دردِ دل کے واسطے پیدا کِیا انسان کو، معذور بچوں پر 'اپکار' کی کہانی

0

اللہ رب العزت نے انسان کو محض اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ پیدا ہو کر خود اپنے لئے ہی زندگی گزارے اور پھر ایک دن بڑی خاموشی سے اس دنیائے فانی سے یوں گزر جائے کہ نہ ہی کسی کو اس کے آنے کی خبر ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کو اس کے اس دنیا سے جانے کی خبر ہوئی۔ کیوں کہ اس نے جو زندگی گزاری تھی وہ اپنے لئے گزاری تھی۔ انسان کو زندگی اس لئے دی گئی ہے کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

بین الاقوامی تنظیمِ صحت کا ماننا ہے کہ دنیا کی کُل آبادی میں تقریباً 15 فی صدی معذوروین، ہیں جن میں سے اندازاً 80 فی صدی لوگ ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ ان معذورین میں جسمانی اور نفسیاتی، دونوں اقسام کے معذورین شامل ہیں۔ دراصل معذوری ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں متاثرہ شخص اپنے آپ کو کئی معاملات میں دوسروں کی بہ نسبت کمتر سمجھتا ہے اور معاشرہ بھی ان کی اس سمجھ پر لگاتار ضرب لگاکر ان کے اس احساس کو پختہ تر کردیتا ہے۔ اس لئے اگر معاشرتی طرزِ فکر میں کوئی خامی ہو تو یہ معذوری ایک بد دعا بن جاتی ہے اور اگر معاشرہ بہتر اور ترقی پذیر ہو تو معذوری ایک ایسی بیماری ہوتی ہے، جسے وقت کے ساتھ ساتھ بہتر کیا جاسکتا ہے

ایسا نہیں ہے کہ جسمانی اعتبار سے معذور لوگوں میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ بس ضرورت ہوتی ہے اسے درست طور پر جگانے کی، یعنی کسی بھی قسم کی ہمدردی جتائے بغیر ان کے جذبے کو آواز دی جائے۔ ایک ایسے ہی شخص کی ہم بات کرنے جارہے ہیں، جنہوں نے براہِ راست یا بالراست طور پر تقریباً 58 لاکھ معذوروں کو نئی امید دی ہے اور زندگی میں انہیں کچھ کرنے کا اصل مقصد دیا ہے۔ یقین کرنا تھوڑا مشکل ہوسکتا ہے، لیکن یہ سچ ہے۔ جس شخص نے گزشتہ 38 برسوں میں یہ عظیم اور غیر معمولی کام انجام دیا ہے، ان کا نام ہے ڈاکٹر پی۔ ہنومنت راؤ۔

حیدرآباد میں رہنے والے امراضِ اطفال کے ماہر ڈاکٹر پی۔ ہنومنت راؤ نے اپنی ساری زندگی معذور لوگوں کی مدد اور ان کی خدمت کے لئے وقف کردی ہے۔ انہوں نے ایسا نظام قائم کردیا ہے، جس کے تحت ہر روز سینکڑوں معذورین ان کی خدمات سے فائدہ اُٹھاکر خود کفیل بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 38 سال پہلے حیدرآباد میں ایک چھوٹے سے گیراج میں نفسیاتی مریضوں کے علاج اور ان کی باز آبادکاری کے لئے ایک مرکز کی ابتداء کرنے والے ڈاکٹر ہنومنت راؤ نے آج چار غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ ہر قسم کےمعذور بچوں اور دیگر لوگوں کی مدد والا ملک کا اولین مرکز بنالیا ہے۔اتنا ہی نہیں ، بلکہ انہوں نے کئی تعلیمی ادارے اور تربیتی مراکز بھی قائم کرلئے ہیں جہاں سے ہر سال معاشرے کو ایسے کئی لوگ فراہم ہورہے ہیں، جو معذوروں کے علاج اور ان کی باز آباد کاری میں مہارت رکھتےہیں۔

ڈاکٹر ہنومنت راؤ نے جو کامیابی حاصل کی ہے اس کے حصول کا تصور بھی بے حد مشکل ہے ۔ ہنومنت راؤ کی خدمتِ معاشرہ کا موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔ ان کی کوششیں غیر معمولی ہیں اور ان کے تجربات بے نظیر، نیز ان کی کامیابی بے مثال ہے، جو دنیا کے سامنے ایک سبق کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ معذوروں کے علاج اور ان کی باز آبادکاری کے معاملے میں ان کی خدمات ملک ہی میں نہیںٰ، بلکہ دنیا بھر کے لئے قابلِ تقلید ہیں۔

ہنومنت راؤ کی کہانی لوگوں کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے، جو جدوجہد، کشمکش، ناموافق حالات کے خلاف جنگ اور معاشرے کے شرارتی عناصر کی نامناسب حرکتوں کے علاوہ بہت سے مسائل کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کہانی بلند حوصلے، لگن اور کام کے تئیں جنون کے بل پر غیر معمولی فتح حاصل کرنے کی بہترین مثال ہے۔

ہنومنت راؤ کا جنم پرانہ شہر حیدر آباد کے میں 16 دسمبر 1945 کو ہوا۔ خاندان میں ان کے والد اور دو چاچا ، رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹشنر تھے۔ ان دنوں حیدرآباد ریاست میں بہت کم ڈاکٹر اور میڈیکل پریکٹشنر ہوا کرتے تھے۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ ہنومنت راؤ بھی انہی کی طرح ایک میڈیکل پریکٹشنر بنیں اور نرسنگ ہوم چلانے میں ان کی مدد کریں ۔ لیکن ہنومت راؤ نے کچھ اور کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ وہ میڈیکل پریکٹشنر نہیں بلکہ ایم۔بی۔بی۔ایس کی پڑھائی پوری کرکے ایک ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ ان دنوں ان کا خاندان 45 بستروں والا ایک نرسنگ ہوم چلاتا تھا جو اپنے آپ میں ایک بہت بڑی بات تھی۔ ہنومںت راؤ کے خاندان کا پورے شہر میں ایک مقام تھا۔ متحدہ خاندان تھا اور آمدنی بہت تھی۔ گھر میں عیش و آرام کی ساری چیزیں موجود تھیں۔ ہنومںت راؤ اسکول کے دنوں ہی سے کار چلایا کرتے تھے۔ انہوں نے 'مفید الانعام ہائی اسکول ' سے اپنی تعلیم پوری کی۔ ان دنوں کی یاد یں تازہ کرتے ہوئے ہنومنت راؤ کہتے ہیں،" وہ سب سے خوش نما دن تھے۔ کوئی تکلیف نہیں تھی۔ ان دنون میں نے تمام سُکھ دیکھ لئے تھے۔ ویسے دن میں نے دوبارہ نہیں دیکھے۔"

چونکہ خاندان میں تین تین میڈیکل پریکٹشنرس تھے، اس لئے ہنومنت راؤ نے بھی ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کرلیا۔ محنت اور لگن کے بل بوتے پر انہوں نے ورنگل کے کاکتیہ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرلیا۔ لیکن یہاں میڈیکل کی پڑھائی شروع ہوتے ہی یکے بعد دیگرے مصیبتوں کا نزول ہونا شروع ہوگیا۔ متحدہ خاندان منتشر ہوگیا۔ سب لوگ الگ الگ ہوگئے۔مالی حالت پہلے جیسی نہیں رہی۔ عیش و آرام کے سارے ذرائع بھی دور چلے گئے۔ یوں سارے خاندان کی ذمہ داری ہنومت راؤ کے کندھوں پر آن پڑی۔ چار بھائیوں اور چار بہنوں کی ذمہ داری کوئی معمولی بات نہیں تھی جو ہنومنت راؤ پر آن پڑی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایم بی بی ایس کی پڑھائی پوری ہوتے ہی ان کے والد نے انہیں فوراً ڈاکٹری شروع کرنے کو کہا تاکہ گھر کے اخراجات چلانے میں مدد ہوسکے۔ لیکن ہنومنت راؤ تعلیم جاری رکھنا چاہتے تھے ۔ وہ ماہرِ امراضِ اطفال بننا چاہتے تھے۔ ان کا ارادہ ایم۔ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد لوگوں کا علاج کرنا تھا۔ لیکن ان کا خاندان زور زبردستی پر آمادہ تھا۔ ایسے وقت میں ہنومنت راؤ نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے والد سے کہہ دیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ دورانِ تعلیم ملنے والے 600 روپئے کے وظیفے کو اپنے خاندان کے حوالے کردیں گے تاکہ گھر کے اخراجات چلانے میں مدد ہوسکے۔ اس بات پر ان کے گھر والے راضی ہوگئے۔ ابتداء میں ہنومنت راؤ نے اپنے کریئر میں کسی کی مدد نہیں لی بلکہ اپنے خاندان، بھائی ، بہنوں وغیرہ کی ہر ممکن مدد کی اور آگے چل کر ان کے گھر بھی بسادئے۔

ایم ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہنومنت راؤ نے دوسرے ڈاکٹروں کی طرح اپنے کریئر کی شروعات عام بیماریوں کے علاج سے نہیں کی۔ انہوں نے کچھ الگ اور بہتر کرنے کا سوچا اور اسی پر عمل پیرا ہوئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان دنوں حیدرآباد میں کئی ڈاکٹر پریکٹس شروع کرچکے تھے۔ امراضِ اطفال کے ماہر ڈاکٹر بھی آچکے تھے۔ لیکن معذور بچوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نہ ہونے کے برابر تھے۔ نفسیاتی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال اور علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی تمام ملک میں کمی تھی۔ ہنومت راؤ نے دیکھا کہ معذور بچوں کے والدین کو بھی ان بچوں کی وجہ سے کافی تکلیفیں اٹھانی پڑ تی ہیں۔ اپنے بچوں کے صحیح علاج کے لئے وہ در بدر بھٹکتے ہیں ، پھر بھی ان کا صحیح علاج نہیں ہوپاتا۔ یہ سب دیکھ کر ہنومنت راؤ نے اپنی زندگی کا سب سے بڑآ فیصلہ کیا۔ انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ اپنےآپ کو معذور بچوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے وقف کردیں گے۔ اپنے فیصلے کے مطابق انہوں نے معذور بچوں کا علاج کرنا شروع کردیا۔ اپنی پریکٹس کے دوران ڈاکٹر ہنومنت راؤ کو احساس ہوا کہ معذور بچوں کا علاج اور ان کی دیکھ بھال کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس کے لئے خاص تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے پتا لگایا کہ معذور بچوں کے علاج اور ان کی باز آبادکاری کے لئے خصوصی تربیت کہا ں حاصل کی جاسکتی ہے۔ پھر کیا تھا؟ انہوں نے فوراً ممبئی کے انسٹی ٹیوٹ آف فزیالوجیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن میں داخلہ لے لیا۔ ممبئی کے اس ادارے میں حصولِ تربیت کے دوران ان کے حوصلے مزید بلند ہوگئے۔ ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگیا۔ تربیت کی تکمیل کے بعد حیدر آباد واپس لوٹ کر انہوں نے معذور بچوں کے علاج اور ان کی باز آبادکاری کا کام بڑے زور و شور سے شروع کردیا۔ اسی بیچ ہنومنت راؤ نے عثمانیہ یونیورسٹی سے نفسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔

1977 میں پہلی بار ہنومنت راؤ نے حیدر آباد میں نفسیاتی اعتبار سے معذور بچوں کے لئے ایک مرکز قائم کیا۔ ایسے وقت میں جب ملک میں ایسے ادارے بہت ہی کم تھے، انہوں نے کولسا واڑی علاقے میں ایک معمولی گیراج میں اس مرکز کا آغاز کیا۔ ابتداء میں صرف 5 بچے زیرِ علاج تھے، جن کی دیکھ بھال اور علاج کے لئے ڈاکٹر ہنومنت راؤ کے ساتھ دیگر دو افراد پر مشتمل عملہ متعین تھا۔ یہ گیراج ایک نہایت عظیم ادارے کی بنیاد تھا۔ ایک گیراج میں نفسیاتی اعتبار سے معذور پانچ بچوں کے ساتھ شروع ہوا یہ مرکز آگے چل کر معذوروں کے لئے ملک کے سب سے بڑے اور کارگر معالجاتی، بازآبادکاری اور تعلیم و تربیت کے مرکز کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا۔

ہنومنت راؤ نے 'یور اسٹوری' سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ان دنوں اگر گھر میں کوئی بچہ یا کوئی فرد معذور ہوتا تو گھر والے اس بات کو دیگر لوگوں سے پوشیدہ رکھتے تھے۔ خاندان میں کسی شخص یا فرد کی معذوری کو ایک بد دعا اور فال بد سمجھا جاتا تھا۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ یہ کسی پچھلے جنم کے گناہوں کی سزا کے طور پر معذورہوا ہے۔ لوگوں کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ نفسیاتی اعتبار سے معذور بچوں اور بڑوں کا علاج اوران کی باز آبادکاری کی جاسکتی ہے۔ کئی لوگ نفسیاتی معذوربچوں اور بڑوں کے اپنے بھر میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا کرتے تھے۔ لوگوں میں اس تعلق سے بیداری کی بہت کمی تھی۔

ہنومنت راؤ کے مطابق، معذور بچوں کے والدین ہی نہیں بلکہ عام بچوں کے والدین اور دیگر لوگوں میں بھی معذوروں کے علاج اور ان کی باز آباد کاری کے بارے میں بیداری نہیں تھی۔ وہ مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ہوا یوں کہ جس گیراج میں ہنومنت راؤ نے نفسیاتی معذوربچوں کے علاج اور بازآبادکاری کا مرکز شروع کیا تھا، وہ ایک رہائشی علاقے میں واقع تھا۔ مرکز کے پاس پڑوس میں کئی مکانات تھے۔ ان مکانوں میں رہنے والوں کو وہاں نفسیاتی اعتبار سے معذور بچوں کا مرکز بنایاجانا پسند نہیں تھا۔ یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے مکانوں کے پاس معذور بچے رہیں۔ مرکز کو وہاں سے ہٹوانے کے لئے لوگوں نے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے ۔ ایک مرتبہ تو لوگوں نے ایک اونچی عمارت سے مرکز کے بچوں اور عملے پر خوب پانی پھینکا۔ مقصد یہ تھا کہ مرکز چلانے والوں کو ڈرا کر وہاں سے بھگا دیا جائے۔ لیکن ہنومنت راؤ کے ارادے بلند تھے۔ وہ کسی کے سامنے جھکنے والے نہیں تے۔ وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنے کام میں یوں ہی ڈٹے رہے۔ اور ان کے اس بلند عزم نے آج ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جو ہم سب کے لئے ایک سبق ہے۔