'منریگا' کا مزدور... یتیم بچّوں کی تعلیم و تربیت کا سہارا

0

46 بچّوں کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھا رہے ہیں ...

گزشتہ5 برسوں سے کر رہے ہیں یتیم بچّوں کی تعلیم و تربیت اور رہائش کا انتظام ...


اِس بھاگتی دوڑتی زندگی میں ہر کوئی اپنے لئے دوڑ رہا ہے ۔ ہر کسی کے خواب اور مقصد ہیں اچھی زندگی کے۔ اچھّا گھر ہو، گاڑی ہو، نوکر چاکر ہوں، زمین جائیداد ہو ۔ ظاہر ہے اِس جد وجہد میں کچھ لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ کئی ایسے بھی ہیں جو زندگی کی اِس دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ لیکن ایک تیسری قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو اِس دوڑ سے خود کو الگ کر لیتے ہیں اور اپنی دوڑ کے لئے مقابلہ آرائی کا میدان خود ہی تخلیق کرتے ہیں ۔ اُس مقابلے میں دوڑنے والے وہ خود اکیلے ہوتے ہیں اور اپنی منزل بھی وہ خود ہی طئے کرتے ہیں ،لیکن یہ دوڑ اُن کی کامیابی کے لئے نہیں ہوتی ۔ اِس میں کامیابی اور ناکامی کا انحصار دوسروں پرہوتا ہے۔ اشوک بھائی چودھری ایک ایسے ہی شخص ہیں ۔ مہاتما گاندھی کو اپنا محرّک اورآئیڈیل ماننے والے اشوک بھائی ایسے بچّوں کی اُمید ہیں جو یتیم ہیں۔ اشوک بھائی چاہتے تو کوئی اچھی ملازمت کرکے شاندار طریقے سے اپنی زندگی گزارتے، لیکن انہوں نے غریب اور ناخواندہ بچّوں کی دیکھ بھال کرنے کا فیصلہ کیا۔

گجرات کے سورت ضلع میں واقع ’ كروٹھا ‘ گاؤں کے رہائشی اشوک بھائی چودھری 46 ایسے لڑکے لڑکیوں کو پڑھانے اوراُن کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھا رہے ہیں جن کااپنا کوئی نہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اُن بچّوں کی ذمہ داری بھی لے رکھی ہے جن کے ماں باپ توہیں مگر وہ اپنے بچّوں کو پڑھانے لكھانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اشوک بھائی ان بچّوں کی دیکھ بھال گزشتہ پانچ برسوں سے دوسروں کی ا مداد کے سہارے کر رہے ہیں۔

اشوک بھائی پسماندہ ذات سے تعلق رکھتے تھے ۔ انہوں نے دیکھا کہ اُن کے آس پاس ایسے بچّوں اور بڑوں کی تعداد کافی ہے جو کہ ان پڑھ ہیں ۔ وہ دیکھتے تھے کہ اُن کے گاؤں کے بعض بچّے گلیوں میں خواہ مخواہ گھوم پھرکر اپنا وقت برباد کرتے ہیں ۔ اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ نہ صرف خود پڑھیں گے بلکہ دوسروں کو بھی پڑھانے کی کوشش کریں گے، تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ پڑھائی میں ہوشیار اشوک بھائی کو اسکول کے دنوں سے ہی وظیفہ ملتا تھا، لہٰذا انہیں تعلیم حاصل کرنے میں زیادہ مشکل نہیں پیش آئی ۔ اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اشوک بھائی نے سورت ضلع کے ’مانڈوي ‘علاقے کے ایک کالج میں داخلہ لے لیا ۔ اِس دوران ایک طرف وہ کالج کی پڑھائی کرتے تو دوسری طرف ’ منریگا ‘منصوبے کے تحت مزدوری بھی کرتے۔

اشوک بھائی ’ یور اسٹوری‘ کو بتاتے ہیں ‘

’’مزدوری کرنے کے دوران جو پیسہ مجھے ملتا اُس کو بچا کر رکھتا تھا ۔ جب کالج کی تعلیم ختم ہوئی تو اس پیسے کا استعمال اپنی آگے کی پڑھائی کے لئے کیا ۔‘‘

اشوک بھائی نے کالج کی تعلیم ختم کرنے کے بعد احمد آباد جاکر گجرات یونیورسٹی میں ایم اے کی تعلیم کے لئے داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد انہوں نے’ بی ایڈ‘ کا کورس کیا ۔ یہاں تعلیم کے دوران اشوک بھائی کو مہاتما گاندھی سے متعلق کئی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا ۔ اس کے بعد اُن کی زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اشوک بھائی چاہتے تو وہ کسی اسکول میں بچّوں کو پڑھانے کا کام کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس اپنے گاؤں جائیں گے اور وہاں ایسے بچّوں کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھائیں گے جو یتیم اور غریب ہیں۔

جب اشوک بھائی احمد آباد سے واپس لوٹے تو انہوں نے 17 یتیم اورغریب بچّوں کو اپنی زیرِ نگرانی لیا۔ لیکن سب سے پہلے ضرورت تھی اِن بچّوں کے لئے ایک چھت کی ۔ اشوک بھائی بتاتے ہیں کہ وہ ان بچّوں کو لے کر سب سے پہلے’ كروٹھا ‘گاؤں پہنچے ۔ یہاں کے لوگ انہیں جانتے نہیں تھے، اس کے باوجود جب گاؤں کے لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ یتیم بچّوں کی دیکھ بھال کا کام کرتے ہیں تو اُن لوگوں نے انہیں کمیونٹی ہال کے باہر رہنے کی اجازت دے دی ۔ اشوک بھائی کے مطابق :

’’پہلی ہی رات ہم لوگوں کا سارا سامان چوری ہو گیا ۔ اس سامان میں نہ صرف ہمارے کپڑے تھے بلکہ برتن اور بستر بھی تھا ۔ اس کے باوجود ہم نے گاؤں والوں سے اس بات کی کوئی شکایت نہیں کی، کیونکہ ایسا کرنے سے ہم اپنےمقصد سے بھٹک سکتے تھے ۔ اس لئے نئے سرے سے اپنا کام انجام دینے میں مشغول ہو گئے ۔‘‘

ایک طرف 17 یتیم بچّے تو دوسری طرف انتہائی خراب اقتصادی حالات ۔ اس وجہ سے کئی بار بچّوں کا پیٹ بھرنے کے لئے انہیں لوگوں سے بھیک تک مانگنی پڑی، اس کے باوجود انہوں نے ہمّت نہیں ہاری اور بچّوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ وہیں دوسری طرف جب گاؤں والوں نے بچّوں کے تئیں ان کی محنت اور لگن کو دیکھا تو انہوں نے اشوک بھائی کو بچّوں کے ساتھ کمیونٹی ہال میں رہنے کی اجازت دے دی۔ پھر تقریباً ایک سال بعد گاؤں کے ہی ایک کسان نے اپنی زمین ان کو رہنے کے لئے دے دی ۔ رفتہ رفتہ جب لوگوں کو ان کے کام کے بارے میں پتہ چلا تو نہ صرف آس پاس کے، بلکہ احمد آباد سے بھی کئی لوگ ان کی مددکے لئےآگے آئے اور اُن کے رہنے کے لئے گھر بنانے کا انتظام کیا۔

اشوک بھائی نے اپنے ساتھ رہنے والے بچّوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں تعلیم کی اہمیت بھی بتائی ۔ پھرانہوں نے ’كروٹھا‘ گاؤں سے پانچ کلومیٹر دور ’پیپل واڑہ ‘ گاؤں کے ایک سرکاری اسکول میں ان بچّوں کا داخلہ کرایا ۔ اشوک بھائی نے آج جس جگہ پر اپنے بچّوں کو رکھا ہے اسے نام دیا ہے ’آنند بن، کمار کنیا چھاترالیہ ‘، مطلب طلباء اور طالبات کا ہوسٹل۔

آج اُن کے ساتھ 46 بچّے رہتے ہیں ۔ ان میں 28 لڑکے اور 18 لڑکیاں شامل ہیں ۔ اِن تمام بچّوں کی عمر 9 سال سے لے کر 14 سال تک کے درمیان ہے ۔ اشوک بھائی نہ صرف ان بچّوں کو پڑھانے کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں بلکہ ان کو ایسے اخلاق و آداب بھی سکھا رہے ہیں جس سےکہ مستقبل میں یہ بچّے اپنے معاشرے اور ملک کے کام آ سکیں۔

اسکول کے بعد جب بچّے واپس ہوسٹل آتے ہیں تو اشوک نہ صرف ان بچّوں کی پڑھائی کا جائزہ لیتے ہیں بلکہ کسی کا کوئی سبق وغیرہ چھوٹ گیا ہے تو اُسے پڑھانے کا کام بھی کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بچّوں کو موسیقی کی تعلیم بھی دیتے ہیں ۔ لوگوں کی مدد سے انہوں نے اپنے ہوسٹل میں كمپيوٹر کا بندوبست بھی کیا ہے ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ بچّے ٹیکنالوجی کے معاملے میں کہیں پیچھے نہ رہ جائیں ا س لئے یہ کمپیوٹر ٹریننگ بھی دیتے ہیں ۔ جبکہ بچّوں کے لئے کھانا بنانے کی ذمہ داری ان کی بیوی سنبھالتی ہیں ۔ اب اشوک بھائی کی تمنّاہے کہ بچّے تعلیم حاصل کرنےکے لئے گاؤں سے زیادہ دُور نہ جائیں، لہٰذا اُن کی کوشش ہے کہ گاؤں کے آس پاس ہی کوئی اسکول کھل جائے تاکہ اشوک زیادہ سے زیادہ بچّوں کو تعلیم دِلوا کر انہیں خود کفیل بنا سکیں اور انہیں ایک بہتر مستقبل دے سکیں۔

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza