ذہنی طور پر کمزور بچوں کو خود کفیل بنانے والی ایک باہمت خاتون مدھو گپتا

 کئی والدین ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ایسے بچوں کو ٹی وی کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔ مدھو گپتا کے مطابق یہ کام بہت غلط ہے کیونکہ ایسے بچے غلط چیزوں سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان بچوں کو دوسرے کاموں میں لگایا جائے تاکہ ان کا دماغ غلط راستے پہ نہ جائے

1

مدھو گپتا کو جب پتہ چلا کہ ان کے بیٹے کو ڈاؤن سنڈروم ہے جس کی وجہ سے وہ فکری اور جسمانی طور پر کمزور ہے تو وہ ٹوٹی نہیں بلکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس قابل بنائیں گی کی وہ اپنا کام خود کر سکے۔ مدھو گپتا کی یہی ضد رنگ لائی اور آج وہ اپنے بیٹے کے علاوہ 46 لڑکے لڑکیوں کو خود کفیل بننا سیکھا رہی ہیں جو اس طرح کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

مدھو گپتا غازی آباد کے سبھاش نگر علاقے میں رہتی ہیں۔ ایم اے بی ایڈ تک کی تعلیم حاصل کرنے والی مدھو کو سال 1980 میں جب بیٹا ہوا تو وہ دوسرے بچوں کی طرح  نہیں تھا۔ اس سے ان کو اپنے بیٹےگورو کو بڑا کرنے میں کافی پریشانی ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں ،

 "گورونے 3 سال کی عمر میں بیٹھنا شروع کیا اور 5 سال کی عمر میں چلنا۔ وہ کچھ بھی کام اپنے آپ نہیں کر پاتا تھا۔ یہاں تک کی آج تک بھی اس کو بھوک کا احساس نہیں ہے۔ اسے جب تک کھانے کے لئے نہیں کہا جاتا وہ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا ہے۔ "

یہ وہ دور تھا جب ایسے بچوں کے لئے زیادہ سے زیادہ اسکول بھی نہیں ہوتے تھے۔ بہت کوششوں کے بعد انہیں ایک سرکاری اسکول ملا جو کہ ایسے ہی اسپیشل بچوں کے لئے تھا، لیکن وہاں پر بچوں کو بہت ہی خراب ماحول میں رکھا جاتا تھا۔ ایک دن جب وہ بچوں کو دیکھنے کے لئے اسکول پہنچی تو سب سے پہلے تو اسکول والوں نے بچوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی، لیکن کسی طرح جب وہ بچوں کی کلاس میں پہنچی تو وہاں کا نظارہ دیکھ ہکا بکا رہ گئی۔ وہاں پر بچوں نے کافی گندگی کی ہوئی تھی تو کوئی بچہ رو رہا تھا۔ ایسے ماحول میں وہاں پر صفائی اور دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ یہ نظارہ دیکھ انہوں نے ایسے اسکول میں اپنے بچے کا اندراج نہیں کیا۔

وقت کے ساتھ گورواب بڑا ہو رہا تھا اور کافی کوششوں کے بعد جب مدھو گپتا کو اپنے بیٹے کے لئے کوئی ٹھیک ٹھاک اسکول نہیں ملا تو انہوں فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی اسے پڑھانے کا کام کریں گی۔ تب تک گوروکی عمر 17 سال ہو گئی تھی۔ مدھو نے اپنے بچے کو پڑھانے سے پہلے ایک کورس کیا، تاکہ جان سکیں کہ ذہنی طور پر کمزور بچوں کو کیسے پڑھایا جا سکتا ہے۔ اس دوران انہوں نے جانا کہ ہر بچہ کامختلف علاج طریقوں سے کیا جاتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی جانا کہ اس میں کس طرح کی  پریشانیاں آتی ہیں۔ کافی معلومات جمع کرنے کے بعد مدھو گپتا نے جب ایسے بچوں کے لئے اسکول کھولنے کی کوشش کی تو ان کے شوہر نے ان کے اس فیصلے میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کا کہنا کہ ایک بچے کو سنبھالنے میں جب اتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کس طرح اور بچوں کو سنبھالا جا سکتا ہے۔  اس کے باوجود مدھو گپتا اپنے فیصلے پر قائم رہیں۔ اس طرح انہوں نے سال 2000 میں اپنے بیٹے کے ساتھ 5-6 دوسرے بچوں کو بھی پڑھانے کا کام شروع کیا۔ جن کی تعداد آج بڑھ کر 46 ہو گئی ہے۔ ان بچوں میں سے 15 لڑکیاں اور 31 لڑکے ہیں۔ ان سب کی عمر 2 سال سے 32 سال کے درمیان ہے۔ اپنے اس اسکول کو انہوں نام دیا ہے 'ایجوکیٹم اسپیشل اسکول'۔ یہ اسکول صبح 9 بجے سے دن کے 2 بجے تک چلتا ہے اور ہفتہ اور اتوار یہاں پر چھٹی ہوتی ہے۔

مدھوگپتا کہتی ہیں ،"ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بچے پاگل ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے اگر ان بچوں پر محنت کی جائے تو یہ بہت سے کام خود کرنے لگتے ہیں۔ جیسے کہ دروازہ کھولنا، مہمانوں کو پانی پلانا اور گھر کے دوسرے چھوٹے موٹے کام کرنا وغیرہ۔ "

اگرچہ کئی  والدین ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ایسے بچوں کو ٹی وی کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔ مدھو گپتا کے مطابق یہ کام بہت غلط ہے کیونکہ ایسے بچے غلط چیزوں سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان بچوں کو دوسرے کاموں میں لگایا جائے تاکہ ان کا دماغ غلط راستے پہ  نہ جائے۔ مدھو گپتا کے مطابق ذہنی طور پر کمزور بچوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ بچے صرف 5 کلاس تک کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں تو کچھ 8 ویں اور 10 ویں تک کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر اگر تھوڑا سا زیادہ توجہ دی جائے تو وہ 12 تک کی بھی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں۔ مدھو گپتا کا خیال ہے کہ ایسے بچوں کے ساتھ سب سے زیادہ دقت تب آتی ہے جب ان کے بھائی بہنوں کی شادی ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ بھی اپنے کو عام بچوں کی طرح ہی مانتے ہیں۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہوتی ہے کہ ان کا دماغ عام بچوں کہ طرح نہیں ہوتا۔

انہی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے مدھو گپتا ان بچوں کو تین طرح  سےتعلیم یافتہ بنانے کا کام کرتی ہیں- ایجوکیشنل، ووکیشنل اور ڈومیسٹكل۔ ان بچوں کو ان کے آئی کیو کے حساب سے پڑھایا جاتا ہے۔ اس لیے بچوں کے اندراج کے وقت سب سے پہلے ان کا اسیسمیٹ کیا جاتا ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے بچے اپنے روزمرہ کے کام خود کر سکیں۔ تاکہ جب کبھی ان کی ماں بیمار ہو تو یہ بچچے گھر کے چھوٹے موٹے کام خود ہی کر سکیں۔ وہ کہتی ہے کہ محنت کرنے پر ان بچوں پر اس کا اثر دکھائی دیتا ہے۔

اس اسکول کو چلانے کے لئےمدھو گپتا کو کہیں سے کوئی مالی مدد نہیں ملتی ہے، اس لیے وہ مانتی ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ جو کام  ہونا چاہئے وہ ہفتے میں صرف تین دن ہی ہوپاتا ہے۔ ان کے اسکول میں اسپیچ تھریپي اور سائكولاجسٹ کی خاص سہولت دستیاب ہے۔ تاہم وہ یہ بچوں کو روز دستیاب نہیں کرا پاتی ہیں،مدھو گپتا کا کہنا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں اس کام کو کرتی رہیں گی بھلے ہی ان کے سامنے کتنے ہی چیلنجز کیوں نہ آئے۔