج کی تعلیم کو درمیان میں ہی چھوڑنے کا مطلب اعتراف شکست ہے۔

لیکن، اب ہندوستان میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ "کالج ڈراپ آؤٹ" کی جانب کامیابی کی نئی نئی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں۔ اسکول اور کالج کی تعلیم کو درمیان میں ہی چھوڑ کر بہت سے نوجوان اپنے خوابوں ک پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ کھیل کود، سائنس ٹیکنالوجی، صنعت، کاروبار، تحقیق، ایجاد اور تلاش جیسے شعبوں میں بے مثال کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ "کالج ڈراپ آؤٹ" بھی اپنے نئے نئے تجربات، ایجادات، کامیابیوں سے نئی مثال قایم کر رہے ہیں۔ انہی کامیاب "کالج ڈراپ آؤٹ" میں ایک ہیں مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے ششانک چورے۔

ششانک چورے نے بھی کامیابی کی اپنی منفرد کہانی لکھی ہے۔ ایک عام متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے ششانک نے اپنی صلاحیت کے بنیادر پر خواب دیکھے اور خواب کوپورا کرنے اگے قدم بڈھایا۔ راہ مشکل تھی، لیکن حوصلے بلند تھے۔ ششانک نے کامیابی حاصل کرتے ہوے دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان بنا لی۔ ششانک چورے کی گنتی اب دنیا کے سب سے زیادہ کامیاب، قابل اور مشہور ہیكرس میں ہوتی ہے۔ کچھ لوگ انہیں "کروڈپتی ہیکر" کے نام سے بلاتے ہیں۔

ایک عام بچے سے مشہور کمپیوٹر ایکسپرٹ اور ہیکر بننے کی ششانک کی کہانی دلچسپ بھی ہے۔

13 سال کی عمر میں ششانک کا تعارف کمپیوٹر سے ہوا۔ تعارف بھی ایسا ہوا کہ یہ رشتہ زندگی بھر کا ہو گیا۔ پہلے تعارف سے ہی ششانک نے کمپیوٹر میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ دلچسپی ھر روذ بڑھتی چلی گئی۔ کچھ ہی دنوں میں ششانک کے لئے کمپیوٹر ہی سب کچھ ہو کر رہ گیا۔

کمپیوٹر ششانک کا سب سے زیادہ عزیز دوست بن گیا۔ بچپن سے ہی ششانک نے گھنٹوں کمپیوٹر پرسرچ شروع کر دی تھی ۔ ششانک گھنٹوں کمپیوٹر پر کھیل کھیلنے لگا۔ حالا ت ایسے بنے کہ کمپیوٹر سے نظر ہی نہیں ہٹتی تھی۔

کمپیوٹر میں ششانک کی دلچسپی کو دیکھ کر ان کے والدین بھی حیران تھے۔ کمپیوٹر پر کام کرتے کرتے ششانک بہت کچھ سیکھنے لگے۔ پہلے کمپیوٹر سے دوستی کی۔ پھر اس کو اچھی طرح سمجھا پرکھا۔ آگے چل کر کمپیوٹر کی باریکیاں جانی۔ اور پھر اسی ترتیب میں ششانک کو کوڈنگ کا چسکا لگ گیا۔ ششانک نے ہیکنگ کے بارے میں سیکھنا-سمجھنا شروع کیا۔ اور آہستہ آہستہ ان کے لئے ہیکنگ ہی سب سے زیادہ محبوب موضوع اور مشغلہ بن گیا۔ چند ماہ میں ششانک کے لئے ہیکنگ نیا شوق تھا۔ آپ اسی نئے شوق کی وجہ سے انہوں نے كركپال ڈاٹ کام نامی ایک ویب سائٹ کے لئے کام کرنا شروع کیا۔ یہاں سے انہیں ایک ای میل اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کے لئے پچاس ڈالر ملتے۔

اسی دوران ششانک نے کمپیوٹر وائرس کے بارے میں جاننا-سمجھنا شروع کیا۔ دن رات کی محنت سے ششانک نے وائرس کو ڈھونڈنے، پہچانے اور اسے دور کرنے میں مہارت حاصل کر لی ۔ ششانک کے الگورتھم بنانے بھی شروع کئے۔ ایک کے بعد ایک الگورتھم تحریر کی۔

ششانک کی صلاحیت کے بارے میں اندور شہر کی پولیس نے معلومات حاصل کی اور ان کی خدمات ثے استیفادہ کیا ۔ ششانک نے تقریبا دو سال تک اندور پولیس ایکسپرٹ کے طور پر لوگوں کو اپنی خدمات دیں گے ، انہوں نے بطور سائبر سیکورٹی کنسلٹینٹ کام کیا۔ اگرچہ محنت زیادہ تھی اور آمدنی کم، پھر بھی انہوں نے پوری وفاداری سے کام کیا۔

انجینئرنگ کالج میں داخلہ لینے کے بعد بھی ششانک نے اایتھکل ہیکنگ کا کام جاری رکھا۔

انجینئرنگ کالج میں تعلیم کے دوران ششانک میں بہت تبدیلی آئی۔ آہستہ آہستہ تعلیم سے ان کی دلچسپی ختم ہونے لگی۔ کورس بیکار اور بورنگ لگنے لگے۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ماہر کمپیوٹر کے طور پر ہی خدمات انجام دیں گے اوراپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔

سیکنڈ ایئر میں انہوں نے انجینئرنگ کالج چھوڑ دیا۔ اپنے فیصلے کے مطابق کمپیوٹر ایکسپرٹ کے طور پر اپنی شناخت بنانے کے لئے مواقع کی تلاش شروع کر دی۔ انہوں نے اس وقت اندور شہر کی سب سے جانی مانی کمپنی کے منتظمین کو متاثر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ششانک نے اندور کی سب سے نامورسافٹ ویئر کمپنی میں ویب سیکورٹی کنسلٹینٹ کے طور پر ملازمت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہاں ششانک نے کمپنی کے کلائنٹس کی ویب سائٹ کو ہیک کیا۔ ان ویب سائٹس کی حفاظت سے متعلق خامیوں کے بارے میں آپنی کمپنی کو بتایا اور بزنس کو بڑھانے کے لئے نئے نئے تجاویز پیش کی۔

تقریبا ڈیڑھ سال تک ششانک نے اسی کمپنی میں کام کیا۔ اس دوران صلا حیت اور کامیابی کی وجہ سے انہیں نوکری میں تین بار ترقی بھی ملی۔

ایک دوسری کمپنی نے بڑی تنخواھ دینے کی پیشکش کی تو ششانک نے یہ ملازمت چھوڑ دی۔ نئی جگہ 45 دن کام کرنے کے بعد پھر اچانک ششانک نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی دوسرے کے یہاں تنخواہ پر کام نہیں کریں گے۔ بلکہ آپنی کمپنی شروع کریں گے۔ اس کمپنی نے ششانک سے کئے گے وعدے بھی پورے نہیں کئے تھے۔

23 فروری 2009 کو ششانک نے نوکری چھوڑ دی۔ جب وہ استعفی دے کر دفتر سے باہر نکلے تو ان کے پاس کوئی ڈگری نہیں تھی اور نہ ہی ایک بڑی رقم تھی، جس سے اپنی کمپنی شروع کر سکیں۔ جیب میں صرف 5000 روپے تھے۔

ششانک نے گھر لوٹ کر انٹرنیٹ کا سہارا لیا۔ آن لائن کام تلاش کیا۔ کام بھی ملا اور کمائی بھی شروع ہوگی۔ روذ بہ روذ کمائی میں اضافہ ہونے لگا۔ اور اسی طرح روپے جمع ہو گئے جس سے کمپنی کی شروعات کی جا سکتی تھی ۔

اکتوبر، 2009 میں ششانک نے ایک چھوٹی ٹیم کے ساتھ "انڈیا انفو ٹیک" کے نام سے ایک کمپنی قایم کی۔۔

کمپنی نے کام بھی شروع کیا۔ جیسے جیسے کام آگے بڑھتا گیا ششانک کو احساس ہوا کہ کمپنی کو بڑے پیمانے پر توسیع کرنے \کے لئے پیداوار کے شعبہ میں قدم ڈالنا ضروری ہے۔ کم سرمایہ کے ساتھ پیداوار کے میدان میں اترنا مشکل تھا، لیکن ششانک نے خدمات کو ہی مصنوعات کی طرح فروخت کرنے کی ترکیب اپنائی۔ ششانک کی کمپنی جلد ہی ایک اسپشلایڈ ای کامرس ویب سایٹ ڈیولپمنٹ کمپنی میں تبدیل ہو گئی۔

ششانک نے اپنی کمپنی کے ذریعہ سرچ انجن اپٹمایزیشن سروس یعنی SEO کی خدمات فراہم کرنا شروع کیا۔ ان خدمات کی وجہ سے انہیں دنیا بھر سے کلائنٹ ملنے لگے۔ لوگ ششانک اور ان کی کمپنی سے بہت متاثر ہوئے۔ اکتوبر، 2009 میں شروع ہوئی کمپنی کے لئے فروری، 2014 میں 10،000 پروجیکٹس حاصل ہوے ۔کمپنی سالانہ 5 کروڑ روپے کمانے لگی۔

ششانک نے اپنی کمپنی کے ذریعہ پانچ سال میں 5 ہزار سے 5 کروڑ روپے کا سفر طے کیا تھا۔ ایک کالج ڈراپ اوٹ کا یہ سفر کامیابی کی مثال بن گیا۔

کمپنی خوب چل رہی ہے۔ دنیا بھر سے کام مل رہا ہے۔ کاروبار بھی خوب ہو رہا ہے۔ لوگوں کی نظر میں ششانک "رول ماڈل" بھی بن گئے ہیں۔ وہ لوگوں کے لئے تحریک کا ذریعہ بھی بنے۔ ان سب کے باوجود ششانک نے اپنا من پسند کام کرنا نہیں چھوڑا ہے۔ وہ اب بھی ہیکنگ اور کمپیوٹر سیکیورٹی پر کام کرتے ہی رہتے ہیں۔