17سال کی عمر اور 12 سال کا تابناک کریئر ....... ملئے کمسِن شاعر ڈاکٹر آدیتہ جین سے

0

آدیتہ جین نے صرف پانچ سال کی عمر میں اپنی نظمیں پڑھنی شروع کیں

آدیتہ کو دو مرتبہ راشٹرپتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا

بچوں کے شاعر آدیتہ جین اب تک 6کتابیں لکھ چکے ہیں

ان کی دو کتابیں بہت جلد شائع ہونے والی ہیں -

2014 میں لندن کی ورلڈ ریکارڈر یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا

انہوں نےاپنی نظموں کے ذریعے ملک کی فلاح و بہبود اور عوامی بیداری سے جڑے بہت سارے کام

کئے جیسے پالی تھین سے پاک بھارت ، خون کا عطیہ ، تحفظِ آب مہم،پلس پولیو ، بیٹی بچاؤ مہم وغیرہ ۔


جس طرح سورج کی کرنیں رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر دنیا کو روشن کرتی ہیں اسی طرح علم کا سمندر لاعلم لوگوں کو علم دیتا ہے- اس دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں -صحیح راستے کی تلاش میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔

صلاحیتیں علم اورعمر کی محتاج نہیں ہوتیں اور نہ ہی انہیں تجربہ کی بنیاد پر حاصل کیا جاسکتا ہے-کئی مرتبہ کم عمر بچے بھی ہمیں کوئی نئی چیز سکھا جاتے ہیں جس پر کسی کا دھیان نہیں ہوتا -اسی لئے صلاحیت کو عمر کے ترازو میں تولنا بے معنی سا ہے –

کوٹہ، راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک بچوں کے شاعر ڈاکٹر آدیتہ جین ہیں جو کہنے کو تو صرف 17 سال کے ہیں لیکن اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر وہ نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں شہرت یافتہ ہیں –آج ملک و بیرونِ ملک، ہر دوجگہ ان کے چاہنے والے موجود ہیں -آدتیہ اپنی نظموں کی مدد سے سماج میں بیداری ا ور تبدیلی لانا چاہتے ہیں –اپنی تحریروں کی مدد سے وہ ہندی زبان کی تشہیر کررہے ہیں -

آدیتہ جین 1998 میں پیدا ہوئے- جب وہ صرف پانچ سال کے تھے تب انہوں نے رتلام میں شلپ اتسو کے دوران لگ بھگ 15ہزار لوگوں کی موجودگی میں خود کے ذریعے لکھی گئی ایک نظم پڑھی ۔اور تب سے لے کر آج تک وہ لاتعداد نظمیں یاد کرچکے ہیں -ساتھ ہی ساتھ ان کے چاہنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے -آدیتہ نے یور اسٹوری کو بتایا،


آدیتہ کہتے ہیں ان کے اس کام میں ہمیشہ انہیں خاندان کی حمایت اوررضامندی حاصل تھی -ابھی تک آدیتہ 6 کتابیں لکھ چکے ہیں اور ان کی دو کتابیں جلد ہی شائع ہونے والی ہیں جو ان کے شعری مجموعہ کلام ہیں -

بچوں کے شاعر آدیتہ جین کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں کئی انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔ ا نہیں دو بار قومی ایوارڈ سےنوازا گیا ۔اس کے علاوہ گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ ،میریکل ورلڈ ریکارڈ ، انڈیا بک ریکارڈ کے علاوہ بھی لگ بھگ 15 سے زیادہ ورلڈ ریکارڈس بک میں ادیتہ کا نام شامل ہے ۔دنیا کے کم عمر ترین شاعر وادیب کے طور پر ان کا نام درج ہے جس کی وجہ سے 2014 میں لندن کی ورلڈ ریکارڈ یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی ۔

آدتیہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فنِ تخلیق سے ملک کو بھی فائدہ پہنچائیں -وہ اپنی نظموں کے ذریعے عوامی بیداری کے پروگرام چلاتے ہیں - جیسے پالی تھین سے پاک بھارت ، خون کا عطیہ ، پانی بچاؤ ، پلس پولیو وغیرہ ۔فی الحال وہ بیٹی بچاؤ مہم کے بھی منتظم ہیں ۔وہ جہاں بھی نظم پڑھنے کےلیے جاتے ہیں وہاں بیٹیوں کی اہمیت کو واضح کرنے والی ایک نظم ضرور پڑھتے ہیں- وہ نظموں کی مدد سے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں -آدیتہ کا ماننا ہے کہ اگر وہ نظموں کی مدد سے لوگوں کو کسی کام کےلیے تحریک دے پائیں تو کسی طور پر یہ مانیں گے کہ وہ ملک کی فلاح کےلیے کچھ کررہے ہیں -

انہیں اپنے ملک پر بہت ناز ہے - اور ان کا کہنا ہے کہ ہرنو جوان کو اپنےملک کی فلاح کےلیے کچھ نہ کچھ ضرورسوچنا چاہئے اورملک کی ترقی میں مدد کرنی چاہئے ۔آجکل نوجوان بس انگریزی کی طرف بھاگ رہے ہی اور اس دوڑ میں وہ اپنی قومی اثاثے کو بھول رہے ہیں جس کی حالت نہایت ہی خستہ ہوتی جارہی ہے ۔انگریزی کا علم حاصل کرنا اچھی بات ہے لیکن یہ بھی دھیان رہے کہ مادری زبان کے تئیں تغافل نہ برتا جائے۔

آدتیہ کو 300 سے زیادہ قومی ، بین الاقوامی اور ریاستی سطح کے ایوارڈس سے نوازا گیا ہے -وہ 20 سے زیادہ ریاستوں میں 1200 سے زیادہ پروگرام اور راشٹرپتی بھون ، راجیہ بھون ، وزیرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ میں الگ الگ مواقع پر اپنی شاعری پیش کرچکے ہیں ۔وہ خاص طور پر رزمیہ شاعری کے دلدادہ ہے - اور دیش کے عصری مسائل پر لکھتے ہیں۔




تحریر: آسوتوش کھنٹوال
مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ