اسٹارٹپس کے لئے ہندوستانی میڈیکل ٹورزم  میں نئے مواقع

امریکہ کے مقابلے میں ہندوستان میں بڑی بیماریوں  کاعلاج 80 فیصد سستا ہے، جس کی وجہ سے غیر ملکی ہندوستان میں آکر علاج کروانا پسند کر رہے ہیں۔ صرف امریکہ ہی نہیں دنیا بھر کے لوگوں نے گزشتہ  6-7 سالوں بڑی تعداد میں علاج کرانے کے لئےہندوستان  کا رخ کیا ہے۔  اس کی وجہ ہے کہ  ہندوستان میں زبردست جدید طبی سہولت امریکہ اور یورپ کے مقابلے انتہائی کم خرچ پر دستیاب ہیں۔ ان چند سالوں میں دہلی، این سی آر، چندی گڑھ، ممبئی، بنگلور اور چنئی کے ہسپتالوں کے کاروبار نے بھاری مقدار میں منافع کمایا ہے۔ ایک  اور وجہ ہے  ہندوستان میں میڈیکل ٹورزم کی ترقی۔

0

ہندوستان کا طبی سیاحت کاروبار 50 ارب کو بہت پہلے ہی پار کر چکا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے مقابلے میں یہاں سستی، جدید اور روایتی طبی خدمات دستیاب ہونے کی وجہ سے دنیا کے نقشے پرہندوستان طبی سیاحت کا تیز رفتاری سے ابھرتا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ "

"ان چند سالوں میں کفایتی قیمت پر بہتر طبی سہولت کی وجہ سے دوسرے ممالک سے ہندوستان آنے والے مریضوں کی تعداد میں جم کر اضافہ ہوا ہے۔ سیاحت کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2016 جون ماہ تک 96856 غیر ملکیوں نے ہندوستان کا سفر کیا۔ 2013 میں میڈیکل ویزا پر 56129 غیر ملکی ہندوستان آئے۔ 2014 میں ان کی تعداد 75671 رہی، جبکہ 2015 میں یہ بڑھ کر 134344 ہو گئی۔ ان میں سے زیادہ تعداد بنگلہ دیش سے آنے والے مریضوں کی ہے۔ "

طبی سیاحت  میں اضافہ کم قیمت اور بہتر طبی خدمات کو دیکھتے ہوا۔ ہندوستان میں سیاحت کا سب سے بڑی صنعت ہے۔ اس کا بھاری اثر قومی جی ڈی پی ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سیاحت کی وزارت نوڈل ایجنسی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے آنے والے وقت میں طب کے لئے ہندوستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی متوقع تعداد کے بڑھنے کی امید  ہے۔  طبی سیاحت کی صنعت میں ہندوستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک سروے پر یقین کریں توہندوستان کو میڈیکل ٹورزم سے حاصل غیر ملکی افراتقریباً 30،000 کروڑ روپے  ہے۔ بیرون ملک میں طبی انشورنس کے دائرے میں آنے والے مریضوں کو لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ باقی دنیا کے لئے روایتی طبی طریقے آیور ویدک، ہوميوپیتھ، نیچروپیتھی، یونانی وغیرہ ہندوستان کی خاص کامیابیاں ہیں۔ ہندوستان کے میڈیکل مرکز تک پہنچنے کے لیے ودیشی مریضوں کو آسانی سے ویزا بھی دستیاب ہو جاتا ہے۔

"ہندوستان میں بونمیرو ٹرانسپلانٹ، بائی پاس سرجری، گھٹنے کی سرجری اور لیور ٹرانسپلانٹ جیسی سرجری پر مغربی ممالک کی مقابلے انتہائی کم خرچ آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں دس لاکھ  موثر ڈاکٹر اور لاکھوں کی تعداد میں تربیت یافتہ نرس ہیں۔"

کوریا سے دہلی آئی ریحانہ نے کچھ دن پہلے اپنی ناک کا ٹریٹمنٹ کروایا۔ اس ٹریٹمنٹ کے لئے ہندوستان میں محض 35،000 روپے کا خرچ آیا جبکہ ان کے ملک میں 60 ہزار سے 70 ہزار تک خرچ ہوتا ہے۔ بونمیرو ٹرانسپلانٹ پر امریکہ میں دو لاکھ ڈالر ، برطانیہ میں بھی دو لاکھ ڈالر، تھائی لینڈ میں 62500 ڈالر اور ہندوستان میں 20 ہزار ڈالر کا خرچ آتا ہے۔ اسی طرح بائی پاس سرجری کے لئے امریکہ میں 15-20 ہزار ڈالر، برطانیہ میں تقریبا 20 ہزار ڈالر، تھائی لینڈ میں 15 ہزار ڈالر کےاور ہندوستان میں 4 ہزار سے 6 ہزار ڈالر کا خرچ آتا ہے۔ گھٹنے کی سرجری کے لئے امریکہ میں 20 ہزار ڈالر لگتے ہیں جبکہ ہندوستان میں اس پر محض 1 ہزار ڈالر کے  ہی خرچ آتا ہے۔ دہلی، بنگلور، چنئی، حیدرآباد اور ممبئی میں واقع خانگی ہسپتالوں میں دوسرے ممالک سے بڑی تعداد میں مریضوں کا آنا ہوتا ہے۔

میڈیکل ٹورزم سے وابستہ مارکیٹ کے دیگرشعبوں پر نظر ڈالیں، تو طبی آلات کی درآمد  بھی غور طلب ہے۔ ملک میں استعمال ہونے والے 75 فیصد طبی آلات اور  ترقی یافتہ ممالک سے درآمد کئے جاتےہیں۔ طبی آلات کے قوانین مرکزی ڈرگ  کنٹرولر تنظیم ڈرگ اور کاسمیٹکس کے قانون کے تحت آتے ہیں ۔

"طبی سیاحت کے میدان میں ہندوستان  تاج محل اور لال قلعہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپریشن کرانے کا اختیار غیر ملکیوں کو اب خوب بھانے لگا ہے۔ ہندوستان میڈیکل سیاحت کے معاملے میں ملائیشیا، تھائی لینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ نے لگا ہے۔ میڈیکل سیاحت مارکیٹ سالانہ دو ارب امریکی ڈالرسے  ذیادہ  کی پرواز پر ہے۔ دہلی این سی آر کے علاوہ چندی گڑھ، ممبئی، بنگلور اور چنئی کے جدید ترین طبی مراکز کو تو میڈیکل ٹورزم سے اچھی خاصی آمدنی ہو رہی ہے۔ "

بیرون ملک سے مسلسل مریض آ رہے ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ امریکہ، برطانیہ، روس، عراق اور افغانستان کےہے۔  سرجری کے لئے ہندوستان آنے جانے کا ہوائی سفر کا خرچ سمیت علاج پر ہونے والا کل خرچ امریکہ اور دیگر ممالک میں ہونے والے علاج کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ خاص طور سے خلیجی  ممالک ہندوستان کے طبی سیاحت کی صنعت کے لئے اہم مارکیٹ بنتے جا رہے ہیں۔ 

امید کی جا رہی ہے کہ یہ  کاروبار 2020 تک 280 ارب ڈالر تک ہو جائے گا، جس کی وجہ سے اب اسٹارٹپس کی نظر بھی غیر ملکی مریضوں پر ہے۔ ملک میں میڈیکل سیاحت کے بڑھتے ہوئے کاروبار نے ہیلتھ سیکٹر میں اسٹارٹپس کو موقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایسے کئی اسٹارٹپس آگے آئے ہیں۔ یہ بیرون ملک سے آنے والے مریضوں کو ان کی بیماری کے حساب سے میڈیکل ٹریٹمنٹ لینے کے لئے سب سے اچھا انتخاب  کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ہسپتالوں، ڈاکٹروں کی معلومات دینے کے علاوہ ان کے آنے جانے، رکنے اور کھانے پینے کا انتظام، کے ساتھ ساتھ شاپنگ اور گھومنے پھرنے کا انتظام بھی کر رہے ہیں۔

تحریر- رنجنا ترپاٹھی