میوزک ڈائریکٹر بننے کی دھن ...حیدرآباد کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر ساجدہ خان

0

ساوںڈ انجنئرینگ کا کام اب نئے رنگ ڈھنگ اور انداز میں بدل گیا ہے۔ ایک طرف جہاں ڈسک جاکی اپنی مہارت دكھا رہے ہیں، وہیں ساونڈ اجينير کے طور پر نئی صلاحیتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ حیدرآباد کی نوجوان ساونڈ انجنئرساجدہ خان نے اس شعبے میں اپنی شناخت بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ حال ہی میں ان کودہلی میں ملک کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر کے ایوارڈ سے نوزا جا چکا ہے۔

ساجدا سے بات چیت کے دوران اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان کا حوصلہ ایک خاص مقصد پر نظر گاڑھے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ میوڈائرکٹرکے طور پر اپنا كیريئر بنائیں۔ انہیں ٹرنٹی کالج آف لندن سے پيانو کے امتحان کا انتظار ہے۔ اس کے علاوہ موسیقی اور رقص کا بھی مختلف زویوں سے مطالعہ کر رہی ہیں۔

ساجدہ کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ والد ریلوے سیکورٹی فورس میں انسپکٹر ہیں۔ اسکول کے زمانے سے ہی انہوں نے موسیقی میں اپنی دلچسپی دكھاني شروع کر دی تھی۔ بھارت وكاس پریشد کی قومی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلوں میں حصہ لے کر کئی ایوارڈ جیتے۔ وینا بجانا بھی سیکھا۔ ساجدا بتاتی ہیں،''انٹرميڈيٹ کی تعلیم کے دوران ملٹی ميڈيا کا مطالعہ کرتے ہوئے انہوں نےآڈيو کی ٹیکنالوجی پر توجہ دینا شروع كيا۔ ان کی دلچسپی میں اور اضافہ ہوا۔ پھر انہوں نے اسی کو اپنا ہدف بنالیا۔ گھر کے لوگ سوچتے تھے کہ دوسروں کے بچے اچھا بھلا اجينئرنگ کر رہے ہیں اور میںاڈيو کے پیچھے پڑی ہوں۔والد کو سمجھانا کافی مشكل تھا، کیونکہ پولس والے آسانی نہیں چھوڑتے، لیكن والد بہت اچھے آدمی ہیں انہوں نے میری بات سمجھی اور اس میدان میں آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ ''

ساجدہ بتاتی ہیں کہ حیدرآباد کے سرینگر کالونی میں ایک اسٹوڈيو میں گانوں میں رمكس اور بیگراونڈ ركارڈنگ کا کام شروع كيا۔ اس وقت اس شعبے میں لڑکياں نہیں تھیں۔ اس دن کو آج دس سال گزر چکے ہیں۔ اس درمیان بہت ساری کامیابیاں ساجدہ نے حاصل کیں۔ ردم اسٹوڈيو سے ڈی ٹی ایس پری مكس اجينئر کا ڈپلوما مکمل كيا۔ رائیڈو وِذن ميڈيا اور گيتاجلی اسٹوڈيو کے ساتھ ركارڈ اور مكسنگ کا کام كيا۔ 

 30 سال کی عمر میں کچھ قابل ذکر کامیابیاں ان کے نام ہیں۔ انہوں نے اب تک 60 فلمو کی ڈبنگ کی ہے، جن میں ہندی، تیلگو، تمل، ملیالم اور بھوجپوری پھلمے شامل ہیں۔ اس طرح انہوں نے ہندی، اردو، تیلگو اور انگریزی کے علاوہ تمل زبان بھی سیکھ لی ہے۔ ایل ودياناتھن، تھامس، LV گنیشن، چكری، ایل سریش اور آر پی پٹنائک جیسے میوزک ڈائرکٹروں کے ساتھ کام بھی كيا ہے۔

شاجدہ پيانو بجاتی ہیں اور ٹرنٹی کالج لندن سے دو امتحانات بھی پاس کر چکی ہیں۔ پھر ایک امتحان کی تیاری کر رہی ہیں۔

كسی ایک میوزک انسٹرومنٹ میں ماہر ہو اس میں اپنی شناخت کیوں نہیں بناتیں؟

اس سوال کے جواب میں ان کا جواب ہے،''مجھے میوزک ڈائرکٹربننا ہے۔ صرف ایک انسٹرومنٹ یا صرف گانا یا رقص سے کام نہیں چلے گا، بلکہ گانا، بجانا اور رقص کے علاوہ موسیقی میں ترمیم اور موسیقی کے نوٹ لكھنے تک سب کی معلومات ضروری ہے اور میں وہ سیکھ رہی ہوں۔ جب تک میں اپنے ہدف تک نہ پہنچ جاؤں مجھے چین نہیں آئے گا۔ ''

ساجدہ نے اپنے اب تک کے سفر میں بہت کچھ سیکھا ہے، لیكن ان کا حوصلہ دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں آگےبھی کامیاب رہیں گی۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شعبے میں قدم رکھا ہے، جہاں اس سے پہلے بہت کم لڑکياں پہنچی ہیں۔ ان کے سامنے كسی خاتون کے خدموں کے نشان نہیں ہیں، جتنی مثالی ہیں وہ مردوں کی موجود ہیں۔ ملک کے دارالحکومت میں ملے ایوارڈ نے ان حوصلے کو اور بھی بڑھایا ہے۔ عام طور پر جو نوجوان اعلی تعلیم حاصل کر نوكريوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، لیكن ساجدہ جیسی لڑکیاں بھی معاشرےمیں ہیں جو اپنی راہ خود بناتی ہیں اور اس پر چل کر منزل حاصل کرنے کا جدوجہد جاری رکھتی ہیں۔ انتظار رہے گا ایک اور خاتون موسیقارکا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories