گندگی دور کرنے امریکہ چھوڑ کر وطن لوٹے دو نوجوان۔۔۔ صفائی مہم کو بنایا اپنا مقصد حیات

0

چند سال پہلے کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کچرےکا بھی کاروبار کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کے لئے یہ ماننا بھی مشکل تھا کہ اسی کچرے کے کاروبار سے کروڑوں روپے کی کمائی بھی ہو سکتی ہے، لیکن، آج یہ سچ ہے کہ گندگی سے بھی کروڑوں روپے کا کاروبار ممکن ہے۔ اس بات کو ثابت کر دکھایا ہے دو نوجوان کاروباریوں نے۔ منی واجیپے اور راج مدن گوپال نے مل کر 'بینين' نام سے ایک ادارہ شروع کیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد ہندوستان میں کچرے کی ٹرانسپورٹینگ کا صحیح انتظام ہے۔ ایک معنوں میں یہ ادارے تین کام کرتی ہے۔ پہلے کوڑا کچرا ڈھونا، یعنی اس کا نقل و حمل، دوسرا اس گندگی کو ریسائکلنگ کرنا اور تیسرے اس چھانٹے ہوئے کچرے کو پھر کسی کام کے قابل بنانا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کچرے کے صحیح انتظام سے ماحول محفوظ رہتا ہے اور اسے خوبصورت بنائے رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

'بینين' نام کے اس ادارے کا آغاز ایک خاص مقصد سے کیا گیا۔ اس کے پیچھے ایک کہانی ہے وطن اور معاشرے سےمحبت کی کہانی۔ امریکہ میں ایک بڑی کمپنی میں بڑی تنخواہ پر کام کر رہے منی واجیپے ایک بار وطن آئے۔ ہندوستان میں جگہ جگہ پر کچرے کا ڈھیر اور گندگی دیکھ کر وہ چونک گئے۔ اس گندگی سے لوگوں کو ہونے والی بیماریوں اور دوسری دیگر مشکلات نے انہیں بیچین کر دیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے وطن سے گندگی صاف کرنے کے لئے اپنی جی جان لگا دیں گے۔

پھر کیا تھا، ہدف حاصل کرنے کے لئے کام شروع ہو گیا۔ منی نے امریکہ جاکر ویسٹ مینجمنٹ کے بہترین اور کامیاب طریقوں پر مطالعہ کرنا شروع کیا۔ وہ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک - امریکہ کے مختلف شہروں میں گھوم کر یہ معلوم کیا کہ ان شہروں میں کچرے کا انتظام کس طرح کیا جاتا ہے اور تمام ماحولیات کو صاف اور خوبصورت بنانے کے لئے کس طرح کام ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران منی نے وطن واپسی اور صفائی مہم شروع کرنے کے اپنے ارادے کے بارے میں اپنے خاص دوست اور پرانے ساتھی راج مدن گوپال کو بتایا۔ راج اس ارادے سے خود بھی متاثر ہوئے اور منی کے ساتھ کام کرنے کی ٹھان لی۔

منی اور راج دونوں 2002 سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ وہ آپس میں اچھے دوست تھے۔ نیویارک، ڈیلاویئر میں تعلیم کے لئے پہنچے دونوں یونیورسٹی میں ساتھی تھے۔ دوستی آہستہ آہستہ پکی ہو گئی۔ مصالحت اتنی بڑھ گئی کہ کالج کے دنوں میں دونوں کالج کے گھومنے پھرنے بھی جایا کرتے تھے۔ منی نے الیکٹریکل انجینئرنگ (وائرلیس کمیونی کیشنز) میں پی ایچ ڈی کی تو راج نے میكانكل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی سے ڈگرييا لینے کے بعد منی اور راج کے راستے جدا ہو گئے تھے۔

منی نے سینڈیگو میں نوکری شروع کی تو راج کو سياٹل جانا پڑا۔ لیکن، دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے رابطہ میں تھے۔ ایک دن منی نے راج کو فون پر ہی وطن واپسی کا فیصلہ سناتے ہوئے صفائی مہم میں شامل ہونے کا اپنا ارادہ بتایا تھا۔ ارادہ راج کو بھی پسند آیا اور نئے جوش سے بھرے ہوئے دونوں نوجوان ہندوستان آئے اور صورت حال کا جائزا لیا۔ دونوں نے کئی چھوٹے بڑے شہروں کا دورے کئے۔ انہیں ہر جگہ گندگی ہی گندگی دکھائی دی۔ دونوں حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی۔ منی اور راج نے اپنے اس ملک کے حکام، سیاستدانوں، كباڑيوں، ردی والو، کچرے کے کاروبار سے منسلک تاجروں، بروکروں، ملازمین اور رضاکاروں سے بھی ملاقات کی۔

اپنے سفر، ملاقاتوں اور تجربات سے دونوں تین ماہ میں ہی اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ہندوستان میں گندگی کی سب سے بڑی وجہ کچرے کے انتظام نے قائدگیاں ہیں۔ صحیح انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ماحولیات کو بھی نقصان پہنچ رہا تھا اور ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی۔ منی اور راج نے فیصلہ لیا کہ وہ امریکہ سے ہندوستان آجائیں گے اور وطن میں کچرے کی صحیح نکاسی کا انتظام قائم کرنے کے لئے ایک ادارہ شروع کریں گے۔ اپنی اپنی نوکریاں چھوڑ کر دونوں ہندوستان آ گئے۔

جولائی 2013 میں "بینين" کے شروعات ہوئی۔ شروع میں دونوں کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً ، کرپشن، افسران کی سستی، لوگوں کی پرانی سوچ اور عادات واتوار کی وجہ سے کئی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔ چونکہ ان کا اردہ پکا تھا، اس لئے دونوں نے ہار نہیں مانی۔ دونوں سے مل کر ایک ایسا ماڈل بنایا جو کمائی اور سائنس ٹیکنالوجی کے نقطہ نظر سے سرکاری اداروں، كباڑيوں، ردی والوں، تاجروں اور ملازمین کے لئے قابل قبول تھا۔

منی اور راج نے ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر ہندوستان میں ویسٹ مینجمنٹ کی شروعات کی۔ چھوٹی بڑی کالونیوں، اپارٹمنٹس اور دوسرے جگہوں سے کوڑا کچرا اٹھانا شروع کیا۔ اس کے بعد ایک جگہ اس کچرے کو جماکر اس میں سے ريسائكل کئے جا سکنے والے سامانوں کو الگ کیا جاتا۔ پھر اسی سامان کو ريسائكلگ کرنے والی کمپنیوں کو براہ راست فروخت کیا جاتا۔ یعنی کچرے کے کاروبار کا آغاز ہو چکا تھا۔ اتنا ہی نہیں اس ماڈل کی وجہ سے کچرے کا صحیح انتظام ہونے لگا تھا۔ ماحول پر ضمنی اثرات کم ہونے لگے تھے۔ لوگوں میں صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے مہم کی شروعات ہو چکی تھی۔ ایک بڑی کامیابی یہ بھی تھی کہ كباڑيوں، ردی والوں اور بروکروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار نہیں ہو رہے تھے۔ ردی والو، كباڑيوں اور کوڑا کچرا اٹھانے والے مزدوروں کو صحیح محنتانہ ملنے لگا تھا۔

'بینين' نے لوگوں کو ایک فون نمبر دیا تھا جسے ڈائل کر لوگ کبھی بھی اپنے گھر، کالونی، بستی، اپارٹمنٹ، دفتر سے کوڑا کچرا اٹھوا سکتے تھے۔ کوڑا کچرا اٹھانے والی تمام گاڑیوں سے باخبر رہنے کے لئے GPS نظام کا بھی سہارا لیا جانے لگا۔ لوگوں کو بہتر سہولیات مہیا کرانے کے مقصد سے اینڈرائڈ ایپ اور ایس ایم ایس کی خدمات بھی مہیا کی گئیں۔

  • پیپل، جو کہ ہندوستان کا قومی درخت ہے، اس کے نام سے شروع ہوئے اس ادارے نے جلد ہی عوام اور سرکاری اداروں پر اپنا مثبت اثر چھوڑنا شروع کیا۔ ادارے کو پیپل نام دینے کے پیچھے بھی ایک مقصد تھا۔ ہندوستانی تہذیب اور روایت کے مطابق کسی گاؤں میں اگر کسی مسئلہ کا حل ہوتا تو لوگ پیپل کے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور آپس میں مل کر فیصلہ کرتے۔ 'بینين' بھی اسی مقصد سے شروع کیا گیا کہ ملک کو گندگی سے آزاد کرانے میں تمام لوگ ساتھ آئیں۔

وزیر اعظم بننے کے کچھ ہی دنوں نریندر مودی نے ملک بھر میں "صفائی مہم" چلانے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس اعلان کے بعد ملک بھر میں صفائی مہم کی رفتار تیز ہوئی۔ بہت بڑی بڑی ہستیاں، سرکاری اور غیر سرکاری ادارے، بہت سارے لوگ اب صفائی مہم سے براہ راست جڑ گئے۔ لیکن، اس مہم کے رفتار پکڑنے سے بہت پہلے ہی دو نوجوان کاروباریوں نے بڑی نوکریاں چھوڑ کر وطن واپسی اور گندگی دور کرنے کا کام پوری طاقت کے ساتھ شروع کیا تھا۔ منی اور راج کی کی جانب سے شروع کیا گیا ویسٹ مینجمنٹ کا ماڈل تو کامیاب ہے ہی، ساتھ ہی کامیاب کوشش اور اقدامات نے منی اور راج کو بعض کے لئے 'رول ماڈل' بنا دیا ہے۔

'بینين' کے ذریعہ منی اور راج نے ہم وطنوں کو یہ بتا دیا کہ گندگی کو دور کرنا ہے تو تمام لوگوں کو ساتھ میں کام کرنا ہوگا۔ تمام کمیونٹی کی شراکتداری کے بغیر صفائی مہم کو کامیاب بنانا مشکل ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem