فُٹ پینٹر شیلا کے حوصلوں نے لکھی کامیابی کی نئی عبارت

"منزل انہی کو ملتی ہے جن کے سپنوں میں جان ہوتی ہے،پنکھ سے کچھ نہیں ہوتا، حوصلوں سے پرواز ہوتی ہے! "

0

اکثر لوگ اپنی زندگی میں آئے طوفانوں سے گھبراکر  بکھر جاتے ہیں، یا تو وہ گمنامی کے اندھیروں میں چھپ جاتے ہیں یا پھر کہیں کسی روز اپنی کوتاہیوں کا رونا روتے ہوئے  اپنی ہمت اور قوت ارادی پر مٹی ڈال دیتے ہیں۔ ملتی، لیکن  شیلا نے ایسا نہیں کیا ، وہ جانتی  تھی  کہ جنہیں ہمارا معاشرہ جسمانی کمیاں کہتا ہے وہ اصل میں دماغ کا وہم ہے۔ وہ جانتی ہے کہ زندگی  کی تصویر  کو رنگنے کے لئے تھوڑا سا رنگ آسمان سے اور تھوڑا سا رنگ زمین سے چرانا پڑتا ہے۔ شیلا کے آسمانی اور زمینی رنگ نے ایک ساتھ مل کر  نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے  ساتھ ان سب کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے جو حالات سے ڈر کر جینے کا حوصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ايئے جانیں اس شیلا کے بارے میں جنہوں نے اپنی کامیابی کی عبارت رنگین کینواس پر لکھ دی ہے۔

"شیلا نے کم عمر میں ایک ریل حادثے کے دوران اپنے دونوں ہاتھ اور پاؤں کی تین انگلیاں کھو دیں۔ اس حادثے نے شیلا سے اس کی ماں کو بھی چھین لیا۔ ایک چھوٹی سی بچی کے لئے بہت مشکل تھا بغیر ماں اور اپنے دونوں ہاتھوں کے بغیر زندگی گزارنا لیکن شیلا نے ہار نہیں مانی۔ "

شیلا شرما ویسے تو گورکھپور کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن ان کا نام لکھنؤ جیسے شہر میں بھی نیا نہیں ہے۔ لکھنؤ کے زیادہ تر لوگ شیلا کے فن اور ان حوصلوں کے شیدائی  ہیں۔ شیلا پیشے سے ایک پینٹر  ہے ۔ وہ اپنے پیروں سے پینٹنگ بناتی ہیں۔ پینٹگ ایسی کہ لوگ ہاتھوں سے بھی ویسی پینٹنگ نہیں بنا سکتے۔

شیلا جب چھوٹی تھیں تو انہوں نے ایک ریل حادثے میں اپنی ماں اور اپنے دونوں ہاتھ کھو دیے تھے۔ یہ ایسا ریل حادثہ تھا جس میں ان دونوں ہاتھوں کے ساتھ ساتھ پاؤں کی تین اگليا بھی کٹ گئیں۔ اس کے بعد جیسے جیسے شیلا کی عمر بڑھتی گئی ان کا حوصلہ بھی بڑھتا گیا اور اپنے انہی حوصلوں سے انہوں نے رنگو ں سے کھیلنا شروع کر دیا۔ آگے چل کر شیلا نے لکھنؤ یونیورسٹی سے آرٹس میں  گریجویشن کیا اور پیروں سے پینٹنگ بنانی شروع کر دی۔ شیلا پینٹنگ کرتے وقت اپنے پاؤں اور منہ دونوں کا استعمال کرتی ہیں۔ شیلا کچھ دن دہلی میں بھی رہیں اور وہاں کے رہن سہن اور فنکاروں کی صلاحیت دیکھ کر متاثر ہوئیں۔ بدلتے ہوئے ماحول اور شہروں نے ان کے حوصلوں کو نیا آسمان دیا۔

لیکن پھر بھی دہلی میں دل نہیں لگا اور وہ اپنے شہر لکھنؤ واپس لوٹ آئیں۔ یہاں آکر ان کی ملاقات سدھیر سے ہوئی اور سدھیر-شیلا کی شادی ہو گئی۔ شیلا شادی کے بعد بھی اپنے رنگوں سے دور نہیں ہوئیں ساتھ ہی سدھیر کے حوصلہ افزائی کی اور ساتھ نے ان کے فن کو نکھارنے  کا ہی کام کیا۔ وہ رنگوں اور برش کو اپنی اگليو میں دبائے آگے بڑھتی رہیں۔ ساتھ ہی شیلا نے خاندان کی ذمہ داریوں کو بھی پوری ایمانداری سے نبھایا، پھر بات چاہے کچن میں کھانا بنانے کی ہو یا پھر کورے کاغذوں میں رنگ بھرنے کی۔

"شیلا کے فن کا مظاہرہ کئی شہروں میں  لگی نمائشو ں میں ہو چکا ہے ، جن میں لکھنؤ، دہلی، ممبئی اور بنگلور جیسے شہر بھی شامل ہیں۔"

شیلا ایک بہادر خاتون ہیں اور حالات سے کس طرح لڑنا ہے یہ انہیں بہت اچھے سے آتا ہے۔ اپنی اسی ضد کی وجہ سے شیلا نے کبھی کسی بھی سرکاری مدد کا سہارا نہیں لیا۔ ان کے لئے معذوری نہ ہی کوئی لعنت ہے اور نہ ہی ایسی کوئی کمی کہ اس آڑ لے کر اپنی ضرورتوں کو آسانی سے مکمل کیا جا سکے۔ شیلا دو بچوں کی ماں ہیں۔ بچوں کو بھی ان کی طرح پینٹنگ کا شوق ہے۔ شیلا اپنے خاندان اور کام میں ہم آہنگی بنا کر چلتی ہیں۔ ان کے لئے ان کے فن عبادت ہے اور خاندان ان کی زندگی۔ دونوں کے بغیر رہ پانا مشکل ہے اور ساتھ لے کر چلنا اسانا۔

 شیلا کی مسلسل محنت اور لگن کا ہی نتیجہ ہے کہ شیلا متعدد ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں۔ ان کے جاننے والے انہیں فٹ پینٹر کے نام سے پکارتے ہیں۔ شیلا کو قدرتی  مناظر اور عورتوں کی پینٹنگ بنانا اچھا لگتا ہے۔

شیلا کا خواب ہے، کہ وہ ایسے بچوں کو پینٹنگ سكھائے جو ان کی ہی طرح کسی نہ کسی حادثے کی وجہ سے اپنے ہاتھ یا پاؤں گنوا چکے ہیں۔ لیکن یہ کام وہ پیسوں اور کسی این جی او کے تحت نہیں کرنا چاہتیں۔

شیلا کا خیال ہے کہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ ہر کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہاتھ پاؤں اور طاقت کی ضرورت نہیں ہے بس دماغ اور مثبت سوچ کا ہونا ضروری ہے۔ شاید اسی لیے کسی نے سچ ہی کہا ہے، کہ آرٹ کبھی جسم کے اعضاء کا محتاج نہیں ہوتا۔ اسے تو صرف ایک دھن درکار ہوتی ہے، جو اس کے جنون میں حوصلہ بھر نےکا کام کریں۔

تحریر - دیپا شریواستو