شرپسندوں کی اب نہیں ہے خیر'آلہ کرے گاخواتین کی حفاظت

وائی ایس اردو ٹیم

0

ہاتھ میں گھڑی کی طرح پہنا جا سکتا ہے آلہ ...

چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو لگتا ہے کرنٹ ...

مدد کے لئے آٹومیٹک جاتا ہے پیغام ...

سبق سکھانے کے لئے کافی ہے ''انسداد دست درازی ڈوائس''

نا مسائدحالات کبھی کبھی انسان کو کچھ نیا کارنامہ انجام دینے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ دہلی کے رہنے والے منو چوپڑا جب گیارویں کلاس میں تھے تو انہوں نے چھیڑ چھاڑ روکنے والا ایک آلہ تیار کیا ۔ منوآج امریکہ کے ا سٹین فورڈ یونیورسٹی میں کمپوٹر سائنس کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم ختم کرنے کے بعد اس ڈوائس کو بڑے پیمانے پر لوگوں کے استعمال کے قابل بنائیں گے ۔ اس کے لئے وہ آنے والے وقت میں کسی مینوفیکچرر کی تلاش بھی کریں گے۔

'انسداد دست درازی آلہ' کی کیا ضرورت ہے؟

منو بتاتے ہیں ۔۔۔ "جب میں 15 سال کا تھا تو ایک شام میری ماں' بہن کو اس بات کے لئے ڈانٹ رہی تھی کہ وہ رات 10 بجے کے بعد گھر سے باہر نہ رہا کرے ۔ اس کے بعد جب میری ماں کا غصہ تھوڑا سا ٹھنڈا ہوا تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ جب میں رات کے وقت باہر گھومتا ہوں تو میری بہن کو یہ آزادی کیوں نہیں؟ جس کے جواب میں میری ماں نے کہا کہ رات کے وقت یہاں کی گلیاں لڑکیوں کے لئے محفوظ نہیں ہیں ۔ میں نے ایک بار پھر اپنی ماں سے سوال کیا تو کیا اس کا مطلب میری بہن کبھی بھی رات کو باہر گھومنے نہیں جا سکتی؟ اس بار ماں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئیں ''۔ منو بھی جانتے تھے کہ ان کی ماں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا ۔

انسداد دست درازی آلہ کس طرح بنایا ؟

اس واقعہ کے بعد منو اپنے کمرے میں گئے اور وہاں واقع ایک سفید بورڈ کے آگے کھڑے ہو گئے اور اس بڑے بڑے حروف سے لکھا ''اینٹی مولیسٹیشن ڈوائس یعنی انسداد دست درازی آلہ''۔ منو کا کہنا ہے کہ وہ ان گنت لڑکیوں کا مستقبل تبدیل کرنا چاہتے تھے جو نوجوان تھیں اور ان پر اس طرح بندشیں تھیں ۔ اس طرح وہ نہ صرف لڑکیوں کی حفاظت کر سکتے تھے بلکہ ان بدمعاشوں کو زندگی بھر کا سبق بھی سکھا سکتے تھے جو لڑکیوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ اور دست درازی کیا کرتے تھے۔

کس طرح کام کرتا ہے انسداد دست درازی آلہ؟

منوکا ڈیزائن کیاگیا انسداد دست درازی آلہ گھڑی کے سائز کا ہے ۔ جب بھی کسی کی نبض کی رفتارمعمول سے زیادہ ہو جاتی ہے تو یہ آلہ 8 ملی ایمپئر کا کرنٹ چھوڑتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں چھیڑ چھاڑ کرنے والا شخص تھوڑے وقت کے لئے مفلوج ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں نصب کیمرہ چھیڑ چھار کرنے والے کی مسلسل فوٹو کھینچنا شروع کر دیتا ہے۔ منو کا کہنا ہے کہ اس آلہ میں نصب کیمرہ مسلسل 100 تصویریں اتار لیتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں اس کیمرے سے کھینچی ہوئی تصاویر خودبخود پولیس اسٹیشن میں پہنچ جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ آلہ خطرہ کے وقت پہلے سے فیڈ کئے گئے چار فون نمبر پر مدد کے لئے پیغام بھی روانہ کرتاہے- اس میں نصب GPS کی مدد سے متاثرہ لڑکی کی مدد بھی کی جا سکتی ہے۔

مستقبل کی منصوبہ بندی

اب اس آلہ کو ایک سمار ٹ واچ میں تبدیل کرنامنو کا منصوبہ ہے - یہ آلہ گھڑی کے طور پر لوگوں کی ضروریات کو پورا کر سکے گا ۔ اس کے علاوہ اس آلہ میں آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت فراہم کرنا بھی منو کے پروگرام میں شامل ہے- اس کا استعمال ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ فی الحال اس آلہ کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے لئے منو کسی ایسے مینو فیکرر کی تلاش میں ہیں جو اس پراجکٹ میں سرمایہ کاری کر سکے۔ یہ مرحلہ طئے ہو جانے کے بعد منو کو امید ہے کہ ہندوستان میں اس آلہ کی قیمت دو سو روپے سے لے کر تین سو روپے تک رہے گی' تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا سکیں اور محفوظ رہیں ۔ فی الحال ان کی بہن اس آلہ کا بخوبی استعمال کرتے ہوئے محفوظ محسوس کر رہی ہیں ۔ امید ہے کہ جلد ہی دوسری لڑکیوں کی مدد کے لئے یہ آلہ مارکیٹ میں دستیاب ہو جائےگا ۔

قلم کار:ہریش بشت

مترجم: شفیع قادری