500 اور 1000 کے پرانے نوٹوں سے منسلک 10 ضروری باتیں

حکومت نے ملک بھر میں 500 اور 1000 کے تمام نوٹوں کو 8 نومبر 2016 کی آدھی رات سے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جن لوگوں کے پاس 500 اور 1000 کے نوٹ ہیں، وہ فکر نہ کریں اور نہ ہی پریشان ہوں، کیونکہ اس سرکاری تبدیلی سے آپ کی جمع رقم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

0

دہشت گردی، کرپشن، جعلی نوٹوں اور کالا دھن کے گورکھ دھندے کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا اعلان کرکے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو حیرت میں ڈالتے ہوئے 8 نومبر منگل آدھی رات سے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کے چلن کو ختم کر دیا ہے۔ قوم کے نام اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ منگل کی رات 12 بجے سے 1000 روپے اور 500 روپے کی نوٹ جائز نہیں ہوگی۔ 1000 روپے اور 500 روپے کے نوٹ کاغذ کے ٹکڑے رہ جائیں گے اور ان کی کوئی قیمت نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق 500 اور 1000 روپے والے نوٹ حصہ 80 سے 90 فیصد آبادی تک پہنچ گئی ہے۔

ملک میں کیش کے زیادہ سے زیادہ سرکولیشن کا براہ راست تعلق بدعنوانی سے ہے، جو بدعنوانی سے حاصل نقدی کی وجہ سے مہنگائی پر پڑتا ہے اور اس کا براہ راست اثر غریب اور متوسط طبقہ کے عوام کو جھیلنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیمت میں مصنوعی اضافہ بھی ہوتی ہے۔

بدعنوانی سے کمائی ہوئی رقم یا کالے دھن سے حوالہ دولت کو فروغ ملتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حوالہ دولت کا استعمال دہشت گرد ہتھیاروں کی خریداری کے لئے بھی کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی حوالہ دولت کا انتخابات میں ہمیشہ سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ سچ ہے اور جیسا کہ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں بھی کہا ہے کہ کرپشن ہمارے ملک اور معاشرے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہا ہے اور ہمیں اسے ختم کرنا ہی ہوگا۔

موجودہ حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے تو کالے دھن اور دہشت گردی کے خلاف یہ ایک طرح کی جراحی ہڑتال ہے 500 اور 1000 کے نوٹ آٹھ نومبر 2016 کی آدھی رات تک بند ہوگئے ہیں۔ اس لئے اب آپ بھی بند غلوں میں محفوظ کردہ 500 اور 100 کے نوٹوں کو کلیجے سے چسپاں کر نہ بیٹھیں، بلکہ ان دس اہم حقائق پر توجہ دیتے ہوئے اپنی پریشانی کو کم اور 500 اور 1000 کے نوٹوں کو جلد سے جلد جمع کرا دیں، کیونکہ گھبرانے اور پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے عام عوام کے سامنے اچانک یہ فیصلہ سنا کر سب کو سکتے میں ڈال دیا ہے اسی طرح انہوں نے اس کے لِئے اہم مشورہ بھی دیا ہے۔

پریشانی اپنے ساتھ حل بھی لے کر آتی ہے اور یہاں بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ بس ٹھنڈے دماغ سے ان دس حقائق پر توجہ دیں، سب آسان ہو جائے گا۔ حکومت نے شہریوں کو زیادہ پریشانی نہ ہو اس کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کا اعلان دیا ہے۔

۱۔ انو والے 72 گھنٹوں کے دوران، یعنی کی 11 نومبر کی رات تک آپ کو آپ 500 اور 1000 کے نوٹ سرکاری ہسپتالوں میں دے سکتے ہیں، کیونکہ یہاں پرانے نوٹ قبول کئے جائیں گے۔

۲۔ آپ کو اپنے نوٹ اگر فوری طور پر تبدیل نہیں کر سکتے اس لئے آپ کے پاس دو دن کا وقت دیا گیا ہے جو کہ 11 نوبر 2016 تک ہے۔

۳۔ آپ ریلوے، سرکاری بسوں اور ہوائی اڈے کے ایئر لائنز کاؤنٹر پر ٹکٹ خریدنے کے لئے پرانے نوٹ دے سکتے ہیں۔

۴۔ یاد رہے عوامی شعبے کی تیل کمپنیوں کی طرف سے اختیار پٹرول، ڈیزل اور گیس اسٹیشنوں پر بھی پرانے نوٹ لئے جائیں گے۔

۵۔ آنے والے 72 گھنٹے تک مرکز اور ریاست حکومتوں کی طرف سے اختیار صارفین کوآپریٹیو اسٹوروں اور دودھ فروخت مراکز پر بھی آپ کو آپ 500 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹ دے سکتے ہیں۔

۶۔ مقررہ مقامات پر حکومت کی طرف سے دی گئی مدت (11 نومبر 2016 تک) میں پرانے نوٹ دیے جا سکتے ہیں۔

۷۔ آپ کو آپ 500 اور 1000 کے پرانے نوٹ بینک اور پوسٹ آفس کے اکاؤنٹس میں 10 نومبر سے 30 دسمبر 2016 تک تبدیل کر سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھیں، کہ حکومت کی طرف سے لاگو نئے قوانین کے مطابق آپ کے بینک اکاؤنٹ سے روزانہ زیادہ سے زیادہ 10000 روپے اور ہفتے میں 20000 روپے تک ہی نکال سکتے ہیں۔ جسے حکومت آنے والے دنوں میں اپنی سہولت بڑھا دے گی۔

۸۔ ایک بات جو سب سے اہم ہے کہ 9 اور 10 نومبر کو آپ کے پڑوس کے اے ٹی ایم کام نہیں کریں گے، کیونکہ اے ٹی ایم کے اندر موجود 1000 اور 500 کے نوٹ منسوخ کئے جائیں گے اور ساتھ ہی 500 اور 2000 کے نئے نوٹ رکھے جائیں گے۔

۹۔ نئے نوٹ لوڈنگ کے بعد آپ ابتدائی دنوں میں اے ٹی ایم کارڈ سے روزانہ 2000 روپے تک نکال سکیں گے جو حد آگے چل کر 4000 روپے تک بڑھ جائے گی۔

۱۰۔ آپ 24 نومبر 2016 تک اپنا شناختی کارڈ دکھا کر کسی بھی بینک یا پوسٹ آفس اور چھوٹے پوسٹ آفس سے 4000 روپے تک کہ رقم کو اپنے پرانے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں سے تبدیل کر سکتے ہیں۔

سب سے اچھی بات یہ ہے، کہ بینک چیک، ڈرافٹ، کریڈٹ کارڈ اور الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر جیسے غیر نقد طریقوں کے ذریعے لین دین پر کسی بھی قسم کی روک نہیں لگائی گئی ہے۔

اس لیے پریشان نہ ہو، بس ان دس نقطوں پر توجہ دیں۔ کام آسان ہو جائے گا، کیونکہ ایک سچا شہری ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکومت کے ہر فیصلے میں ان کا ساتھ دیا۔