لنگریز میں اسٹائل اور فیشن کا نام ہے Clovia

0

لنگریز میں اسٹائل اور فیشن کا نام ہے Clovia

ہر ماہ سو سے زاید اسٹائل

Clovia کی ٹیم میں 100 سے زیادہ اراکین

خصوصی رینج جلد مارکیٹ میں

لنگریز خواتین کے اندرونی لباس کا نیا نام ہے۔ حالانکہ دنیا کے کونے کونے میں، اس کے الگ الگ کاروبار ہیں، لیکن اچھے میعار کی چیزیں بہت کم ملتی ہیں۔ جواں سال خاتون تاجر نیہا کانت نے شاید اسی بات کو محسوس کر لیا تھا۔

نیہا کانت کے مطابق، "لنگريز صرف پہننے والا ایک کپڑا نہیں ہے بلکہ یہ ایک تجربہ ہے۔ فٹ لنگريز پہننے سے نہ صرف خود اعتمادی بڑھتی ہے بلکہ یہ موڈ بھی اچھا بنا رہتا ہے۔"

نیہا کا انٹرپرائز Clovia لنگريز کے لئے ای ٹیلر کام کرتا ہے۔ نیہا جب غیرملکی دورے پر تھی، ان کو اس بات کا احساس ہوا کہ ملکی اور غیر ملکی لنگريز میں کافی فرق ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستانی خواتین کو ایسی لنگريزدینے کی کوشش کریں گی جن نہ صرف معیار اچھا ہو بلکہ وہ فیشن کے مطابق اور سستی بھی ہو۔

نیہا کا کہنا ہے کہ "آج بھی کئی خواتین ایسی ہیں جو اسٹور میں جا کرلنگريزخریدنا پسند نہیں کرتیں، خاص طور سے ان جگہوں پر جہاں مرد ہوں۔ جو مددگار بننے کی جگہ اپنی رائے دیتے ہیں۔''

بازار میں زیادہ تر اسٹور ایسے ہیں جہاں مرد ہی کام کرتے ہیں اور خواتین ایسی جگہ کافی ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔ نیہا نے اس چیز کو بخوبی پہچان لیا تھا۔ اتنا ہی نہیں لنگريزکے ڈیزائن اور اسٹائل میں بھی انہوں نے کافی خامیاں محسوس کیں۔ ہردوار میں پلی بڑھی نیہا کی پیدائش دہلی میں ہوئی تھی۔ ان کے والد بی ایچ ایل میں نوکری کرتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انجینئر بنے۔ نیہا کا کہنا ہے' "کامیابی کے لئے محنت ضروری ہے۔ اس وجہ سے میں شروع سے ہی مقابلہ آرائی اور بلند ارادوں کے ساتھ اگے بڑھنے کی خوہش رکھتی تھی۔"

تعلیم میں نیہا کا موضوع سائنس تھا، لیکن انہوں نے انجینئر بننے کا فیصلہ نہیں لیا بلکہ دہلی یونیورسٹی کے مرانڈا ہاؤس کالج سے ایم بی اے کرنے کا فیصلہ لیا۔ تقریبا ایک دہائی تک کارپوریٹ دنیا میں کام کرنے کے دوران انہوں نے فیصلہ لیا کہ وہ لنگريزمارکیٹ میں کچھ نیا کام کریں گی۔ اس کام میں انہوں نے اپنے شوہر مدد لی، جن کو ٹیکنالوجی کا اچھی خاصی معلومات ہے۔

آج نیہا کے پاس اپنی ان ہاؤس ڈیزائن ٹیم ہے۔ یہ اپنی مصنوعات خود تیار کرتے ہیں جبکہ کپڑے، لیس اور دوسری چیزوں کی درآمد کرتے ہیں، لیکن لنگريزتیار کرنے کا کام آوٹ سورسینگ کے ذریعے کرتے ہیں۔

نیہا کا کہنا ہے' "ہم اس بات کا خیال رکھتے ہیں جب کوئی لنگريزپروڈکشن یونٹ سے بن کر تیار ہوتی ہے تو اس کی بناوٹ، پھيٹنگ اور ڈیزائن بہتر ہونا چاہئے۔" نیہا کے مطابق Clovia کی يوایس پی اس کے ڈیزائن ہیں، جو وہ اپنے گاہکوں کو دیتی ہیں۔ وہ ہر ماہ 200 طرح کپڑے تیار کرتی ہیں۔ لنگريزانڈسٹری کے بارے میں نیہا کا کہنا ہےکہ کوئی بھی برانڈ ایک سال میں سو سے زیادہ اسٹائل مارکیٹ میں نہیں اتارتے، کیونکہ وہ کسی بھی اسٹائل کے مصنوعات ہزاروں کی تعداد میں تیار کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہم لوگ ہر ماہ 100 سے زاِید اسٹائل لوگوں کے سامنے لاتے ہیں-

نیہا کے مطابق وہ لوگ اسمارٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں اس وجہ سے وہ نہ صرف اپنی سیلز پر نظر رکھ پاتے ہیں، بلکہ ویب سائٹ کے ذریعے رجحان کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں اس سے وہ اپنی قیمت پر کنٹرول بھی رکھ سکتے ہیں۔ ان کی ایک ٹیک ٹیم بھی ہے۔ فی الحال ٹیم میں 100 سے زیادہ ارکان ہیں جو کمپنی کے مختلف طرح کے کام کاج کو دیکھتے ہیں۔ نیہا کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے "کسی کام کی کوشش مت کرو، اس کو صرف کرو یا نہ کرو۔"

روزانہ آ رہے چیلنجس سے کوئی ایک انسان نہیں لڑ سکتا اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے مضبوط ٹیم کی جو سرمایہ کاروں اور گاہکوں کے ساتھ ساتھ پروڈکشن یونٹ کے مسائل کا سامنا کر سکے۔ نیہا، ایک زمہ دار ماں ہونے کے ساتھ ساتھ کامیاب کاروباری بھی ہیں۔ اس لیے وہ طویل مدت کی منصوبہ بندی اور ن اسکے نظام پر کام کرتی ہیں۔ نیہا کا بقول نیہا، "خاندان اور کاروبار کو ایک ساتھ سنبھالنا ایک طرح کا بال گیم ہے۔ جس میں کافی کوشش اور لگن چاہیے۔"

نیہا اب اس بات کو لے کر پرجوش ہیں کہ جلد ہی وہ ایک بین الاقوامی برانڈ کے ساتھ مل کر لنگريزکا خصوصی اور لمیٹڈ ایڈیشن جاری کرنے والی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی نظر دوسرے ممالک کے مارکیٹ پر بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں Clovia آف لائن اسٹور میں بھی دکھایا جائے گا۔

قلمکار- ہریش بِشٹ

مترجم- زلیخہ نظیر