چھپی آوازوں کو کان دینے والے فنکار کلدیپ ساگر

0


کلدیپ ساگر حکومت ہند کے اطلاعات و نشریات کی وزارت کے تحت کام کرنے والے گیت اور ڈرامہ ڈویژن کے صوبائی مینیجرہیں۔ لیکن ان دنوں وہ لوگوں میں چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے نیا کام کر رہے ہیں۔ خصوصاْ وہ لوگ جو زندگی کے اس دور سے گزر چکے ہوتے ہیں، جہاں شوق کو شوق سے آزمایا جاتا ہے، انہیں پھر ایک موقع دے رہے ہیں۔ کلدیپ 'نے میک می سنگھ ' کے عنوان سے گزشتہ سال ایک شاندار پروام کیا تھا، اس سال بھی وہ اس پروگرام کی تیاری کر رہے ہیں۔ پچھلی بار اس پروگرام میں 33 افراد نے حصہ لیا تھا، اس بار بھی انہیں امید ہے کہ اس سے ذیادہ لوگوں کا انتخاب ہوگا۔

کلدیپ ساگار کا ماننا ہے کہ دنیا میں موسیقی کے نام پر سبھی مزاہب کے لوگ ایک ہو جاتے ہیں، اسی لئے یہ فن انہیں اچھا لگتا ہے، وہ کہتے ہیں،

میں نہ ہندو نہ مسلمان مجھے جینے دو

دوستی ہے میرا ایمان مجھے جینے دو

قابل ذکر ہے کہ حکومت ہند کے اطلاعات و نشریات کی وزارت کے تحت کئی ڈویژن حکومت کی اسکیموں کے نشریات کے لئے کام کرتے ہیں۔ ان میں گیت اور ڈرامہ ڈویژن کا کافی اہم رول ہوتا ہے۔ کلدیپ ساگر حیدرآباد میں اس کے صوبائی مینیجر ہیں۔ چنئی میں سروس کے چند سال کو چھوڑ دیا جائے توتقریباً 12 سال سے حیدرآباد میں برسر خدمت ہیں۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اور غزل گائیکی میں ان کا نام ہے۔ اس کے لئے کافی ایوارڑ انہیں ملے ہیں۔ ڈرامہ، سیریل،، ٹیلی فلمیں، اشتہاری فلموں، ساونڈ اینڈ لائٹ شو، آڈیوالبم سمیت درجنوں کام ان کی کامیابیوں میں شامل ہے۔ بالخصوص چنئی میں آلاپ سنگیت اکیڈمی کے قیام میں ان کا اہم رول رہا ہے، اس کے باوجود ایک مرکزی حکومت کے عہددار کے طور پر بھی انہوں نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چنئی کی اکیڈمی میں ان دنوں تقریبا 70 طالب علم گائیکی اور طبلہ سیکھ رہے ہیں۔

کلدیپ کی پیدائش 5 جون 1970 کو مدھیہ پردیش کے آملا گاؤں میں ہوئی۔ وہ حکومت ہند کی سروس میں آنے سے پہلے خانگی اور سرکاری اسکولوں میں استاد کے علاوہ ریلوے میں افسر تعلقات عامہ کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ موسیقی کے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں مانتے، بلکہ ان کا یقین ہے کہ موسیقی سے روزگار، سماجی اصلاح اور منصوبوں کی تشہیر سمیت کئی طرح کے کام لئے جا سکتے ہیں

کلدیپ اپنے اپتدائی دنوں کے بارے میں بتاتے ہیں،

''کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔ بركت اهلی یونیورسٹی بھوپال سے ہندی میں اور اندرا سنگیت کالج خیراگڑھ سے موسیقی میں ماسٹرز کی ڈگرياں حاصل کرنے کے بعد میں نے پہلے ایک خانگی اسکول اور پھر بعد میں مرکزی حکومت کے اسکول میں موسیقی کے استاد کے طور میں کام کیا۔ کچھ دن تک کام کرنے کے بعد لگا کہ دل نہیں لگ رہا ہے۔ کچھ مختلف کرنے کی پیاس نہیں بجھ رہی ہے۔ ریلوے کی امتحان لکھے اور موسیقی کے کوٹے میں پی آر او افسر کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔ یہاں بھی کچھ دن کام کرنے کے بعد مجھے لگا کہ یہاں میرے کرنے لائق کچھ نہیں ہے۔ پھر یو پی ایس سی کی امتحان کی تیاری کی اور حکومت ہند کے اطلاعات و نشریات کی وزارت میں تقرری ہوئی۔ گیت کی اور ڈرامہ ڈویژن دہلی میں کچھ دن کام کرنے کے بعد میرا تبادلہ حیدرآباد ہوا۔ یہاں آنے کے بعد مجھے لگا کہ یہی کام میرے لئے رکھا ہوا تھا، جہاں کافی کچھ کر دکھانے امکانات ہیں۔''

حکومت ہند کے اطلاعات و نشریات کی وزارت میں آل انڈیا ریڈیو، دور درشن، پریس انفارمیشن بیورو سمیت کئی ڈویژن آپ اپنے علاقے میں کام کر رہے ہیں۔ یہاں سرکاری اسکیموں، منصوبوں اور حکومت کی رہنمائی کے مطابق عوامی بیداری لانے کے لئے کئی قسم کے پروگرام بنائے جاتے ہیں۔ یہاں اپنے کام کے بارے میں کلدیپ کہتے ہیں،

''ہمارے پاس موضوع حکومت کی طرف سے منتخب کیا جاتا ہے اور پروگرام ہم بنانے ہیں۔ بچہ مزدوری کا خاتمہ ، ملک و قوم کی تعمیر، انسانی حقوق پر بیداری، صحت بیداری، سوچھ بھارت جیسے موضوعات پر کئی سارے پروگرام بنائے۔ ملیریا، ایڈز، ٹائیفائیڈ جیسی بیماریوں پر بیداری لانے کے لئے گیت اور ڈرامہ بنائے۔ بالخصوص بہت سارے پروگرام مقامی لوگوں کے لئے بنائے، جس میں موسیقی اور ڈرامہ کے عناصر پر کافی محنت کی گئی۔ جہاں تک اطمینان کی بات ہے، یہاں سافٹویئر اہلکار کی طرح 9 سے پانچ یا 2 سے 10 کی نوکری نہیں ہوتی۔ کسی موضوع پر کام شروع ہو جائے تو پھر اس کے پورے ہونے تک لگے رہنا پڑتا ہے۔ اس پرغور و فکر کرنا، فنکاروں کا انتخاب، ان کی تربیت اور پھر مختلف علاقوں میں اس پروگرام کو منعقد کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں دل لگا اور ہر دن اطمینان کے نئی نئی وجوہات بھی۔''

اس کام میں چالنج کے بارے میں کلدیپ بتاتے ہیں کہ سب سے پہلے تو ایک افسر کے طور پر حکومت کی منصوبہ بندی کو سمجھنا ہے۔ بالخصوص نئے پروگراموں کو سمجھنا اور اس کے لئے اپنے طور طریقوں سے تشہیر پراس کے منصوبے بنانا اہم کام ہے۔ کیونکہ بعد کے سارے پروگرام اسی تفہیم پر مبنی ہیں۔ کئی بار اس موضوع کو سمجھنے کے بعد بھی اس پر منصوبہ بندی میں کافی دقتیں آتی ہیں۔ ایڈز پر پروگرام بنانے کی بات آئی تو اس پر بہت زیادہ کام کرنا پڑا، لیکن جب پروگرام بنا تو ریاستی حکومت کو بھی پسند آیا اور حکومت کے ساتھ مل کر ہم نے 700 شو کئے۔ میں نے ان پروگراموں کی بیداری لانے کا مقصد مقامی فنکاروں کا تعاون لیا۔

ایک عہددار کے طور پر اپنی کامیابیوں کے بارے میں کلدیپ بتاتے ہیں،

''گیت اور ڈرامہ ڈویژن کے پروگراموں کے لئے میں جنوبی ہندوستان کے کئی گاوں تک پہنچا ہوں۔ملک و قوم کی تعمیر کے موضوع پر 200 سے زائد شو کئے۔ سوچھ بھارت کے موضوع پر 50 شو کئے گئے۔ قومی اتحاد پر کیےپروگراموں کی کوئی گنتی نہیں ہے۔ ڈویژن کے ساتھ 25 سے 30 آرٹسٹ ہوتے ہیں۔ جب بڑا پروگرام کرنا ہوتا ہے تو 400 سے 500 فنکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے مقامی صلاحیتوں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ آڈیشن لئے جاتے ہیں۔ ''

نئ نسل کے نوجوانوں کے لئے اپنے پیغام میں وہ کہتے ہیں،

''میں موسیقی کے میدان سے ہوں تو کہنا چاہوں گا کہ موسیقی کو صرف تفریح کے لیے سکون کے درشٹ سے دیکھ کر نہ سیکھیں، بلکہ نئے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ روزگار کے لئے بھی بہتر میدان ہے۔ سرکاری ملازمتوں کی امکانات بھی کافی ہیں۔ خود میں نے پورے اعتماد کے ساتھ چار جابس چھوڑی ہیں اور حکومت ہند کی نوکری اپنانے کرموسیقی کا ہی کام کر رہا ہوں۔''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem