لامکان ...حیدرآباد کامنفرد ثقافتی مرکز 

لامكان  کی  کہانی دلچسپ ہے، جہاں کے کھانے اور ڈرامے مشہور ہوتے جا رہے ہیں

0

بشیر بدر نے کہا تھا۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

حیدرآباد میں بنجارہ ہلز کافی مشہور جگہ ہے۔ ہو سکتا ہے۔ کسی زمانے میں یہاں بنجارے رہا کرتے ہوں گے، لیکن آج یہ شہر کا پاش علاقہ کہلاتا ہے۔ اسی علاقے میں ایک جگہ ایسی ہے، جو نہ صرف ادبی، ثقافتی اور تہذیبی سرگرمیوں کے لئے بلکہ چائے -سموسے ،  دال کھانہ اور قیما کھچڑی کے لئے بھی اتنی ہی مشہور ہے۔ اس جگہ کو لوگ لامکان کے نام سے جانتے ہیں۔

لامكان اپنے قیام کے چھ سال کی تکمیل کا جشن منا رہا ہے۔ حیدرآباد کے بنجارہ ہلز جیسے علاقے میں لاكمان جب قائم ہوا تھا، تو شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ بہت کم وقت میں یہ ملک اور دنیا کے ان لوگوں میں اپنی شناخت بنائے گا جو آرٹ اور ثقافت کو پوری شدت اور آزاد خیالی کے ساتھ جی رہے ہیں۔ آج جبکہ ساری دنیا میں لوگوں کو زندگی کی دوڑ میں اصولوں کی پرواہ نہیں رہی ہے، لامكان اپنے اصولوں کے ساتھ نئی نسلوں میں مقبولیت ہوتا جا رہا ہے۔ در اصل حیدرآباد میں ثقافتی انقلاب کا دوسرا نام لامكان کہا جا سکتا ہے۔ لامكان کے قیام کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔ اس کے بانی اشہر فرحان نے اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کر دیا ہے۔

حیدرآباد کا بنجارہ ہلز علاقہ امیر اور رئیس لوگوں کی جگہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کچھ فٹ کی جگہ کا کرایہ بھی ہزاروں روپے ہے۔ ایسے میں ایک مکمل 400 گز کا مکان فن اور ثقافت سے محبت کرنے والوں کو مفت میں فراہم کرنے کے پیچھے آخر کیا سوچ رہی ہے؟ اشہر فرحان بتاتے ہیں،

'' میں دہلی کے تروینی سینٹر جایا کرتا تھا۔ ممبئی میں پرتھوی تھیٹر میں بیٹھنا مجھے اچھا لگتا تھا، لیکن میں دیکھتا تھا کہ حیدرآباد میں ایسا کوئی مرکز نہیں ہے۔ اور اتفاق سے لامكان کو ایسے مرکز کے طور پر قائم کیا جا سکا۔''

فرحان بتاتے ہیں کہ لامكان کے آغاز پیچھے ایک درد بھری کہانی ہے۔ یہ مکان ان کے ماموں معيد حسن کا ہے۔ ماموکی بیماری کے آخری دور میں پتہ چلا کہ انہیں کینسر تھا۔ وہ فوٹوگرافر تھے اور ڈاكيومینٹری فلم بناتے تھے۔ انہوں نے شادی نہیں کی اور فرحان ان کے بہت قریب تھے۔ بعد میں جب یہ خیال آیا کہ ان کے گھر کا کیا کریں، تب لامكان کو نئی سمت مل گئی۔

'' مامو کے مکان کا کیا کریں، یہ خیال ہمارے دوسرے خیالات کا جواب تھا۔ ہم لوگ بہت دنوں سے سوچ رہے تھے کہ ایک ایسی جگہ ہونی چاہئے جہاں لوگ اپنے خیالات کو آزادی کے ساتھ ظاہر کر سکیں۔ نیویارک میں بھی اس طرح کا ایک مرکز چلتا تھا۔ حیدرآباد میں کیفے ختم ہو رہے تھے۔ مجھے کیفے میں بیٹھنا بہت پسند تھا۔ عابدس کی اورينٹ ہوٹل کے بارے میں میں نے اپنے مامو اور ابّا سے بہت سنا تھا۔ جہاں آرٹ، ادب، سیاست اور تعلیم سے وابستہ لوگ ایک جگہ جمع ہوکر چائے کی چسكيوں میں اپنی دنیا بساتے تھے۔ میں سوچتا تھا کہ اسی طرح کی ایسی کوئی جگہ ہونی چاہئے، جہاں سماجی سطح پر تمام طرح کے آزاک خیال لوگ جمع ہو سکیں۔ اسی خیال نے لامكان کو جنم دیا۔ اس میں وہ تمام لوگوں کی حصہ داری تھی، جواس مکان میں اپنا حصہ رکھتے تھے۔''

فرحان ، ہمیرا  ، الاہی،  ۔۔بشکریہ  دی ہندو
فرحان ، ہمیرا  ، الاہی،  ۔۔بشکریہ  دی ہندو

لامكان کو لوگ مختلف نقطہء نظر سے دیکھتے ہیں، کچھ لوگ اس کیفے والے حصے کو دیکھ کر چائے سموسے سے لطف اندوز ہونے آ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے انفرمیشن ٹیکنالوجی کے صارفین کا تفریحی مرکز مانتے ہیں۔ دن بھر نئی نسل کے نوجوان یہاں مفت وائی فائی سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ آ بیٹھتے ہیں۔ اپنی شاموں کو کچھ نئی طرح کی تفریح سے لطف اندوز کرنے کے لئے کچھ لوگ شام ہوتے ہی یہاں ڈرامہ دیکھنے اور موسیقی سننے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں۔ فرحان بتاتے ہیں کہ ہندوستانی فنون مغرب سے کچھ مختلف ہے۔ یہاں آرٹسٹ اپنے فن سے محفلوں کو سجانے رہے ہیں۔

'' مغرب میں کئی سارے آرٹسٹ مل کربڑے آڈیٹوریم اور اوپیرا ہاؤسوں میں پروگرام کرتے ہیں، لیکن ہندوستان میں زیادہ تر محدود محفلوں میں فنکاروں کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ یہ ثقافت دربارو سے نکل کر ڈرائنگ روم میں سمٹ گئی تھی اور ڈرائنگ روم بھی ختم ہو رہے تھے۔ ایسے میں ان فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم دینے کے مقصد سے بھی لامكان کو بنایا گیا۔''

لامكان کا ریستراں بھی اپنے اندر ایک کہانی رکھتا ہے۔ شروع میں یہاں صرف چائے اور بسکٹ رکھنے کا منصوبہ تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہاں مکمل ریستراں بس گیا۔ آج یہ بنجارہ ہلز کا ایک مقبول ریستراں ہے۔ فرحان بتاتے ہیں،

''ایک دن نامپلی پر ایک مینار مسجد کے قریب ایک كباڈی والا بیٹھا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک ایرانی ہوٹل کی کرسیاں اور میزیں پڑی تھیں۔ حقیقی ایرانی کیفے کی وہ کرسیاں ہم نے خرید لیں۔ شروع میں ایک قریبی ہوٹل سے تھرماس میں چائے منگواتے تھے، اس کے بعد ایک چائے بنانے والے کو رکھ لیا گیا، لیکن اس سے بھی بات نہیں بنی۔ پھر ہمیں ملے کے۔ کے۔ جو آج کل لامكان کی کیفے چلاتے ہیں۔ یہاں کے جو سموسے مقبول ہیں وہ بھی کے۔ کے۔ کا کمال ہے۔ ہماری سوچ تھی کہ یہ کیفے لوگوں کی پہنچ میں ہو۔ آج بھی اس کیفے میں آپ پچاس روپے میں پیٹ بھر کھانا کھا سکتے ہیں۔ آپ حیرت کریں گے کہ یہاں استعمال میں لایا جانے والا سارا اناج ارگینك ہے۔''

فرحان کے مطابق، لامكان کی اصل شناخت اس کی لبرل پالٹكس ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آرٹ اور ثقافت کی طرف سے اس آزاد خیالی کی حوصلہ افزائی کریں جہاں ہر کوئی اپنی بات رکھ سکے۔ اس کے لئے کیفے بہت ضروری ہے۔ وہ ويانا کی ایک کیفے کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ويانا میں ایک کیفے آج بھی ہے۔ 1906 سے لے کر 1910 تک آئین سٹان، لینن، فرائیڈ جیسے مشہور سائنس داں ، فلسفی اور مفکر یہاں جمع ہوتے تھے۔

فرحان بنیادی طور پر كمپيوٹر انجینئر اور کاروباری تو ہیں ہی، لیکن مشہور افسانہ نگار جیلانی بانو اور گزشتہ نسل کے دانشوروں میں اپنی شناخت رکھنے والے شاعر اور ادیب پروفیسر انور معظم کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے وہ ادب و فن کی بڑی وراثت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ شاید اسی وراثت نے انہیں لامكان جیسی جگہ حیدرآباد کو دینے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ وہ بتاتے ہیں،

''گھر کا ماحول ہمیشہ ادبی رہا ہے۔ اگرچہ میں لکھتا نہیں ہوں، لیکن پڑھتا رہتا ہوں۔ چار پانچ سال پہلے میں نے انڈسٹری سے اپنے آپ کو ریٹائر کر لیا۔ میں ثقافتی چیزوں کو ترجیح دیتا رہتا ہوں۔ یہاں صرف سیاست نہ ہو، بلکہ لوگ ایک ساتھ بیٹھیں، سوچیں، بات چیت کریں۔''

لامكان کو قائم کرنا اتنا آسان بھی نہیں رہا۔ پانچ برسوں میں اس کا اثر جتنا ہونا چاہئے تھا، نہیں ہو سکا۔ اس کے بارے میں فرحان کہتے ہیں کہ لامكان کے اندر تو ٹھیک ہے، لیکن اس کا اثر ہم باہر تک لے جانا چاہتے ہیں، جس میں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ ویسے پانچ سال ٹکے رہیں تو کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے۔ بچ گئے تو نکل گئے۔ وہ حیدرآباد میں سوشل ڈیموکریٹک نظریات کی حوصلہ افزائی کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ لیکن لامكان کی جغرافیائی حدود کی وجه سے اس کا اثر زیادہ دور تک نہیں جا سکا۔ فرحان بتاتے ہیں،

''لامكان بنجارہ ہلز میں ہونے کی وجه سے پرانے شہر سے دور ہے۔ اسی طرح اشوک نگر اور مشیرآباد جےس وسطی علاقوں کے سات ساتھ یونیورسٹیوں سے کٹے ہوا ہیں۔ شہر میں اگرچہ کچھ اور پنڈال بھی ہیں، لیکن وہ آزاد خیالات کو جگہ دینے سے ہچکچاتے ہیں، ایسے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔ ان کی آواز ہمارے لئے کافی اہم ہیں۔ جن آوازوں کو دوسری جگہ دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، انہیں موقع دینا ہمارے لئے چالنجنگ کام ہیں۔

اپنے مستقبل کے پروگراموں کے بارے میں فرحان بتاتے ہیں کہ ہفتے بھر کے پروگراموں کو انٹرنیٹ پر ڈالنے کا منصوبہ ہے۔ پروگراموں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ آج کبھی کبھی پاچھ سے چھ پروگرام ہوتے ہیں۔

''کچھ لوگ سفارش کرتے ہیں کہ کم اور اچھے پروگرام كيجيے، لیکن یہ ہمارے اصول کے خلاف ہے۔ جو پہلے آئے گا، اسی کو جگہ ملے گی۔ حیدرآباد میں سرکاری آڈیٹوریموں میں آپ کی بکنگ کو سرکاری پروگراموں کے لئے کسی بھی وقت منسوخ کیا جا سکتا ہے، جو ہمارے پاس نہیں ہوگا۔''

فرحان اپنے کہتے ہیں کہ انہوں نے سوچا تھا کہ ادب کے کئی گروپ بنیں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ڈاكيومینٹری سرکل کا جس طرح سے كامياب پروگرام ہو رہا ہے۔ اسی طرح ادبی پروگرام بھی ہو سکتے ہیں۔ سفر جاری ہے۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج       (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.....

ماں کی بسائی فنکارانہ دنیا کو روشن کرنے کے لئے چھوڑ دی لاکھوں کی ملازمت

بچوں کے لئے ڈرامے کی نئی دنیا بسانے والے شیلی ستھیو اور اتُل تیواری

خواتین اور معذور بچوں کی جہدکار عائشہ روبینہ

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem