اُردو ٹیچر سے فلاحی جہدکار بننے کا مثالی سفر...ایم اے رحمٰن

پرانے شہر حیدرآباد کے چھاؤنی ناد علی بیگ کا ایک نوجوان جو اَرباب اقتدار سے محض گلے شکوے پر اکتفاءکرنے کی بجائے والدین کی حوصلہ افزائی پر اپنا کریئر خود بنانے کی صبرآزما راہ پر گامزن ہوا

0

ہمارے ہاتھ میں ایک شادی  کا رقعہ ہے۔ یہ شریمتی نللا چندرا کلا اور شری نلالستیہ نارائنا کے خاندان کی تقریب ہے  اور یہ دعوت نامہ اردو میں ہے۔  اور یہ ہو پایا ہےاردو زبان سے  بلا لحاظ مذہب و ملت محبت کا درس دینے والے ٹیچر ایم ہے رحمٰن کی کاوشوں کی وجہ سے۔  

ایم  اے رحمٰن کی کوششیں حیدرآباد کے پرانے شہر میں رنگ لا رہی ہیں۔  ایک ایسے دور میں جب ذیادہ تر افراد رازگار کے لئے خلیجی ممالک کا رخ کر رہے تھے۔ رحمٰن نے اپنے ملک اپنے شہر اپنے محلے میں رہ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔ 

 ہر فرد کا روزگار کے لئے بیرون ملک چلا جانا نہ تو ممکن ہے اور نا ہی دانشمندانہ اقدام ہوگا۔ ایسے حالات میں یہیں اپنے بل پر قدم جمانے کے سواءکوئی چارہ نہ تھا۔

ایم اے رحمٰن (فہیم) کی کہانی مسلم اقلیت کے اُسی نازک دور سے تعلق رکھتی ہے۔ پرانے شہر حیدرآباد کے چھاؤنی ناد علی بیگ کا یہ نوجوان اَرباب اقتدار سے محض گلے شکوے پر اکتفاءکرنے کی بجائے ، والدین کی حوصلہ افزائی پر اپنا کریئر بنانے کی صبرآزما راہ پر گامزن ہوا۔

ایم اے رحمٰن ( فہیم )
ایم اے رحمٰن ( فہیم )

1976ءکی پیدائش والے فہیم نے 1990ءمیں ماڈرن ہائی اسکول ، انجمن مہدویہ سے سکنڈری اسکول سرٹفکیٹ (ایس ایس سی) یا دسویں جماعت کی تکمیل کے ساتھ ہی تدریس کی باوقار سرگرمی اختیار کرلی۔ انھوں نے انگریزی ذریعہ تعلیم سے ہائی اسکول تک پڑھائی مکمل کی ، جس میں اُردو کا مضمون شامل تھا۔

 اس نوجوان نے تدریس کے لئے ابتدائی طور پر سماجی علم (سوشل اسٹیڈیز) اور اُردو کے مضامین منتخب کئے لیکن اہل اردو کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جلد ہی انھوں نے اُردو سے اپنا مستقل تدریسی ناطہ جوڑ لیا اور آج اپنے شعبہ کی 25 سالہ مشاق شخصیت ہے۔

کسی بھی شخص کا حیدرآباد میں رہتے ہوئے زبانِ اُردو کے فروغ کے لئے کام کرنا اور روزنامہ ’سیاست‘ و عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کی اِس ضمن میں مسلسل جاری خدمات سے وابستہ نہ ہونا مُحال ہے۔ چنانچہ 1994ءسے ایم اے رحمٰن نے عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ سے الحاق کے ساتھ اردو دانی، زبان دانی کا مرکز قائم کیا، جہاں بلالحاظ مذہب و ملت اور عمر کی قید کے بغیر لوگوں کو اُردو سے جوڑا جاتا ہے ، نیز ٹرسٹ کے زیراہتمام سال میں دو مرتبہ جنوری اور جون میں امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں۔

لٹل نائٹںگلس ہائی اسکول

ایم اے رحمٰن نے تدریس کا المدینہ انسٹی ٹیوٹ چلایا اور پھر مادی وسائل کی سخت کمی کے باوجود محض عزم و حوصلے کی دولت کے ساتھ 1995ءمیں نونہالوں کے اسکول کی بنیاد ڈالی، جس کا افتتاح ’سیاست‘ کے جوائنٹ ایڈیٹر جناب محبوب حسین جگر نے کیا تھا۔ ’سیاست‘ کے ہی دیگر ارباب ِ مجاز بالخصوص منیجنگ ایڈیٹراجناب ظہیر الدین علی خان نے جناب رحمن کی کوششوں کو سراہا اور مناسب حوصلہ افزائی کی۔

اسکولی تعلیم میں آج 20 سال کی تکمیل کے بعد کرسپانڈنٹ سکریٹری ایم اے رحمٰن کی عرق ریزی، جانفشانی، سخت محنت، پُراستقلال کارکردگی کے نتیجے میں ریاستی حکومت کا مسلمہ ’لٹل نائٹ انگیلس ہائی اسکول‘ علاقہ کی ایسی تعلیم گاہ ہے ، جس نے پہلے بیاچ سے ہی 100 فیصدی نتائج دیئے جہاں کامیاب طلبہ کے نشانات 90% سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس اسکول سے فارغ طلبہ آج مختلف شعبوں میں باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں انجینئر بھی ہیں، ڈاکٹرہیں، ٹیچرہیں، پولیس ڈپارٹمنٹ سے وابستہ نوجوانان بھی ہیں۔ کئی طالبات گورنمنٹ اسکولس میں ٹیچنگ کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

اُردو زبان کی مٹھاس، چاشنی اور اسے بلالحاظ مذہب سیکھے جانے کی عمدہ مثال بھی ایم اے رحمٰن کے سنٹر نے پیش کی ہے۔ یہاں اُردو سیکھنے اور اُن کے اسکول سے فارغ ہونے والی ایک ہندو طالبہ نے ابھی حال میں اپنا شادی کا دعوت نامہ (ویڈنگ کارڈ) تلگو، انگریزی زبانوں کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی چھپوایا ہے۔
اردو سے بلالحاظ مذہب وابستگی کا عملی ثبوت!
اردو سے بلالحاظ مذہب وابستگی کا عملی ثبوت!

اسکول میں اخلاقیات کی تعلیم

یہ اسکول کی انفرادیت ”اخلاقیات کی تعلیم“ ہے جو عمومی طور پر ماڈرن ایجوکیشن میں قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ ایم اے رحمن کا خاندان  پچھلی کئی نسلوں سے  تدریس سے جڑا رہا ہے۔ اور خاص طور پر اخلاقیات کے ساتھ اسکولی تعلیم کا نظم انھیں ورثہ میں ملا۔

ماشاءاللہ ! 87 سالہ محمد عبدالجبار صاحب (ریٹائرڈ ہیڈماسٹر) کے سپوت محمد عبدالرحمٰن نے فی زمانہ انٹرنٹ اور سوشل میڈیا کے خاص طور پر کم عمر بچوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے ازالہ کے لئے اپنے اسکول میں سرکاری نصاب کے ساتھ اخلاقیات کے پہلو پر خصوصی توجہ دی، جس نے طلبہ میں سدھار تو لایا ہی ہے، ساتھ ہی والدین کو گرویدہ بھی بنا لیا ۔

ایم اے رحمٰن کے اسکول میں 450 تا 500 بچے زیرتعلیم ہیں، جن میں لڑکیوں کی اکثریت ہے، جو صنف نازک کے لئے آج کے پُرآشوب دور میں ان کے ہائی اسکول پر والدین کے اعتماد و بھروسے کی عکاس ہے۔ معیارِ تعلیم پر کوئی مفاہمت نہیں۔ چنانچہ پری پرائمری کے طلبہ گرائجویٹ ٹیچرز کے سپرد ہیں اور 5 ویں جماعت سے تدریس کی ذمہ داری بی ایڈ ٹیچرز نے سنبھال رکھی ہے۔ پرنسپل محترمہ عذرا تزئین کی سرکردگی اور ایم اے رحمٰن کی ماہرانہ نگرانی میں یہ اسکول اچھی خدمات انجام دے رہا ہے۔

گوناگوں صلاحیتیں

’یور اِسٹوری‘ کی طرف سے ایم اے رحمٰن کی کہانی کو پیش کرنے کی وجوہات اس نوجوانوں کی گوناگوں صلاحیتیں ، ذاتی کوششوں سے کریئر بنانا، ملت و سماج کے لئے خدمت کا عملی جذبہ اور ذمہ دار ہندوستانی مسلم شہری کی حیثیت سے خود کو منوانا ہے۔ انھوں نے دستیاب وسائل و حالات کے مطابق اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد خود کو صرف ذاتی کریئر پروان چڑھانے تک محدود رکھا، نہ اس پر اکتفاءکیا بلکہ دوسروں کی بھی بھلائی کے لئے اپنی بساط بھر کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کی سوچ کو ہمیشہ اپنے ذہن میں تازہ رکھا۔

ایم اے رحمٰن جیسے ہونہار ، ملت و سماج کے لئے مفید نوجوانوں کی ہر گوشہ مدد کرتا ہے۔ چنانچہ انھیں نہ صرف محلہ اور آس پاس سے معزز اشخاص کا تعاون حاصل ہوا بلکہ شہر کی اساس پر بھی انھیں باوقار شناخت ملی۔

 انھوں نے فلاحی خیراتی کاموں کی محلہ سے شروعات کرتے ہوئے محترم محبوب حسین صاحب موسوم جگر ہال قائم کیا ، جہاں خواتین کے لئے تعلیم بالغان کا نظم کیا گیا۔ اس کی استفادہ کنندگان اردو، انگریزی اور ریاضی سے بہرہ مند ہوئیں۔

سماج کے کمزور اور محروم طبقات کو بہتر سماجی مقام دلانے کے جذبے نے ایم اے رحمٰن کو کم عمری میں ہی نامور لائنس کلب سے بھی جوڑ دیا ، جس سے وہ 1998ءسے وابستہ ہیں۔ ایم اے رحمن  نے یہاں بھی اپنی عمدہ کارکردگی سے سب کو گرویدہ بنا لیا اور اب ڈسٹرکٹ پوسٹ پر رہتے ہوئے سرگرم عمل ہیں۔

 انھوں نے اپنی پوری عملی زندگی میں فروغ اُردو کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ چنانچہ لائنس کلب کے غیراُردو داں اراکین کو بھی تیزی سے اس میٹھی زبان کے دلدادہ بنا رہے ہیں!

’یور اِسٹوری‘ کا تاثر

ایم اے رحمٰن جیسے حرکیاتی نوجوان آج ملت و سماج کی ضرورت ہے۔ وہ اس طرح کے مثالی نوجوانوں میں قابل رشک اضافہ ہیں کہ ہندوستان کے ماضی قریب والے اور موجودہ سیاسی حالات میں بھی اگر کوئی ہونہار مسلم فرد ذی حیثیت شہری بننے کی ٹھان لے تو یہ تھوڑا مشکل ضرور ہوسکتا ہے لیکن ہرگز ناممکن نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لٹل نائٹنگلس ہائی اسکول کے کرسپانڈنٹ سکریٹری، سماجی جہدکار، لائن محمد عبدالرحمٰن کے اسکولی کیبن میں خوبصورتی سے سجے ڈھیروں انعامات و ٹروفیاں بہ اعتبار تعداد اُن کی عمر کی بہاروں کو کافی پیچھے چھوڑ رہے ہیں!

................................................................

یور راسٹوری کا ’فیس بک‘ صفحہ دیکھئے    : فیس بک

یہ بھی پڑھئے :

خود کی حوصلہ افزائی بھی کافی اہم: سُمِت سنگھ

................................................................

A humble person, 45, who wished during teenage to become a Cricketer, then did my Science graduation to become an Engineer like my father, and then tried to be an Indian Administrative Officer (IAS). But, perhaps, I was destined to be a professional Journalist as I could consciously acquire the relevant knowledge by completing my Bachelor of Communication and Journalism (BCJ) from Osmania University, and practicing journalism for the last two decades courtesy my mother tongue, Urdu Language. A satisfied person by the grace of almighty Allah. منکسرالمزاج شخص (۴۵ سال) جس نے کم عمری میں یہی تمنا کی کہ کرکٹر بن جائے، پھر سائنس گرائجویشن کرتے ہوئے سوچا کہ والد کی طرح انجینئر بنوں، اور پھر ان؛ین اڈمنسٹریٹیو آفیسر (آئی اے ایس) بننے کی سعی بھی کی۔ لیکن شاید، قدرت نے پیشہ ور صحافی بنانا بہتر سمجھا۔ چنانچہ میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بیچلر آف کمیونکیشن اینڈ جرنلز (بی سی جے) کی تکمیل کے ذریعے متعلقہ ضروری علم حاصل کرپایا اور مادری زبان اُردو کی مرہون منت دو دہوں سے عملی زندگی میں ہوں۔ اللہ تبارک وتعالی کا فضل ہے کہ مطمئن شخص ہوں۔

Related Stories