'عجب تیری دنیا ۔غضب تیرے شوق' دیکھئے رجنیش بنسل کاعالمی ریکارڈ

0

رجنیش بنسل کا نام لمکا بُک آف رکارڈ میں شامل

زیر جامہ ملبوسات کے سب سے بڑے ذخیرہ اندوز کے طور پر نام درج ...

رجنیش کے پاس 22 ہزار سے بھی زیادہ زیر جامہ ملبوسات کا مجموعہ ہے ...

غازی آباد اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کے لئے منگلی ہوزیئری اور اس کے مالک 39 سالہ رجنیش بنسل کوئی انجانا نام نہیں ہے۔ کچھ منفرد اور مختلف کام کے لئے متجسس اپنی زندگی میں ایک اعلی مقام حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے رجنیش زیر جامہ ملبوسات کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھنے والے تاجر کے طور پر لمکا بُک آف ریکارڈس میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ فی الحال ان کے پاس 22 ہزار سے بھی زیادہ زیر جامہ ملبوسات کا مجموعہ ہے اور یہ گزشتہ 10 سالوں سے مسلسل یہ ریکارڈ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوتے آ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ قابل غور بات یہ ہے کہ انہوں نے سال 1990 میں 14 سال کی عمر میں صرف 50 ہزار روپے کے ساتھ اپنے اس انٹرپرائز کی بنیاد رکھی تھی اور آج وہ سالانہ 5 کروڑ روپے سے بھی زیادہ کا کاروبار کرتے ہیں ۔

رجنیش بنسل آج سے 25 سال پہلے 1990 میں دسویں کلاس میں پڑھ رہے تھے اور انہی دنوں اس وقت مرکزی حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کا قانو ن نافذ کیا تھا ۔ رجنیش کو محسوس ہوا کہ اب انہیں سرکاری ملازمت تو ملنے سے رہی اور انہوں نے اپنا کچھ کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ سال 1990 کے حالات کے بارے میں یوراسٹوری کے ساتھ بات کرتے ہوئے رجنیش بتاتے ہیں:'' اس وقت میرے والد کے پاس دہلی کے روہنی علاقہ میں ایک پلاٹ تھا جسے انہوں نے 1 لاکھ 22 ہزار روپے میں فروخت کر دیا اور ان پیسوں میں سے 50 ہزار روپے کاروبار کے لئے مجھے دے دئے'' ۔ رجنیش نے اپنے والد سے حاصل کئے ہوئے روپے کے ذریعہ خود اپنے ہی گھر سے کوئی کاروبار کرنے کی ٹھان لی ۔ انہوں نے دھاگا خرید کر پیروں میں پہننے جانے والے موزے تیار کرکے فروخت کرنے کا کام شروع کیا ۔

رجنیش آگے بتاتے ہیں:'' اس وقت میں نے موزے تیار کرنے والے فیبری کیٹرس سے رابطہ کیا اور موزے تیار کرکے فروخت کرنے لگا ۔ میں نے اپنے برانڈ کا نام 'سوپرٹیکس' رکھا ۔ صرف چار ماہ بعد میں نے غازی آباد کے تراب نگر علاقہ میں ایک دکان کھولی جہاں خاص طور پر صرف موزے ہی ملتے تھے ۔ اگرچہ اس بات پر میرا کافی مذاق بھی اڑایا گیا' کیونکہ ایک ایسی دکان جہاں صرف موزے ہی ملتے ہوں یہ بات کسی کی بھی سمجھ سے باہر تھی'' ۔ تاہم ان کی یہ دکان وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان اپنی ایک خاص شناخت بنانے میں کامیاب رہی اور خریداری کے لئے ان کی دکان پر آنے والے صارفین کے مشوروں پر انہوں نے اپنی اس دکان میں زیر جامہ ملبوسات وغیرہ بھی رکھنے شروع کر دئے۔

سال 1992 تک انہوں نے اپنی اس موزے کی دکان کی توسیع کرتے ہوئے اسے مکمل طور ہوزئری سے متعلق شوروم میں تبدیل کر دیا ۔ رجنیش بتاتے ہیں: '' ہمارے پاس موزے خریدنے آنے والے صارفین اکثر کہتے تھے کہ ہمیں اپنی اس دکان میں زیر جامہ ملبوسات کو بھی فروخت کے لئے رکھنا چاہیے۔ صارفین کی بات پر غور کرتے ہوئے میں نے سال 1992 میں اپنی دکان کو منگلی ہوزئری کا نام دیتے ہوئے مکمل طور زیر جامہ ملبوسات کی دکان میں تبدیل کر دیا ''۔ وقت گزرتا رہا اور ان کی محنت کی وجہ سے ان کے کاروبارمیں دن دونی رات چوگنی کی رفتار سے ترقی ہونے لگی ۔ آس پاس کے علاقوں میں زیر جامہ ملبوسات کے ہمہ اقسام سے بھری یہ دکان بہت ہی کم عرصہ میں مشہور ہو گئی ۔

سال 2003 آتے آتے اس دکان میں مرد و خواتین کے زیر جامہ ملبوسات کے اتنے اقسام جمع ہو گئے کہ پورے علاقہ میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ اگر کوئی زیر جامہ لباس کہیں نہیں مل رہا ہے تو ان کی دکان پر ضرور مل جائے گا ۔ گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے رجنیش آگے کہتے ہیں:'' سال 2003 میں جب ایک صارف ہماری دکان پر آیا اور اس نے اپنے لئے ایک پراڈکٹ طلب کیا جو اس وقت کاؤنٹر پر موجود عملے کو نہیں ملا ۔ اس صارف کہنا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اسے جو چاہیے وہ پراڈکٹ ہماری دکان میں موجود نہ ہو اور اس نے دوبارہ دیکھنے پر زور دیا ۔ آخر کار گھنٹوں کی محنت کے بعد اس کی پسند کا لباس مل ہی گیا '' - اس کے بعد ان کے دماغ میں آیا کہ اب ان کی دکان میں زیر جامہ ملبوسات کے اتنے اقسام رہیں کہ جتنی شاید ہی کسی کے پاس موجود ہوں ۔

اسی دوران رجنیش نے اخبار میں مختلف قسم کی چیزوں کو جمع کرنے والوں کے بارے میں پڑھا اور انہیں بھی لگا کہ جب دوسرے لوگ مختلف قسم کی چیزیں جمع کر سکتے ہیں تو پھر زیر جامہ ملبوسات کیوں نہیں؟۔ رجنیش آگے کہتے ہیں:'' ان دنوں میں نے ایک اخبار میں چیزوں کو جمع کرنے والوں کو خطاب نامی ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس مضمون کا عنوان تھا 'عجب تیری دنیا ۔ غضب تیرے شوق'- اس کے بعد میں نے اپنے پاس موجود مصنوعات کی گنتی کروائی ۔ ملبوسات کی تعداد 22 ہزار پار کرنے کے بعد میں نے لمکا بُک آف ریکارڈس سے رابطہ کیا'' ۔

اگرچہ ابتدامیں لمکا کتاب کے مینیجرس نے ان کی درخواست پر توجہ ہی نہیں دی اور دو بار ان کی طرف سے کی گئ خط وکتابت کا کوئی جواب تک نہیں دیا ۔

اس کے بعد ایک دن رجنیش اپنے لمکا بُک آف ریکارڈس کے گڑگاؤں میں واقع دفتر پر پہنچ گئے اور ان کی ملاقات ایڈیٹر سے ہوئی ۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے رجنیش کہتے ہیں: '' انہوں نے مجھ سے بات کی اور بتایا کہ انہیں ایسا لگتا تھا کہ اس قسم کے ریکارڈ کے لئے کسی میٹرو شہر سے تجویز آئے گی ۔ چونکہ اس وقت پورے ملک میں غازی آباد کا نام جرائم کی وجہ سے کافی بدنام تھا اس لئے ان کا خیال تھا کہ میرا یہ دعوی فرضی ہے ۔ میرے ایک بار ملنے کے بعد انہوں نے توثیق وغیرہ کے اپنے تمام طریقہ کار کو مکمل کر لیا اور اس کے بعد 22,315 قسم کے مختلف زیرجامہ ملبوسات کے ساتھ میرا نام ریکارڈ بک میں شامل کر لیا ''۔ سال 2004 کی فہرست میں پہلی بار شامل ہونے کے بعد سے اس کا نام اس ریکاررڈ کتاب میں ہرسال شامل ہو رہا ہے اور آج کی تاریخ تک کوئی بھی اس کو توڑنے میں کامیاب نہیں رہا ہے۔

کچھ سال پہلے رجنیش نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈس میں بھی اپنا دعوی پیش کیا لیکن ان کے پاس اس قسم کے مجموعہ کا کوئی زمرہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا یہ خواب ابھی ادھورا ہی ہے ۔ رجنیش آگے بتاتے ہیں: '' سال 1990 میں 14 سال کی عمر میں صرف 50 ہزار روپے لے کر کاروبار شروع کرتے وقت میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک دن اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہوں گا ۔ آج کی تاریخ میں میرا سالانہ ٹرنوور پانچ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے اور آئی ایس او 9001: 2008کی طرف سے تصدیق ہونے والی کمپنیوں میں سے شاید میری ہی واحد کمپنی ہے'' ۔

اس کے علاوہ رجنیش اب جلد ہی اپنے صارفین کی سہولت کے لئے ایک موبائل ایپلی کیشن بھی پیش کرنے والے ہیں ۔ اس سلسلہ میں وہ تیاری کر رہے ہیں ۔ رجنیش آگے کہتے ہیں:'' تجارت کے میدان میں ہمارا دعوی ہے کہ ہمارے پاس سب سے زیادہ متنوع اقسام موجود ہیں اور اس کے علاوہ ہم مصنوعات کی قیمت کو لے کر بھی چیلنج کرتے ہیں ۔ ہم اپنے صارفین کو مارکیٹ میں سب سے کم قیمت پر مصنوعات فراہم کرواتے ہیں ۔ ایسے میں دور کے علاقوں میں رہنے والے ہمارے صارفین ہماری اس ایپلی کیشن کے ذریعہ اپنی پسند کی مصنوعات خرید سکتے ہیں اور ہم انہیں ان کی پسند کی مصنوعات کی فراہمی کے لئے کچھ لاجسٹک شراکت دار کے ساتھ مذاکرات کے آخری دور میں ہیں'' ۔

رجنیش کو امید ہے کہ آنے والے وقت میں وہ اس مجموعہ کی وجہ سے اپنا نام گنیز بک آف ریکارڈس میں بھی لکھوانے میں کامیاب رہیں گے۔

قلمکار: نشانت گوئل

مترجم: شفیع قادری