مصنوعی ٹانگوں سے ایورسٹ فتح۔۔۔ارونما کے حوصلے کو سلام!

0

ہندوستان کی حکومت نے 66 ویں یوم جمہوریہ پرجن لوگوں کے ناموں کا اعلان پدم ایوارڈز کے لئے کیا، ان میں ایک نام ارونما سنہا کا بھی ہے۔ اتر پردیش کی ارونماسنہا کو ‘پدم شری' کے لئے منتخب کیا گیا۔ پدم شری' حکومت کی طرف سے دیا جانے والا چوتھا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ بھارت رتن، پدم وبھوش اور پدم بھوشن کے بعد پدم شری ہی سب سے بڑا اعزاز ہے کسی بھی علاقے میں غیر معمولی اورمخصوص خدمات کے لئے پدم انعام دئے جاتے ہیں۔ کھیل کود کے میدان میں غیرمعمولی اور مخصوص خدمات کے لئےارونماسنہا کو 'پدم شری' دینے کا اعلان کیا گیا۔ ارونماسنہا دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی ایورسٹ فتح کرنے والی دنیا کی پہلی معذورخاتون ہیں۔ 21 مئی، 2013 کی صبح دس بجکر پچپن منت پر ارونمانے ماؤنٹ ایورسٹ پرترنگا لہراكر 26 سال کی عمرمیں دنیا کی پہلی معذور کوہ پیما بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

کھیل کود کے میدان میں جس طرح ارونماکی کامیابی غیرمعمولی ہے اسی طرح ان کی زندگی بھی غیر معمولی ہی ہے۔ انھیں کچھ بدمعاشوں نے چلتی ٹرین سے باہر پھینک دیا تھا۔ ان بدمعاشوں کو اپنا زورچھیننے نہیں دینے کے پاداش میں بے رحموں نے انہں چلتی ٹرین سے باہر پھینک دیا۔ اس حادثے میں بری طرح زخمی ارونماکی جان توبچ گئی تھی، لیکن انہیں زندہ رکھنے لے لئے ڈاکٹروں کو ان کی بائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ اپنا ایک پاؤں گنوا دینے کے باوجود قومی سطح پروالی بال کھیلنے والی ارونمانے ہار نہیں مانی اورہمیشہ اپنا جوش بنائے رکھا۔ کرکٹر یوراج سنگھ اور ملک کے سب سے نوجوان کوہ پیما ارجن واجپئی کے بارے میں پڑھ کرارونمانے تحریک حاصل کی۔ پھرماؤنٹ ایورسٹ پر فتح حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بچھںدرپال سے مدد اور تربیت لے کر ایورسٹ فتح کیا۔

ارونمانے ایورسٹ پر فتح کرنے سے پہلے زندگی میں بہت اتار چڑھاو دیکھے۔ بہت مشکلات کا سامنا کیا۔ کئی بار توہین سہی۔ بدمعاشوں اور شرارتی عناصر کے گندے اور بھدے الزام سہے۔ موت سے بھی جدوجہد کی۔ مخالف حالات کا سامنا کیا، لیکن کبھی ہار نہیں مانی۔ کمزوری کو بھی اپنی طاقت بنایا۔ مضبوط ارادے، محنت، جدوجہد اور ہار نہ ماننے والےجذبے سے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ دنیا کی سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر ارونمانے ثابت کیا کہ حوصلے بلند ہو تو اونچائی معنی نہیں رکھتی، انسان اپنے عزم، ہوشیاری اور محنت سے بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ ارونماسنہا آپ جدوجہد اورکامیابی کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگوں کے لئے مثال بن گئی۔

ارونماکی زندگی کے بہت سے واقعات کسی عام عورت یا لڑکی کی زندگی کی طرح نہیں ۔ بہادری کی حیرت انگیزمثال پیش کرنے والی ارونماکےخاندان کے تعلّق بہار سے ہے۔ ان کے والد ہندوستانی فوج میں تھے ان کے تبادلے ہوتے رہتے تھے۔ منتقلی کے سلسلے میں انہں اترپردیش کے سلطان پور آنا پڑا تھا۔ سلطان پور میں ارونماکے خاندان پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ارونماکے والد کا انتقال ہو گیا۔ ہنستے کھیلتے خاندان میں ماتم چھا گیا۔

والد کی موت کے وقت ارونماکی عمربہت چھوٹی تھی۔ بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کی ساری ذمہ داری ماں پر آن پڑی۔ ماں نے مشکلوں سے بھرے اس دور میں ہمت نہیں ہاری ۔ اپنے تینوں بچچو- اروںما، اس کی بڑی بہن لکشمی اور چھوٹے بھائی کو لے کر سلطان پور سے امبیڈكرنگر آ گئیں۔ اامبیڈكرنگر میں ماں کو شعبہ صحت میں ملازمت مل گئی، جس کی وجہ سے بچوں کی پرورش ٹھیک طرح سے ہونے لگی۔ بہن اور بھائی کے ساتھ ارونمابھی اسکول جانے لگی۔ اسکول میں ارونماکا دل پڑھائی میں کم اور کھیل کود میں زیادہ لگتا۔ کھیل کود میں اس کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ وہ چیمپئن بننے کا خواب دیکھنے لگی۔

جان پہچان کے لوگوں نے ارونماکے کھیل کود پر اعتراض کیا، لیکن ماں اور بڑی بہن نے ارونماکو اپنی خواہش کے مطابق کام کرنے دیا۔ ارونماکو فٹ بال، والی بال اور ہاکی کھیلنے میں زیادہ دلچسپی تھی۔ جب کبھی موقع ملتا وہ میدان چلی جاتی اور خوب کھیلتی۔اس کا اس طرح میدان میں کھیلنا آس پڑوس کے کچھ لڑکوں کواچھا نہیں لگتا۔ طرح طرح کے طنزکئے جا تے۔ ارونماکو چھیڑنے کی کوشش کرتے،لیکن ارونماشروع سے ہی تیز تھی اور ماں کے لاڈ پیار نے اسے کچھ حد تک باغی بنا دیا تھا۔ وہ لڑکوں کو اپنی من مانی کرنے نہیں دیتی۔ چھیڑ چھاڑ کی کوشش پر ایسے تیوردکھاتی جس سے ڈرکرلڑکے بھاگ جاتے۔ ایک بار تو ارونمانے اس کی بہن سے بدتمیزی کرنے والے ایک شخص کوبیچ بازار میں پیٹ دیا تھا۔

ہوا یوں تھا کہ ارونمااپنی بڑی بہن کے ساتھ سائیکل پر کہیں جا رہی۔ ایک جگہ رک کر بڑی بہن کسی سے بات کرنے لگیں۔ ارونماتھوڑا آگے نکل گئی اور وہیں رک کر اپنی بہن کا انتظار کرنے لگی۔ اسی درمیان سائیکل پرسوار کچھ لڑکے وہاں سے گزرے۔ لڑکوں نے ارونماسے ان کے لئے راستہ چھوڑنے کو کہا۔ ارونمانے ان لڑکوں سے آگے خالی جگہ سے نکل جانے کو کہا اور اسی جگہ پر کھڑی رہی۔ ناراض لڑکوں سے بحث شروع ہوئی اور اسی درمیان بڑی بہن وہاں آ گئی۔ طیش میں آئے ایک لڑکے نے ہاتھ اٹھا دیا اور ارونماکی بہن کی گال پر چانٹا مارا۔ اس بات سے ارونماکو بہت غصہ آيا اور اس نے اس لڑکے کو پکڑ کر پیٹنا چاہا، لیکن بھیڑ کا فائدہ اٹھا کروہ لڑکے اور اس کے ساتھی فرار ہو گئے۔ ارونمانے ٹھان لیا کہ وہ اس لڑکے کو نہیں چھوڑے گی۔ دونوں بہنیں اس لڑکے کی تلاش میں نکل پڑیں۔ آخر وہ لڑکا انہیں پان کی ایک دوکان پر مل گیا۔ ارونمانے اس لڑکے کو پکڑ کرجم کر دھونا۔ اس پرخوب ہنگامہ مچا۔ بہت سے لوگوں نے لڑکے کو چھڑانے کی بہت کوشش کی، لیکن ارونمانہیں مانی۔ لڑکے کے ماں باپ نے جب آکر اپنے لڑکے کی کرتوت پر معافی مانگی، تب جاکر ارونمانے لڑکے کو چھوڑا۔ اس واقعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ محلے میں لڑکوں نے لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی بند کر دی۔ ارونماکی بہادری کے چرچے اب محلے بھر میں ہونے لگے۔

دن گزرتے گئے۔ ارونمانے اس دوران کئی مقابلوں میں حصہ لیا اور اپنی قابلیت سے لوگوں کومتاثرکیا۔ اس نے خوب والی بال، فٹ بال کھیلا، کئی ایوارڈ بھی جیتے۔ قومی سطح کے مقابلوں میں بھی کھیلنے کا موقع ملا۔

اسی درمیان ارونماکی بڑی بہن کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد بھی بڑی بہن نے ارونماکا کافی خیال رکھا۔ بڑی بہن کی مدد اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہی ارونمانے کھیل کود کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔ قانون کی تعلیم حاصل کی اور ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کر لیا۔

گھرچلانے میں ماں کی مدد کرنے کے مقصد سےارونمانے کو ملازمت کرنے کا خیال آیا۔ لئے اس کئی جگہ درخوستیں بھی داخل کیں۔

اسی دوران اس مرکزی صنعتی سیکورٹی فورس یعنی سی آئی ایس ایف کے دفتر سے بلاوا آیا۔ افسروں سے ملنے وہ نوئڑا کے لئے روانہ ہو گئی۔ ارونماپدماوتی ایکسپریس پر سوار ہوئی اور ایک جنرل بوگی میں کھڑکی کے کنارے ایک نشست پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیربعد کچھ بدمعاش لڑکے ارونماکے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے ارونماکے گلے میں موجودسونے کی چین پر جھپٹا مارا۔ ارونماکو غصہ آیا اور وہ لڑکے پرجھپٹ پڑی۔ دوسرے بدمعاش ساتھی اس لڑکے کی مدد کے لئے آگے آئے اور ارونماکو دبوچ لیا، لیکن ارونمانے ہار نہیں مانی اور لڑکوں سے مقابلہ کرتی رہی،لیکن ان بدمعاش لڑکوں نے ارونماکو حاوی ہونے نہیں دیا۔ انہوں نے ارونماکو اتنی زور سے لات ماری کہ وہ چلتی ٹرین سے باہر گر گئی۔ اسکا ایک پاؤں ٹرین کی زد میں آ گیا۔ اور وہ وہیں بے ہوش ہو گئی۔ رات بھر ارونماٹرین کی پٹریوں کے پاس ہی پڑی رہی۔ صبح جب کچھ گاؤں والوں نے اسے اس حالت میں دیکھا تو وہ اسے ہسپتال لے گئے۔ جان بچانے کے لئے ڈاکٹروں کو ہسپتال میں ارونماکی بائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔

جیسے ہی اس واقعہ کی معلومات ذرائع ابلاغ کو ہوئی، ٹرین کا یہ واقعہ اخبارات اور نیوز چینلز کی سرخیوں میں آ گیا۔ میڈیا اورخواتین کی تنظیموں کے دباؤ میں حکومت کو بہترعلاج کے لئے ارونماکو لکھنؤ کے ٹراما سینٹر میں داخل کرانا پڑا۔

حکومت کی جانب سے بہت اعلانات بھی گئے۔ اس وقت ریلوے کی وزیرممتا بنرجی نے ارونماکو ملازمت دینے کا اعلان کیا۔ وزیر کھیل اجئے ماکن کی جانب سے بھی مدد کا اعلان ہوا۔ سی آئی ایس ایف نے بھی ملازمت دینے کا اعلان کر دیا، لیکن ان اعلانات سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ الٹے کچھ لوگوں نے ارونماکے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلا دیں۔ اسے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ شرارتی عناصر نے یہ کہہ کر تنازعہ شروع کیا کہ ارونماسرکاری نوکری کی حقدار نہیں ہے کیونکہ اس نے کبھی قومی سطح پر کھیلا ہی نہیں ہے۔ کچھ نے یہ افواہ اڑائی کہ ارونمانے انٹر کا امتحان بھی پاس نہیں کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے تو حد ہی کردی، یہ کہنا شروع کیا کہ ارونماکسی لڑکے کے ساتھ ٹرین میں بھا گ رہی تھی۔

کچھ بدمعاشوں نے الزام لگایا کی وہ شادی شدہ ہے۔ ایک سرکاری افسر نے کہا کہ ارونمانے ٹرین سے کود خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ دوسرے افسر نے شک کا اظہار کیا کہ بائک اور Skates پار کرتے وقت اتفاقی طورپروہ ٹرین کی زد میں آ گئی۔

اس طرح کی باتیں ميڑیا میں بھی آنے لگیں۔ ارونماان باتوں سے بہت حیران اور پریشان ہوئی۔ وہ اپنے انداز میں الزام لگانے والوں کو جواب دینا چاہتی تھی۔ لیکن بے بس تھی۔ ایک پاؤں کاٹ دیا گیا تھا اور جسمانی طور پر کمزور ہو وہ ہسپتال میں بستر پر پڑی ہوئی تھی۔ وہ بہت کچھ چاہ کر بھی کچھ نہ ک پا رہی تھی۔

ماں، بہن اور بہنوی نے ارونماکی ہمت بڑھائی اور اسے اپنا جزبہ برقرار رکھنے کا مشورہ دیا۔

ہسپتال میں علاج کے دوران وقت کاٹنے کے لئے ارونمانے اخبارے پڑھنا شروع کیا۔ ایک دن جب وہ اخبار پڑھ رہی تھي اسكي نظر ایک خبر پر گئی۔ خبر تھی کہ نوئیڈا کے رہنے والے 17 سالہ ارجن واجپئی نے ملک کے سب سے نوجوان کوہ پیما بننے کا ریکارڈ بنایا ہے۔

اس خبر نے ارونماکے دل میں ایک نئے خیال کو جنم دیا، ایک نیا جوش بھی بھرا تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ جب 17 سال کا نوجوان ماؤنٹ ایورسٹ فتح کر سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں؟

اسے ایک لمحے کے لئے محسوس ہوا کہ اس کی معذوری رکاوٹ بن سکتی ہے، لیکن اس نے ٹھان لیا کہ وہ کسی بھی صورت میں ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھ کر رہے گی۔ اس نے اخبارات میں کرکٹر یوراج سنگھ کی جدوجہد کے بعد دوبارہ میدان میں اترنے کی خبر بھی پڑھی۔ اس کا ارادہ اب بلنداورہو گیا۔

اسی درمیان اس کو مصنوعی پاؤں بھی مل گیا۔ امریکہ میں رہنے والے ڈاکٹر راکیش شریواستو اور ان کے بھائی شیلیش شریواستو، جو انوویٹو نام سے ایک ادارہ چلاتے ہیں، انہوں نے ارونماکے لئے مصنوعی ٹانگ بنوایا۔ اوراس پاؤں کو پہن کر ارونماپھر سے چلنے لگی۔

مصنوعی ٹانگ لگنے کے باوجود کچھ دنوں تک ارونماکی مشکلیں جاری رہیں۔ معذوری کے سرٹیفکیٹ کے باوجود لوگ ارونماپر شک کرتے۔ ایک بار تو ریلوے سیکورٹی فورس کے ایک جوان نے ارونماکی پیركھلواكر دیکھا کہ وہ معذور ہے یا نہیں۔ ایسے ہی کئی واقعات ارونما ہوئے، ارونما کو توہین برداشت کرتی رہی۔

ٹرین والے واقعہ کے بعد ریلوے کی وزیر ممتا بنرجی نے ملازمت دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن ریل حکام نے اس اعلان پر کوئی کارروائی نہیں کی اور ارونماکو اپنے دفتروں سے مایوس ہی لوٹایا۔ بہت کوششوں کے باوجودوہ ریلوے وزیر سے بھی نہیں مل پائی۔

حالات اچھے نہیں تھے، لیکن ارونمانے حوصلے بلند رکھے اور جو ہسپتال میں فیصلہ لیا تھا اس سے ملنے کے لئے کام شروع کر دیا۔ کسی طرح بچھندرپال سے رابطہ کیا۔ بچھندر پال ماؤنٹ ایورسٹ پر فتح حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔ ان سے ملنے ارونماجمشید پور گئیں۔ بچھندر پال نے ارونماکو مایوس نہیں کیا۔ ارونماکو ہر ممکن مدد دی اور ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔

ارونمانے اتراکھنڈ واقع نہرو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینرنگ (این آئی ایم) سے کوہ پیمائی کی 28 دن کی تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد انڈین ماؤنٹینرنگ فاؤنڈیشن (آئی ایم ایف) نے اسے ہمالیہ پر چڑھنے کی اجازت دے دی۔

تربیت مکمل کرنے کے بعد 31 مارچ، 2012 کو ارونماکا مشن ایورسٹ شروع ہوا۔ ایورسٹ مہم کو ٹاٹا سٹیل ساہسک فاؤنڈیشن نے سپانسرکیا۔ فاؤنڈیشن نے مہم کے انعقاد اور رہنمائی کے لئے 2012 میں ایشین ٹریکنگ کمپنی سے رابطہ کیا تھا۔

ایشین ٹریکنگ کمپنی نے 2012 کے موسم بہار میں ارونماکو نیپال کی لینڈ چوٹی پرتربیت دی۔ 52 دنوں کی کوہ پیمائی کے بعد 21 مئی، 2013 کی صبح 10۔ 55 پر ارونمانے ماؤنٹ ایورسٹ پر ترنگا لہرایا اور 26 سال کی عمر میںایورسٹ کو پہنچنےوالی دنیا کی پہلی معذور کوہ پیما بنیں۔

مصنوعی ٹانگوں کے سہارے ماؤنٹ ایورسٹ پر پہنچنے والی ارونماسنہا یہیں نہیں رکنا چاہتی ہیں۔ وہ اور بھی بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کی خواہش یہ بھی ہے کہ وہ جسمانی طور پر معذور لوگوں کو کچھ اس طرح کی مدد کریں کہ وہ بھی غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کریں اور معاشرے میں احترام ے سآٹھ جيے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem