'كارٹ راکیٹ ' ایس ایم ایز کی مدد کرنے والا آن لائن چینل

0

ملک میں آن لائن کاروبار دن دونی رات چوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ اس میدان میں جہاں پرانے کھلاڑی اپنی رفتار بنائے ہوئے ہیں وہیں نئے کھلاڑیوں کے پاس بھی برابر کے مواقع ہیں، لیکن ان کو ضرورت ہوتی ہے مناسب پلیٹ فارم کی۔ اس بات کو بہتر طریقے سے سمجھا تین دوستوں ساحل گوئل، گوتم کپور اور وشیش کھرانہ نے۔ جو 'كارٹ راکیٹ' اور 'كرافٹلی' کے ذریعہ چھوٹے کھلاڑیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دے رہے ہیں، جہاں پر یہ كاروباری نہ صرف آپ کی مصنوعات آسانی سے فروخت کر سکتے ہیں، بلکہ آن لائن مارکیٹ میں آنے والی مشکلات سے ان کا کوئی واسطہ بھی نہیں ہوتا۔ کا فائدہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری سب سے زیادہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ كرافٹلی ایک اپلیکیشن ہے جس کا استعمال گھر بیٹھے کاروباری اٹھا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 5 کروڑ ایسے کاروباری ہیں جو گھر سے اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ جن کے پاس آن لائن کے علاوہ اپنی مصنوعات کی فروخت کا دوسرا کوئی زریعہ نہیں ہوتا۔ کوئی بھی شخص جب اپنا کام شروع کرتا ہے تو اس سے پہلے اس سب کچھ ہرا ہرا ہی دکھائی دیتا ہے، لیکن حالات تب مشکل ہوتے ہیں، جب کوئی گراؤنڈ زیرو پر اپنے خیالات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ہوا كارٹ ریكیٹ کی ٹیم کے ساتھ۔ جب ساحل گوئل، گوتم کپور اور وشیش کھرانہ نے مل کر کاروبار شروع کرنے کے بارے میں سوچا۔ جلد ہی ان تینوں کو آن لائن خدمات کی مسائل سے دو چار ہونا پڑا۔ آغاز میں انہوں نے سوچا کہ دو ماہ کے اندر آن لائن مارکیٹ میں اتر جائیں گے، لیکن ٹیم کی تشکیل سب سے بڑا چیلنج تھی، یہ کام نہ صرف بوجھل تھا بلکہ کافی مہنگا بھی تھا۔ اس مایوسی کی وجہ سے ان تینوں نے اپنے کاروبار کا خیال ہی بدل دیا۔ تب تینوں نے مل کر طے کیا کہ وہ آن لائن کاروبار میں آنے والی پریشانیوں کا حل ڈھونڈھینگے۔ اس کے بعد كارٹ کی ٹیم مناسب حل کی تلاش میں ریسرچ کرنے میں لگ گئی۔ انہوں نے طے کیا کہ وہ ایسا حل كھوج نکالینگے جو نہ صرف مسائل کو دور کرے گا بلکہ اس کے استعمال سے اقتصادی محاذ پر زیادہ نقصان بھی نہیں ہوگا۔

ساحل گوئل کو بچپن سے ہی ویب سائٹ کے ڈیزائن کرنے کا شوق تھا۔ سال 2010-11 میں جب ای کامرس کے شعبے میں تیزی آئی تو ان کو موقع ملا اپنے شوق کو کاروبار میں تبدیل کرنے کا۔ گوئل امریکہ کی ایک صحت انشورنس کمپنی ہايمارك کے لئے ڈیٹا کے تجزیہ کے طور پر کام کرنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے مینجمنٹ کنسلٹینٹ کے طور پر کام کرنے کا تجربہ بھی تھا۔ اس وجہ سے ان کے اندر اعتماد کافی بڑھ گیا تھا۔

بھارت واپس لوٹنے کے بعد انہوں نے اپنے بچپن کے دوست گوتم کپور سے بات کی اور انہوں نے طے کیا کیوں نہ کاروباریوں کو ذہن میں رکھ کر ایک پلیٹ فارم کھڑا کیا جائے۔ اس طرح یہ چھوٹے کاروباریوں کے لئے ای کامرس سے منسلک ویب سائٹ بنانے میں لگ گئے۔ اس کےلئے انہوں نے دو ڈیولپرو کی تقرری کی اور دہلی میں 150 فيٹ کے آفس میں کام کرنا شروع کر دیا، لیکن ان کا یہ خیال اس وقت پروان چڑھا جب انہوں نے كارٹ ریكیٹ کو شروع کیا۔ گاہکوں کو شروع سے لے کر آخر تک تمام طرح کی خدمات فراہم کرنے کا کام کرنے لگے۔ اس کا مقصد تھا چھوٹے اور درمیانے صنعت (ایس ایم ایز) کی مدد کرنا۔

گوتم کپور بتاتے ہیں کہ ساحل کے ایک رشتہ دار آن لائن کاروبار کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے پاس اس کا تجربہ نہیں تھا۔ اس رشتہ دار کو آن لائن کاروبار کی معلومات فراہم کرنے کے لئے شروع ہوئی تحقیق انہیں اپنی خود کی آن لائن خدمات شروع کرنے کے کاروبار تک لے گئی۔ اس کاروبار نے نہ صرف آن لائن ادائیگی کے مسائل سلجھائے، بلکہ کاروباریوں کی مسائل حل کرنے کے لئے نئے نئے راستے نکالے۔

آج كارٹ راكیٹ تمام طرح کی ادائیگی کی اجازت دیتا ہے پھر چاہے وہ نقد آن ترسیل ہو، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی ادائیگی ہو یا پھر پیپال یا گھرپے کے ذریعے ادا کرنے کی سہولت ہو۔ حال ہی میں کمپنی نے آرڈر پروسیسنگ اور شپنگ خدمات بھی شروع کی ہے۔ جس کا نام شپ راکیٹ رکھا ہے۔ اس کے ذریعہ چھوٹے کاروباری اپنا سامان آسانی سے کہیں بھی بھیج سکتے ہیں۔ ساتھ ہی پسند کی کوریئر کمپنی ڈھونڈنے کے علاوہ اور بہت سی دوسری سہولیات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے گاہکوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام طرح کی معلومات ایک ہی جگہ پر مہیا کراتے ہیں۔ اس دوران سامان کو بھیجنے سے لے کر اس کی ترسیل تک کی معلومات آٹومیٹك طریقے سے کاروباری کو ملتی رہتی ہے۔ ان لوگوں کا دعوی ہے کہ یہ 12 ہزار سے زیادہ پن کوڈ پر یکساں بھیجنے کے قابل ہیں جبکہ 6000 پن کوڈ پر یہ کیش آن ڈلوری کے تحت سپلائی کر سکتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ كرٹ راكیٹ اکیلا ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے بڑی آن لائن کاروباریوں جیسے ایمیزون، ای بے، ٹراڈوشور فلپكارٹ كے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ فی الحال یہ 700 خوردہ فروشوں کی مدد سے 150 سے زیادہ گاہکوں کو اپنی خدمات دے رہا ہے۔ یہ ابتدائیہ سبسکرپشن بنیاد پر اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔ جو رقم ڈیڑھ ہزار روپے سے شروع ہو کر سات ہزار روپے تک جاتی ہے۔

یہ ابتدائیہ نہ صرف چھوٹے کاروباریوں کے لئے ویب سائٹ کے ذریعہ مدد کرتا ہے بلکہ انٹیگریٹیڈ ادائیگی اور ڈھیر سارے لاجسٹک کے اختیارات بھی دیتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے کاروباری مختلف آن لائن بازار اور سوشل میڈیا سے آنے والے آرڈر اور ان آرڈر کو بھیجنے کا انتظام کر سکتا ہے۔

یہ ایسا شعبہ ہے جس پر زیادہ لوگوں کا دھیان نہیں جاتا، کیونکہ زیادہ تر لوگ خریداروں کو اپنی جانب کھینچنے پر زور لگاتے ہیں۔ وہیں كارٹ راكیٹ اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے کاروبار میں بڑے کھلاڑیوں کی بھی مدد کرتا ہے۔ اگست، 2015 میں انہونے اپنا ایک نیا ماڈل لانچ کیا 'كرافٹلی'۔ یہ چھوٹے کاروباری لوگوں کے لیے پہلا موبائل پلیٹ فارم ہے جس کا استعمال کسٹمر ٹو کسٹمر والے بازار کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ ماڈل ان کے لئے ہےجن كے لئے موجودہ ماڈل سے کام نہیں چل رہا تھا۔ 'كرافٹلی' اپلیکیشن وهاٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے ذریعے بھی فروخت کنندگان کو جوڑتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ بھی چھوٹے کاروباری اپنی مصنوعات فروخت سکیں۔ سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کے لئے یہ پلیٹ فار م روڈرنر، پارسلڈ، بلیو ڈارٹ اور فیڈیكس جیسی کمپنیوں کی مدد لیتے ہیں۔

كارٹ راكیٹ اور كرافٹلی دونوں کا کاروباری ماڈل مختلف ہیں۔ جہاں كارٹ راكیٹ دکانداروں سے ماہانہ، سہ ماہی یا سال میں دو بارفیس لیتا ہے۔ یہ فیس 3 ہزار روپے سے لے کر 15 ہزار روپے تک کے درمیان ہوتی ہے۔ وہیں کرافٹلی فروخت کے 5 فیصد کمیشن کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی آمدنی کا دوسرا ذریعہ اشتہارات سے ہونے والی آمدنی ہے۔ گوتم کے مطابق ان کی کافی اچھی آمدنی ہو رہی ہے اور وہ سلانا 2-3 ملین ڈالر کی آمدنی کے قریب ہیں۔

کمپنی کا منصوبہ ہے کہ وہ زبردست مارکیٹنگ کے ذریعہ جلد سے جلد اپنے مقاصد کو حاصل کر لے۔ كارٹ راكیٹ کا مقابلہ جپّو اور پرائمسیلر کے ساتھ ہے جبکہ كرافٹلی کا سنیپيڈيل کے شوپّو کے ساتھ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں کا کاروبار ایک جیسا ہے اور دونوں ہی ایک وقت پر شروع ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سنیپڈيل کا منصوبہ اگلے دو سالوں کے اندر اس میں 10 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا ہے تاکہ شوپو ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ اپنے کو برانڈ کے طور پر قائم کر سکے۔ وہیں ان لوگوں کا دعوی ہے کہ 'كرافٹلی' اور 'كارٹ راكیٹ ' میں ملنے والے آفر دوسری جگہ ملنا مشکل ہے۔ چھوٹے اور درمیانے صنعتوں کے لئے ای کامرس کی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے علاوہ كارٹ راكیٹ کی سب سے زیادہ توجہ ایسے لوگوں پر ہے جو گھر سے بیٹھ کر کام کرتے ہیں جیسے بیکرز، کاریگر اور دوسرے لوگ۔ ان لوگوں کی مدد کے لیے کمپنی كرافٹلی کو کافی تووجو دے رہی ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اگلے پانچ سالوں کے اندر ملک کے ای کامرس کی صنعت 15 گنا ترقی کرے گی اور سال 2020 تک یہ صنعت سات ہزار پانچ سو کروڑ ڈالر کی ہو جائے گی۔ وہیں دوسری جانب غیر منظم تاجروں کی تعداد 5 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ ابتدائیہ اور ای کامرس سے منسلک بڑے کھلاڑی اب آف لائن سے آن لائن تاجروں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنیپڈيل نے شوپو لانچ کیا ہے وہیں پینٹيم چھوٹے کاروباریوں کے لئے صفر کمیشن پر بازار دستیاب کرا رہا ہے اس سے پہلے چین میں آف لائن سے آن لائن کرنے کا چلن مقبول ہوا ہے۔ ایسے میں سٹیك ہولڈر امید لگائے بیٹھے ہیں کہ یہی صورت حال ہندوستان کے معاملے میں بھی رہے گی۔ اس کی بڑی وجہ ہے اسمارٹ فون کی لوگوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مقبولیت ۔ کارٹ راکیٹ میں اب تک تین مراحل میں سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ پہلی بار سرمایہ کاری سال 2013 میں 5 آئیڈیا، 500 اسٹارٹپ اور سوپرفيول سے ڑھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اسی مرحلے مین 5 آئیڈیا، 500 آغاز اور جتن انیجا سے 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔

اکتوبر، 2014 میں دوسرے مرحلے کے دوران ان کو 20 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری نروان وینچر ایڈوائزر، 500اسٹارٹپ اور بينوس سے حاصل ہوئی ۔ كارٹ راكیٹ نے جنوری اور مارچ 2016 میں تیسرے مرحلے کے دوران 80 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس رقم کا استعمال مصنوعات کی ترقی، باصلاحیت لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے، دکانداروں کے ايكوسسٹم کو اور مضبوط کرنے کے علاوہ مارکیٹنگ پر خرچ کیا جائے گا۔ وہیں اب کمپنی کا ارادہ بڑے برانڈز کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا ہے۔ ساتھ ہی ان کی نظر سال کے آخر تک اپنے ساتھ 5 ہزار كاروباريوں كو ساتھ رکھنے کی ہے۔ وہیں 'كرافٹلی' کے لیے بانیوں کو امید ہے کہ وہ سال کے آخر تک ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ دکانداروں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

اب کمپنی کے سامنے کافی بڑے ہدف ہیں۔ گوتم بتاتے ہیں کہ آج كارٹ ریكیٹ انڈیا کا نمبر 1 ای کامرس پلیٹ فارم ہے، لیکن اس سے مستقبل میں 10 ہزار سے زیادہ گاهک شامل ہونگے۔ شپ راكیٹ کے 2000 گاہک ہیں، اس کو 40 ہزار گاہکوں تک لے جانا ہے اور اس کی توسیع بین الاقوامی سطح پر کرنا ہے۔ كرافٹلی کی جانب سے ڈھائی لاکھ چھوٹے تاجروں کی خدمت دینے کا مقصد انہوں نے رکھا ہے۔

جہاں تک چیلنجوں کی بات تو ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج کاروباریوں کو آن لائن چینل کے ذریعہ کاروبار کرنے کے لئے تیار کرنا ہے۔ تاہم یہ مانتے ہیں کہ آہستہ آہستہ لوگوں میں تبدیلی بھی آ رہی ہے۔ وہیں دوسری اپنے کام کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے ان کے سامنے اچھے ڈیولپر اور ملازمین کو ڈھوڈھنابڑا چیلنج ہے۔ مارکیٹ میں ٹکے رہنے کےلئے كارٹ راكیٹ ہر ہفتے تجربے کے طور پر نئی سروس لانچ کرتا ہے۔ وشیش کھرانہ کے مطابق جب بھی ان کا کوئی گاہک بتاتا ہے کہ اسے کوئی مسئلہ ہے تو وہ اس مسئلہ کو دور کرنے کے لئے نئی اپلیکشن تیار کر لیتے ہیں۔ فی الحال اگلے چند ماہ کے اندر اندر کمپنی ملٹی وینڈر مینجمنٹ اور ملٹی لوکیشن پک اپ جیسی خدمات شروع کرنے جا رہی ہے۔

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories