وِنیت واجپئی پہنچے فرش سے کامیابی کے عرش پر

14000 روپے  کے سرمائے سےکی تھی کمپنی کی  شروعات

0

اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی کامیابی میں 'قسمت کا ایک اہم کردار ہوتا ہے لیکن وہ محض اسی پر 'انحصار نہیں کرتا ۔ کامیابی کی ’عمارت ‘میں جتنا ضروری’ قسمت کا سیمنٹ‘ ہے اُس سے بھی زیادہ اہم ہے اُس کی بنیاد اور دیواریں، جو کہ انسان اپنے مضبوط ارادوں اور عزم سے بناتا ہے ۔ ثبوت کے طور پر آپ’ میگنون ‘ گروپ کے بانی اور چیئرمین ’وِنیت واجپئی‘ کےفرش سے عرش تک کے متاثر کن سفر پر نظر ڈال سکتے ہیں ۔’ آسمان سے آگے‘ کتاب لکھنے والے وِنیت واجپئی کا تعارف اُن کی کتاب کے عنوان سے کافی مماثل ہے ۔ وہ اپنی زندگی میں سب سے پہلے ایک 'ہدف، مقصد یا ٹارگیٹ کا تعین کرتے ہیں ۔ پھر جنون اور جذبے کے ساتھ، اپنا مقصدحاصل کرنے کے لئے جی جان سے لگ جاتے ہیں ۔ وہ آج کے دور کے اُن کامیاب نوجوان کاروباریوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے’ اسٹارٹپ‘ کا آغاز ایک چھوٹے سے سرمایہ کے ساتھ کیا اور قلیل عرصہ میں ہی اسے ایک برانڈ بنا کر ڈیجیٹل مارکیٹ میں مستحکم کر دیا۔

وِنیت واجپئی نے، محض 22 سال کی عمر میں،اپنے کاروبار کا آغاز14,000 روپے کی معمولی رقم سے کیا تھا ۔ کہتے ہیں جدوجہد کے بغیر کامیابی نہیں ملتی ۔ وِنیت اس  قول کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے ۔ دہلی یونیورسٹی سے معاشیات میں گریجویشن اور لال بہادر شاستری مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ سے ایم بی اے کرنے والے وِنیت نے مستقل ملازمت اور جدوجہد جیسے متبادل میں سے جدوجہد کا ہی انتخاب کیا ۔ وہ ’جی ای‘ کیپٹل میں کام کر رہے تھے، اُسی دوران انہوں نے ڈیجیٹل ایجنسی ’ میگنون‘ کے خیالی خاکے کو حقیقی شکل دی ۔ وہ ایک مستقل ملازمت کر رہے تھے، جس میں مکمل امکان تھا کہ آگے چل کر انہیں عہدے میں ترقی ملتی اور ان کی تنخواہ بھی یقیناً بڑھتی ۔

لیکن وِنیت کے ذہن میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔ وہ کچھ’ اپنا‘ کرنا چاہتے تھے۔ شاید انہیں اپنی قابلیت پر پورا بھروسہ تھا۔ انہوں نے بِلا تاخیر ’جی ای‘ کیپِٹل سےملازمت چھوڑی اور اپنے دوستوں کے ساتھ سال 2000 میں’میگنون‘ کی بنیاد رکھ دی ۔ پھر کیا تھا، وِنیت کی موثر قیادت اور رہنمائی میں ’میگنون‘ گروپ ایک کے بعد ایک مقام حاصل کئے جا رہا تھا۔ وِنیت واجپئی، ڈیجیٹل ورلڈ میں ایک معروف نام بن گیا تھا۔ وِنیت کے گروپ ’ میگنون‘ نے بڑے بڑے ڈیجیٹل پروجیکٹ اپنے بنا لئے تھے ۔

’میگنون‘ گروپ کی آمدنی کے اعداد و شمار میں رقوم کے آخری ’زیرو‘ مسلسل بڑھتے جارہے تھے۔ اور یہ سلسلہ بدستور چلتا رہا۔ وِنیت نے’يوراسٹوری‘ کو بتایا،

’’ابتدائی دور میں بنیادی وسائل کے نام پر ’میگنون‘ کےپاس ایک جنریٹر والا کمرہ، دو کرایہ کے کمپیوٹر اور دو معاون کارکن تھے۔ لیکن ان سب سے زیادہ بڑی چیز جو ہمارے پاس تھی وہ تھا حوصلہ ۔ہمیں پتہ تھا کہ صحیح سمت میں کام کرنے پر کامیابی ضرور ملے گی ۔‘‘

آج ’میگنون‘ گروپ کی کمپنیوں ’میگنون ٹی بی ڈبلیو اے‘ اور ’میگنون ای جی پلس‘کے دہلی، ممبئی اور بنگلور وجیسے بڑے شہروں میں آفس ہیں ۔ 250 سے زیادہ پروفیشنل کارکن’ میگنون‘گروپ میں ملازم ہیں ۔’ نیس کوم‘ کی رکنیت والے، آئی ایس او 9001 سے تصدیق شدہ ’میگنون‘گروپ کے پاس ’ہائیر، ڈائی كِن، ہنڈئ، هیولیٹ پیکارڈ اورا سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور اتحاد‘ جیسے بڑے 'کلائنٹ ہیں۔

سال 2012 میں وِنیت واجپئی کو ایک اور بڑی کامیابی ملی تھی ۔ عالمی سطح پر ڈیجیٹل ورلڈ کے مشہور نام’ ٹی بی ڈبلیو اے‘ گروپ،جو کہ’ فارچون 500 اومِنی كوم ‘گروپ کا حصّہ ہے، اُس نے ’میگنون گروپ کے اختیارات حاصل کر لئے۔اس کے بعد بھی، وِنیت ’میگنون‘ کے گروپ سی ای او بنے رہے ۔ یہی نہیں، مارچ 2014 میں’ ٹی بی ڈبلیو اے‘ نے ونیت کو، ان کے وسیع تجربے اور موثر قائدانہ صلاحیت کو دیکھتے ہوئے، ’ ٹی بی ڈبلیو اے‘ انڈیا گروپ کا’سی ای او‘ مقرر کرلیا تھا ۔ وہ اس عہدے پر نومبر 2015 تک رہے ۔ اب وِنیت’ میگنون‘ گروپ کے چیئرمین کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں ۔

2014 میں’ امپیكٹ‘ میگزین کی ڈیجیٹل انڈسٹری کے 100 اہم لوگوں کی فہرست میں وِنیت شامل تھے ۔ 2013 میں ’سِلی کون ‘انڈیا میگزین نے اپنے سرِورق پر وِنیت کو ہندوستانی میڈیا کا نیا پوسٹر بوائے بتایا ۔ وِنیت کو کئی ایوارڈ بھی ملے۔ وہ 2013 میں لال بہادر شاستری (کارپوریٹ ایكسی لینس) ایوارڈ، 2012 میں ایم ٹی (کارپوریٹ ایكسی لینس) ایوارڈ، 2011 میں سی این بی سی ٹی وی مرسِڈیز بینز ینگ تُرک ایوارڈ اور ایشیا پیسفک انٹر پرنر ایوارڈ سے نوازے جا چکے ہیں ۔

حال میں ہی وِنیت نے اپنے ایک نئے ابتدائیہ ’ ٹیلینٹ ٹریک‘ کا اعلان کیا ہے ۔ وِنیت نے بتایا کہ ' ’ ٹیلینٹ ٹریک‘ ایک ایسا انٹر ایکٹیو پلیٹ فارم ہے جہاں میڈیا، آرٹ اور تھیٹر کی دنیا سے منسلک با صلاحیت افراد اپنے’ ہنر کی پروفائل‘ کی رجسٹریشن کرکے اپنے متعلقہ کام کےلئے مواقع تلاش کر سکتے ہیں ۔ اس جدیدپلیٹ فارم کو انڈسٹری سے زبردست مثبت ردِ عمل ملا ہے ۔ ابھی تک 30,000 سے زیادہ هنرمندوں نے اپنے’ہنر‘ کا رجسٹریشن  ’ ٹیلینٹ ٹریک‘ پر کرایا ہے ۔ وِنیت کہتے ہیں،

’’ ہمارےملک میں صلاحیتوں کا خزانہ ہے۔ یہاں لوگوں میں بے پناہ صلاحیتیں اور ہنر ہے۔ کچھ لوگو ں کو موقع ملتا ہے ۔ کچھ لوگ موقع نہ ملنے سے مایوس ہو جاتے ہیں ۔ ’ ٹیلینٹ ٹریک‘ هنرمندوں کے لئے ان کی صلاحیت کے موافق موقع دلانے کا  ذریعہ بنے گا۔ ہم ’ ٹیلینٹ ٹریک‘ کے پلیٹ فارم سے عام لوگوں کو اسٹار بنائیں گے ۔‘‘

وِنیت میں تخلیقی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ اپنے اس کامیاب کاروباری سفر کے دوران ونیت نےانگریزی زبان میں مینجمنٹ پر دو کتابیں ’ دی اسٹریٹ ٹو دی ہائی وے‘اور ’ بِلڈ فرام دی اسکریچ‘ بھی لکھی ہیں جس کے بعد ہندی میں اُن کی کتاب’آسمان سے آگے‘ بھی آئی ۔ اُن کی کتابوں کو معاشرے کے ہر طبقے ،بنیادی طور پر کاروباری طبقہ، سے کافی تعریف و توصیف بھی ملی ہے ۔ اِن کتابوں کے ذریعے وِنیت نوجوان کاروباریوں کو اپنا بزنس آگے بڑھانے کے لئے تحریک و ترغیب دیتے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ

’’ایک چھوٹےبزنس کو بڑا بنایا جا سکتا ہے ۔ ضرورت ہے صرف خود اعتمادی کی اور ایک  ’جنون‘ کی، جو آپ کو بہت آگے لے جا سکتا ہے ۔ اگر آپ کے ہاتھ میں کسی کام کی کمان سونپی جاتی ہے تو آپ کے لئےسب سے پہلا کام اپنے رویے میں تبدیلی کرنا ہوتا ہے۔ آپ کا رویہ کچھ ایسا ہونا چاہئے کہ... نہ تو میَں آرام کروں گا اور نہ ہی آپ کو آرام کرنے دوں گا۔ ‘‘

وِنیت بتاتے ہیں کہ کسی بھی’ا سٹارٹپ‘ کو بڑھانے کے لئے کسی خاص حکمت عملی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ آپ کی محنت اور لگن آپ کو خود بہ خود کامیابی کی روشنی دکھائے گی۔

وِنیت کہتے ہیں

’’تھوڑا صبر وتحمل ... زیادہ لگن ... اور مسلسل محنت، آپ کو کامیاب بناتی ہے ۔‘‘

قلمکار : روہِت شریواستو ؍ مترجم : انور مِرزا

Writer : Rohit Srivastava / Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

’گوگل گُرو ‘کی کامیابی کا راز ... اپنے کام سے عشق !

آپ کے ’اسٹارٹپ‘ کو فنڈ نہ مِلنے کی ہو سکتی ہیں یہ وجوہات ...

Related Stories