وہیل چیئر پر رہ کر فوج کے ایک افسر روشن کر رہے ہیں 500 بچوں کا مستقبل

0

وہیل چیئر پر رہ کر فوج کے ایک افسر روشن کر رہے ہیں 500 بچوں کا مستقبل

قلمکا: ہرییش بشٹ

مترجم: زلیخہ نظیر

10 سال پہلے شروع کیا "اپنی دنیا، اپنا آشیانہ" ۔۔۔

غریب، یتیم اور معذور بچوں کی کرتے ہیں کی مدد ۔۔۔۔

کھانے سے لے کر کپڑے اور تعلیم تک ہوتا ہے انتظام ۔۔۔۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔۔

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

کیپٹن نوین گُلیا کی زندگی کی کہانی ہمارے سامنے زندہ دلی کی تازہ مثال ہے۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ عام طور پر لوگ حادثوں سے ٹوٹ جاتے ہیں کیپٹن نوین گلیا جیسے لوگ بھی سماج میں ہیں جو کسی حادثے کے بعد اور مضبوط ہوکر ابھرتے ہیں، اپنی زندگی کو نئے سرے سے جینے کی کوشش کرتے ہیں، اس میں رنگ بھرتے ہیں اور ان رنگوں سے دوسروں کو بھی رنگنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیپٹن نوین گلیا اپنا بوجھ بھلے ہی اپنے پیروں پر نہیں اٹھا پاتے ہوں، لیکن وہیل چیئر کے ذریعے وہ اپنے کندھوں پر ایسے بچوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، جن کا کوئی نہیں اور جن کے اپنا کوئی ہے بھی تو وہ اتنا قابل نہیں کہ وہ انہیں پڑھا سکے، آگے بڑھنے کا سبق سکھا سکے۔ کیپٹن نوین گلیا اپنے ادارے "اپنی دنیا، اپنا آشیانہ" کے ذریعے سینکڑوں بچوں کی نہ صرف تعلیم کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں، بلکہ انہیں قابل بنانے کے لئے ہر وہ کام کر رہے ہیں جو کسی کے والدین ہی کر سکتے ہیں۔

کیپٹن گلیا بچپن سے ہی ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج میں انہوں نے پیرا کمانڈو کی تربیت لی، لیکن چار سال کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد وہ ایک مقابلہ کے دوران زیادہ اونچائی سے گر گئے۔ اس وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ آئی۔ دو سال تک ہسپتال میں رہنے کے بعد انہیں فوج چھوڑنی پڑی، لیکن ان کا ملک کی خدمت کا جذبہ جوں کا توں برقرار تھا۔ وہ کہتے ہیں "آج میں غریب اور معذور بچوں کے لئے کچھ کر رہا ہوں تو اس میں مجھے اعزاز دینے جیسی کوئی بات نہیں ہونا چاہئے، یہ تو اپنے معاشرے کے تئیں اور اپنے ملک کے تئیں میری ذمہ داری ہے۔" دوسروں سے مختلف سوچ رکھنے والے کیپٹن گلیا اور ان کی تنظیم غریب بچوں، بھیک مانگنے والے بچوں اور اینٹوں کی بھٹیوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کے لئے کام کر رہی ہے۔ وہ بچوں کی ضرورت کے مطابق مدد کرتے ہیں۔ ان بچوں کے علاوہ یہ ایسے بچوں کی مدد کر رہے ہیں جنہیں ان کے والدین نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

ایک دن کا واقعہ ہے کہ موسم سرما کی ایک رات جب کافی سردی تھی تو کیپٹن گلیا نے سڑک پر ایک 2 سال کی بچی کے رونے کی آواز سنی۔ اس کے جسم پر بہت کم کپڑے تھے۔ اس کو کچھ بچے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے جو ارد گرد ہی کھیل رہے تھے۔ اس وقت کیپٹن گلیا نے ان بچوں کو ڈھونڈا اور ان کو اس بات کے لئے ڈانٹابھی کہ کیوں انہوں نے بچی کو اس طرح چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بعد وہ بچے اس بچی کو لے کر وہاں سے چلے گئے تو کیپٹن گلیا نے سوچا کہ کیوں نہ ایسے بچوں کی مدد کا کام شروع کیا جائے اور اسی وقت انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ غریب بچوں کی دیکھ بھال کا کام کریں گے۔

شروعات انہوں نے ایسے بچوں کے ساتھ کی جو بھوکے تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے ایسے بچوں کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ جب ان بچوں سے بات کی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان بچوں کو پڑھانے کا کام بھی کریں گے۔ اس کے لئے انہوں نے ایسے بچوں کو چنا جو پڑھنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے ان بچوں کو نہ صرف اسکول میں داخلہ کرایا بلکہ ان کی فیس، کپڑے اور دوسری چیزوں کا بھی بوجھ اٹھایا۔ آج کیپٹن گلیا اور ان کی تنظیم گڑگاؤں اور اس کے ارد گرد رہنے والے قریب 5 سو بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔

یہ کیپٹن گلیا کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے وہ ایسے گاؤں میں بیداری مہم چلاتے ہیں جہاں پر خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ وہ گاؤں کی لڑکیوں کو باکسنگ کی تربیت بھی دیتے ہیں نہ صرف اپنے دفاع کے لئے بلکہ اس لئے بھی کہ وہ کھیل کے میدان میں ملک کا نام روشن کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس باکسنگ سیکھنے والی کچھ لڑکیاں کھیل میں ریاست کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے بچوں کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاتا ہے جو جسمانی طور پر غیر فعال ہیں۔ ان بچوں کی تعلیم اور علاج ۔۔۔۔ کیپٹن گلیا اور ان کی تنظیم ہر طریقے سے ضرورت کے مطابق ان بچوں کی مدد کر رہا ہے۔

"اپنی دنیا، اپنا آشیانہ" نام کی یہ تنظیم غریب اور کمزور بچوں کے لئے وقت وقت پر میڈیکل کیمپ، بھوکے بچوں کو کھانا کھلانے، غریب بچوں کو کپڑے دینے وغیرہ کئی طرح کے کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم بچوں کو ان کی تعلیم میں بھی مدد کرتی ہے۔ ہریانہ کے پاس مانیسر میں رہنے والا ایک بچہ جس کا نام سنی ہے اس کی یہ لوگ گزشتہ دس سال سے تعلیم اور اس کی صحت میں مدد کر رہے ہیں۔ کیپٹن گلیا بتاتے ہیں کہ یہ بچہ ہر سال اپنی کلاس میں پہلے مقام پر آتا ہے اس وقت دسویں کے امتحان میں اس نے 95 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔ اسی طرح گیتا نام کی ایک لڑکی ہے جس کی تعلیم پولیو ہونے کی وجہ سے کچھ وقت کے لئے چھوٹ گئی تھی۔ جس کے بعد جب وہ ان لوگوں کو ملی تو نہ صرف اس نے اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ آج وہ ٹیچر بن گئی ہے اور دوسرے بچوں کو پڑھانے کا کام کر رہی ہے۔ ایسے دوسرے اور بھی بچے ہیں جن کی یہ مدد کرتے ہیں۔ یہ لوگ جن بچوں کی مدد کر رہے ہیں ان میں سے اکثر کی عمر 4 سے 14 سال تک کے درمیان ہے۔

کیپٹن نوین گلیا ایک شاندار مصنف بھی ہیں۔ مارکیٹ میں ان کی لکھی کتاب "ویر اس کو جانیں" اور "ان كویسٹ آف دی لاسٹ وكٹری" کی کافی ڈیمانڈ ہے۔ کیپٹن گلیا نے وہ سب کیا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ آج بھلے ہی یہ وهیل چیئر پر ہوں، لیکن ان کے نام کئی ریکارڈ درج ہیں۔ انہوں نے کئی بار بہادری کے کارنامے کئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاور ہیڈگلاڈر میں بھی اپنا ہاتھ ازمايا ہوا ہے۔

مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں کیپٹن گلیا کہتے ہیں کہ "مہاتما گاندھی کہتے تھے کہ کسی معاشرے کی ترقی اس سماج کے کمزور شخص کی حالت سے سمجھی جاتی ہے اور ہمارے معاشرے میں سب سے کمزور بچے ہیں اور اگر ہم انہیں نہیں دیکھیں گے تو کون دیکھے گا۔ میں ان بچوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنا چاہتا ہوں۔ "