آلودگی سے نجات کے لئے دہلی کے 3 طالباء کی منفرد کوشش ...16 سال کی عمر میں بڑی کامیابی

0

جدت پسندی اور محنت کا جذبہ کبھی کبھی عمر اور تجربے سے آگے نکل جاتا ہے۔ اگر آپ میں کوئی کام کرنے کا جذبہ ہے تو آپ مشکل سے مشکل کام بھی کامیابی سے کر سکتے ہیں اور دوسروں کے لئے مثال بن سکتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی کیا سنچِت مشرا، تريمبكے جوشی اور پرنب کالرا نے، جنہوں نے کافی چھوٹی عمر میں ہی ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے، جو ماحولیات کی سمت میں کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے آلات عام طور پر سیکورٹی کےلئے استعمال میں لائے جاتے ہیں، لیکن ان تینوں دوستوں کا خیال ہے کہ ان کا یہ ڈرون آلہ ماحولیات کے شعبے میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے بنانے کا مقصد بھی ان کا یہی ہے کہ لوگ جان سکیں کہ جس ماحول میں وہ سانس لے رہے ہیں اس میں کون سی گیس کتنی مقدار میں موجود ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس آلے کے استعمال سے معاشرے میں ماحولیات کے تئیں لوگ بیدار اور آگاہ ہوں گے اور توازن بنانے کی سمت میں صحیح اور مؤثر کوشش کی سکے گی۔

سنچِت اور تريمبكے دونوں صرف سولہ سال کے ہیں اور اسی سال انہوں نے دسویں کا امتحان کامیاب کیا ہے۔ جبکہ پرنب صرف پندرہ سال کے ہیں اور اب دسویں کے طالب علم ہیں۔

جنون

سنچِت بتاتے ہیں کہ وہ اور تريمبكے ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ جب وہ نویں کلاس میں تھے اسی دوران وہ سانئسی مقابلہ کے لئے کسی دوسرے اسکول میں گئے۔ وہیں ان کی ملاقات پرنب سے ہوئی اور تینوں میں اچھی دوستی ہو گئی۔ تینوں کو تکنیکی موضوعات میں کافی دلچسپی تھی۔ تینوں ہی زندگی میں کچھ ہٹ کر کرنا چاہتے تھے اور اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدت پسندی ان کے طبیت میں شامل تھی۔

اس دوران سنچِت ڈرون پر ریسرچ کر رہے تھے۔ تبھی پرنب کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ایک ایسا ڈرون بنایا جائے جو کہ ماحولیات کے لئے کام کر سکے۔ پھر تینوں دوست اس ڈرون کو بنانے کی تیاری میں لگ گئے۔ اسی سال فروری میں انہوں نے اپنے اس پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا اور جولائی 2015 تک ان کا یہ ڈرون بن کر تیار ہو گیا۔ لیکن اب بھی یہ تینوں اسے اپ گریڈ کرنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔

تريمبكے بتاتے ہیں،"ہمارا ڈرون ماحول کی صحیح ریڈنگ دے رہا ہے، لیکن اس ریڈنگ ماحولیات کے ماہرین ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اس کو اپ گریڈ کر رہے ہیں اور اس کو آسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایک عام انسان بھی سمجھ سکے۔ ساتھ ہی یہ جان سکے کہ اس وقت ہمارے ماحولیات میں کتنی مقدار میں کون سی گیس موجود ہے۔ " تینوں کا دعوی ہے کہ ان کا یہ آلہ ڈرون ماحول میں موجود تمام گیسوں کی مقدار کی درست معلومات دے رہا ہے۔ لیکن اب ان کو اس آلے کو کسی ادارے نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ تینوں چاہتے ہیں کہ اپ گریڈ کرنے کے بعد ہی اسے متعلقہ ادارے کے سامنے پیش کریں گے۔

سنچِت، تريمبكے اور پرنب کا خیال ہے کہ کورس کے اب ڈرون پر پابندی ہے، لیکن وہ اس کو اپ گریڈ کرنے کے بعد حکومت کے سامنے پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ ان کا یہ پروجیکٹ حکومت اور ایک عام انسان کے لئے بھی کس طرح مفید ہے۔

چیلنج

تینوں کے لئے ڈرون کو تیار کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ کیونکہ یہ تینوں طالب علم ہیں اور ان کے اس پروجیکٹ پر کافی خرچ بھی آیا۔ اس کے علاوہ پروڈکٹ بنانے کے لئے انہیں اپنے گھر سے تقریبا دو گھنٹے کا سفر طے کرکے دہلی کے نیتا جی سبھاش پیالیس، پيتم پورہ میں میکرس اسپیس پر جانا ہوتا تھا۔ یہاں تمام مل کر پروڈکٹ کی ڈذائننگ سے لے کر میکنگ تک کا کام کرتے تھے۔ وہاں کے باقی لوگوں نے بھی ان کی اس کام میں بہت مدد کی۔ پروڈکٹ بناتے وقت اس بات کا بھی خاص خیال رکھا گیا کہ یہ پورٹیبل اور كمپیكٹ ہو تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام پر آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔

سنچِت بتاتے ہیں، 'اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ ہماری طرح اور بھی کئی بچے ہیں جو کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ میکرس اسپیس بنائیں تاکہ وہ تعمیری سچ رکھنے والے بچے اس کا استعمال کرسکیں اور ان کو ایک پلیٹ فارم مل سکے۔"

ابتدائیہ(اسٹارٹپ)

مستقبل میں یہ لوگ ٹیکنالوجی کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے لئے ایک ایسا پروڈکٹ ڈیزائن کرنا چاہتے ہیں، جس کے ذریعے پارکنگ کا مسئلہ حل ہو، آج شہروں میں یہ بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ وہ مستقبل میں ایک ایسا اپلیکیشن بنانا چاہتے ہیں جو کہ ڈرون کی مدد سے لوگوں کو ان کے فون پر اس بات کی معلومات فراہم کر سکے کہ ان کی کار پارکنگ کے لئے کون سی جگہ خالی ہے۔

شروع میں انہوں نے سوچا تھا کہ ڈرون کو کسی این جی او کے ذریعے لانچ کریں لیکن جلد ہی انہیں اس بات کا بھی احساس ہو چکا تھا کہ ڈرون بنانے کے لئے انہیں فنڈ کی ضرورت ہو گی اور اس کے لئے بہتر ہو گا کہ کسی این جی او کی مدد لینے کے بجائے یہ خود کی ہی ایک اسٹارٹپ شروع کریں۔ پھر انہوں نے 'فنكس ڈرون لائیو' نام سے اسٹارٹپ شروع کیا۔ جس کے لئے یہ لوگ ان دنوں اویسٹر تلاش کر رہے ہیں۔

اپنی تعلیم اور ان ایجادات کے ساتھ ساتھ جہاں تريمبكے جوشی کو پیانو بجانا اور گانا پسند ہے۔ وہیں سنچِت کا شوق تکنیکی چیزوں میں ہے ان کا خیال ہے کہ جس کام میں ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں ہوتا اس کام میں ان کا دل نہیں لگتا۔ پرنب کی دلچسپی رقص میں ہے اور وہ اچھے رقاص بھی ہیں۔