اسٹریٹ فوڈ وینڈرس ۔۔سیکھنے کی آٹھ اہم باتیں

0

بنگلور اور دیگر شہروں کے سفر کے دوران جب میں نے مقامی اور روایتی کھانوں کی تلاش و اشتیاق میں شہر کے مختلف ہوٹلوں رستورانوں اور اسٹالس کا جائیزہ لینا شروع کیا تو مجھے بہت انوکھے بہت شاندار اور بہت دلچسپ تجربوں کا سامنا رہا اس کے ساتھ ہی اس شعبے میں نت نئی ایجادات تخلیق کے نئے انداز لذت دار ڈشوں کے لئے نئے نئے تجربے اور ترقی حاصل کرنے والے تاجروں کی جد و جہد کی کہانیوں کو بھی سننے دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع ملا ۔ اس کے علاوہ خوبصورت ٹی اسٹالوں سے لے کر بڑے بڑے ریستورانوں اور ہوٹلوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ فوڈ وینڈرس کے پر کشش انداز بھی متوجہ کرنے والے ہیں ان سب قابل تقلید اقدامات اور تجربات سے میں نے کیا سیکھا پیش خدمت ہے ۔

دنیا کو ڈکٹیٹ کرنے کا موقع نہ دیں ۔

ڈینیل ڈی سوزا بنگلور میں شیرون ٹی اسٹال چلاتے ہیں ۔وہ نہیں چاہتے کہ الگ سے ایک اور ٹی اسٹال چلائیں ۔لہذا انہوںنے سوچا کہ آخر کیوں بڑے ہوٹلوں میں ملنے والی ہمہ اقسام کی مزیدار چائے سے عام آدمی محروم رہے اور کیوں اچھی چائے محض فینسی اور مہنگی ہوٹلوں ہی میں دستیاب ہو ۔اسی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ہوئے ڈی سوزا نے اپنی شیرون ٹی اسٹال کو سڑک کے کنارے ایک مزیدار ٹی پارلر میں بدلنے کا بیڑا اٹھایا تاکہ سڑک کے کنارے سستی چائے پینے والا شخص بھی ایک شاندار اور لذت بھری چائے سے لطف اندوز ہوسکے ۔بنگلور کے اندرانگر میں واقع شیرون ٹی اسٹال نے اس سمت میں قدم بڑھایا اور اپنے آپ کو ایک مکمل ٹی پارلر میں بدل دیا ۔آج یہاں عام لوگوں کے لئے ہمہ اقسام کی چائے دستیاب ہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ٹی اسٹال میں ملنے والی مختلف اقسام کی چائے سے نہ صرف عام آدمی لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ سیاست دان اور فلم اسٹار بھی شیرون ٹی اسٹال کی لذت بھری چائے کو سب پر ترجیح دیتے ہیں ۔ شیرون نے بڑے بڑے فلم اسٹاروں اور سرکردہ سیاست دانوں کی اس چھوٹے سے ٹی اسٹال میں آمد اور چائے پینے کی تصاویر پورے فخر کے ساتھ لگا رکھی ہیں ۔یقینا یہ محنت اور سمجھ بوجھ سے ترقی کی ایک اعلی مثال ہے ۔

کوئی غیر معمولی کام کریں۔

نہایت سادہ اور غیر معمولی تخلیقی کام کرکے آپ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواسکتے ہیں ۔اس کے لئے آپ کو نہ تو بہت تام جھام کی ضرورت ہے اور نہ ہی بہت سرمائے کی بس بات ایسی ہو کہ لوگوں کو اچھی لگے ۔اس کی ایک مثال ہے مومو کی ایک مومو بنانے والی تاجرہ نے سوچا کہ آخر کب تک لوگوں کو وہی روایتی سفید مومو فراہم کئے جائیں اور پھر اس نے ان ہی سادہ مومو کو رنگ برنگے اور کچھ منفرد انداز میں تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا نتیجہ خوش رنگ اور جاذب توجہ مومو کی شکل میں سامنے آیا اب جو سادہ سے مومو پسند نہیں کرتے تھے وہ بھی اس خوش رنگ مومو کی جانب متوجہ ہونے لگے ہیں ۔رتالو گاجر اور پالک کی مدد سے بنائے گئے یہ مومو خوب بکتے ہیں اور تخلیق کا ایک شاہکار بھی ۔

جہاں چاہ وہیں راہ۔

ایک مشہور انگریزی محاورہ ہے کہ where there is will there is a way اسی کے مصداق ایک چھولا فروش نے اپنے پروڈکٹ کو ہمیشہ گرم اور مزیدار رکھنے کا سوچا ۔وہ ٹھیلے پر کاروبار کرتا تھا اور ٹھیلے پر چھولا بٹورے کو گرم رکھنا اس کے لئے بہت مشکل تھا تاہم اس نے ایک نئی ترکیب نکالی اور اپنے ٹھیلے کے نیچے ایک گھڑے میں پانی بھرے رکھا اور اس گھڑے کے نیچے آگ جلادی پانی گرم ہوتا اور اس گرم پانی کو بھاپ کی شکل میں وہ کچھ سوراخوں کی مدد سے اپنے چھولوں اور بٹوروں تک پہنچاتا ۔یہ ایک انوکھا انداز تھا اور نئی اختراع بھی ۔اسی طرح ستائیس مین روڈ پر ایک چکن سیخ کباب بنانے والے کو بھی میں نے دیکھا کہ سیخ کباب کی تیاری کے لئے گرل اور آگ کا کیسے وہ بند و بست کیا کرتا تھا ۔یقینا یہ ایک دلچسپ ایجاد ہی کہلائے گی اور جگاڑ کا انوکھا طریقہ بھی ۔شائید اسی کے لئے کہا جاتا ہے جہاں چاہ وہیں راہ ۔

محدود اقسام ۔بہترین میعار ۔

گاندھی بازار بنگلور میں میرا حال ہی میں ایک چھوٹے سے بھجیہ اور پکوڑا بنانے والے وینڈر سے تعارف ہوا ۔سڑک پر خوانچہ لگاکر بھجیہ بیچنے والے اس خوانچہ فروش شملہ مرچ آلو کچے کیلے ہری مرچ کے بھجیے تیار کرتا ہے ۔تاہم اس کا بھجیہ بازار کی قیمت سے دوگنی قیمت میں فروخت ہوتا ہے ۔مہنگا ہونے کے باوجود لوگ اس کے بھجیوں کو ترجیح دیتے ہیں جب میں نے خوانچہ فروش پروین سے اس سلسلے میں استفسار کیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ میعار پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتا ۔اس کا تیل اور بھجیہ بنانے کے لئے استعمال ہونے والی تمام سبزی اچھے میعار کی اور تازہ ہوتی ہے ۔تر و تازہ سبزی اور میعاری تیل کے باعث اس کے بھجئے مزیدار بھی ہےوتے ہیں اور لوگ پورے اتماد کے ساتھ خریدتے ہیں اور گھر لے جاتے ہیں ۔یقینا اچھی اور میعاری چیزیں شامل کرنا آج کے دور میں ایک امتحان سے کم نہیں مگر سمجھوتا نہ کرنے کے اس کے عہد نے اس کی بھجیہ اور پکوڑوں کو سب سے ممتاز بنادیا ہے ۔چاہے وہ مہنگے ہی کیوں نہ ہوں ۔یہی اس کی کامیابی کا راز ہے ۔

ہمیشہ مسکراتے رہیں۔

مسکراتے ہوئے خندا پیشانی کے ساتھ سرویس فراہم کرنا بھی ایک کمال ہے اور کامیابی کی کنجی بھی ۔روی کی گوبی وین پر ہجوم کی موجودگی اس کی ایک اہم مثال ہے ۔

جب گاہکوں کا ہجوم ہوتا ہے تو عموما لوگ چڑ چڑے ہوجاتے ہیں اور ان کا رویہ خراب ہوجاتا ہے ۔اور یہ چڑ چڑا پن گاہک کو دکان سے دور کرنے کا موجب بن جاتا ہے ۔

لیکن بنگلور میں بنا شنکاری بی ڈی اے کامپلکس کے ایک کنارے پر ٹھیلہ لگائے اس نوجان کی مسکراہٹ اور بہت زیادہ پریشان اور بد اخلاق گاہکوں کے ساتھ پیش ٓٓنے میں صبر تحمل اور مسکراہٹ والے لیکن بنگلور میں بنا شنکاری بی ڈی اے کامپلکس کے ایک کنارے پر ٹھیلہ لگائے اس نوجان کی مسکراہٹ اور بہت زیادہ پریشان اور بد اخلاق گاہکوں کے ساتھ پیش ٓٓنے میں

صبر تحمل اور اخلاق کا مظاہرہ کرنے سے گاہک روی سے خوش ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دور سے روی کے پاس خریداری کے لئے آتے ہیں ۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خوش اخلاقی بھی کاروبار کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

موجودہ طریقے کو کچھ الگ انداز میں پیش کریں۔

کون کہتا ہے کہ پیزا صرف فینسی اسٹالس ہی میں دستیاب ہے یا پھر ایک اچھے ماحول میں بیٹھ کر ہی اس سے لطف اندوم ہوا جاتا ہے ۔بنگلور کے ایچ ایس آر لے آوٹ میں اپنے معمولی سے خوانچے میں ولر متی تین طرح کے سوپ پیش کرتی ہے ایسے سوپ جو کسی بھی شاندار ریسٹورنٹ کے سوپ کے مقابلے کہیں زیادہ مزیدار ہیں ۔اسی طرح سے ایک کمار بھی ہیں جنہوںنے ایک پیزا وین ڈیزائین کی ہے اور اس میں پیزا کے علاوہ دلچسپ ڈشوں سے لطف اندوم ہونے کے لئے ایک ہجوم سا جمع رہتا ہے ۔

کسی ایک فوڈ کا انتخاب کریں اور اس میں ماہر ہوجائیں ۔

فوڈ اینڈ نیوٹریشن کی طالبہ ریوتی سمجھتی ہیں کہ صحت کے مسائیل سے دو چار لوگوں خاص کر شوگر کے مریضوں کو سڑک پر یا ٹھیلوں میں ملنے والے کھانے نہیں کھانے چاہئے ۔

اسی سوچ کے پیش نظر ریوتی نے اسپراوٹس گرین گرام اور کریلوں کی مدد سے کچھ الگ کھانے تیار کئے ہیں جو وہ ملیشورم میں اپنی چھوٹی سی کھانے کی دکان پر فروخت کرتی ہے ۔اور شوگر کے مریضوں کے لئے اس کے بنائے ہوئے یہ منفرد کھانے مرغوب ڈش بنتے جارہے ہیں ۔

ذیابطیس دوست اسٹریٹ فوڈ ۔

ایسا کچھ تیار کریں کہ کسٹمر پسند کرنے لگیں ۔زیادہ کی چاہ ہمیشہ بہتر نہیں ہوتی ۔یہ گوا میں زبان زد عام ہے ۔گوا میں لوگ بہتر زندگی کو پسند کرتے ہیں اور زندگی کے میعار کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے سرگرداں نظر آتے ہیں تاکہ اسی بہتری میں سے لطف کے لمحات پاسکیں ۔دوستوں کے ساتھ فیملی کے ساتھ وقت بتانا گوا والوں کے لئے زندگی سے لطف اندوز ہونے کا دوسرا نام ہے اور اسی طور طریقے کا یہاں کے کاروبار پر بھی خاصا اثر ہے گوا میں فیملی ریسٹورنٹ اور بہت سارے مالکین اس بات کو ملحوض رکھتے ہیں کہ کیسے لوگوں کے فاضل وقت شاندار بنایا جائے اور ان کے فرصت کے لمحات کے حساب سے ہی کاروباری لوگ اپنے ریستوران اور دکانوں کو سیٹ کرتے ہیں ۔کامیاب تجارت کی شائید یہ بھی ایک نیا فنڈہ ہے ۔

(اس آرٹیکل میں شامل خیالات اور تجربات مصنف کی سوچ کا نتیجہ ہیں اور یور اسٹوری کا ان خیالات اور اس سوچ سے اتفاق رکھنا ضروری نہیں ۔)

مصنف ۔مہیما کپور

مترجم۔سجادالحسنین۔