'ریکیٹ کی رانی ' کے نئے خطاب سے ثانیہ مرزا کو نوازا بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان نے

خوشگوار تقریب میں شاہ رخ نے ثانیہ کی آپ بیتی کی رسم اجراء انجام دی اور کہا کہ لوگوں کو ثانیہ کی زندگی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور ان کی کہانی لوگون کے لئے تحریک اور ترغیب کا باعث ہوگی

0

یہ چاند سا روشن چہرہ

زلفوں کا رنگ سنہرہ

یہ جھیل سی نیلی یا پیلی آنکھیں ۔۔۔۔۔

اور فور ہینڈ ہے اتنا گہرا

تعریف کروں کیا اس کی جس نے تمہیں بنایا

بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان نے کچھ اس طرح سے مشہور گیت 'یہ چاند سا روشن چہرہ' میں اپنے کچھ الفاظ کا اضافہ کر کے 'سوپر اسٹار' ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کی جم کر تعریف کی۔ حیدرآباد کے تاریخی تاج فلكنما پیلیس میں شاہ رخ خان نے 13 جولائی کی خوبصورت شام میں ثانیہ مرزا کی خودنوشت 'ایس اگینسٹ اوڈس' کی رسم اجراء انجام دی۔ اسی خاص موقع پر شاہ رخ خان نے ثانیہ مرزا، کھیل، فلم اور اپنے شوق کے بارے میں صحافیوں سے دل کھول کر بات چیت کی۔

شاہ رخ نے کہا، '' مجھے لگتا ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کے تئیں زیادہ محبت دکھائیں، اپنی خواتین کے تئیں احترام دکھائیں، ہمیں ثانیہ جیسی کئی کامیابیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ اس دنیا میں عورتوں کے مقابلے میں کسی نے بھی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ ''

شاہ رخ نے ثانیہ کی تعریف میں کہا، '' وہ ریکیٹ کی ملکہ ہیں۔ ثانیہ پر ہمارے ملک کو فخر ہے۔ ہم پی ٹی اوشا، میريكوم اور ثانیہ مرزا جیسے لوگوں کو یاد کرتے ہیں۔ ان سے تحریک و ترغیب حاصل کر کئی لڑکوں اور لڑکیوں نے کھیلوں کو پیشہ ورانہ کیریئر کے طور پر اپنایا اور ہمارے ملک کی قدرو قیمت بڑھائی۔ ان لوگوں نے اپنےقدموں کے نشاں چھوڑے ہیں۔ اپنی الگ راہ بنائی ہے۔ '

'کنگ خان' نے کہا کہ وہ ثانیہ کی آپ بیتی کے اجراء میں حصہ لینے پر کافی فخر محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "بڑے فخر کی بات ہے کہ میں یہاں ہوں۔ میری زندگی کو بنانے میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ میری ماں سے لے کر اب تک جن خواتین کے ساتھ میں نے کام کیا ہے، تمام نے میری زندگی کو سنوارنے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ عورت کا ساتھ کافی متاثر کن ہوتا ہے۔ چاہے وہ کھیل میں ہو یا گھریلو کام کاج میں، گانے میں ہو کہ اداکاری میں، جب وہ حوصلہ افزائی کرتی ہے، تو صرف خواتین ہی نہیں، بلکہ نوجوانوں اور بچوں، سبھی کو ان سے تحریک ملتی ہے۔ عورت میں شاندار خصوصیات ہوتی ہیں کہ وہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ "

شاہ رخ خان نے کہا کہ ثانیہ نے چھوٹی سی عمر میں بہت کچھ حاصل کیا ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے کچھ کھیلوں کو چھوڑ کر بین الاقوامی سطح پر بہت اچھی کارکردگی نہیں کی ہے، لیکن بعض خواتین کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی سے ملک اور دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ثانیہ مرزا کی کامیابیوں سے تحریک حاصل کر کئی لوگ مستقبل میں کھیل کی دنیا میں بھی ہندوستان کا نام اور بھی روشن کریں گے۔ بالی ووڈ میں اپنا منفرد مقام رکھنے والے شاہ رخ یہ کہنے سے سے بالکل پیچھے نہیں ہٹے کہ وہ سالوں سے ثانیہ کو جانتے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ثانیہ کے کھیل کو فالو کیا ہے۔ انہوں نے کہا،

''میں ہمیشہ ثانیہ کے کیریئر کو فالو کرتا رہا ہوں۔ ایسا میں نے صرف کھیلوں کے پرستار کے طور پر نہیں کیا۔ ثانیہ نے اپنے کھیل سے اسپورٹس کے شائقین کے لئے احترام، تازگی اور خوبصورتی لائی ہے۔ "

ایک اور سوال کے جواب میں شاہ رخ نے اپنے فلمی سفر کے بارے میں کہا، '' میں بہت خوش قسمت ہوں۔ میں جب دہلی سے ممبئی آیا، سخت محنت کرتا رہا اور مجھے کامیابی ملتی گئی۔ محنت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، کامیابی کا۔ اگر میں کامیاب ہوں تو کامیابی کو برقرار رکھنے کے لئے سخت محنت کرنی پڑے گی اور اگر میں ناکام ہوں تو کامیاب بننے کے لئے سخت محنت کرنی پڑے گی۔ '' 

انہوں نے ثانیہ مرزا کے بارے میں کہا، '' ثانیہ دنیا سے باتیں کرتی رہی ہیں۔ میں انہیں کھیلتے ہوئے دیکھتا رہا ہوں۔ کھیل سے محبت کرتی ہیں، ثانیہ کا خاندان ان کے ساتھ رہا ہے۔ وہ جب سنگل میں بہت زیادہ نہیں کر پائی تو ڈبل میں نمبر 1 بن گئیں۔ ''

شاہ رخ کھیلوں کے تئیں اپنی دلچسپی کے بارے میں بھی بولے، '' مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نے فلم 'چک دے انڈیا' کی تھی۔ کھیل پر بنیں لگان، میريكوم، جیسی فلمیں بھی کافی اچھی تھیں۔ ملكھا سنگھ، بہت انسپریشنل فلم رہی۔ اب دھونی پر بھی فلم بن رہی ہے۔ ثانیہ پر بھی جب بھی کوئی فلم بنے گی، کافی متاثر کن ہوگی۔ ''

کنگ خان نے کہا کہ سنیما انسانی جذبات سے اپنا مواد حاصل کرتا ہے۔ کھیل بھی اسی جذبے سے کھیلا جاتا ہے۔ ہندوستانی کھلاڑی اپنے ملک کے لئے کھیلتے ہیں۔ صفر کرتے ہوئے بھی وہ اپنے ملک کے بارے میں سوچتے ہیں،

'' میں جب نوجوان تھا تو میں بھی کھلاڑی بننا چاہتا تھا۔ میں ملک کی نمائندگی کرنا چاہتا تھا۔ ہاکی کھیلنے کا شوق تھا۔ میرے والد ہاکی کھیلتے تھے۔ ایتھلٹ کے طور پر ریس بھی لگائی۔ والد اکثر کھلاڑیوں کی کہانیاں سناتے تھے۔ انہوں نے ملكھا سنگھ کی کہانی سنائی تھی۔ گیان چند کی کہانی بھی سنائی تھی۔ لیکن 'بیک پین' کی وجہ سے مجھے اپنا کھیل چھوڑنا پڑا تھا۔ ''

شاہ رخ کا خیال ہے کہ اعتماد کے ساتھ کوئی اچھی بات کی جائے توکھل کر بات کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اپنے دل اور دماغ میں کیا ہے، اس بات کو کہنا انہیں بھی کافی پسند ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف کتاب کی رسم اجراء کا پروگرام نہیں ہے، بلکہ حیرت انگیز شخصیت کی مالک ثانیہ سے نمبر 1 رہنے کے بارے میں سننے کا بہت اچھا موقع بھی ہے۔ انہوں نے کہا، '' میں اسٹار یا دوست کے طور پر نہیں آیا ہوں۔ میں ان خواتین کی عزت کے لئے آیا ہوں، جنہوں نےعالمی سطح پر اس طرح کی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایسی خواتین بہت کم ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر نام کمایا ہے۔ ''

کنگ خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا، '' اچھے لمحے 'جذبات' ہوتے ہیں، کلیکشن یا ایوارڈ نہیں ہو سکتے۔ اگر کچھ اچھا ہوا ہے، بہت ہی خوشی دینے والا ہے، جو کچھ میں نے اپنی فلم کے لئے کیا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں نے اسے پسند کیا ہے، تو وہ زندگی کے کچھ عمدہ لمحے کہے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے تناو کے لمحے بھی رہے ہیں۔ بہت سارے لوگ مل کر محنت کرتے ہیں اور اگر میں تفریح کے لئے لوگوں کی امیدوں پر کھرا نہیں اتر پایا، جوکہ میری ذمہ داری ہے، تو تناو کا شکار رہا ہوں۔ میرا کام تو لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا ہے، میں ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہوں، تو افسوس ہوتا ہے، لیکن کامیاب ہوتا ہوں تو آرام سے سو نہیں جاتا اور ناکامی کو اوڈھ کے بیٹھ نہیں جاتا۔ اس کے بارے میں ایک دو گھنٹے بیٹھ کر غور کرتا ہوں، میں ناکام فلم کے ساتھ زیادہ نہیں رہ سکتا اور پھر سخت سے سخت محنت کرنے کے لئے اگلے پیر کو کام پر نکل پڑتا ہوں۔ دونوں صورتوں میں مجھے مزید کچھ کرنا ہے۔ انشاء اللہ بہت بڑی کامیابی کے لئے کام کرتا رہوں گا۔ ''

لوگ کتاب میں میرے بارے میں جان پائیں گے کہ میں کتنی جذباتی ہوں: ثانیہ مرزا

بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان سے 'ریکیٹ کی رانی' کا خطاب پانے والی ٹینس کی نمبر 1 کھلاڑی ثانیہ مرزا نے آج اپنی سوانح عمری کے بارے میں کہا کہ لوگ ان کی اس کتاب کو پڑھ کر ان کے بارے یہ جان پائیں گے کہ وہ کتنی جذباتی ہیں۔ انہوں نے کہا، '' یہ میرے لئے کافی اسپیشل موقع ہے۔ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ اس عمر میں سوانح عمری لکھیں۔ خدا کے کرم سے میں نے طویل کیریئر گزارا ہے۔ یہ سف تفریح سے بھرا رہا ہے۔ 20 سال کے اس پیشے میں میں اپنی کہانی کو لوگوں کے سامنے پیش کر پائی ہوں۔''

ثانیہ نے کہا، '' میں نے  شاہ رخ سے صرف اتنا کہا کہ کیا آپ میری زندگی کا اہم حصہ (کتاب)جاری کر سکتے ہیں؟ اور وہ یہاں آ گئے۔ خدا کے کرم سے میرا کیریئر طویل رہا۔ کورٹ کے اندر اور باہر اچھا کیریئر رہا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اس کتاب کو پیش کرنے میں کامیاب رہی۔''

اس کتاب میں ثانیہ کی دنیا کی نمبر ایک کھلاڑی بننے کا سفر اور اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے جن چیلنجوں کا سامنا کیا ان کا ذکر ہے۔ ہارپر كالنس کتاب کے پبلیشر ہیں۔

ثانیہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کی باتیں کافی کم کسی کو بتائی ہیں، لیکن اس سوانح عمری میں اپنی شادی کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ زندگی میں مشکل دور کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سب کی ساتھ مسائل ہوتے ہیں، بہت مشکل لمحے آتے ہیں، لیکن ان کا سامنا کرنے کے الگ الگ طریقے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور کے بارے میں بتایا،

'' میں نے تین سرجريو کا سامنا کیا۔ جب تیسری سرجری ہوئی تو وہ کافی مشکل دور تھا۔ میں کھیل نہیں پا رہی تھی۔ اس کھیل سے دور تھی، جسے میں بہت محبت کرتی تھی۔ دو ماہ تک میں کافی اداس رہی۔ دو تین ہفتے میں اپنے کمرے میں اکیلے ہی رہی۔ کھانا، سونا وہیں تھا، میں بہت خراب حالات سے بھی گزری ہوں۔ میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ میں کون ہوں اور کیسی ہوں۔ خوشی، محبت، بہت سارے جذبوں سے بھری ہے یہ کتاب۔''

ثانیہ نے کہا انہیں امید ہے کہ یہ کتاب پسند کی جائے گی۔ اس میں ان کے 'كلرفل کیریئر' کی باتیں ہیں۔ ثانیہ نے اس فورم پر کافی کھل کر اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا، '' میں نمبر 1 طور پر بنےرہنے کے لئے جدوجہد کرتی رہوں گی اور میں نمبر 1 کے طور پر ہی اپنا کیریئر ختم کروں گی۔ جب آپ کی کارکردگی کی سطح گرتی رہتی ہے اور آپ اپنا کھیلنا بند کر دیتے ہیں تو یہ آسان ہے، لیکن نمبر 1 کے طور پر ہی اپنے کیریئر کو روک دینا کافی مشکل کام ہے۔''

قابل ذکر ہے کہ کتاب میں ثانیہ کی زندگی کے تمام اہم واقعات اور ان کی کامیابیوں کا ذکر ہے۔ کتاب کو مکمل کرنے میں ان پانچ سال لگے اور اب تک اس کی زندگی کے واقعات کا اس میں ذکر ہے۔

ثانیہ مرزا نے ایک سوال کے جواب میں کہا، '' میری زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ رہے ہیں۔ میں نے اپنے بہت سے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا ہے۔۔ میں نے توقعات سے زیادہ پایا ہے۔ میں اور میرے خاندان کے لئے سب سے زیادہ خوشی کی بات دنیا میں نمبر 1 ہونا ہے۔ نمبر 1 بننے کے لئے محنت تو کرنی پڑتی ہے، لیکن اس کا لطف منفرد ہے، اس سے بڑھ کر خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ''

ثانیہ مرزا نے کہا، '' میرا بچپن سے ہی خواب رہا کہ میں اولمپکس اور ومبلڈن میں كھیلوں۔ اور ایسے بڑے اسٹیج پر جب میں یہ سنتی ہوں کہ 'ہندوستان کی ثانیہ مرزا' تو مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ یہ سوچ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہندوستان میرے ساتھ ہے اور میں دنیا میں نمبر 1 ہوں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ''

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories

Stories by ARVIND YADAV