سامان کی حمل ونقل کی مارکٹ میں ترقی کے مواقع

0

’سوچئے کہ آپ کے پڑوس کا دروازہ گپتا چچا کا ہے ‘ان الفاظ نے میرے ذہن کو سینڈٹ ڈاٹ کام کی طرف متوجہ کردیا ۔دراصل ساز وسامان کے حمل ونقل کی sendit.in ایک آن لائن مارکٹ ہے ۔ آج کل اس شعبہ میں کئی نئی کمپنیاں قائم ہوگئی ہیں لیکن سینڈٹ کا دعویٰ ہے کہ وہ مارکٹ میں صرف گاڑیوں میں اضافہ کرنے پر نہیں بلکہ حمل ونقل کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیتی ہے ۔ سڑک پر طویل سفر کرنے والا کوئی بھی یہ جان سکتا ہے کہ ہائی وے پرٹرکس کی بھیڑ بھاڑکے بغیر سامان کی حمل نقل ممکن نہیں ہے ۔ بنگلورو سے دیوناگیری کے سفر کے دوران سڑکوں پر ٹرکس کے قافلے کے ایسے ہی منظر نے نوین باگریجا اور پونیت بی کے ذہن میںیہ نظریہ پیدا کیا کہ مانگ کرنے پر ٹرکس کی ضرورت اور اس مسئلہ کا ٹکنالوجی پر مبنی حل تلاش کیا جائے ۔اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے اپنے ایک دوست پنکچ سیسوڈیا کو شامل کرلیا اور تینوں نے درپن جین اور گورو کو بھی اپنی ٹیم میں شامل کیا۔

موجودہ صورتحال میں ضرورت مند افراد کو انفرادی طور پر ٹرک آپریٹرس سے رجوع ہونا پڑتا ہے ۔ اس معاملت میں بھروسہ‘ کرایہ اور کسٹمرس کا تجربہ وغیرہ جیسے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔دوسری طرف آپریٹرس کو آرڈر لینے کا کوئی مشترکہ مرکز یا سنٹر نہیں ہوتا ۔ لہذا تمام معاملت انفرادی طور پر انجام دی جاتی ہے ۔

درپن کا کہنا ہے کہ وسائل کے مناسب و بہتر استعمال کی آپریٹرس کے پاس زیادہ گنجائش نہیں ہوتی ۔سینڈٹ ٹیم کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ آپریٹرس کے لئے کوئی ایسا مشترکہ پلیٹ فارم نہیں ہے جہاں وہ ضرورت مند افراد کے ساتھ رابطہ قائم کرسکیں ۔اس صورتحال کے پیش نظر سینڈٹ ٹیم نے ٹرانسپورٹ آپریٹرس اور کسٹمرس کے درمیان پل کا کام کرنے کا منصوبہ تیار کیا ۔ اس ٹیم نے شہروں کے درمیان اشیاء و ساز وسامان کی حمل ونقل کے مسئلہ کا حل پیش کیا ۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے بڑی تعداد میں وہیکلس حاصل کئے اور مانگ کرنے کی بنیاد پر کام شروع کیا ۔سامان کی ایک شہر سے دوسرے شہر کو منتقلی کے لئے ضرورت مند افراد کو اب ایک ہی سنٹر سے وہیکل کی بکنگ کرنے کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔کسٹمرس کی ضرورتوں کے مطابق سامان کی حمل ونقل کے لئے انہیں قریب میں ہی وہیکل کا حصول ممکن ہوگیا ہے ۔سینڈٹ آن لائن کے ذریعہ ضرورت مند افرداد کوبروقت وہیکل کا حصول ‘ وہیکلز کی دستیاب کا تازہ ترین موقف ‘ قبل از وقت بکنگ وغیرہ جیسی سہولتیں آسانی کے ساتھ حاصل ہوگئیں ہیں۔

درپن نے بتا یا کہ وہ کسٹمرس کے اعتماد ‘ شرح کرایہ اور بھروسہ کا مکمل خیال رکھتے ہیں ۔سامان کی محفوظ انداز میں بروقت ڈیلیوری کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے ۔ ٹرانسپورٹ آپریٹرس کی حیثیت سے سامان کی حمل ونقل کے لئے وہ کسٹمرس کے منصوبوں کوروبعمل لانے میں بھی ان کی بھر پور مدد کرتے ہیں تاکہ کسی مخصوص علاقہ میں آرڈرس سے متعلق معلومات کی کمی کے باعث وہیکلس کو خالی چلانے کی ضرورت نہ پڑے۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سینڈٹ اس وقت بنگلورو اور پونے میں کارکرد ہے اورختم سال تک ملک کے کئی شہروں میں اس کے آغاز کا منصوبہ ہے ۔کسٹمرس اب وئب سائٹ‘ اینڈرائیڈ ایپ یا ٹیلی فون کال کے ذریعہ آرڈرس بک کرسکتے ہیں ۔ مناسب طور پر کسٹمرس کی تلاش اور انتطام کے لئے تمام آپریٹرس کے فون میں’ موبائیل کلائنٹ‘ موجود ہے ۔

سینڈٹ نے ایک وہیکل اور یومیہ چار تا پانچ کسٹمرس کے ساتھ اپنے کام کا ج کا آغاز کیا تھا اور آج اوسطاًچارسو روپئے ایک ٹرپ کے ساتھ روزآنہ 40تا 50معاملتیں انجام دی جاتی ہیں ۔یہ ٹیم اپنی کوششوں کے ذریعہ وہیکلس کی تعداد میں اضافہ‘ سرگرمیوں میں توسیع اور ٹکنالوجی کو بہتر بنانے کے لئے فنڈز حاصل کرنے کوشاں ہے۔

درپن کا کہنا ہے اگر کوئی لاجسٹک ٹرانسپورٹیشن ‘ وئیر ہاوزنگ ‘ والس اور فرائٹ فاروڈنگ کے ساتھ حمل ونقل کی مارکٹ میں ترقی اور اس پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تووہ ممکن ہے کیونکہ مارکٹ کا 61فیصد ٹرانسپورٹ یعنی حمل ونقل پر ہی مبنی ہے اور بیشتر صنعتیں اپنے بجٹ کا آدھے سے زیادہ اس کام پر خرچ کرنے کے طریقہ کو ختم کررہی ہیں ۔

درپن کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نشانہ میٹرو پولیٹن شہروں کے مراکز ہیں ۔ مجموعی طور پر 2019تک وہ 175بلین ڈالرکی صنعت کا نشانہ رکھتے ہیں ۔آپریٹرس کی صلاحیتوں اور کام میں اضافہ کے لئے باہمی رابطہ کافی اہمیت کا حامل ہے ۔کسی بھی کاروبار یا بزنس میں حمل ونقل کا کام غیر منظم اور بکھرا ہوا ہوتا ہے ۔لیکن ای کامرس اور مانگ کرنے پر خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے باعث تاجرین اور کسٹمرس سامان کی مزید منظم اور شفاف طریقہ کے علاوہ تیزی کے ساتھ ڈیلیوری چاہتے ہیں ۔ایک عارضی تخمینہ کے مطابق ہندوستان کے حمل ونقل کے شعبہ میں ٹکنالوجی کی مارکٹ 2بلین ڈالر ہے جبکہ جنوب مشرقی ایشیا او مشرق وسطیٰ جیسی دیگر مارکٹس میں اس کی لاگت اور بھی زیادہ ہے ۔ عالمی سطح پر اورین سافٹ وئیر‘ آن فلیٹ‘ برنگ‘ انفار‘ جے ڈی اے سافٹ ویئراور ایلیمنٹم جیسی کمپنیاں کافی مستحکم ہیں۔

قلمکار:سندھوکیشپ

مترجم:اکبر خاں