کیش کرو کی شریک بانی سواتی بارگو کا ہندسوں سے کھیلنے کا ہنر

0

کوئی ایک شخص سواتی بارگو کا سادہ تعارف اس طرح پیش کرسکتا ہے: ایک ایسی خاتون جس نے برطانیہ میں اپنے خاوند کے ساتھ ایک کامیاب کیش بیک بزنس کی شروعات کی اور اب 'کیش کرو' کے ساتھ ہندوستانی مارکیٹ کے ایک بڑے حصے کو فتح کرچکی ہے۔

تاہم ایک مزید جامع تعارف یہ ہوگا: ریاضی میں ناقابل یقین مہارت رکھنے والی خاتون سے ملئے، جس نے سنگاپور کی حکومت، لندن اسکول آف اکنامکس (ایل ایس ای) کی جانب سے اسکالرشپ جیت لی، آکسفورڈ سے ملنے والی اسکالرشپ مسترد کی؛ لندن میں ایک تھکا دینے والی زندگی گذارنے کے دوران ایل ایس ای میں تین ہزار رکنی بزنس سوسائٹی کی قیادت کی؛ اُس لڑکے سے شادی کی جس سے وہ پیار کرتی تھی، دونوں شادی سے تین سال قبل ایک دوسرے کی نظروں سے دور چلے گئے تھے؛ اُس کے ساتھ برطانیہ میں کیش بیک بزنس (پاؤرنگ پاؤنڈز) کی شروعات کی؛ اور ہندوستان میں اسی طرح کی کاروباری سرگرمی شروع کرنے کے لئے درکار پیسوں کے مقابلے میں ڈبل سے بھی زیادہ پیسے ریز کئے۔ اور اس سے یوگا سے بہت زیادہ لگاؤ ہے۔

تو، وہ کون ہے؟

سواتی امبالا کی رہنے والی ہے۔ کہتی ہیں 'جب میں چھوٹی تھی تب میرے پاس ایک آکسفورڈ ڈکشنری تھی، جس سے میں ہمیشہ بہت ہی اہم مانتی تھی۔ جب میں اُس یونیورسٹی کے بارے میں جان گئی جس کے نام کے ساتھ اس ڈکشنری کو منسوب کیا گیا تھا، میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں وہاں سے تعلیم حاصل کروں گی۔' تاہم جب اُسے واقعی اس مشہور ادارے سے اسکالرشپ مل گئی تو انہوں نے پیشکش ٹھکراتے ہوئے ایل ایس ای کو ترجیح دی۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ اول سواتی کے مطابق لندن میں رہنے کا خیال زیادہ دلچسپ تھا اور دوم اُسے ایل ایس ای سے زیادہ اسکالرشپ ملی تھی۔

کالج میں 'ریاضی کیریئر' شروع کرنے کے بعد سواتی نے سوچا کہ 'شاید میں اس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ دکھا رہی ہوں' اور اس طرح سے وہ اس مضمون (ریاضی) پر زیادہ توجہ دیتی رہی ۔ وہ دراصل ہنرمند تھی اور نمبروں کے ساتھ کھیلنے کا لطف اٹھارہی تھی۔ سواتی کا کہنا ہے 'جب میں چھوٹی تھی تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کیا کرنا چاہتی ہوںاور یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ ریاضی میرے کام کیسے آئے گا۔ تاہم یہ ضرور جانتی تھی کہ میں اپنی مہارت بڑھا رہی ہوں اور کسی نہ کسی طرح یہ مفید ثابت ہوگی۔'

سواتی کا سرمایہ کاری بینکنگ کا کام جس میں رپورٹوں کو منظم کرنا اور تجزیاتی ڈیٹا کی تشریح کرنا شامل ہیں، نے ثابت کردیا کہ وہ صحیح تھی۔ لیکن سواتی ایک بات سامنے رکھنا چاہتی ہے اور وہ یہ ہے ' آپ کیا کررہے ہیں یہ اہم نہیں ہے: اہم کیا ہے آپ اسے ہر ممکن طریقے سے کرو۔ جب آپ ایک نئی نوکری شروع کرتے ہیں تو وہاں آپ کے باس کو یہ توقع نہیں ہوتی ہے کہ آپ پوچھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ ۔۔کیونکہ آپ کو کیا کرنا ہے، وہ آپ ٹریننگ کے دوران سیکھ جائیں گے۔ البتہ آپ کے با س آپ سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ نے ماضی میں کون سا کام اچھی طرح سے انجام دیا ہے؟'پاؤرنگ پاؤنڈز اور کیش کرو کے لئے ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کے وقت سواتی اور اُن کے خاوند اسی تصویر کو لاگو کرتے ہیں۔

محبت کے ساتھ

سواتی کی اپنی خاوند روہن کے ساتھ پہلی ملاقات ایل ایس ای میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد روہن واشنگٹن چلا گیا جہاں اسے نوکری ملی جبکہ سواتی گولڈ مین ساچس کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔ سواتی اعتراف کرتی ہیں 'تین سال گذر گئے ، محبت کی کچھ کہانیاں بھی وجود میں آئیں لیکن میں نے کبھی بھی کسی کو اتنا نہیں چاہا جتنا کہ روہن کو۔' دونوں نے سنہ 2009 ء میں شادی کرلی اور سنہ 2011 ء میں پاؤرنگ پاؤنڈز شروع کیا۔

سواتی کہتی ہیں 'روہن ایک بہترین بزنس پارٹنر ہے۔ ہم انا کو یک طرف رکھ کر ہر وہ قدم ساتھ مل کر اٹھاتے ہیں جس سے ہمارے بزنس کو فائدہ پہنچتا ہے۔درحقیقت روہن ہمیشہ سے ہی میری سب سے بڑی طاقت رہا ہے۔ وہ کاروبار کے لئے ایک بے مثال جوش اور جذبہ رکھتا ہے جو ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن رکھا ہوا ہے۔ کاروباری ہونا آستان نہیں ہے لیکن اگر آپ کے ساتھ ایک صحیح پارٹنر ہے تو یہ ایک ناقابل یقین تجربہ ہے جہاں آپ سفر کے دوران اور منزل پر پہنچنے پر برابر لطف اندوز ہوں گے۔'

کیش بیک

کیش بیک انڈسٹری کی مختلف ممالک میں ہورہی ترقی نے روہن اور سواتی کو پاؤرنگ پاؤنڈز شروع کرنے کی ترغیب دی۔ حالیہ وقت میں اس صنعت سے متعلق جو غیرمعمولی حقائق ابھر کر سامنے آئے ہیں، نے اس جوڑے کے نقطہ نظر کو صحیح ثابت کردیا ہے۔ امریکہ کی سب سے بڑی کیش بیک ویب سائٹ Ebates.com کو جاپانی Rakuten نے ایک بلین امریکی ڈالرس میں خریدا؛ برطانیہ میں الحاق مارکیٹنگ کا شعبہ پورے ای کامرس مارکیٹ کا تین سے چار فیصد ہے۔

روہن اور سواتی نے آغاز سے ہی ہندوستان کے بارے میں سوچنا شروع کیا تھالیکن پاؤرنگ پاؤنڈز کو شروع کرنے کے وقت یہاں ای کامرس کا شعبہ پوری طرح سے پروان نہیں چڑھا تھا۔ تاہم برطانوی سرمایہ کاروں سے 7 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالرس ریز کرنے کے بعد انہوں نے اپریل 2013 ء میں ہندوستان میں کیش کرو شروع کی۔ اس جوڑے کا دعویٰ ہے کہ کیش کرو ہندوستان کی سب سے بڑی کیش بیک اور کوپن سائٹ ہے جس کا مقابلہ baggout.com اور Pennyfull سے ہے۔ وہ 500 سے زائد برانڈز کے ساتھ کام کرتے ہیں جیسے ایمیزون، سنیپ ڈیل ، Jabongوغیرہ وغیرہ۔ سواتی کہتی ہیں 'بزنس بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے۔'

برطانیہ اور ہندوستان میں کاروباری شخص ہونے کے درمیان موجود فرق پر بات کرتے ہوئے سواتی نے کہا 'چیلنجزبنیادی طور پر ایک جیسے ہیں۔ آپ کو ایک ٹیم تشکیل دینا ہوتی ہے ، آغاز کی تلاش کرنا پڑتی ہے وغیرہ۔ ہندوستان میں کاروباری ذہنیت زیادہ لچکدار ہے، اتوار کو صبح آٹھ بجے کسی کو بلانا مسئلہ نہیں ہے۔' وہ مزید کہتی ہیں 'اس کے علاوہ، اعلیٰ لوگوں تک رسائی آسان ہے۔ بڑی کمپنیوں کے بانی فیس بک پر میرے دوست ہیں۔ برطانیہ میں یہ سب ناقابل تصور ہے۔'

سواتی کا کہنا ہے کہ وہ خدا کی انتہائی شکر گذار ہیں جنہوں نے اُسے کامیابیوں اور مواقعوں سے نوازا۔ کہتی ہیں ' میں بے شمار لوگوں سے ملی ہوں جو مجھ سے زیادہ سمارٹ ہیں اور میں واقعی شکر گذار ہوں کہ میں خوش قسمت ہوں۔'

قلمکار: فرانسسکافراریو

مترجم: ظہور اکبر

Writer: Francesca Ferrario

Translation by: Zahoor Akbar