بھوپال کے نوجوان محسن خان ...سماج کی تصویر بدلنے کا جنون

0

  حال ہی میں فوربس نے ایشیاء کے 30 سال سے کم عمر کے 'ہونہار نوجوان قائدین اور کاروباریوں ' کی فہرست جاری کی جس میں 50 سے زیادہ ہندوستانیوں کو اولین مقام حاصل ہوا۔ اس فہرست میں صآرف تکنک، کاروبار، تکنیک، فنون، نگرانی صحت اور سائنس، صحافت، سماجی کاروبار، اقتصادیات، صنعت اور خوردہ سمیت مختلف شعبہ ہائے حیات کے تحریک دینے والے نوجوان قائدین کو شامل کیا گیا تھا۔ حالانکہ فوربس کی اس فہرست میں صرف ایسے لوگوں کو جگہ ملتی ہے جن کے کارناموں کو قومی اور بین الاقوامی شناخت حاصل ہوچکی ہو۔لیکن ہر سماج میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بڑی خاموشی کے ساتھ ملک، سماج اور انسانیت کی فلاح کے لئے کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر بستی میں ہوتے ہیں۔ انہیں نہ تو شہرت کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا لالچ۔ ان کے کارناموں سے حاصل کردہ اطمینان ہی ان کے لئے سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک ہونہار، باعثِ تحریک لیکن گمنام نوجوان بھوپال میں رہتا ہے جس کے کارناموں پر سماج کو فخر ہوتا ہے۔ جس عمر میں دیگر طلباء پڑھائی لکھائی، کریئر اور یار دوستوں کے ساتھ موج مستی سے آگے نہیں سوچ پاتے، وہیں اس 22 سالہ نوجوان نے نوجوانوں کے سامنے دوسروں کے لئے جینے کی ایک مثال پیش کی ہے۔ اس نوجوان طالبِ علم سے متاثر ہوکر نہ صرف نوجوان خود کو اس کے مشن کے ساتھ وابستہ کر رہے ہیں بلکہ سرپرست حضرات بھی اپنی مرضی سے اپنے بچوں کو اس کی ٹیم کا حصہ بننے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

"کسی کی مسکراہٹوں پہ ہو نثار

کسی کا غم ملے تو لے اُدھار۔۔۔ جینا اسی کا نام ہے۔ ''

ایکٹ نان سنس۔۔ سپریڈ ہیپی نیس یعنی بے کار اور فالتو کاموں میں سُکھ کی تلاس اور اس کی تقسیم۔ اپنی خوشی دوسروں کے ساتھ بانٹنا اور دوسروں کے غم کو اُدھار لینا۔ شائد یہی مقصد ہے اس نوجوان کا۔ بھوپال اسکول آف سوشل شائنس کے بیچلر آف سوشل ورک کے فائنل ائر میں پڑھنے والے 22 سالہ طالبِ علم محسن خان نے سال 2014 میں 'اَنش' نام سے ایک رضاکار تنظیم کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کا مقصد ایسے لوگوں کو آپس میں جوڑنا اور انہیں اکٹھا کرنا ہے جن کے دلوں میں دوسروں کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ ہو لیکن کسی وجہ سے وہ اب تک ایسا نہ کر پائے ہوں۔ یہ تنظیم ایسے لوگوں کو آپس میں جوڑنے کے لئے انہیں ایک پلیٹ فارم مہیا کرواتا ہے اور انہیں دیتا ہے کرنے کے لئے کام۔


تنظیم کی صلاحیت:

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

(مجروحؔ سلطانپوری)

محسن نے یور اسٹوری کو بتایا،

"سماجی خدمات کا کام میں نے یوں تو 2011 سے ہی شروع کردیا تھا لیکن گزشتہ تین برسوں سے میرے کاموں کو نہ صرف لوگوں نے سراہا ہے بلکہ آگے آکر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لے رہے ہیں۔''

شروع میں چار دوستوں کے ساتھ میں نے 'اَنش' نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ بعد میں کالج کے طلباء اس سے جُڑتے گئے۔ فی الحال اس تنظیم میں 80 کُل وقتی طلباء اور طالبات ہیں جو کسی بھی کام کے لیے سال کے 365 دن اور 24 گھنٹے تیار رہتے ہیں۔"

اس مرکزی گروپ کے ارکان نے پانی پوری زندگی دوسروں کے نام کر رکھی ہے۔ یہ بھوپال کے علاوہ مدھیہ پردیش کے دیگر ضلعوں میں بھی اپنا کام کرتے ہیں۔ کور گروپ کے اراکین گھر سے کئی کئی دن باہر رہ کر سماجی خدمت کے کام میں لگے رہتے ہیں۔ تنظیم میں کور گروپ کے علاوہ 500 ایسے ممبرس ہیں جو کسی بھی بڑے پروگرام میں ہاتھ بٹانے اور اسے کامیاب بنانے کا کام کرتےہیں۔ یہ تنظیم بھوپال سے باہر رہنےوالوں کا بھی استقبال کرتی ہے۔ کوئی بھی 'انش انڈیا' ویب سائٹ پر لاگ اِن کرکے اس سے جُڑ سکتا ہے۔ اس پر ایک بار خود کو رجسٹر کروانے کے بعد تنظیم کے لوگ خود ہی فون کرکے ان کے رابطہ کرتے ہیں۔

سیکنڈ اننگ یعنی زندگی کی دوبارہ شروعات:

ان بوڑھی ہڈیوں اور لڑکھڑاتی ٹانگوں میں نہ جانےکہاں سے جان آگئی تھی۔بے جان سی رگوں میں مانو نیا خون اور نئی طاقت آگئی تھی۔ چہرے پر ایک عجیب خوشی اور آنکھوں میں چمک۔ جیسے برسوں بعد قید سے کوئی پرندہ آزاد ہوا ہو۔ کھلے آسمان میں اپنی مرضی کی اُڑان بھر رہا ہو۔ بس ہر پل کو جی بھر کر جی لینا چاہتا ہو۔


 زندگی میں ایک بار پھر سے بچہ بن جانا چاہتا ہو۔ 80 سالہ شرما انکل اپنے تھرتھراتے ہاتھوں میں مائک تھامے "او میری زہرہ جبیں" گیت گنگنارہے تھے، تو اس وقت زندگی کی لگ بھگ 85 ویں بہار دیکھ چکے حامد چاچا جوانی میں لکھی کچھ اپنی تو کچھ غالبؔ اور میرؔ کی شاعری سنا رہے تھے۔ 20 سال قبل بنک سے سبکدوش ہونے والے نائیڈو انکل کالج کے بعد آج پہلی بار ماؤتھ آرگن پر کوئی دھُن نکال رہے تھے۔ وہیں بیٹھی مردُلا آنٹی، گوَری کاکی اور شبنم چاچی بے تحاشہ ہنسے جارہی تھیں اور تالیاں بجارہی تھیں۔


یہ نظارہ تھا محسن کے سیکنڈ اننگ پروگرام کا جس میں ایک علاقے کے کئی محلوں کے بزرگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ان کا آپس میں گیٹ ٹوگیدر کیا گیا۔ ان سے وہ سب کروایا گیا جو وہ برسوں پہلے چھوڑ چکے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ملازمت سے وظیفہ یابی کے بعد زندگی سے بھی سبکدوش ہوچکے تھے۔ وہ عرصے سے اپنے اپنے گھروں میں کسی پرانے فرنیچر کی طرح کسی کونے میں مقید تھے۔


راشن لانے اور بیمار پڑنے پر ڈاکٹر کے پاس جانے کے علاوہ وہ اپنے گھر سے کم ہی نکلا کرتے تھے۔ ایک ہی محلے میں رہ کر دو بزرگ برسوں سے ایک دوسرے سے نہیں ملے تھے۔ انہیں ایک دوسرے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ ایکا نہیں کہ وہ اکیلے ہوں ، ان کا اپنا خاندان ہے۔ بیٹے بہو اپنی ملازمتوں میں مست ہیں تو گھر کے بچے اپنے یار دوستوں میں۔ 'اَنش' اس طرح کے تمام پروگرام منعقد کرتا ہے جس سے لوگوں کی زندگی میں کچھ سُکھ لائے جاسکیں۔

سماجی کاموں میں 'اَنش' کی خدمات:

انش لوگوں کے گزشتہ دو سالوں میں غریبی، بھوک، بے روزگاری، ناخواندگی، خواتین پر تشدد، خواتین کو با اختیار بنانا، رشوت ستانی، ماحولیات کی تئیں بیداری جیسے کئی موضوعات پر کام کیا ہے۔ انش کے لوگ ادیواسی ضلعوں میں تعلیمی کیمپ لگاکر ان کے بچوں کو تعلیم کے تئیں بیدار کرنے کا کام بھی کر چکے ہیں۔ انش سے جُڑے جتنے بھی اراکین ہیں اور ان میں جو بھی صلاحیت ہے، وہ اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں اور انہیں سکھاتے ہیں۔ انش کئی نامی گرامی تنظیموں کے ساتھ جُڑکر بین الاقوامی فلم سازی، ایکٹنگ، تھیٹر، فوٹوگرافی وغیرہ جیسے موضوعات پر ورکشاپ منعقد کرواچکے ہیں۔


طلباء کے لئے انٹرن شِپ:

محسن کا مستقبل کا منصوبہ اپنی تنظیم میں اپنے کالج سمیت دیگر کالجوں کے سوشل ورک کے طلباء کو ایک ماہ کی انٹرن شپ دینا ہے۔ اس انٹرن شپ میں سماجی سائنس کے دیگر مضامین کے طلباء بھی حصہ لیں گے۔ اس ایک ماہ میں طلباء کو مختلف سماجی مسائل کے جانکاری دی جائے گی تاکہ ان کے اندر سماجی خدمات کے احساس کی تخم ریزی کی جاسکے۔ ان میں سماجی مسائل کا شعور پیدا کیا جاسکے۔ اس کام میں تعاون کے لئے یونی سیف نے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔


انش کی معاون تنظیمیں:

انش کے اراکین کے کام سے خوش ہوکر کئی ممتاز تنظیموں نے اسے اپنا تعاون فراہم کیا ہے۔ یونیسیف، ایک پریشد، مشن اندردھنوش، نرمدا بچاؤ آندولن، میک ا دفرنس، دی آپٹی مِسٹ سیڑیزن، نیشنل راٹرس ایجوکیشن فورم جیسی تنظیمیں انش کے کاموں میں اس کا تعاون کر رہی ہیں۔ دوسری جانب ان تنظیموں کے کاموں میں انش کے رضاکر بھی تعاون کرتے ہیں۔


اراکین کرتے ہیں فنڈ کا انتظام:

انش کے زیادہ تر کاموں میں فنڈنگ اس کے اراکین اپنی جیب سے کرتے ہیں۔ یہ اراکین اپنے گھر سے ردی اخبارات اور دیگر کباڑ کا پیسہ سماجی کاموں میں لگانے کے لئے انش کے اکاؤنٹ میں جمع کرواتے ہیں۔ 26 جنوری اور 15 اگست کو یہ ترنگا بیچ کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں۔ اراکین کئی مرتبہ کسی مخصوص پروگرام کے انعقاد سے پہلے فنڈ جمع کرنے کے لئے مہم چلاکر پیسے جمع کرتے ہیں۔ اس کے لئے یہ میوزیکل کنسرٹ سے لے کر بوٹ پالش کرنے کا کام تک کرنے سے پرہیز نہیں کرتے۔ کئی مرتبہ انہیں شہر کی کچھ تبظیموں کے ذریعے بھی چھوٹی موٹی رقم مہیا کروادی جاتی ہے۔

انا آندولن سے شروع ہوا محسن کا سفر:

یہ کہانی شروع ہوتی ہے 2011 سے۔ یہ وہی وقت تھا جب ملک کی راجدھانی دہلی سمیت پورے ملک میں لوگ انڈیا اگینسٹ کرپشن کے بینر تلے انا ہزارے کی قیادت میں جن لوک پال بل لانے اور رشوت ستانی کے خاتمے کے لئے سڑکوں پراُتر آئے تھے۔ یہ مہم ملک کے ان تمام ایماندار شہریوں کے لئے امید کی ایک کرن بن کر ائی تھی جو ملک کو سہی معنوں میں رشوت سے پاک دیکھنا چاہتے تھے۔ محسن کو اس مہم نے بہت گہرائی تک متاثر کیا۔ محسن نے بھوپال کے تمام ایسے لوگوں کے فیس بک پروفائل چیک کئے جو انا آندولن کی حمایت کر رہے تھے۔ انہیں ایک پلیٹ فارم پر بلوایا اور پہلی مرتبہ بھوپال میں رشوت کے خلاف محسن نے بھوپال کے مولانا آزاد نیشنل ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے سامنے ایک ریلی منعقد کی۔ حالانکہ تب محض 16 برس کے محسن کو اس بات کا ذرا بھی علم نہیں تھا کہ عوامی زندگی میں رشوت کس بلا کا نام ہے، اور جن لوگ پال نام کا ڈاکٹر اس بیماری کو کیسے ٹھیک کرے گا۔ ملک سے رشوت ختم ہوئی ہو یا نہ ختم ہوئی ہو لیکن محسن کو اس مہم نے ملک، سماج اور بیمار ذہنیت کی خدمت کے لئے ہمیشہ کے لئے متحرک کردیا۔ حالانکہ ان مصروفیات کی وجہ سے 11 ویں اور 12 ویں جماعت میں محسن ناکام ہوگئے اور وہ دو تین سال پیچھے بھی ہوگئے۔ لیکن ان ناکامیابیوں نے محسن کے عزائم کو کمزور نہیں ہونے دیا اور 12 یں کے بعد انہوں نے ایسا کریئر منتخب کیا جس کے پریکٹکل اور تھیوری دونوں راستے سماجی خدمات سے ہوکر گزرتے ہیں۔

یور اسٹؤری کو محسن بتاتے ہیں،

"جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم اتنا سارا کام کیسے کر پاؤگے، تو میں ان سے یہی کہتا ہوں کہ میں ایسے کاموں کو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ لیکن ایک بہتر کل کے لئے ایک مساوات پر مبنی سماج بنانے کی میری خواہش مجھے ایسے کاموں کر کرنے کا حوصلہ اور طاقت بخشتی ہے۔ "

تحریر: حسین تابش

مترجم: خان حسنین عاقبؔ

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج    (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں...

ملک کی ترقی کےلیے بچوں کی بہتر پرورش ضروی : دیا مرزا

اردوکی بدولت ایک گاؤں کی بدل گئی تقدیر