باغی، خیالات کی نرم دل خاتون 'سپنا بھاونانی'

0

سماج میں کئی چہرے ہیں، جو اپنے آپکو دوسروں سے مختلف رکھنے کے لئے کی سارے جتن کرتے ہیں۔ کچھ لڑکیوں میں لڑکوں کی طرح دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے بالوں اور پوشاک پر بھی نیے نیے تجربے کرتے رہتے ہیں۔ اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایک جذبہ ہوتا ہے، خوبصورت نظر آنے کا۔ اور کبھی یہی بٹن زندگی کا حصّہ بن جاتی ہیں۔ سپنا بھاونانی کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

ترشی ہوئی چھوٹی زلفیں اورجسم پر ٹیٹو سپنا بھاونانی کی خاص شناخت ہے۔ یہی چیز انہیں دوسروں سے مختلف اور خوبصورت بناتی ہے۔ سپنا خوش مزاج ، باصلاحیت، دوسروں سے نرالی ہیں۔ ان کی شخصیت کو بیان کرنے کے لئے کچھ لفظ ناکافی ہیں۔ سپنا نے تیسری کلاس تک اپنی تعلیم برچ کینڈی اسکول میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ باندرا میں رہنے کے لئے آ گئیں۔ سپنا کے مطابق 70 کی دہائی میں باندرا بہت اچھی جگہ تھی اور وہ یہیں رہ کر بڑی ہوئیں۔ پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ بتاتی ہے کہ وہ یہاں کی گلیوں میں سائیکل پرگھوما کرتی تھیں۔

سپنا بچپن سے ہی ضدی خیالات کی تھی۔ چھوٹے بال انھیں بہت پسند تھے، شارٹ سکرٹ پہنتی تھی، سگریٹ پیتی تھی اور لڑکوں سے دوستی انہیں زیادہ پسند تھی۔ وہ ایسا کچھ کرتی تھی جو دوسری لڑکیاں کرنے کی ہمت بھی نہیں کر پتی تھیں۔ یہی ان کے سفر کا آغاز تھا۔

خودی کی تلاش زندگی کو ایک نیا راستہ دکھاتی ہے۔ سپنا نے دنیا کی پرواہ کئے بغیراپنی ذاتی ترقی پر توجہ دی۔ لڑکیوں کے اسکول میں پڑھنے والی سپنا کی لڑکوں کے ساتھ بہت گہری دوستی تھیں وہ بتاتی ہیں کہ لڑکوں نے ہی ان کو موٹر سائیکل چلانا سيكھايا۔ جس وجہ سے وہ خود کو بہتر طریقے سے جان پائی۔

سپنا کا کہنا ہے کہ زندگی کچھ نہیں صرف ایک کہانی ہے۔ وہ اپنی دادی سے کافی متاثر تھیں۔ جنہوں کہانی کی اہمیت پر زور دیا۔ وہ اکثر سپنا کو کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ اگرچہ سپنا یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ سچی کہانیاں تھیں بھی یا نہیں، لیکن وہ بہت حیرت انگیز ہوتی تھی۔ ان میں سے بہت کہانیاں آج تک ان کو یاد ہیں۔ سپنا بتاتی ہیں کہ ان کی دادی کہا کرتی تھی اگر کبھی آپ ماں بننا چاهوگی تو تمہارے پاس بچوں کو بتانے کے لئے ڈھیر ساری کہانیاں ہونا چاہئے۔ وہ جو بھی بتاتی تھی وہ کافی ڈرامائی اور دلچسپ ہوتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو ایک مزیدار کہانی میں تبدیل چاہتی تھی اور آج سپنا کی زندگی اسی کا عکس ہے۔ سپنا کے جسم پر بنے ٹیٹو اس کہانی کوبیان کرتے ہیں۔

1989 میں سپنا کی زندگی میں اچانک ایک نیا موڑ آیا، جسکے بارے میں اس نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور سپنا کو ان کی آنٹی کے پاس امریکہ رہنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ کیونکہ ماں کے لئے بچوں کی زمہ داری سنبھا لنا مشکل تھا۔

سپنا کے بارے میں یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ 14 سال تک امریکہ میں رہنے کی وجہ سے وہ ضدی خیالات کی ہو گئی ہیں، لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ باغی خیالات کے عنصر انکی زندگی مین ابتداء ہی سے تھے۔ سپنا بتاتی ہے کہ وہ شكا گو میں رہیں جہاں پر ان کا سامنا بہت نئی نئی چیزوں سے ہوا، لیکن ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پریشان اور بے فکر رہنے والی سپنا نے وہاں فیشن کی تعلیم حاصل کی اور ممبئی واپس آنے سے پہلے انہوں نے امریکہ میں ایک اسٹائلسٹ کے طور پر کام کیا۔

سپنا کا کہنا ہے کہ جب وہ ممبئی واپس آئی تو اس وقت فیشن اسٹائل کوئی منافع بخش شعبہ نہیں تھا۔ اپنے مستقبل سے انجان تھی، انھیں اپنی ہی زلفوں پر کئے تجربے یاد آئے۔ وہ بچپن سے ہی زلفوں پر کئی طرح کے تجربے کرتی تھیں۔ حالا نکہ انہوں نے کوئی ٹریننگ حاصل نہیں کی تھی۔

لیکن ہیئر اسٹائلسٹ بننے کی خوہش نے دل میں کروٹ لی۔ اس کے بعد سپنا نے ملک کی جانی مانی ہیئر اسٹائلسٹ ادھونا اختر سے ٹریننگ لی۔

ایک دن ادھونا نے فیصلہ لیا کہ تمام اسٹائلسٹ کو ایک خاص طرح کی وردی پہننی ضروری ہے، یہ بات سپنا کے خیالات سے میل نہیں کھاتی تھی اور انہوں نے وردی نہیں پہنی۔ بس یہیں سے 'Mad o wat' کا آغاز ہو گیا۔ سپنا کا خیال ہے کہ تخلیقی کاموں کے لئے ایسا طرز عمل ضروری نہیں ہے۔

آج سپنا ملک میں مقبول ترین ہیئراسٹالسٹ ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی، پرینکا چوپڑا، رنوير سنگھ اور دوسرے بہت سے نامی گرامی لوگ ان کے پاس آتے ہیں۔

سپنا ا یما ندا ری پر زیادہ زور دیتی ہیں۔ وہ خواتین کو بااختیار بنانے کے منصوبوں پر کام کرتی ہیں۔ وہ ملک بھر کی عورتوں اور بچوں کی ترقی کے لئے مسلسل مصروف رہتی ہیں۔

سپنا 'Sheroes' کے ساتھ بھی کم کرتی ہیں۔ یہ تنظیم ایسڈ حملے کی شکار خواتین کے لئے کام کرتی ہے۔ 'Sheroes' کا قیام سپنا کی ایک دوست روشنی دکشت نے کیا۔ سپنا نے مہاراشٹر کے ایک گاؤں کو بھی گود لیا ہے۔ جہاں پر وہ بچوں کا اسکول چلاتی ہیں اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق کئی پروگرام چلاتی ہیں۔ اب وہ جلد ہی 'I have a Dream' نام سے ایک مہم چلانے والی ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ایسڈ حملے کی شکار خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کر انڈیپنڈنٹ بنانا ہے۔ تاکہ وہ اپنی زندگی دوسروں کی مدد بغیر عزت کے ساتھ جی سکیں۔

سپنا کا خیال ہے کہ کسی کی پوشاک اور رویہ کبھی کبھی اس شخص کی زندگی کا اصلی تعارف پیش نہیں کر سکتا۔ اس کا داخلی پہلو کچھ اور ہو سکتا ہے۔ یہی بات وہ اپنی شخصیت کے بارے میں بھی بتانا چاہتی ہیں۔ ان کی رائےمیں باغی فطرت ہونا اوراپنی مرضی سے جینا ۔۔۔ ان دونوں چیزوں میں فرق ہوتا ہے۔ جسے سمجھنے میں لوگ اکثر غلطی کر بیٹھتے ہیں۔

وہ باقاعدہ طور پر یوگا کرتی ہیں ان کا خیال ہے کہ یوگا کی ان کی زندگی پر کافی گہرا اثر ہوا ہے۔ وہ اس بات کو مانتی ہیں کہ اچھے کاموں کا پھل بھی اچھا ہی ہوتا ہے۔ اگر ہمیں محبت اور سکوں کی تلاش کرنی ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر جھانکنا چاہئے اس کے بعد ہی دنیا کو دیکھنا چاہئے۔ سپنا بابا بلہے شاہ کے قول کو پیش کرتی ہیں، "جو نہ جانے، حق کی طاقت، رب نہ دیوے اس کو ہمت، رب نہ دیوے اس کو ہمت۔"

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem