تعلیم کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کر رہی ہے 'ودیا'

0

رشمی مشرا نے 'ودیا' نامی تنظیم کی بنیاد ڈالیتبدیلی میں'ودیا' کا فعال کردار:

تعلیم سے محروم لوگوں کے لئے کام کرتی ہے 'ودیا'

دہلی ، ممبئی اور بنگلور میں 'ودیا' نہایت فعال

تقریباً دو لاکھ بچوں، نوجوانوں اور خواتین کی زندگیوں کو اپنی حساسیت کےلمس سے راحت پہنچانے میں مصروف 'ودیا'۔۔۔

"کسی کام کی شروعات ہمیں اکیلے کرنی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سرمایہ کا انتظام کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن ہندوستان کی جھُگی بستیوں میں ایک کاروباری کے روپ میں کام کرنا سب سے مشکل کام ہے۔"

یہ 1985 کی بات ہے جب ایک مرتبہ رشمی مشرا نے آئی آئی ٹی کیمپس سے باہری کنارے پر پانچ لڑکیوں کو کیچڑ میں کھیلتے دیکھا۔وہ ہندوستانی تعلیمی نظام میں موجود دراڑوں کو دیکھ کر دم بخود رہ گئیں۔ ہندوستان کے سب سے جانے مانے تعلیمی ادارے کے عین بغل میں رہنے والی ان لڑکیوں کے پاس معمولی تعلیم پانے کا بھی موقع نہیں تھا۔ رشمی نے اسی وقت اپنی زندگی میں ایسا کچھ کرنے کا فیصلہ کیا جو ان بچوں کی زندگی میں کچھ تبدیلی لاسکے۔ انہوں نے اس کام کے لئے اپنے گھر کے دروازے کھول دئے۔ ایک چھوٹی سی ہمدردانہ کشش سے پیدا ہونے والی ایک پہل نے خود اپنی توسیع کرتے ہوئے اب تک دہلی، ممبئی اور بنگلور میں تقریباً دو لاکھ بچوں، نوجوانوں اور خواتین کو اپنی حساسیت کے لمس سے راحت پہنچائی ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے لیڈی شری رام کالج کی گریجویٹ، رقص کا شوق رکھنے والی دو بچوں کی ماں اور ایک بچے کی دادی رشمی مشرا کو نوجوانوں اور پختہ عمر لوگوں کے ہمہ جہت ارتقاء کے لئے قائم 'ودیا' نامی غیر سرکاری تنظیم کی بانی اور صدر کے شکل میں زیادہ جانا جاتا ہے۔ پانچ بچوں کو لے کر اپنے گھر سے اس کام کی شروعات کرنے والی رشمی مشرا نے بعد میں کچھ رضاکاروں کی مدد سے مقامی جھونپڑپٹی کے بچوں کے لئے غیر رسمی جماعتیں شروع کیں اور پھر 2010 میں 'ودیا' کا اولین اسکول شروع کیا۔ دہلی سے لگے گُڑگاؤں میں 5 ایکڑ زمین پر پھیلے اس اسکول میں 1000 طلباء کی تدریس کا انتظام ہے اوروہ اقل ترین خرچ پر غریب اور محروم خاندان کے بچوں کو ہمہ جہت تعلیم مہیا کروارہی ہیں۔

28 برسوں کا تجربہ رکھنے والی تنظیم 'ودیا' مختلف پروگرامس کے ذریعے غریب بچوں کو تعلیم یافتہ اور اہل بنانے کی سمت سخت محنت کرتی ہے۔ یہ پروگرامس خصوصی طور پر تعلیم سے مربوط ہوتے ہیں لیکن تعلیم تک ہی محدود نہیں ہوتے بلکہ بچوں کو اپنے پیروں پر کھڑاہونے اور مستقبل میں ان کی زندگی میں کریئر کے انتخاب کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ 'ودیا' انگریزی اور کمپیوٹرس میں بنیادی خواندگی کے پروگرامس دیگر تربیتی پروگرامس کا اہتمام کرتی ہے اور خواتین کی صحت، حقوقِ خواتین، ماحولیات وغیرہ جیسے موضوعات کو مربوط کرنے پر زور دیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم تعلیمِ بالغاں سے متعلق پروگرامس کا بھی اہتمام کرتی ہے۔ این جی پی کے ذریعے شروع کئے گئے نوجوان۔انتظامیہ پروگرامس کے تحت اپنی تعلیم کو ادھوراچھوڑ دینے والے نوجوانوں کےلئے کمپیوٹرخواندگی، انگریزی بات چیت اور لائف اسکِل جیسے موضوعات پر خصوصی تربیتی کلاسوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ وہ باقاعدہ جماعتوں میں ان طلباء کی بھی مدد کرتے ہیں جو براہِ راست 8ویں، 10 ویں اور 12 ویں جماعتوں کے امتحانات دینا چاہتے ہیں۔

خواتین کو خود اعتماد بنانے میں ان کی مدد کرکے 'ودیا' انہیں با اختیار تو بناتی ہی ہے ، ساتھ ہی ساتھ ضرورت مند خواتین کو مہارتوں کی تر بیت، خورد اقتصادیات اور خورد قرض کی سہولتیں فراہم کرکے ان کی تربیت اس طرح کرتی ہے کہ وہ خود اپنی روٹی روزی کماسکیں۔ یہ غیر سرکاری تنظیم سماجی کاروبار کو فروغ دیتے ہوئے انہیں دستکاری کی تربیت بھی دیتی ہے اور ان کی تیار کردہ اشیاء کی فروخت کا اہتمام بھی کرتی ہے۔ وہ ممبئی میں ایک کینٹین بھی چلاتے ہیں اور خوردہ اور منظم کارپوریشنس کے ملازمین کے لئے کھانے کی فراہمی کا انتظام بھی کرتے ہیں۔

رشمی کی داستانِ حیات:

جب رشمی کو احساس ہوا کہ بچوں میں پڑھنے لکھنے کی بھوک ہوتی تو ہے مگر انہیں حصولِ تعلیم کے مواقع اور ذرائع دستیاب نہیں ہوپاتے تو انہوں نے آسٹریا کے سفارت خانے میں اپنی ملازمت چھوڑدی اور تعلیم دینے کو ہی اپنا مقصدِ حیات بناتے ہوئے 'ودیا' کی شروعات کی۔ وہ جھونپڑ پٹیوں میں گئیں اور وہاں رہنے والے بچوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا اور انہیں تعلیم یافتہ بنایا۔ اپنے سفر میں وہ ہم خیال لوگوں اور رضاکاروں کو اپنے ساتھ وابستہ کرنے میں کامیاب رہیں ۔ آج ان کی تنظیم میں 350 سے زیادہ باقاعدہ ملازمین ہیں اور 5000 سے زیادہ رضاکار ہیں۔

'ودیا' اور سماجی خدمات کے اس سفر کے تعلق سے نامو کینی سے ہوئی بات چیت میں انہوں نے بتایا ،"سرمایہ اکٹھا کرنا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ شروع میں جب لوگ انکار کر دیتے تھے تو مجھے بڑی شرمندگی ہوتی تھی۔ کسی سے پیسہ مانگنا بھی ایک فن ہے۔ آخر آپ اپنے لئے نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لئے مانگ رہے ہیں۔" وہ مدر ٹیریسا کی کہانی سناتی ہیں کہ کیسے وہ چینئی کے ایک رئیس بیوپاری کے پاس گئیں اور ایک گھنٹے تک اس کے آنے کا انتظارکرتی رہیں اور جب وہ بیوپاری آیا تو اس نے انہیں دھتکار کر بھگادیا بلکہ ان پر تھوک دیا۔ لیکن انہوں نےہمت ہارے بغیر بیوپاری سے کہا،"یہ (تھوک) میرے لئے تھا، اب میرے بچوں کے لئے بھی کچھ دیجئے۔"رشمی مدر ٹیریسا سے بہت متاثر ہیں۔ جب بھی انہیں سرمایہ حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ مدر ٹیریسا کی اس کہانی کو یاد کرتی ہیں۔

'ودیا' کی مدد سے زندگی میں کامیابی حاصل کرنے والوں کی کہانیاں سناتے ہوئے وہ بہت فخر محسوس کرتی ہیں اور اس کا سہرا اپنی ٹیم اور اپنے رضاکاروں کے سر باندھتی ہیں۔ ہر کامیاب شخص کی کہانی سناتے ہوئے ان کی آنکھوں میں چمک آجاتی ہے اور ہمیں پتا چلتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اور 'ودیا' کے کام کے ساتھ ان کی وابستگی کتنی گہری ہے۔

جب نیلم کے شوہر کا انتقال ہوا تب اس پر تین تین بچوں کی پرورش کا بوجھ آن پڑا تھا۔ 'ودیا' کی مدد سے اس نے بنیادی تعلیم حاصل کی، دستکاری سیکھی اور 3000 روپئے کا قرض حاصل کرکے اپنا ذاتی دستکاری کا کاروبار شروع کیا۔ اس کے بچوں نے کالج کی تعلیم مکمل کی اور آج نیلم اپنے چھوٹے سے کاروبار کے ذریعے 300 لڑکیوں کو روزگار فراہم کروارہی ہیں۔ اس کا ارادہ مستقبل میں مزید کئی خواتین کو با اختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔

کئی برس قبل ہماچل پردیش کے کنور ضلع کے کسی گاؤں کا ایک بچہ جو پانچویں جماعت میں زیرِ تعلییم تھا، گھر سے بھاگ کر ان کے پاس آیا اور بولا،"کیا آپ مجھے انجینئر بنادیں گی؟ میں پانچویں پاس ہوں۔" رشمی اسے یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس کا نام بھدرسین نیگی ہے اور انجینئر بن کر آج وہ لاس اینجلیس، امریکہ میں ملازمت کرتا ہے۔ 'ودیا' کی مدد سے وہ آج بھی 'ودیا' کے خواب کو دل میں بسائے ہوئے ہےاور مسلسل کوشش کرتا ہے کہ کنور ضلع کا کوئی بھی بچہ غیرتعلیم یافتہ نہ رہے۔

اسی طرح 'ودیا' نے وتسلا کی زندگی کا رُخ بدلنے میں فعال کردار ادا کیا۔ وتسلا پہلے دس دس گھروں میں برتن مانجھنے کا کام کرتی تھی لیکن 'ودیا' کے بنگلور میں قائم مرکز کے ذریعے اسے دی گئی انگریزی کی تعلییم کی بدولت آج وہ ایک اسپتال میں رسیپشنسٹ ہے۔ ایک اور لڑکی ممتا پولیو سے متاثر تھی اور اپنی جھونپڑ پٹی کے علاقے میں حقارت کی نظر سے دیکھی جاتی تھی۔ 'ودیا'کی مدد سے وہ پڑھنے لکھنے میں کامیاب ہوئی اور اس کے اندر اتنی خود اعتمادی پیدا ہوگئی کہ آج نہ صرف وہ معاشی طور پر خود کفیل بن چکی ہے بلکہ اپنا ذاتی سائبر کیفے چلارہی ہے۔ یہ تو کچھ مثالیں ہیں جو 'ودیا' کی کامیابی کی داستان بیان کرتی ہیں اور ان کی بھی جو 'ودیا' کی مدد سے اپنی زندگی میں تبدیلی لاسکے ہیں۔

ہندوستان میں کاروبار کی حالت پر گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے رشمی کہتی ہیں،"ہمیں"کسی کام کی شروعات ہمیں اکیلے کرنی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سرمایہ کا انتظام کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن ہندوستان کی جھُگی بستیوں میں ایک کاروباری کے روپ میں کام کرنا سب سے مشکل کام ہے۔"

تحریر: اجیت ہرشے

مترجم: خان حسنین عاقبؔ