مصیبت اورتباہی کی کہانی، تصویروں کی زبانی... آرتی کمار راؤ کی حوصلہ مندی کا سفر

0

ہر شخص اپنے شوق اور اپنی دلچسپیوں کے لئے نہایت سنجیدہ ہوتا ہے۔ کچھ نیا کر دکھانے کی چاہ اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ آرتی کمار راؤ بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں، جو عام لوگوں سے ہٹ کرہمیشہ کچھ نہ کچھ کرنے کا جذبہ رکھتی ہیں۔

آرتی کمار راؤ اس میدان میں کام کر رہی ہیں، جس کے بارے میں انہوں نے کبھی منصوبہ بندی نہیں کی تھی اور نہ ہی کبھی سوچا تھا۔ وہ کہتی ہیں،"میں نے کبھی بھی خود کو ایک فوٹوگرافر یا مصنف نہیں مانا۔ "

حالانکہ اب وہ ایک بہت اچھی فوٹوگرافر اور مصنفہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ صرف کہانیاں بتاتی ہیں۔ ایسی کہانیاں جو سچائی پر مبنی ہوں اور عام لوگوں کی زندگی سے جُڑی ہوں اور جن میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا دھیان خاص طور پر ان مسائل پر رہتا ہے جن کی طرف ہمارے مین اسٹریم میڈیا کی نگاہیں نہیں جاتیں۔ آرتی کے مطابق ، وہ جو کر رہی ہیں، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے لئے وہ تصاویر، ویڈیوز، نقشے اور گرافکس کی مدد لیتی ہیں۔

آرتی لوگوں کی زندگی کو قریب سے جاننے کے لئے کئی برسوں تک ان کے بیچ رہتی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس دوران وہ حکومت کی پالیسیوں اور زمین کے استعمال میں ہورہی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھتی ہیں۔ انہوں ہمیشہ تصاویر کے ذریعے کہانی کہنے کے فن سے دلچپسی رہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کی کہانی تب تک نا مکمل ہے جب تک اسے صرف تصاویر یا صرف الفاظ کے ذریعے بتایا جائے۔ بلکہ وہ ان دونوں ذرائع یعنی تصاویر اور الفاظ کے امتزاج کو اپنے فن کا حاصل مانتی ہیں۔

آرتی کے پاس ایسے دستاویز ہیں جو بتاتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں کو دوران کس طرح ہمارے ایکو سسٹم اور طرزِ حیات میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس سلسلے میں 'رِور ڈائری' ایک ایسا پروجیکٹ ہے جو میل کا پتھر ثابت ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے ہمارے ایکو سسٹم اور ندیوں کے آس پاس رہنے والے معاشرتی یعنی سماجی گروہوں پر گہری تحقیق کی ہے۔ آرتی تفصیل کے ساتھ بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنے گریجویشن کے دوران ہی طے کرلیا تھا کہ وہ برہمپتر پر کام کریں گی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے تبـت کی راجدھانی لہاسہ کا دورہ بھی کیا تھا جہاں برہمپتر ندی کو یرلُنگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حکومت نے ایک ہی مدور وادی یعنی بیسِن میں 160 باندھ تعمیر کروائے۔ ایسے میں ندی کے آس پاس کے خطِ حیات پر کیا اثر ہوگا؟ یہاں کے ایکو سسٹم پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ ان سب سوالات کا مطالعہ بھی خالی از دلچسپی نہیں ہے۔ برہمپتر ندی کی وادی میں کافی الجھنیں پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں آرتی کا دماغ ہمیشہ سوچتا رہتا تھا۔

آرتی کا کہنا ہے کہ ان کے والدین نے انہیں کبھی کسی معاملے میں نہیں ٹوکا۔ وہ ہمیشہ دوسروں سے الگ اور نئی چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے مجھے تحریک دیا کرتے تھے۔ وہ کئی مرتبہ اپنے والد اور اپنی بہن کے ساتھ چڑیوں کو دیکھنے کے لئے جایا کرتی تھیں اور ان کے اسکیچیز بنایا کرتی تھیں۔ انہیں کیلیگرافی یعنی خطاطی اور ٹینس کھیلنے کا بھی کافی شوق تھا۔ انگریزی ادب اور سائنس آرتی ک پسندیدہ مضامین تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آرتی نے بایوفزکس میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ وہ اپنی ساری زندگی سائنسی تجربہ گاہوں میں نہیں گزارسکتیں۔ بس، اس کے بعد انہوں نے صحافی بننے کا فیصلہ کرلیا۔

لیکن ان کی زندگی میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شادی کے بعد امریکہ جانا پڑا جہاں انہوں نے آٹھ برس تک کارپوریٹ سیکٹر میں کام کیا۔ ہندوستان واپس لوٹنے سے قبل انہوں نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کرنا چاہتی تھیں یعنی تصنیف اور تصویر کشی۔

آرتی کا کہنا ہے کہ اپنے جنون کو حقیقت میں تبدیل کرنا کسی چیلینج سے کم نہیں ہوتا۔ ابتداء میں انہوں نے مشاورت کا کام کیا اور وہاں سے ملنے والے پیسے کا استعمال انہوں نے اُس کام میں کِیا جو وہ کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن یہ کوئی مستقل آمد نی نہیں تھی لہٰذا اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لئے انہوں نے امداد اور وظیفے کے لئے لکھنا شروع کیا۔ ایسے میں کئی لوگ سامنے آئے جنہیں ان کے کام پر بھر پور اعتبار تھا۔

آرتی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کہانیوں نے انہیں ہمیشہ آگے بڑھنے کی تحریک دی۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ ان کی زندگی میں کچھ ایسے لوگ بھی آئے جنہوں نے ان پر داؤ کھیلا اور ان کے کام کو سراہا۔ سوسائٹی میگزین کی 'ورگیز' نے ان کو پہلی بار رپورٹنگ کی ذمہ داری سونپی ار جلد ہی ان کا تعارف 'پریم پانیکر' سے ہوا۔ آرتی تسلیم کرتی ہیں کہ پریم ایک دور اندیش مدیر ہیں۔ 'رِور ڈائری' کے لئے لکھنے میں انہوں نے آرتی کی کافی مدد کی اور ان کو کئی اچھے مشوروں سے نوازا۔

آرتی کو اپنے کام کے دوران کئی ایسے تجربات سے گزرنا پڑا جنہوں نے انہیں اندرونی طور پر ہلا کر رکھ دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک بار وہ برہمپتر کے جنوبی کنارے پر تھیں جہاں زمیں کی کافی زیادہ جھیج ہوچکی تھی۔ کٹاؤ بہت شدید تھا۔ یہاں ان کی ملاقات ایک ساٹھ برس کے شخص سے ہوئی۔ اس نے بتایا کہ وہ دودھ بیچنے کا کام کرتا ہے۔ اس نے آرتی سے کہا کہ اگر آرتی اگلی مرتبہ اس علاقے میں آئے تو اس کے گھر ضرور آئے، وہ اسے اپنے گا۔ وہ آرتی کے لئے کھانا بنا کر رکھے گا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس شخص نے آرتی کو اپنا فون نمبر بھی دیا۔ اس کے جانے کے بعد آرتی کو علم ہوا کہ زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے یہ شخص اپنی کھیتی باڑی، مویشی، زمین، سب کچھ گنواچکا ہے۔ اس کے باوجود اس کا دل اتنا بڑا تھا اور وہ اپنے نقصان کو بھول کر نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنے کا خواہشمند تھا۔

اسی طرح آرتی مزید ایک مثال دیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ایک مرتبہ ان کی ملاقات محمد انعام الحق نامی شخص سے ہوئی جو مغربی بنگال کے گنگا کی وادی میں رہتا تھا۔ لیکن بار بار گنگا کا بہاؤ بدل جانے کی وجہ سے اس کا گھر سات مرتبہ اُجڑ چکا تھا۔ وہ ہمت جُٹا کر حکومت کی لاپروائی اور انجینئروں کی غلطی کا خمیازہ بھُگت رہا تھا۔ جب آڑتی نے اس سے پوچھا کہ اسے غصہ کیوں نہیں آتا تو اس نے ہنستے ہوئے ایک پلیٹ اٹھائی اور الٹا آرتی سے سوال کیا کہ کب تک کوئی اس پلیٹ کو پکڑ کر رکھ سکتا ہے؟ پھر خود اسی نے بتایا کہ اس پلیٹ میں کافی کچھ بھرا جاسکتا ہے ، اس کے بعد یہ خالی ہوجاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح اس کا غصہ بھی ہے جو کافی بڑھنے کے بعد کافور ہوجاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ ساٹھ برس کی عمر میں اس کے سر سے سات مرتبہ چھت چھِن چکی ہے اوراسے یہ بھی علم نہیں ہے کہ ایسا کب تک چلتا رہے گا۔ اس کے باوجود وہ اسی بات سے خوش ہے کہ فی الحال اس کے پاس سر چھُپانے کے لئے جگہ موجود ہے۔

آرتی ان منتخب صحافیوں میں شامل ہیں جو سندر بن علاقے سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس علاقے کے بارے میں کافی تفصیل سے لکھا ہے۔ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان میں دورانِ سفر خواتین محفوظ نہیں ہوتیں۔ لیکن آرتی اس بات سے اتفاق نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ ملک کے کسی بھی گوشے میں ہوں، وہ خود کو غیر محفوظ نہیں مانتیں۔ پھر چاہے وہ آسام ہو، پنجاب ہو، بنگال ہو یا پھر راجستھان۔ وہ کہتی ہیں کہ مقامی لوگ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ کی مدد کو تیار رہتے ہیں۔ آرتی فی الحال بنگلور شہر کی تاریخ پر کام کر رہی ہیں۔ وہ بتانا چاہتی ہیں کہ کیسے ہر اعتبار سے ترقی یافتہ ایک علاقے کو گزشتہ 40 برسوں سے سوکھے کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس کے باوجود وہ جلد ہی برہمپتر اور سندر بن کے علاقے کی طرف لوٹنا چاہتی ہیں۔