ایک ناخواندہ ادیواسی نےکیا بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا عزم

0

ادی واسی بچوں کے لئے اسکول اور اقامت گاہ کا کِیا نظم

طلباء کو مفت میں دیتے ہیں تعلیم

111 بچوں کا ذمہ اکیلے اُٹھارہےہیں

ایک دن بھیل وِچان بھائی بس سے کہیں سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے کنڈکٹر کو دس روپئے کا نوٹ دے کر اس سے آٹھ روپئے کا ٹکٹ مانگا تو کنڈکٹر نے ان کو ٹکٹ تو آٹھ روپئے کا ہی دیا لیکن انہیں دو روپئے واپس نہیں کئے۔ ایسا صرف ان کے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ بس میں سفر کر رہے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ہوا۔ حالانکہ وِچان بھائی مکمل طور پر نا خواندہ تھے لیکن تھوڑا بہت حساب کتاب تو وہ جانتے ہی تھے۔ اس لئے انہوں نے کنڈکٹر سے دو روپئے واپس مانگے ۔ ان کا دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی کنڈکٹر سے دو روپئے واپس مانگنے لگے۔ تب وِچان بھائی نے سوچا کہ اگر یہاں کے لوگ پڑھے لکھے ہوتے تو اس طرح کوئی بھی ان کے ساتھ دھوکا دھڑی نہیں کر سکتا تھا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنے علاقے میں ایسا اسکول شروع کرنے کا فیصلہ کیا جہاں بچے تعلیم حاصل کرسکیں تاکہ انہیں ان پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے جیسا وِچان بھائی جیسے نا خواندہ لوگوں کو کر نا پڑتا ہے۔

وِچان بھائی گجرات کے وڈودرا ضلع کے ایک ادی واسی گاؤں پِستیا میں رہتےہیں۔ کچھ برس قبل تک ان کے گاؤں کے زیادہ تر لوگ ناخواندہ ہی تھے اور آس پاس کوئی ایسا اسکول بھی نہیں تھا جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاسکیں۔ اس لئے آس پاس کے بچے گاؤں کی ندی میں مچھلی پکڑتے تھے یا پھر سارا سارا دن بے کار اِدھر اُدھر گھوما کرتے تھے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے وِچان بھائی نے سوچا کہ اگر گاؤں میں اسکول ہوگا تو یہ بچے اس طرح اپنا اور اپنےوالدین کا وقت برباد نہیں کریں گے اور پڑھ لکھ کر کچھ بن سکیں گے۔ اس مسئلے کا دوسرا پہلو یہ بھی تھا کہ زیادہ تر لوگ مزدوری کرنے کے لئے سوراشٹر کے علاقے میں چلے جاتے تھے جہاں وہ تقریباً چھ مہینے تک رہتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ مزدوری کرنے چلے جاتے تھے۔

وِچان بھائی کا کہنا ہے،"میں نے سوچا کہ اگر مزدوری کرنے والے لوگوں کے بچے میرے ساتھ رہیں گے تو یہاں رہ کر پڑھائی کر سکیں گے جب کہ ان کے والدین مزدوری کرکے اچھی طرح اپنا روزگار سنبھال سکتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے 2005 میں اقامت گاہ یعنی ہاسٹل شروع کیا اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں ان کے بچوں کو اپنے پاس ، اپنے ہاسٹل میں رکھنا چاہتا ہوں جہاں رہ کر بچے پڑھ سکیں گے، کھیل سکیں گے، گھوم سکیں گے۔" انہوں نے بھروسہ دلایا کہ اس دوران اگر کبھی بچے کی طبیعت خراب ہوئی تو فون کے ذریعے وہ ان سے رابطہ قائم کریں گے۔ اس طرح ابتداء میں انہوں نے 17 بچوں کو اپنے پاس رکھا جن کے رہنے اور کھانے کا انتظام انہوں نے اپنی جانب سے کیا۔

آج وِچان بھائی ان 111 بچوں کی نہ صرف دیکھ بھال کر رہے ہیں بلکہ ان کو پڑھانے لکھانے کی ذمہ داری بھی نبھارہے ہیں۔ ان بچوں میں 35 لڑکیاں اور 75 لڑکے ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی ایسے ادیواسی بچے بھی ہیں جو یتیم ہیں اور ان کے پاس زراعت کے لئے زمین بھی نہیں ہے۔ جب انہوں نے اپنے کام کی شروعات کی تو انہوں نے ایسے بہت سارے بچوں کا نہ صر ف تحتانوی اسکول میں داخلہ کروایا بلکہ ان کے رہنے اور کھانے پینے کا انتظام بھی کیا۔ حالانکہ خود ان کے گھر کی معاشی حالت بھی بہت اچھی نہیں تھی کیوںکہ وہ بھی زراعت کے پیشے سے ہی وابستہ تھے اس کے باوجود بچوں کے کھانے پینے کے لئے وہ لوگوں سے مانگ کر گزارہ کرتے تھے۔ اس طرح کوئی انہیں مکئی دے دیتا تو کوئی دال دے دیتا۔ یہی اشیاء وہ بچوں کو پکاکر کھِلاتے۔

ایک خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے ابتداء میں اپنے ہی مکان میں اس کام کی شروعات کی۔ دھیرے دھیرے انہوں نے بچوں کی سہولت کے لئے اسکول بھی شروع کیا۔ آج ان کے اسکول میں پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے رہنے کے لئے دو عمارتیں ہیں جس کو انہوں نے نام دیا ہے 'شری رام لیلا چھاترالے'۔ ان میں سے ایک عمارت میں لڑکیاں رہتی ہیں اور دوسری عمارت میں لڑکے رہتے ہیں۔ پڑھائی کے لئے علیحدہ شیڈ کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جب کوئی بچہ زیادہ بیمار ہوجاتا ہے تو اس کے علاج کے لئے وِچان بھائی اسے قریب کے ایک سرکاری دواخانے میں لے جاتے ہیں۔ ان کا اسکول صبح 10 بچے شروع ہوتا ہے اور شام 5 بجے تک چلتا ہے۔

وِچان بھائی کے مطابق وہ اس اسکول کو لوگوں کے عطیات کی مدد سے چلاتے ہیں۔ ایسے میں کئی مرتبہ انہیں معاشی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان کے خاندان میں والدین کے علاوہ ان کی بیوی اور دو لڑکے ہیں جو وِچان بھائی کےکام میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا مکیش نے بی۔ایڈ تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتا ہے اور بچوں کو اسکول میں پڑھاتا ہے۔ مکیش کا کہنا ہے ،"میرے والد کا خواب ہے کہ وہ ادیواسی بچوں کی دیکھ بھال کریں اور میں ان کے خوابوں کو شرمندہء تعبیر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ان کا بیٹا ہونے کے ناطے یہ کام اگر میں نہیں کروں گا تو پھر دوسرا کون کرے گا؟" ان کا دوسرا بیٹا دہم جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔

'شری رام لیلا چھاترالے' میں کمپیوٹر اور کتب خانے کا بھی انتظام ہے۔ ان کے اسکول اور ہاسٹل کا ماحول طلباء کو اتنا پسند ہے کہ جب ان کے والدین مزدوری کرکے گاؤں واپس آتے ہیں تو یہ بچے اپنے والدین کے پاس زیادہ وقت تک نہیں رُکتے بلکہ اسکول اور ہاسٹل میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ دوسری جانب یہاں کے ادیواسی لوگ بھی اب زیادہ سمجھدار ہوگئے ہیں اس لئے وہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا بچہ ہاسٹل میں رہ کر ہی اچھی تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں پڑھنے والے نہ صرف مفت میں تعلیم حاصل کر تے ہیں بلکہ ان کو کتابیں اور یونیفارم بھی مفت میں دئے جاتے ہیں۔ وِچان بھائی کا کہنا ہے کہ "یہ کام میں یہ سوچ کر کر رہا ہوں کہ شائد یہ کام باہر کا کائی دوسرا شخص نہ کرسکے اس لئے مجھے ہی یہ کام کرنا ہوگا۔"

تحریر : ہریش بِشٹ

مترجم: خان حسنین عاقبؔ

Story : Harish Bisht

Translator : Khan Hasnain Aaqib