انٹر نیٹ ٹی وی کی دنیا میں انقلاب لانے والے عالمی کاروباری اودئے ریڈی

0

يپ ٹی وی کے بانی سی ای او اودئے ریڈی نے دنیا کو دکھائی لائیو ٹی وی اور كیچپ ٹی وی

ٹیکنالوجی کے تعاون سے ملک کے گاؤں میں پہنچانا چاہتے ہیں صحت اور تعلیم کی خصوصیات

بہت سارے کام ہیں، جس سے دنیا میں نام کمایا جا سکتا ہے، لیکن کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے کام کو کمانے کاصحیح مقصد سمجھا۔ خطروں سے بھری ڈگر پر نئی راہ بنائی۔ ادھر چلے، جہاں پہلے سے کوئی قدموں کے نشان نہیں تھے۔ مشکل راہوں کے سفرپرڈھیر ساری رکاوٹوں کے باوجود منزل سے اپنی نظر نہیں ہٹاِئی۔ يپ ٹی وی کے بانی سی ای او اودئے ریڈی کا نام ایسے ہی لوگوں کی فہرست میں آتا ہے، جنہوں نے ٹیکنالوجی اور صنعت کی نئی راہوں پر کامیابی کی پرچم گاڑھے ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن کو کہیں بھی اور کبھی بھی کو ممکن بناتے ہوئے انٹرنیٹ کے نیٹ ورک پر ٹی وی چینلز کو من چاہے وقت پردیکھنے کو ممکن بنا رہے ہیں۔

تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی مشترکہ دارالحکومت حیدرآباد سے 140 کلومیٹر کے فاصلے پر تین چھوٹے شہروں کا سلسلہ ہے، قاضی يپیٹ، ہنمكونڈا اور ورنگل۔ اودئے ریڈی کا تعلق انہی میں سے ایک ہنمكونڈا کے ایک کسان خاندان سے ہے۔ ایک چھوٹے سے اوسظ طبقے کے خاندان میں پلے بڑھے اودئے ریڈی ملک کی سول سروس میں اپنی جگہ بنانا چاہتے تھے۔ آئی اے ایس بن کركلیكٹری کرتے ہوئے اپنے گاؤں کی طرح ہی ہندوستان کے گاؤں کی تصویر بدلنا چاہتے تھے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں تبدیلی لانا ان کا خواب تھا۔ یہی خواب لے کر وہ ملک کے دارالحکومت دہلی چلے آئے تھے۔ دہلی کالج آف انجینئرنگ میں داخلہ لینے کا مقصد بھی سول سروس کا حصہ بننا ہی تھا۔

یور اسٹو ی سے بات چیت کے دوران اپنے اس خواب کا ذکر کرتے ہوئے اودئے بتاتے ہیں، 'گورنمنٹ جونیئر کالج ہنمكونڈا میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں نے سوچا تھا کہ سول سروس جوائن کروں۔ میرے گھر والوں کا بھی یہی خواب تھا۔ میں دیہی لوگوں کے زندگی کے مسائل کو دیکھ رہا تھا، ان کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ تھا، لیکن دہلی کالج آف انجینئرنگ سے الیکٹرانکس اور ٹیلی كميونكیشن میں جب ڈگری مکمل کی تو کیمپس سلیکشن کے عمل میں ہی ڈیجیٹل کمپنی سيمینس کے لئے منتخب کر لیا گیا۔ سوچا تھا ایک سال کام کرکے پھر سول سروس میں چلا جاوںگا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس وقت اپنی نوعیت کا مختلف کام ہندوستان میں شروع ہو گیا تھا، بلکہ ہندوستان میں ابھی نیا بازار کھل رہا تھا۔ حالانکہ گھر کے لوگ سول سروس کے بارے میں دماغ میں بٹھا چکے تھے، لیکن سيمینس میں ہندوستان کے کئی شہروں میں کام کرنے کا موقع ملا اور پھر نارٹیل میں کام کے بعد ٹیلی كميونكیشن کا ہی ہو کر رہ گیا۔ '

اودئے کی زندگی میں یہ وقت کافی پرواز کا وقت تھا۔ وہ نارٹیل جیسی بڑی کمپنی کے ساتھ جڑ گئے۔ Kellogg کے اسکول آف مینجمنٹ سے فینانس میں ایگزیکٹو مینجمنٹ کا کورس مکمل کرکے انہوں نے اپنا ایم بی اے کرنے کا خواب بھی پورا کر لیا تھا۔ 1995 کے بعد ان کی زندگی میں جیسے بہار کے دن تھے۔ وہ بتاتے ہیں، 'وہ انقلابی تبدیلی کا ابتدائی دور تھا۔ ابھی وائرلیس نیٹ ورک کا آغاز ہی تھا۔ سنگاپور، آسٹریلیا، ملائیشیا سمیت کئی ممالک میں کام کرنے کا موقع ملا۔ نارٹیل کے ساتھ ڈائریکٹر سیلز کے طور پر کام کیا۔ سیریبين اور لاطینی امریکی بازاروں کو جاننے کا موقع ملا۔ ہر سال مختلف ملک میں مختلف کام، مختلف تجربہ، نارٹیل کے ساتھ 11 سال کام کیا۔ اعلی درجے کی ٹیکنالوجی کا علم حاصل کرنے کا میرے لئے یہ سنہری دور تھا۔ '

ایک صنعتکار ذہن رکھنے والے شخص کو دنیا کی بہترین سے بہترین پر کشش تنخواہ والی ملازمت زیادہ دن تک باندھے نہیں رکھ سکتی۔ اسے اپنی دنیا بسانے کی دھن ہمیشہ رہتی ہے۔ اودئے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ 2006 میں انہوں نے يپ ٹی وی امریکہ انکارپوریٹڈ قائم کی۔ یہ کمپنی انہوں نے امریکہ میں ہی شروع کی۔ یہ خیال ان کے لئے تو نیا نہیں تھا، لیکن امریکہ میں بھی ابھی یہ صنعت پھل پھول نہیں پائی تھی۔ پھر بھی کوئی بھی انٹرپرائز شروع کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے نہ صرف سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ انتظام کی مہارت، نئی اختراءاور سلجھے ہوئے خیالات کے ساتھ مظبوطی سے کھڑے رہنا لازمی ہوتا ہے۔ وہ دن اودئے کے لئے کافی جدوجہد بھرے رہے۔

اودئے اپنے اس آغاز کے بارے میں بتاتے ہیں، 'امریکہ میں ایک بیسمینٹ میں میں نے اپنا دفتر شروع کیا۔ براڈبینڈ ٹیکنالوجی کی ابھی توسیع نہیں ہوئی تھا۔ سمارٹ ٹی وی اور سمارٹ فون بھی ابھی اتنے مقبول نہیں تھے۔ دیکھا جائے تو میرا انٹرپرائز وقت سے کچھ پہلے شروع ہو گیا تھا۔ میں نے اس کے لئے بازار سے سرمایہ نہیں لیا، بلکہ اپنی ہی جمع رقم سے اپنا انٹرپرائز شروع کیا۔ میرے ذہن میں تھا کہ لوگ براڈبینڈ انٹرنیٹ کے تعاون سے لائیو ٹی وی دیکھیں۔ بلکہ اتنا ہی نہیں، کہیں بھی، کبھی بھی کا نقطہ نظر بھی میری سوچ میں تھا۔ میں سوچتا تھا کہ ٹی وی پر دکھایا جانے والا پروگرام اس وقت فرصت نہ ہو تو بعد میں کیوں نہیں دیکھا جا سکتا؟ اسی خیال نے 'لائیو ٹی وی کیچ اپ ٹی وی' کے تصور کو جنم دیا اور آج وہ سامنے ہے۔ '

اودئے کے لئےیہ سب کچھ آسان نہیں تھا۔ دراصل ان کی یہ سوچ اپنی مٹی اور ملک سے دور امریکہ اور دیگر ممالک میں رہنے والے لوگوں کے لئے ہندوستانی ٹیلی ویژن کے تفریحی چینل فراہم کرنے سے تصور سے پیدا ہوئی تھی۔ ان کی محنت نے اس خواب کو عملی جامع پہنا دیا، لیکن صنعتی سفرمیں بہت چیلنج بھرے لمحے ان کے سامنے کھڑے رہے۔ بتاتے ہیں کہ امریکہ میں جب انہوں نے کاروبار کی بنیاد ڈالی صرف ایک ہی کمپنی کی اجارہ داری تھی۔ انہوں نے جس کمپنی کو اپنا اتحادی بنایا تھا، اس مقابلہ میں مخالف کمپنی نے بڑی چالاکی سے اسے اپنی طرف کر لیا۔ وہ کہتے ہیں، 'اچھا ہوا کہ ساتھی کمپنی نے ہمارے ساتھ اچانک رشتہ نہیں توڑا۔ ہمیں کچھ وقت دیا گیا۔ ہم جتنے گاہکوں تک پہنچے تھے، ان کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں سخت محنت کرنی پڑی۔ حیدرآباد میں ایک دفتر میں شیئرنگ کے ساتھ میں نے اپنی کمپنی کے کام شروع کیا۔ اب تک میں نے اپنی جمع پونجی خرچ کر دی تھی۔ اس کاروبار میں ابھی لوگوں میں اتنی بیداری نہیں آئی تھی، آمدنی کی حساب سے زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی۔ کچھ وقت تک انتظار کرنا پڑا۔ 2010 میں میں نے اپنا پلاٹ فروخت کیا، خاندان کے علاوہ کچھ دوستوں نے بھی اقتصادی تعاون کیا۔ اب چونکہ لوگوں میں کچھ بیداری بڑھ گئی تھی، اس لئے تجارت کی امکانات بھی بڑھیں۔ پھر کام چل پڑا۔ '

آج يپ ٹی وی امریکہ ہی نہیں بلکہ ہندوستاب سمیت کئی ممالک میں 13 زبانوں کے 200 سے زائد ٹیلی ویژن چینلز کی خدمات اپنے گاہکوں تک پہنچا رہا ہے۔ اس طرح یہ کئی صوبوں کی سماجی اور اقتصادی حالات کے درمیان سمجھ بھی پیدا کر رہا ہے۔ آج يپ ٹی وی ایک کامیاب انٹرپرائز ہے۔ ان کی اس کامیابی کے پیچھے بہت سے راز ہیں۔ ایک شخص میں بازار کی سمجھ، نئی ٹیکنالوجی کی افادیت کی صلاحیتوں کا اندازہ اور لوگوں کے درمیان کام کرنے کا انتظامی مہارت، جس نے لوگوں تک پہنچنے کے راستے کو آرام دہ اور آسان بنا دیا ہے۔ حالانکہ اودئے اس کامیابی کو کافی ہلکے انداز میں لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، 'آج اس مقام پر بہت اچھا لگتا ہے، لوگ جب ملتے ہیں تو يپ ٹی وی کی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ منزل ابھی آگے ہیں۔ حالانکہ میں یہاں تک پہنچنے کے لئے کافی مشکل دور سے گزرا ہوں۔ 50 فیصد سے زیادہ وقت اپنے خاندان سے دور رہا ہوں۔ آج بھی کامیابی ہمارے دماغ میں نہیں چڑھی ہے۔ آج بھی ہم ابتدائیہ تجارتی ثقافت کا ہی حصہ ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ تیزی سے آگے بڑھے ہیں، وہ اتنی ہی تیزی سے پیچھے بھی ہٹے ہیں، بلکہ اس دوڑ میں پچھڑنے کے بعد دوڑنے والوں کی فہرست میں اپنا نام بھی باقی نہیں رکھ پائے ہیں۔ کچھ لمحے میرے ساتھ بھی مشکل بھرے رہے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کو راضی کرنے کے لئے ان کے دفتر پر 8 بار گیا ہوں۔ ایک اور کو راضی کرنے کے لئے ایک سال لگا، لیکن جب رشتے بنے تو کافی پکے رہے۔ جی ہاں ایک دو چینل جب فہرست سے ہٹے تو کچھ فکر ضرور ہوئی کہ کہیں کچھ غلط تو نہیں ہو رہا ہے، لیکن بعد میں سب ٹھیک رہا اور وہ چینل واپس يپ ٹی وی کے پاس آ ہی گئے۔ '

براڈ بینڈ پر ٹیلی ویژن چینلز کی سروس دینے کے معاملے میں اودئے ریڈی کی کمپنی پہلے مقام پر ہے۔ تفریح چینلز کے بعد انہوں نے خبروں کی دنیا میں بھی قدم رکھا ہے۔ میڈیا مواد بھی وہ دینے لگے ہیں۔ بہت سارے منصوبے اب ان کے دماغ میں ہیں، جن کو عملی جامع نہیں پہنایا گیا ہے۔ اودئے نئی نسل کو اپنے تجربات سے بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کے ہدف پر براہ راست نظر نہ رکھنے کی وجہ سے کامیابی ہاتھ سے چھوٹ سکتی ہے۔ کچھ نیا کرنے کی سوچ کے ساتھ کیا نیا ہے، اس کے بارے میں مکمل وضاحت دماغ میں ہونا چاہئے۔ آج اپنا انٹرپرائز دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے امریکہ جانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہندوستان میں رہ کر بھی عالمی ہوا جا سکتا ہے۔

اس کامیابی کے سفر میں وہ خواب کیا ہوئے جو اودئے ریڈی نے بچپن میں دیکھے تھے کہ آئی اے ایس بن کر لوگوں کے مسائل کو سلجھاےگے؟ اودئے ریڈی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ آج بھی وہ اس خواب کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اپنی سی ایس آر سرگرمیوں کے تحت انہوں نے ایک گاؤں میں کام شروع کیا ہے۔ یہاں وہ ٹیلی میڈسن سے چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے علاج کی سہولت اور تعلیم کو آسان بنانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان کے لئے نمونہ ہونَگے، جس کو وہ ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں لے جانا چاہتے ہیں۔

تحریر: اروند یادو، مینجینگ ایڈیٹر یور اسٹوری ورناکولر

مترجم: زلیخا نظیر


Related Stories