جب سستے جوتوں میں دھوپ کی وجہ سے پیر جلنے لگتے تھے: مرکزی وزیر مہیش شرما کی کہانی

0


حکومت ہند میں ثقافتی امور کے وزیر مہیش شرما نے کہا کہ نئے نوجوانوں میں ملک، معاشرے، اور انسانیت کے لئے کچھ کرنے کا احساس موجود ہے اور ہم سب اس احساس کو سلام کرتے ہیں۔

وزیر موصوف دہلی میں منعقدہ یور اسٹوری کے بھاشا پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ انہوں نے کہا۔

''ماں باپ، ٹیچرس اور معاشرہ سب کے ساتھ ایک حسن سلوک کا جزبہ ضروری ہے۔ یہ بات بھی جان لینا چاہئے کہ ہمدردی اور احترام میں فرق ہے۔ ہم سب میں سماج سے لینے کے بجائے کچھ دینے کی خواہش ہونی چا ہئے۔ دینے والوں میں ہمارا نام اس ہو اس سے لگتا ہے کہ خدا نے ہمیں جس کام کے لئے بھیجا ہے، اسے پورا کر رہے ہیں۔ کسی کو کچھ دینے کا جذبہ رکھںا۔ ہمارے وجود کا جشن ہے۔ ''

وزیر نے کہا کہ ایک سال پہلے وہ یور اسٹوری کے ربط میں آئے اور آج کافی کچھ تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یور اسٹوری کی سی ای او شردھا شرما کی باتوں پر خاص توجہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر' ہم' والا جذبہ سب میں تبدیل کر دیں تو 90 فیصد مقصد پورا ہوجائےگا-

مہیش شرما کے مطابق آج ہر جگہ گلاكاٹ مقابلہ ہے۔ لیکن ان حالات میں بھی ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہم کچھ وراثت چھوڑ جائیں۔ وراثت میں كياملا اس سےشناخت نہیں بنتی، بلکہ وراثت میں کچھ چھوڑ جانے سے شناخت بنتی ہیں۔

اپنے اسکول کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا،

''گھر سے اسکول کا فاصلہ آٹھ کلومیٹر تھا۔ پیدل آنا جانا پڑتا تھا۔ کڑی دھوپ میں جب واپس ڈیڑھ بجے اسکول آتے تو جوتوں سے پیر جلنے لگتے تھے۔گرم ریت سےبچنے کے لئے ایک پودھے کے پتے اس میں ڈال لیتے۔اسی طرح ایک لمبا دور گزرا۔''

وسائل کے بارے میں ہم باتیں كرتےہیں۔ لیکن معاشرے میں بہت سے لوگ اس کی پرواہ کئے بنا چلتے رہنے کو ہی منزل مان لیتے ہیں اور پھر ان کے قدموں کے نشان راستہ بنا دیتے ہیں۔ ایسا ہی ویژن سماج اور معاشرے کو کچھ دینے کے لئے ہونا چاہئے۔

انہوں نے نئے کاروباریوں سے کہا،

 ''یہاں داخلہ مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے۔  دس سال پہلے میں سیاست سےدوربھاگتا تھا۔ سوچتا تھا سب کچھ کروں گا، لیکن سیاست میں نہیں جاوںگا، لیکن قسمت میں تھا آ گیا.آج مرکز میں وزیر ہوں۔''

اس جشن میں ہندوستانی زبانوں میں ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے ولے 13 کاروباریوں نے اپنے تجربات کا بتائے۔ لوگوں نے شاعری اور موسیقی کا بھی بھرپور لطف اٹھایا۔ خصوصاً نرالی اور کارتک کے ماٹیبانی نے خوب داد حاصل کی۔ 

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج       (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں..

ہم میں بہت دم ہے... زبانوں کو مل کر آگے بڑھنے کے لئے شروع ہوا'یور اسٹوری' کا جشن بھاشا

لوکل کے بغیرنہیں ہوں گے گلوبل !...مادری زبان کو چھوڑ کر ترقی بے معنی


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories